بلوچستان میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے قتل ہونے والے علی مرتضیٰ کے کزن نے کہا ہے کہ رات 1 بجے سے صبح 5 بجے تک بھائی بھابھی اکیلیے تھے، یہ بات غلط ہے کہ 2 گھنٹوں میں ریسکیو کیا گیا، کسی نے 2 گھنٹوں میں ریسکیو نہیں کیا اوریہ بات بھی غلط ہے کہ شہید ائیر ایمبولینس کے ذریعے آیا ہے بلکہ ہم خود اسے کارگو میں پی آئی اے کی فلائٹ سے لائے ہیں۔ کزن کا کہنا ہے کہ میں نے کہا یہ بھی تو پاکستان کا شہر ہے آپ کی 8، 10 موبائل نہیں جا سکتیں، بچا نہیں سکتے؟ کہتے ہیں جب تک سورج نہیں نکلتا کچھ نہیں کرسکتے، یہ نوگوایریا ہے۔
#TOKAlert #Karachi
دونوں پر کریں - اس ہی وقت یہ اوفر قبول کرنا چاہئیے اور 2018 اور 2024 کے الیکشن دونوں ایک ہی وقت کھولنے چاہئیں - سب آ کر ثبوت پیش کریں - بیرسٹر گوہر سلمان راجا اور شاہد خٹک کوئی دائر کیے بغیر یہ آفر مان لیں!
For clarification purpose:
Rs 4.0bn block allocations of New CM initiatives wrongly placed under discretionary grant. This has ratified already. So the amount under discretionary head is now 400 million compared to last year of 500mn rupees. Your tweet really helped us to clarify the mistake. Appreciated
ایک مہران کار موٹروے پر خراب ہوگئی۔
ایک مرسیڈیز والے نے کہا میں آپکی گاڑی کو پیچھے رسی سے باندھ لیتا ہوں، میں آرام سے ہی گاڑی چلاوں گا لیکن اگر آپ کو سپیڈ زیادہ لگے تو مجھے پیچھے سے لائٹیں مارنا میں آہستہ کر لوں گا
تھوڑا سا سفر آرام سے گزرا، اچانک ایک پورشے کار پاس سے گزری اور
کیا اپکو پتہ ہے جو بجلی کے مہنگے ترین معاہدے ن لیگ نے کئے تھے انکو سستا کروانے کے لئے ایک حکمران نے چائنہ کے ساتھ ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا جسے پھر ن لیگ نے CPECکا دشمن کہا تھا؟
یہ تھا سی پیک کا دشمن جو چائنہ سے کہہ رہا تھا میری عوام پر رحم کرو
یہ خبریں ضرور پڑھیں
ن لیگ اپنی ہر حکومت میں سیلز ٹیکس کی شرح بڑھ دیتی ہے
تحریک انصاف نے سیلز ٹیکس شرح بڑھانے سے انکار کردیا تھا جبکہ ن لیگ نے 2023 میں 17 سے 18فیصد کردیا اور اب 19فیصد کی خبریں آرہی ہے
سیلز 14 فیصد سے 18فیصد ن لیگ اور پی پی نے کیا لیکن مہنگائی عمران خان کی وجہ سے ہے
ایپسٹین فائلز میں بھی سامنے ایا اسرائیلی ایجنٹ عمران خان سے بڑے مسلم لیڈران سے زیادہ خطرہ محسوس کررہے تھے اور سائفر میں بھی امریکہ کہہ رہا بس عمران خان کو ہٹا دو سب کچھ معاف ہو جائیگا
اندازہ کریں عالمی اسٹبلشمنٹ عمران سے کتنی خوفزدہ ہے
Sohail Afridi is out on the streets rn fighting for Imran Khan, while your local PTI MNA/ticket holder is prolly not there to help him.
next time y’all want to hand out loyalty certificates, pls start with your own constituency.
