فیصل آباد:
تھانہ کوتوالی کے علاقے سرکلر روڈ پر کپڑے کی دکان میں لین دین کے تنازع پر جھگڑا،
دکاندار پر تشدد
فیصل آباد کے تھانہ کوتوالی کے علاقہ سرکلر روڈ میں
واقع ایک کپڑے کی دکان پر پیسوں کے لین دین کے معاملے نے شدت اختیار کر لی
جہاں معمولی تلخ کلامی دیکھتے ہی دیکھتے
جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق خریدار اور دکاندار کے درمیان رقم کی ادائیگی اور حساب کتاب کے معاملے پر بحث شروع ہوئی، جس دوران مبینہ طور پر گالی گلوچ کا تبادلہ بھی ہوا۔
متاثرہ شہری کی طرف سے درخواست موصول ہوئی
فوری کارروائی کریں کسی کو بدمعاشی نہیں کرنے دی جائے گی۔ مقامی پولیس
اس ملک کا عدالتی نظام آج کے حالات کا زمہ دار ہے، ایک وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر گھر بیجھ دیا اور ایک سرٹیفائڈ چور عمران خان کو صادق اور امین قرار دیے دیا #ثاقب_نثار_کا_جعلی_ایماندار
اللّٰہ نے دودھ فروش کو نوازا ۔۔۔۔تو اس کی گردن میں سریا آ گیا۔۔۔۔ !
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ڈائریکٹر ملک معراج خالد تھے۔ وائس چانسلر ہی کہہ لیجیے۔ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی کے دوسرے سمسٹر کا طالب علم تھا۔یونیورسٹی نے فیسوں میں دو سو
سیلاب اور وڈیرے کے بیٹے ۔ فرش پر بیٹھی غریب عوام ہے ۔ چارپائی پر بیٹھے کولڈ ڈرنک پیتے یہ ایم این اے پیر امیر علی شاہ جیلانی ہے ۔ سائیں بوتل پینے کے بعد سگریٹ سُلگاتے ہیں ۔ پھر پیر صاحب منرل واٹر پانی سے اپنا جوتا صاف کرتے ہیں ۔ ہائے میری سندھ کے نصیب
مُجھے میجر صاحب نے ادھر سات بجے پہنچنے کا آرڈر دیا اور میں پہنچ گیا۔
مُجھے انتخابات جیتنے کے بعد “فوجی آرڈر” ملا کہ آپ نے تحریکِ انصاف جُوائن کرنی ہے، اور میں نے فوجی آرڈر پر تحریک انصاف جوائن کرلی۔ ایک سادہ لوح کشمیری لیڈر کا سچا بیان
#kashmirelections2021
جب بحریہ اور ڈی ایچ اے نہیں تھے تو یہ رنگ تھے اس دھرتی کے ـ یہ خوبصورتی تھی، پرندوں کی جنت کہلاتی تھی یہ سرزمین اور اب بحریہ اور ڈی ایچ اے کے بڑی بڑی مشینوں کے شور میں دھندلا گئی ہے، آخری سانسیں لے رہی ہے اب تو ہمارے درد کو سمجھو ـ
#SayNoToBahriaTown#SayNoToDHA
یہ ہیں حال ہی میں تیسری مرتبہ مغربی بنگال کی منتخب ہونے والی وزیرِ اعلیٰ ممتا بینر جی جنہوں نے BJP کو تاریخی شکست دی۔ ان کی گفتگو کا یہ Clip ہمارے قابلِ احترام وزرائے اعلیٰ، اراکینِ پارلیمنٹ اور اراکینِ صوبائی اسمبلی کے لئے دلچسپی کا باعث ہوگا۔
وہ ایک شہری کی حیثیت میں ٹریفک اشارہ توڑتا ہے، پھر سارجنٹ کی وردی پہن کر اپنا چالان کرتا ہے، پھر صحافی بن کر اس پر رپورٹ لکھتا ہے اور پھر قومی سلامتی کا مشیر بن کر کے اس رپورٹ کو اخبار میں پڑھتا ہے۔ اس سے ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔
"ریاست مدینہ" میں پنجاب کے ڈیفیکٹو حکمران خاور مانیکا اس طرح کے جشن نہ منائیں تو اور کون منائے ؟ ویسے اس کارنامے پر شبلی صاحب کی ایک پریس کانفرنس تو بنتی ہے جس میں وہ بتائیں کہ دیکھیں خان کی حکومت میں لوگ کتنے خوش ہیں۔