پہلے اپنی ماں کے کھسم کو سن لو بعد میں یہ بکواس لکھنا وہ کہہ رہا ھے کہ
مشرف نے نواز شریف کو بندوق کے زور سے باہر بھیجا اسلئے آپ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کوئی ڈیل کر کے باہر گئے ھیں۔
نواز شریف پر مشرف نے جھوٹے کیس بنائے اس لئے انکو یقین تھا کہ انکو ان انصاف نہیں ملے گا:عمران خان
کیا سنہرے دور تھے جب فیصلہ کا معیار لاٹری ہوتا تھا
رانا ثنا اللہ اور شہریار آفریدی دونون قسمیں کھا رہے ہین تو بہتر ہے لاٹری پر فیصلہ کر لیتے ہین ANF میجر جنرل
تکلیفدہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مین یہ دہائیوں کا pattern ہے
یہ تو کہتے تھے کہ امریکی غلامی نامنظور اور یہاں بیٹا خود کہہ رہا ہے کہ ہمیں تو بڑی امیدیں تھیں کہ ٹرمپ سے ابا کے اچھے تعلقات ہیں لیکن اس نے گھاس ہی نہیں ڈالی
🚨کاشانہ میں رات کے 4 بجے داخل ہونے والا عثمان بزدار کا سیکورٹی افسر سپرنٹنڈنٹ کاشانہ خوشنود جمیل سے 19 کم عمر بچیاں بشریٰ کے کالے جادو میں بلی دینے، عمران خان کی جنسی ہوس کیلئے لیکر گیا
عمران خان کی حکومت ہی میں عثمان بزدار کے اس سیکورٹی افسر کو قتل کر دیا گیا
سپریم کورٹ میں میری جمع کروائی گئی درخواست پر چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق نے اپنے تحریری بیان میں اعتراف کیا 30 مارچ 2019ء کی اس CCTV فوٹیج میں کاشانہ میں داخل ہونیوالا شخص عثمان بزدار کا سیکورٹی افسر ہے
(افشاں لطیف)
جس کا پورا خاندان ایک پیڈسٹل فین لگاکر سوتا تھا اس منشیات فروش کرپٹ ترین شخص نے الیکٹریشن کو نوکری سے اسلئے فارغ کردیا کہ ایئرکنڈیشن چلنے کے باوجود اس کو پسینہ کیوں آیا۔یوتھیوبرز ،صحافتی دلالوں اور ریٹنگ کی غلاظت والے اینکرز ،یہ خبر نظر سے نہیں گزری یا نیپال دفعہ ھو گئے ھو؟
کالعدم ایکشن کمیٹی کے پاکستان مخالف مظاہرے کی تصویر میں سرخ دائرے میں دکھائے گئے شخص کی شناخت شری رام پرکاش (Shri Ram Prakash) کے نام سے ہوئی ہے، جو لندن میں قائم بھارتی ہائی کمیشن (High Commission of India, London) سے تعلق رکھتا ہے۔ تصویر کے نچلے حصے میں بھارتی ہائی کمیشن کی آفیشل ویب سائٹ کی لسٹنگ بھی شامل کی گئی ہے جس سے ان کی سرکاری وابستگی کی تصدیق کی گئی ہے۔
کیا اب بھی آپ کو کوئی شک و شبہ ہے؟
ایکس پر بہت سے نامعلوم اکائونٹس (یوتھیئے) مجھے پرسنل ڈی ایم کر کے حکومت مخالف اپنی پوسٹیں ری پوسٹ کرنی کی استدعا کر رہے ہیں گزشتہ کچھ ماہ سے، شاید ان کا خیال ہے کہ مسلم لیگ نواز کی پالیسیوں پر میری تنقیدی پوسٹیں کرنے کا مطلب ہے کہ اب میں یوتھیوں کا حامی ہوں، اس لئے اندھا دھند ان کی پوسٹیں ری پوسٹ کروں گا۔۔۔۔
پائن، دوبارہ گزارش کر دوں، حکومت کی پالیسیوں کی شدید ترین مخالفت کا قطعی یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ میری سوچ اور فکر میں یوتھیوں کیلئے ہمدردی پیدا ہو گئی، آج بھی اگر پاکستان میں اور بالخصوص پنجاب میں کسی بھی سیاسی جماعت کا یوتھیوں کے ساتھ مقابلہ ہوگا تو خاکسار کی ہمدردیاں ہر سیاسی جماعت کے ساتھ تو ہو سکتی ہیں لیکن یوتھیوں کے ساتھ قطعی ہیں، خاکسار کی رائے میں آج بھی یوتھیئے ارض پاکستان کیلئے زہر قاتل ہیں اور زہر قاتل رہیں گے۔
باقی رہی بات حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کی تو وہ ہم جانیں اور حکومت جانے، جہاں تنقید ضروری ہوگی، وہاں حکومت پر اپنی عقل سمجھ کے مطابق دبا کر تنقید کریں گے، جہاں تعریف ہوگی، وہاں اپنی عقل سمجھ کے مطابق حکومت کی دبا کر حمایت کرینگے۔
لہذا اندھے ہو کر ڈی ایم میں پوسٹیں ری پوسٹ کرنے کی استدعا مت کریں۔
