پیر صاحب اپنے بیٹے کو بھی مدرسے سے پڑھاکر اپنا فرض ادا کرتے یا مدرسے صرف آپ کے مریدوں اور غریبوں کے بچوں کے لیے ہیں؟
امید کرنی چاہیے کہ ہمارے لوگ ان پیروں، گدینشینوں سے نکلیں گے یا نہیں؟؟
If as a society ; we embraced empathy towards others, the dynamics and interactions would be fundamentally different.
Remember, the more you judge, the less you love.
Bisma Solangi from Sindh Pakistan has been invited to NASA for inventing Anti-Sleep Glasses. This is absolutely awesome.
Weldone. We'll promote this talent.
دوستو ايم ڪيو ايم پاران مقرر ڪيل دائود يونيورسٽي جي سنڌي شاگردن کي ڪڍيو ويو آھي ان حوالي سان دوست سنڌي شاگردن جو ساٿ ڏين.
#RestoreDawoodUniversityStudents
Let's make sure that the actions of a few don't overshadow the potential of these 12 students. Their admission must be restored! #RestoreDawoodUniversityStudents
#RemoveVCSamreenAsim
شاگرد مسقتبل جا معمار آھن روشن ستارا آھن شاگرد دشمن پاليسيون ڪنھن صورت قبول نه ڪيون وينديون تعليم جي وزارت کان مطالبو ٿا ڪيون ته شاگرد ۽ تعليم دشمن وي سي کي فوري ھٽائي ھزارين شاگردن جو مستقبل محفوظ ڪيو وڃي ٻي صورت ۾ جساف دائود يونيورسٽي جي گيٽ تي ڌرڻو ڏيندي
Bisma Solangi from Sindh has been invited to NASA for inventing Anti-Sleep Glasses. We are proud of her. This young lady helps us believe that anything is possible with hard work. She is an excellent example for many of us.❤️
اسان جون نيائون اسان جو فخر آهن، قدرتي انهن ۾ قابليت هوندي آهي پاڻ کي صرف انهن جي صلاحيتن تي ڀروسو ڪرڻ ۽ دڳ ڏيڻ ۾ ساٿ ڏيڻو هوندو آهي باقي ڪاميابين جي منزل خود انهن جي انتظار ۾ رهندي.
دئود يوينورسٽي جي وي سي ھوش سان ڪم وٺي. سنڌي شاگردن کي في الفور بحال ڪيو وڃي
سنڌ ۾ اڳي تعليم جو ھشر نشر ٿيل آهي ۽ وري ھي وي سي سنڌي شاگردن کي يونيورسٽي مان نيڪالي ڏئي شاگردن جو بنيادي حق کسي پئي
#RestoreDawoodUniversityStudents
جب سيدنا عمرؓ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔ طبیب نے ان سے کہا: اے امیر المومنین وصیت فرما دیں، آپ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔
تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور کہا کہ حذیفہ بن الیمان کو میرے پاس بلاؤ۔ حذیفہ بن الیمان حاضر ہو گئے۔ یہ وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے منافقین کے ناموں کی فہرست عطا کی تھی اور ان ناموں کے بارے میں اللّٰہ پاک اس کے رسول ﷺ اور حذیفہ بن الیمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔
حضرت عمرؓ نے پوچھا جبکہ خون ان کی پسلیوں سے بہہ رہا تھا، کہ اے حذیفہ بن الیمان میں آپ کو اللّٰہ کی قسم دے کر کہتا ہوں! کیا اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام منافقین کے ناموں میں لیا ہے یا نہیں؟
یہ سن کر حذیفہ بن الیمان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا! یہ میرے پاس رسول اللّٰہ ﷺ کا راز ہے جو کسی کو نہیں بتا سکتا۔ آپ نے پھر پوچھا! خدا کے لیے مجھے اتنا بتادیں،
اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام شامل کیا ہے یا نہیں؟