ڈونلڈ لو بتا رہا ہے کہ ہمیں کنفرم ہے روس دورے کا فیصلہ عمران خان کا خود کا تھا
اب یہاں 2باتیں ہیں
یا تو امریکہ کو یہ کنفرمیشن باجوہ نے دی یا پھر امریکہ ویسے ہی سمجھتا تھا کہ روس دورے کا فیصلہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کرکے ہمیں ناراض نہیں کرسکتی یہ لازمی عمران خان کی اپنی حرکت ہے
سائفر کی جو سادہ کاپی ڈراپ سائٹ نیوز کی جانب سے جاری کی گئی ہے اس میں ایک کاپی وزیراعظم کو، دوسری سیکرٹری خارجہ کو، تیسری آرمی چیف کو، چوتھی ڈی جی آئی ایس آئی کو، پانچویں ڈائریکٹر ایس ایس پی ڈیپارٹمنٹ کو بھجوائی گئی تھی جبکہ چھٹی سپر کاپی تھی
سب سے پہلے 20 جولائی 2022 کو عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی جانب سے یہ انکشاف کیا تھا کہ ابتدائی طور پر وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی سے سائفر چھپایا گیا تھا۔ اسی روز دفتر خارجہ نے شہباز گل کے بیان کی تردید جاری کی، اگست 2022 میں شہباز گل کو گرفتار کر لیا گیا اور دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا
پھر 23 جنوری 202 کے روز سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ شاہ محمود قریشی سے سائفر چھپایا گیا تھا انہیں بائی چانس علم ہوا پھر اس کی کھوج کی گئی، سائفر اس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ کے لیے تھا
اب تحریک عدم اعتماد سے متعلق مولانا فضل الرحمن کے انٹرویو کو سنیں، جس میں وہ جنرل باجوہ کے حوالے سے الزامات عائد کر رہے ہیں، پھر سائفر کو پڑھیں، عمران خان اور شہباز گل کا بیان پڑھیں، آپ کو پوری سائفر سازش سمجھ آ جائے گی
سائفر بھینے تاریخ 7مارچ جبکہ عمران خان کے خلاف موشن 8مارچ کو جمع ہوئی
ڈونلڈ لو بھی ایک دو دن پہلے ساری بریفنگ لیکر آیا ہوگا پھر میٹنگ ہوئی اسکے کئے گھنٹے بعد سائفر بھیجا گیا
یعنی وائٹ ہاؤس کو پہلے ہی پتہ تھا کہ عدم اعتماد آرہی ہے اور اسے کامیاب ہونے کی صورت میں سب معاف ہوجائیگا
Before Imran Khan's arrest, Azaz Syed and Umar Cheema kept insinuating that Imran Khan used drugs and that’s why he was terrified of going to jail. Honestly, even a drug dealer like Pinky has more integrity than these two shameless touts.
ویسے تو ایک طویل فہرست ہے مگر تین ایسے کارنامے ہیں اگر وہ تحریک ا نصاف کی حکومت نہ کرتی تو عوام کی ہڈیاں اب تک نچوڑ ی جاچکی ہوتی اور ملک کا دوالیہ نکل چکا ہوتا ۔ اور افسوس یہ کہ ا نکی زیادہ تشہر بھی نہیں کی جاتی ۔ اعدادوشمار سے ا ن تین عظیم کاموں کی تفصیل دیکھتے ہیں ۔
1)
سال 2009 میں جب لوڈشیڈ نگ کا بحرا ن شدید تھا تو پیپلزپارٹی حکومت نے ترک کمپنی کارکے سے رینٹل پاور پلا نٹ کا معاہدہ کیا۔ جسے 2012 میں معطل کر دیا گیا ۔ کارکے کمپنی اس فیصلے کے خلاف عالمی عدالت چلی گئی اور 2017 میں عالمی عدالت نے اسکے حق میں فیصلہ دے دیا اور حکومت پاکستان پر 800 ملین ڈالر جرمانہ کردیا جس پر ماہانہ 59 کروڑ سود تھا۔ سال 2019 تک یہ جرمانہ 1.2 ارب ڈالر ہو چکا تھا۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے خصوصی درخواست کی اور یہ جرمانہ معاف کروا کر اس مصیبت سے نجات دلوائی ۔ اب اندازہ کریں کہ ایک ڈیڑھ ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے ائی ایم ایف کی کیسی کیسی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور عوام پر بھاری ٹیکس لگانے پڑتے ہیں ۔ اگر یہ جرمانہ معاف نہ ہوتا تو یہ پیسے سرکاری خزانے سے جانے تھے اور بوجھ عوام پر ہی پڑنا تھا