عثمان بزدار وزیراعلی بنے، 5 کروڑ ڈی سی لاہور لگنے کا ریٹ تھا، کمشنر 4کروڑ، دیگر علاقوں میں ڈی سی 3 کروڑ، چھ ماہ بعد توسیع چاہیے تو 3 کروڑ اور دیں
عمران خان کو سب پتہ تھا آنکھیں بند تھیں
فرح گوگی کو انٹرپول سے منگوائیں وہ ڈوویلپر کے دبئی کے کسی گھر میں ہوں گی
علیم خان
جاوید چوہدری لے دے گیا
جے یو آئی کے سربراہ جس کارگل کا آج پوچھ رہے ہیں تب کیوں نہیں پوچھا تھا جب مشرف کو وردی میں صدر بنوایا تھا تب اپوزیشن لیڈر تھے خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت تھی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھے اور ایل او ایف کے قوانین کو آئین کا حصہ بنوایا تھا ساری قانون سازی میں یہ شامل تھے مشرف سے خوب مراعات لے رہے تھے تب یہ باتیں مشرف سے پوچھ لیتے
مشرف صاحب کے سب سے پہلے پاکستان کے دور میں پاکستان کا کرپشن انڈیکس 2005 میں رینک 144 تھا۔۔۔
پھر 2008 کے بعد زرداری نے زبردست ڈاکے مار کے کرپشن رینک 137 تک لایا
نواز شریف نے 2014 تا 2018 بھرپور لوٹ مار کرکے کرپشن انڈیکس رینک نیچے گراکے 117 کردیا
پھر 2018 کے وسط میں منظوری ہوئ صادق و امین کی انہوں نے سب سے پہلے بہشتی دروازے سے گزر کے پھر ریاست مدینہ کا نعرہ لگا کے میاں صاحب سمیت ساری کرپٹ ن لیگ کو جیل میں واڑ کے، باوضو حالت میں کرپشن انڈیکس میں صرف دوسال میں دوبارہ سے 144 کا بلند و بالا رینک حاصل کرلیا۔۔۔
واضح ہو کہ امریکہ روس چین برطانیہ فرانس یوروپی یونین ناٹو ممالک سمیت افریقہ آسٹریلیا کینیڈا مشرق وسطیٰ کے تمام مسلم ممالک کی آشیر باد سے 2022 میں سازش کرکے صادق و امین کو بذریعہ عدم اعتماد کرسی سے اتار کے25 مربع کلومیٹر کا وزیراعظم لایا گیا اس نے بھی کرپشن کے ریکارڈ توڑ کے صرف ایک سال 2023 میں صادق و امین کا رینک گراکے 133 پہ لے آیا۔۔۔۔
پٹواریو کہاں کہاں سے مائنس کروگے اس نے ہر میدان میں ریکارڈ بنایا ہے مان لو کہ وہ جیت چکا ہے😎
نوٹ انصافی بھائ انڈیکس دیکھ کے فخر سے بغلیں بجائیں پٹواری شرم کریں😎
جس ملک کی آمدن کا زیادہ تر حصہ انڈائریکٹ ٹیکسسز لگا کر ملکی معیشت کا پہیہ چلانے پر منحصر ہو جہاں IMF کے دو پرگرامز کے برابر 2700 ارب کی صرف پیٹرولیم لیوی محض ایک ہی سال میں اکٹھی کر لی گئی ہو
اور ٹیکسسز انتہائی غیرمنصفانہ طریقے سے لوگوں سے نکلوائے گئے ہوں وہاں کی ایک صوبائی اسمبلی کچھ دن پہلے قانون پاس کرتی جس میں تمام Mpa's اور انکی بیگمات و بچوں سمیت کو لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ کی سہولت فراہم کردی گئی ہو
حالانکہ یہ بلیو پاسپورٹ صرف ان حکومتی اہلکاروں کو ڈیوٹی دوران دیا جاتا ہے جو ملک کے کسی کام کی صورت میں بیرون ممالک سفر کررہے ہوں
خیبرپختونخوا اسمبلی کے پاس کردہ اس بل کو دیکھتے ہوئے اب یہی بل سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے پاس کردیا ہے کہ بلیو پاسپورٹ کا حصول سابقہ سینیٹرز کے 28 سال تک کے بچوں اور بیگمات کو بھی مہیا کیا جائے
یہ نوازشات وہ طبقہ لے رہا ہے جن کو سفری سہولیات سے لیکر پیٹرول رہائشی الاونس بجلی کے بل تک میں ریاست انکو پوری پوری مدد فراہم کرتی ہے
اور اس سب کے باوجود اس طبقے کا ایک عام آدمی کے ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت کا ایک تہائی حصہ حکومتی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے مختلف ٹیکسسز کی مد میں کاٹنا اور اپنے لئیے تمام سہولیات مفت لینا انتہائی شرمناک حرکت ہے