حذیفہ بن الیمان کی ہچکی بندھ گئی اور کہتے ہیں اے عمرؓ! میں صرف آپ کو بتا رہا ہوں اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میں کبھی بھی اپنی زبان نہ کھولتا اور وہ بھی صرف اتنا بتاتا ہوں کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے اس میں آپ کا نام شامل نہیں کیا۔
حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا کہ دنیا میں میرے لیے ایک چیز باقی رہ گئی ہے۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا وہ کیا ہے ابا جان؟
حضرت عمرؓ نے فرمایا! بیٹا میں جوار رسول ﷺ میں دفن ہونا چاہتا ہوں۔ لہزا ام المؤمنين حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ، ان سے یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنین عمر بلکہ کہنا کہ کیا آپ عمر کو اپنے ساتھیوں کے قدموں میں دفن ہونے کی اجازت دیتی ہیں؟
کیونکہ آپ اس گھر کی مالکن ہیں۔ تو ام المؤمنین نے جواب دیا کہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے تیار کر رکھی تھی لیکن آج میں اسے عمر کے لیے ترک کرتی ہوں۔
عبداللہ ابنِ عمرؓ شاداں و فرحان واپس آئے اور عرض کی، اجازت مل گئی ہے۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ کا رخسار مٹی پر پڑا ہے تو انہوں نے آپ کا چہرہ اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا۔
حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیوں تم میرا چہرہ مٹی سے بچانا چاہتے ہو۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے کہا ابا جان لیکن حضرت عمرؓ نے بات کاٹنے ہوئے فرمایا کہ اپنے باپ کا چہرہ مٹی سے لگنے دو۔ بربادی ہے عمر کے لیے اگر کل اللّٰہ پاک نے اسے نہ بخشا۔
حضرت عمرؓ اپنے بیٹے کو یہ وصیت فرما کر موت کی آغوش میں چلے گئے،،،
اے میرے بیٹے میری میت مسجد نبوی میں لے جانا اور میرا جنازہ پڑھنا اور حذیفہ بن یمان پر نظر رکھنا اگر وہ میرے جنازے میں شرکت کرے، تو میری میت روضہ رسول ﷺ کی طرف لے جانا۔
اور میرا جنازه روضة الرسول ﷺ کے دروازے پر رکھ کر دوباره اجازت طلب کرنا اور کہنا،،،
اے ام المؤمنین آپ کا بیٹا عمر یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنين، ہو سکتا ہے میری زندگی میں مجھ سے حیا کی وجہ سے اجازت دی گئی ہو، اگر اجازت مرحمت فرما دیں تو دفن کرنا ورنہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔
عبداللہ ابنِ عمرؓ کی نظریں حذیفہ بن الیمان پر تھیں. وہ
کہتے ہیں کہ میں حذیفہ بن یمان کو ابا جان کی نماز جنازہ پر دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہم جنازہ لے کر روضہ رسول ﷺ کی طرف چلے گئے۔ دروازے پر کھڑے ہو کر میں نے کہا۔ "اے ہماری ماں آپ کا بیٹا عمر دروازے پر
ہے، کیا آپ تدفین کی اجازت دیتی ہیں؟
ام المؤمنین نے جواب دیا! مرحبا یا عمر۔ عمر کو اپنے ساتھیوں کی ساتھ دفن ہونے پر مبارک ہو۔ ام المؤمنین نے اپنی چادر سمیٹی اور روضہ رسول ﷺ سے باہر نکل آئیں۔
اللّٰہ پاک راضی ہو حضرت عمرؓ سے زمین کا چپہ چپہ جن کے عدل کی گواہی دیتا ہے، جن کی موت سے اسلام یتیم ہو گیا، جن کو اللّٰہ کے رسول ﷺ نے زندگی میں جنت کی خوشخبری دی ہو پھر بھی اللّٰہ کے سامنے حساب دہی اتنا خوف ہمارا کیا بنے گا؟
@RaheelaKhan83 اللہ سب کو ہدایت دے اور ضروری نہیں ہے کہ دوپٹہ پر جواب دیا جاۓ ۔۔ پاکستانیوں کا مسلۂ یہ ہی ہے ہر جگہ ٹانگ اڑاتے پھرتے ہیں اپنے کام سے کام نہیں رکھتے ۔۔ اور احترام ہم سب پر لازم ہے اللہ قبول کرے