2)
سال 1993 میں حکومت نے ایک اسٹریلین کمپنی کے ساتھ بلوچستان مین سونے کے زخائر نکالنے کا معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ 75 فیصد اور حکومت کا حصہ 25 فیصد تھا۔ سال 2011 میں بلوچستان کی حکومت نے اس کمپنی کی لیز منسوخ کردی جس پر کمپبی ورلڈ بنک عدالت چلی گئی ۔ سال 2017 میں عدالت نے حکومت پاکستان کا موقف مسترد کرتے ہوئے اربوں ڈالر کا جرمانہ کردیا جو بڑھتے بڑھتے 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت نے کامیابی سے مزاکرت کیے اور وہ جرمانہ معاف کروا کر اس کمپنی کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ کم کر کے 50 فیصد کروایا گیا جبکہ بقیہ میں سے 25 فیصد بلوچستان حکومت اور 25 فیصد وفاق کا حصہ کروایا ۔
یہ یقینا بہت بڑی کامیابی تھی جسے اس لیول کی پزیرائی نہیں مل سکی ۔ پاکستان میں جعلی دانشوروں کے نزدیک پندرہ بیس ارب کے پل سڑکیں بہت بڑا پراجیکٹ تصور ہوتا ہے جبکہ پرانی حکومتوں کی نااہلی کا دس بارہ ارب ڈالر کا جرمانہ معاف کروانا کوئی بات ہی نہیں ۔ تصور کریں اگر حکومت یہ جرمانے ادا کرنے پر مجبورہو جاتی تو مہنگائی کا کیا لیول ہوتا ۔ ڈیفالٹ تو کب کا ہو چکا ہوتا۔ مگر حکومت کو داد دینے کی بجائے اسکے خلاف پراپیگنڈہ کیا گیا۔
3)
تحریک انصاف کی حکومت میں جب ہر چند ماہ بعد بجلی کی قیمتیں بڑھانی پڑتی تو وزیر اعظم عمران خان نے اسکا نوٹس لیا اور ایک اعلی سطح کمیٹی بنائی ۔ پتا چلا کہ پچھلی حکومتیں ائی پی پیز سے ایسے خوفناک معاہدے کر کے گئی ہیں جس کے تحت بجلی مہیا ہو یا نہ ہو انکو ڈالروں میں ادائیگی ہوتی رہے گی ۔ اب یہ معاہدے کینسل تو کر نہیں سکتے تھے کیونکہ پہلے ہی کارکے اور ریکودیک معاہدے منسوخ کرنے پر اربوں ڈالر کے جرمانوں کا سامنا تھا ۔ عمران خان حکومت نے کامیابی کے ساتھ کئی ائی پی پیز کو معاہدوں میں ردوبدل پر راضی کیا اور ادائیگیوں کے لیے ڈالر ریٹ کو 148 پر فکس کروا دیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے حکومت کو سالانہ 120 ارب روپے کا فائدہ ہوا اور ائندہ چند سالوں تک مجموعی 836 ارب روپے کے فائدہ کا تمخینہ ہے۔ اب اندازہ لگائیں 836 ارب میں کتنے پل سڑکیں بن سکتی ہیں۔ مگر افسوس متعصب میڈیا اس عظیم کامیابی کو وہ پزیرائی نہ دے سکا جو اسکا حق تھا۔ افسوس ہماری عوام کو سکھایا گیا کہ صرب پل سڑکیں ہی کامیاب پراجیکٹ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ نظر اجاتے ہیں چاہے ان میں کرپشن ہو ، یا وہ غیر ضروری ہوں۔ کامیاب سفارتکاری اور حکومتی مداخلت سے جو اربوں ڈالر کا فائدہ کروایا گیا وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں اتا۔ اس لیے جعلی دانشور دھڑلے سے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت کا کوئی پراجیکٹ ہی نہیں۔
