الیکشن کمیشن نے انتخابات کو اب تک ایک Dirty Game بنا رکھا ہے۔ کل رات ساڑھے بارہ بجے حلقہ این اے 37 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جو کہ خلاف ِ قانون ہے۔ 10 مارچ کو مذکورہ حلقے میں انتخابی نتائج کا باقاعدہ اعلان کر کے فریقین سے فارم پر دستخط لے لیے گئے۔ اس کے دو دن بعد شکست خوردہ فریق نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا ریزائڈنگ آفیسر سے مطالبہ کیا تو اس کو بتایا گیا کہ دوبارہ گنتی کا اب وقت گزر چکا ہے۔ اس نے اسلام آباد الیکشن کمیشن میں آکر درخواست دی جو 6 مارچ رات بارہ بجے ری کاونٹنگ کا فیصلہ سنا دیا گیا۔یہ الیکشن کمیشن اپنے طے شدہ قواعد و ضوابط پر بھی عمل نہیں کر سکتا۔کرم ایجنسی کی یہ نشست شیعہ سنی وحدت کا عملی اظہار تھا۔وہ علاقہ جہاں تفرقہ بازی پھیلانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی وہاں شیعہ سنی غیور عوام نے ووٹ کی طاقت سے یہ پیغام دیا کہ ہم متحد اور یکجا ہیں۔اب اس نشست کو چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے،کرم ایجنسی کے لوگ نڈر ہیں اور اپنے حق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔آئین کی سربلندی، قانون کی حکمرانی اور عدل کے نفاذ کے لیے ہم ڈٹ کر کھڑے ہیں ��ور کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے
عمران خان سیاسی قیدی ہیں، جرم نہیں کیا،انہیں رہا کیا جائے اور مخصوص نشستیں بھی انکو واپس کی جائیں۔ سینیٹر مشاہد حسین سید
@Mushahid#ImranKhan
https://t.co/KejxODhKel
On this #InternationalWomensDay we pay tribute to our courageous women who have been fighting injustice & oppression unleashed upon this nation over the last two years. You are our real heroes embodying hope and strength in the darkest of times, and your resilience has been the cornerstone of our struggle towards Haqeeqi Azadi!
.@CMShehbaz 's election as #Pakistan's PM for a 2nd time is highly controversial, to say the least. And with only lukewarm support from the PPP, his job of governing will be difficult, at best. I don't see him completing his term. https://t.co/kHDEgKqUil via @NikkeiAsia
انہوں نے ایوان میں گھڑی لہرائی تو ہم نے بوٹ اتار کے لہرا دیا
کہ بوٹ چاٹ کر اور عوام سے جوتے کہا کر مینڈیٹ چوری سے یہاں تک پہنچے ہوئے
۔جمشید دستی آن فائر 🔥
۲۰۱۳ کے انتخابات کے وقت جب ٹکٹس کے فیصلے ہورہے تھے تو اُس وقت کے پارٹی کے کرتا دھرتاؤں نے میرے ٹکٹ کی بھرپور مخالفت کی۔ “نوجوان ہے، سیا��ی بیک گراؤنڈ نہیں ہے، نا اپنا کوئی ووٹ ہے نا خاندان کا”۔ صرف ایک شخص تھا جس کو یقین تھا کہ پاکستان بدل چکا ہے اور اِس تبدیلی کا “پوسٹر بوائے” بننا میرے حصے میں لکھا گیا۔ کافی بڑے گھروں میں خطرے کی گھنٹیاں بجیں۔ ان کی نسلوں کے مستقبل ��ا سوال تھا۔ الزامات کی بوچھاڑ، جعلی ڈگری سے لیکر غلیظ ذاتی حملے ہوئے۔
اگلی حکومت میں عمران خان نے پھر اسی ذی شعور اعلی قیادت کے مخالف جاکر سب سے بڑے بجٹ والی وزارت سونپ دی۔ بڑی بڑی کرسیوں پر لوگ تلملائے۔ اللہ کا کرم تھا اُس نے مجھے عمران خان کا اعتماد قائم رکھنے کی توفیق دی۔ دہشت گردی کی واپسی پر میرا سٹینڈ اور ۹ مئی کے بہانے تو بعد میں ہاتھ آئے کہ جن کے ذریعے مجھے انتخابات سے مائنس کرنے کا جواز ڈھونڈا۔ “ڈی چوک پر پھانسی” کی دھمکی تو باجوہ صاحب نے مجھے مارچ ۲۰۲۲ میں ہی پہنچا دی تھی۔ اور یہ ضروری بھی تھا، میرا نشانِ عبرت بننا ضروری تھا۔مگر مس کیلکولیشن ہوگئی۔ ہم سمجھاتے رہ گئے مگر اپنے گھمنڈ میں سمجھ نہیں پائے۔۔وہ بات جو عمران خان جانتا تھا، جو یہ ��مجھ نہیں پائے کہ میں تبدیلی کا پوسٹر بوائے ضرور تھا فقط میں ہی تبدیلی نہیں تھا!
