تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبر پختونخواہ terrorism نہیں tourism کے لیے جانے جاتے تھے۔ رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخواہ پر مسلط کیا گیا۔ جب ۲۰۲۲ کی گرمیوں میں ہم نے آواز اٹھائ تو آپ نے ہمیں جھوٹا کہا لیکن آج اسی دہشتگردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جارہا ہے-
بنام پی ٹی آئی قیادت 🛑
چاہے مجھے ہسپتال لے کر جائیں یا نہ جائیں،
چاہے میری رہائی کا اعلان ہی کیوں نہ کر دیں، جب تک میرا ڈائریکٹ پیغام نہیں آتا ، لانگ مارچ کو کوئی منسوخ نہیں کر سکتا، نہ ہی اس میں کوئی ردوبدل کر سکتا ہے، اس کا فیصلہ صرف میں کروں گا.
عمران خان کا ہمیشیرہ کے ذریعے آخری پیغام
بہترین نوشی آپی کی شاعری اور ساتھ میں بہترین اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو یہ ہر جگہ ہر گلی ہر محلے تک پہنچنی چاہیے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے یہ ایسے جذبات میدان میں بھی ہونے ضروری ہیں ۔۔
یہ جعلی نظام بنانے والے سوچتے بھی نہیں کہ انھوں نے پاکستان کے ساتھ کیا کر دیا ہوا ہے؟
اس وقت نہ عوام کے پاس ووٹ کا حق باقی بچا ہے، نہ قانون کی حکمرانی ہے، نہ کوئی اخلاقیات باقی ہے اور آزاد میڈیا؟ وہ تو کب کب کا وفات پا چکا ہے!!
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت
فطرت کو ہمت اور بہادری پسند ہے۔ آپ عزم کریں، تو فطرت ناممکن رکاوٹوں کو دور کر کے اس عزم کا جواب دے گی۔
اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو!
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت
“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا!
غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا!
تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا!
جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!
یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
میں غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں نہ ہی جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا!
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے!
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں “یا موت یا آزادی” جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں!
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ تیاری پکڑیں!
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے! میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے برداشت کر رہا ہوں تاکہ میری قوم کو آزادی مل سکے۔ ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللّہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا!”
- پاکستان کے کپتان، حقیقی وزیراعظم عمران خان
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
#حق_كى_جيت_ہو_گى
کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے
وہ تم کو خوف دلائیں گے
جو ہے وہ بھی کھو سکتا ہے
اس راہ میں رہزن ہیں اتنے
کچھ اور یہاں ہو سکتا ہے
کچھ اور تو اکثر ہوتا ہے
پر تم جس لمحے میں زندہ ہو
یہ لمحہ تم سے زندہ ہے
یہ وقت نہیں پھر آئے گا
تم اپنی کرنی کر گزرو
جو ہوگا دیکھا جائے گا
@SohailAfridiISF
It has been nearly two weeks since Imran Khan’s elderly sisters were taken from their home in Lahore and placed in illegal detention. The family has yet to be given access to them.
“For 13 days, my mother Aleema Khan (68) and aunts Dr Uzma Khan (66) and Noreen Niazi (72), have been detained without access to their family or lawyer. We have pursued every available avenue — the courts, the Home Secretary and the Deputy Commissioner. Yet we remain unable to see them, speak to them, or independently confirm their wellbeing. We are now forced to return to the Lahore High Court again for something that should never have required repeated litigation: the right to have access to family and legal counsel.” - @KhanShershah
پاکستان میں جنگل کا قانون ہے اور اب جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہے بھینس بھی اسی کی ہے۔
جس شرمناک انداز میں (چادر و چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے) در و دیوار توڑ کر گھروں میں گھُسا جارہا ہے، ان پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور (قیمتی ساز و سامان کی) لوٹ کھسوٹ کے ساتھ اسے تباہ و برباد کیا جارہا ہے اس کی ہمارے یا کسی بھی مہذّب معاشرے میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔
اس سلسلے کا بدترین پہلو تو یہ ہے کہ ان گھریلو ملازمین کو مار پیٹ اور قید و بند کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے نہایت محنت سے رزقِ حلال کا بندوبست کرتے ہیں۔
میری ہمشیرہ کے باورچی سے دورانِ قید اس قدر وحشیانہ سلوک کیا گیا کہ (رہائی کے بعد سے) وہ وینٹیلٹر پر اور موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔
آرٹیکل 234 کے ایمرجنسی کی شق میں کلیدی لفظ “cannot” ہے۔ میاں منظور احمد وٹو کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے “cannot” سے مراد تعطل، عدمِ استطاعت یا حکومت چلانے کی نااہلی لی، اور بھارتی سپریم کورٹ کے S.R. Bommai کیس (1994) پر بھی انحصار کیا۔ محض آئینی خلاف ورزی، وفاقی حکومت سے سیاسی اختلاف یا لانگ مارچ کا ہونا اس بات کا مطلب نہیں کہ صوبہ آئین کے مطابق “cannot” چل سکتا۔ آرٹیکل 234 کے لیے حقیقی آئینی بحران درکار ہے، محض سیاسی اختلاف نہیں۔
I have full confidence that the newly appointed Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa, Sohail Afridi, will work in line with my vision of sustainable peace, our tribal traditions, and the aspirations of the people, to help the federal government implement an effective framework for lasting stability in the province.” 2/2
Message from former Prime Minister Imran Khan from prison - October 8th, 2025
“The situation in Balochistan is deteriorating with each passing day because the people’s elected representatives are not allowed to govern.”
- Imran Khan, September 2025
#RespectMandate
ایک باپ اپنے بچے کی باقیات کو ایسے تھامے ہوئے رو رہا ہے جیسے اپنے دل کا کوئی ٹکڑا سینے سے لگائے ہوئے ہو۔
غزہ کے ملبے تلے اب بھی ہزاروں افراد دبے ہوئے ہیں۔ اسرائیل لاشوں کو نکالنے کے لیے درکار آلات کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، جبکہ وسیع علاقوں کو بلڈوز کر کے انسانی باقیات پر مشتمل ملبہ ہٹا دیا گیا ہے۔