سڑکیں بھی بنی ، پل بھی ، یونیورسٹیاں بھی اور ہسپتال بھی سب تفصیل موجود ہے ۔ لنگر خانے بھی چلے اور پناہ گاہیں بھی کھلیں ۔ ہر پاکستانی کے پاس دس لاکھ روپے کا صحت کارڈ بھی تھا اور نوکریاں بھی اتنی ملی کہ فیصل اباد جیسے شہر میں مزدور ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ کئی نئے ڈیموں پر کام شروع ہوا اور اس دھائی کو ڈیموں کی دھائی کہا گیا اگر وہ منصوبے وقت پر مکمل ہو جائیں تو عوام کو سستی بجلی مل سکے گی ۔ کسان نے اتنی ترقی کی کہ تین سال میں وہ سب بنا لیا جو دہایوں میں نہیں بنا سکے تھے ۔ تعمیرات کے شعبے میں انقلاب اگیا تھا غرض یہ کہ ہر شعبہ ترقی پر تھا۔ تھوڑی بہت مہنگائی تھی مگر معشیت بہترین 6 فصد گروتھ پر تھی ۔ 1/2
🚨اہم ترین
عمران خان کے ساتھ جوڈیشل کمپلیکس واقع کے بعد میں خالد خورشید کے ساتھ گلگت بلتستان چلا گیا وہاں کچھ عرصہ نکالا ، پھر میں زمان پارک لاہور آیا جہاں عمران خان نے قاسم خان اور سلیمان خان کا کمرہ میرے لیے تیار کروایا میں وہاں رہنے لگ گیا مجھے عمران خان نے سختی سے منظر عام پر آنے سے روک دیا پھر ایک وقت آیا عمران خان اور بشری بی بی نے مجھے دعائیں دے کر ایک تسبیح دے کر روانہ کر دیا ۔
مراد سعید نے روپوشی کی داستان سنا دی
اسی سوچ کی وجہ سے پچھلے 40سال میں کسی حکومت نے ڈیم نہیں بنایا کیونکہ ڈیم چاہے وہ 1500ارب کا میگا پراجیکٹ ہو وہ عوام کو سڑک کی طرح نظر نہیں آتا
عمران خان کے میگا پراجیکٹس میں کھربوں روپے کے 3 بڑے ڈیمز، یونیورسل ہیلتھ انشورنس، CBD لاہور, احساس پروگرام، SEZ فیصل آباد شامل ہیں
- Open a VPS account. Keep allocation at 100% equity, and grow wealth tax free. Get tax credit on salary. Contribute every month
- Avoid direct investment in PSX, unless ETFs. You will not be able to handle volatility, and information asymmetry
- Keep a Savings Account -- if a bank says it cannot be done, push harder
- Keep surplus cash in a Money market fund
- Do not buy a plot. High chance you will lose it all
- Do not invest in apartment project. High chance it will be stranded, and you will lose it all
- Target buying an average of 1 gram of physical gold every month (you can buy every quarter or whatever) -- regardless of price. Do not buy silver, or copper, etc. - unless you manufacture fans for a living
- Max out any available government housing scheme loans; this is the only property you should buy
- Keep renting; this is the most economically efficient decision
- Do not buy anything offered by bancassurance or that says life insurance savings plan. Run for the exit. Block their numbers.
- Do not invest with family.
ایران جنگ کے بعد ریجن میں سب سے زیادہ پیٹرول پاکستان میں 60% مہنگا ہوا، ھارت میں قیمتیں بلکل وہی ہیں جو پہلے تھیں، افغانستان، نیپال، مالدیپ، بھوٹان میں بھی اتنا اضافہ نہیں جتنا پاکستان میں ہوا؟
کیا ان ممالک پر عالمی قیمتوں کا اثر نہیں؟ ظالم بس عوام کو تباہ کر رہے ہیں
پیٹرول تو چلو موسمی بات ہے، چینی 90 روپے سے اٹھ کر 170 روپے خود قیمت مقرر کی، ڈالر 170 سے 280 پر کھڑا ہے، بجلی کے بل کم از کم دوگنے جبکہ مزید اضافہ ابھی باقی ہے، تنخواہ دار پر ٹیکس لگا کر گلا گھونٹ دیا ہے۔
تجربہ کاری اپنی جگہ، وہ پولیٹیکل اکانومی والی جادوگری بھی نظر نہیں آ رہی۔