اور سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ مراعات وہ طبقہ لینے کا خواہشمند یا لے رہا ہے جو پاکستان کے امیر ترین خاندانوں طبقات میں سے ہوکر اتنی بڑی پوزیشنز پر آتا ہے۔
ابھی لوگ خیبر پختونخواہ اسمبلی کی جانب سے موجودہ اور سابقہ اراکین اسمبلی اور ان کے اھل خانہ کیلئے آفیشل بلیو پاسپورٹ سمیت مختلف مراعات کی منظوری کے صدمے سے باھر نہیں نکلے تھے کہ سینٹ کی ایک قائمہ کمیٹی نے سابق پارلیمینٹیرینز اور انکے اھل خانہ کیلئے بلیو پاسپورٹ کی سفارش کر دی ھے
ایسے ھی اقدامات منتخب ایوانوں کو بے وقعت کرتے اور مسائل کی زنجیروں میں جکڑے عوام کی نظر میں سیاستدانوں کو قابل تحقیر بناتے ھیں ۔۔
جب تک سیاستدانوں ، بیوروکریٹس ، اعلٰی عدلیہ اور سینئیر فوجی افسران کو حاصل غیر معمولی مراعات کو مناسب سطح تک نہیں لایا جاتا ، ناانصافی سماجی ناھمواری اور عوامی اضطراب کی دیمک معاشرے کو گُھن کی طرح چاٹتی رھے گی ۔۔
حامد میر اور اسد طور کو مبارک باد
ایک اور لاپتہ بلوچ مل گیا
بی ایل نے حالیہ حملوں میں جس دہشتگردی عطا اللہ بلوچ کا پوسٹر تیار کیا ہے اسکے متعلق بی وائی سی نے مہم شروع کی تھی کہ وہ 15 سال سے لاپتہ ہے، اسکی والدہ کو جگہ جگہ اسکے پوسٹر دے کر گھماتے رہے۔
اب وہ سامنے آ گیا
وہ کھوتی کا بچہ امریکہ کے ڈر سے ڈاکٹر عبد القدیر اور ایدھی کا جنازہ پڑھنے نہیں آیا تھا
جو اپنی ماں کا جنازہ پڑھنے نہیں آیا تھا
جو اپنے قریبی دوست نعیم الحق کا جنازہ پڑھنے نہیں آیا تھا
کوئٹہ میں لوگ لاشیں رکھ کے بیٹھے تھے وزیراعظم آئے گا تو دفنائیں گے
چوتیا کہتا میں لاشوں سے بلیک میل نہیں ہونگا
چُکن توں پہلے اپنے پیّو دے کرتوت ویخ لیا کرو رامدیو🖐🏻
سہیل آفریدی کے قریبی ساتھی اور ذاتی محافظ عارف خٹک کی ڈگری بھی جعلی ہونے کا انکشاف عارف خٹک عمران کا بھی سکیورٹی گارڈ رہ چکا ہے ۔ ذرائع کے مطابق رجسٹریشن نمبر 287-NIEMS-19 کے تحت عارف خٹک پر جعلی ڈگری حاصل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
معاملہ سامنے آنے پر حکومت نے بڑا اقدام کرتے ہوئے وائس چانسلر کو جبری رخصت پر گھر بھیج دیا جبکہ انکوائری کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔جب مراد سعید کی ڈگری کا معاملہ سامنے آیا نقل پکڑی گئی تب بھی وائس چانسلر گھر بھیج دیا تھا
سوال یہ ہے کہ اگر الزامات درست ہیں تو جعلی اسناد کے اس نیٹ ورک میں مزید کون کون شامل ہے، اور ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟
پنجاب حکومت بلوچستان کو پیسے دے سکتی ہے
گلگت بلتستان کو دے سکتی
اپنے حصے کے پیسوں میں سے وفاق کو پیسے دے سکتی
لیکن جب بات آئی پنجاب کی پنجاب کے لوگوں کی
تو سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 7 فیصد اضافہ اور پینشن میں 3۰5 فیصد اضافہ
لیکن سرکاری وزراء کی تنخواہوں میں 600-700 اضافہ ہوّا تھا کیونکہ ان کا گزارا نہیں ہوتا تھا🙂
🚨بریکنگ نیوز🚨
شہزاد اکبر نے اعتراف کر لیا کہ شریف خاندان پہ لگائے گئے الزامات 95% حتی کہ 99% جھوٹے تھے۔ وزراء اور پارٹی کے دیگر افراد عمران خان سے محض ملاقات کے لئے ایسے جھوٹے دعوی کرتے تھے اور ہمیں لگ بھگ ایک سال لگ گیا عمران کو سمجھانے میں کہ لوگ ملاقات کے لئے شریف فیملی پہ جھوٹے الزامات لگاتے ہیں۔
اس کے بعد عمران نے یہ معاملات شہزاد اکبر کے سپرد کردیئے۔
یاد رہے کہ شہزاد اکبر نے برطانوی میں شریف فیملی پہ جھوٹے الزامات لگاکر پاکستانی خزانے کو خوب نقصان پہنچایا اور ڈھیروں ذلت کمائی جب ڈیلی میل کو معافی مانگنا پڑی، جب براڈ شیٹ کو جرمانہ ہوا اور کاوی موساوی نے معافی مانگی۔