عمران خان نے ہزاروں کی پود اپنے ہاتھوں لگائی تھی۔ اور اُن ہزاروں کے بعد لاکھوں تیار ہیں۔ میں نہیں لڑا۔ میرے ایک یونین کونسل کا ورکر اِن خدائی کے دعویداروں کے حمایت یافتہ امیدوار سے تاریخی لیڈ لے گیا۔
جن خاندانوں کو اتنے سال گھاک سیاست دان نہیں ہرا سکے آج اُس بلور خاندان سے جیت کر یوتھ ونگ کا صدر مینا خان آفریدی حلف لے رہا ہے۔ جس فاٹا کی نشستوں پر ایک خاندان سے دوسرے خاندان کی باریاں لگتی تھیں اُس کے نمائندگی میرے بازو سہیل آفریدی کے پاس ہے۔ وہ جس کو پختونخواہ میں عمران خان کی سیاست کو دفن کرنے کا دعوی تھا، اُس کی رعونت پر آخری فاتحہ پڑھنے والا شاہ احد میرے آئ ایس ایف کا نوجوان ہے۔ پختونخواہ میں مسلم لیگ کے آخری قلعہ ہزارہ پر یوتھ ونگ کے اکرام خان غازی نے انصاف کا پرچم لہرایا، شیر علی آفریدی، شاہد خٹک، اب ک��نوں پر کاٹا لگانا ہے؟
مجھے انتخابات سے باہر کر دیا اور میدان سے بھی ہٹنے پر مجبور کردیا لیکن شور کم ہوا کیا؟ مجھ سے اونچا بول رہا ہے صدام ترین، پارلیمان میں جگہ بناتے تو شاید اُسے سال لگ جاتے مگر اُس کا حق چھین کر آپ نے اُس کی آواز دنوں میں گھر گھر پہنچا دی۔ قاسم خان سوری نہیں ہے، تو سالار کاکڑ ہے آپ نے اُس کا مینڈیٹ جس کو بھی دیا عوام کے لیے تو وہی نمائندہ ہے جس کو انہوں نے ووٹ دیا۔ عالمگیر محسود اور ارسلان گھمن کو قیادت سے دور رکھا تھا، اپنے ہاتھوں ان کا راستہ صاف کردیا۔ آج ان کی سیٹیں لے کر اوروں کی جھولی میں ڈال بھی دیں تو کون سی کسی نے عزت سمیٹ لی اور کون سی ہار انہوں نے تسلیم کرلی؟
اور یہ تو وہ نام ہیں جو ہم سُن رہے ہیں۔ دو سال سے پارٹی کو کون زندہ رکھے ہے؟ عمران خان تو چھ مہینے سے جیل میں ہے، مجھ سے فسادی بھی منظر سے غائب ہوگئے۔ جن پہ تکیہ تھا وہ بڑے بڑے نام توڑ دیے؟ “لیڈر” لیڈر نہیں رہے۔ کوئ ہرس و حوس میں لُڑک گیا۔ کوئی جبر کے سامنے ہار گیا۔ کسی نے گھر بار کی عزت بچائی تو کوئی آل اولاد کے نام پر ٹوٹ گیا۔ ایک سہارہ تھا انتخابی نشان کہ کھمبے کو بھی ملا تو لوگ سر آنکھوں پر بٹھائیں گے وہ بھی لے لیا۔ پھر کون تھا کہ جس نے گاجر، مولی، گائے، بھینس، چمٹے، پیالے گھر گھر پہنچائے؟ پاکستان کی عوام، بچے بچے کو ازبر تھا کہ عمران خان کا نشان کون سا ہے! فقط جوان نہیں۔۔ ۸-۱۰ سال کے بچوں کو بھی علم ہے کہ عمران خان کیا ہے!
ایک مراد سعید خاموش ہوا تو اتنی زبانیں کھل گئیں۔ اتنی زبانیں کھینچوگے تو کتنے سر گویا ہونگے کوئی اندازہ ہے؟
آج سے دس سال پہلے ایک بڑے صحافی کا فون آیا تھا، دُکھی تھا، ایک بہت بڑے سیاست دان نے کہا تھا “دیکھو! یہ کیسے لوگوں کو لے آیا ہے عمران خان پارلیمان۔ اب یہ بیٹھیں گے ہمارے برابر؟”۔ آج اور بھی تلملا رہا ہے، عمران خان نے اُس کے ولی عہد کی تاج پوشی کے امکانات خاک کردیے۔ بہت سوں کے قدموں تلے سے زمین سرکی ہے ابھی جبر کے ہاتھوں سے تھامے ہیں تو نہیں لگ رہا، جب ہاتھ تھک جائیں گے (جو کہ تھکیں گے کیونکہ انہیں بڑا بھی خدائی کا دعوی ہو، ہے یہ انسان ہی) تو گمنامی کے اندھیروں میں گُم ہونے کی خواہشوں کو زباں ملے گی۔ تب تک جمے رہنا ہے۔ منزل پر نظر رکھنی ہے۔ اپنا حق واپس لینا ہے۔ برابر نہیں برتر ہو تم۔ مالک ہو تم۔
پاکستان سپر لیگ #PSL میں فوڈ برینڈ #KFC جو فلسطین کے خ��اف اسرائیل @Israel کو سپورٹ کر رہا ہے کی سپانسر شپ ہماری غیرت کے لیے چیلنج ہے، ہمارے زخموں پر نمک پاشی ہے۔
سینیٹ @SenatePakistan میں فلسطین اور پاکستان میں جاری پاکستان سپر لیگ #PSL2024 کے حوالے سے خطاب۔
@TheRealPCB
@GovtofPakistan