🚨اہم ترین
لیڈر امت مسلمہ عمران خان نے کہا ہے کہ میں جیل میں بیٹھ کر تحریک چلاونگا مگر کچھ نادان کہتے ہیں کہ عمران خان تاریخ بن چکے ہیں تو چلیں پھر تاریخ میں لے کر چلتے ہیں تمام پاکستانیوں کے سامنے چند اہم ترین سوالات رکھے گئے ہیں
ویڈیو پھیلایں 🇵🇰
نوجوان طالبہ نے کیوں خودکشی کی؟ یہ واقعہ محض ایک علامت ہے بیماری قانون کی عملداری کا فقدان ہے۔طالبہ کو 1فیصد بھی امید ہوتی کہ انصاف ملے گاتو وہ کبھی خودکشی نہ کرتی۔ جہاں TVپر بیٹھ کر دانشوار عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کی پیشنگوئی کریں،وہاں عام آدمی انصاف کی امید کیسے رکھے!
یہ جرنیل، یہ ججز، یہ بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھے شخص، اِن کو کیا پتہ کہ جب اپنی بیوی بچوں کے ساتھ اپنا گھر چھوڑنا پڑتا ہے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ آئیں ناں، اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ایک دن کیمپ میں رہیں ناں۔ کبھی اپنے گھروں پر یہ بم گراؤ ناں، تب پتہ چلے گا تمہیں، تب احساس ہو گا کہ جب چھوٹے بچے شہید ہوتے ہیں تو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ سہیل آفریدی
#pakistan @SohailAfridiISF
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
اقبال افریدی اور غنی افریدی کو خیبر سے لوگوں کو اکٹھا کر کے سی ایم ہاؤس کی طرف انا چاہیے اور جتنے بھی ایم پی ایز ایم این اے پشاور کے ہیں وہ بھی اپنے کارکنان کو اکٹھا کر کے ایک ٹائم پر سارے سی ایم ہاؤس کی طرف روانہ ہوں اور سی ایم کے ساتھ اکٹھے سارے مردان کی طرف روانہ ہوں جہاں سے صوابی جایا جائے
پاکستان کا ہمسایوں کے ساتھ زمینی بارڈر تقریبا 6774 کلومیٹر بنتا ہے۔
1۔ بھارت = 2912 کلومیٹر
2۔ افغانستان = 2430 کلومیٹر
3۔ ایران = 909 کلومیٹر
4۔ چین = 523 کلومیٹر
جب عمران خان کی حکومت تھی تو صرف بھارت کے ساتھ لگا 42 فیصد بارڈر غیرمحفوظ تھا، جوکہ 1947 کےتقسیم کےوقت سےہے۔
ریجیم چینج کے بعد سے اب تک 92فیصد بارڈر (بھارت، افغانستان اور ایران) غیر محفوظ ہوچکاہے۔
عمران خان کی حکومت میں ملک میں 1999 کے بعد پہلی بار تین سال مسلسل امن رہا۔
ریجیم چینج کے بعد آج کے دن تک ملک کے اندرہمارا 47 فیصد علاقہ (374710 کلومیٹر) اس وقت مکمل حالت جنگ میں ہے جس میں 347190 کلومیٹر بلوچستان اور 27220 کلومیٹر فاٹا کا علاقہ شامل ہے۔ اب آج کے پختونخواء میں ایمرجنسی کے نفاظ کے بعد یہ انتشار 56 فیصد علاقے (پورے پختونخواء اوربلوچستان) تک پھیلنے کا خطرہ بن گیا۔
سر شکریہ کس کا ادا کرنا ہے؟
سر یہ آپکا ہی ویژن ہے!
حق حق حق!
خوشی اس بات کی ہے کہ سہیل آفریدی نے گزشتہ کچھ عرصے سے ملٹری آپریشنز کے حوالے سے جو مؤقف اپنایا، وہی مؤقف خان صاحب کا رہا۔ آج سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کے عوام کے سامنے اسی مؤقف پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا۔
جدوجہد طویل ضرور ہے، مگر بالآخر فتح خان صاحب کی ہی ہوگی۔
آج سب کو باہر نکلنا!
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
۔۔۔۔۔۔۔
ایران پارلیمنٹ کے اس رکن نے کہا ہے کہ ہمارے پڑوس میں کچھ ملک ایسے ہیں جو ثالثی کے دعویدار ہیں ،جب کہ ہمیں معلوم ہے ان کے لیڈروں کے ٹویئٹ بھی امریکی لکھتے ہیں
———
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
Congratulations to the self-proclaimed champions of democracy, the PPP, on completing a hat-trick of imposing Governor’s Rule in Khyber Pakhtunkhwa!
First under Zulfikar Ali Bhutto in 1975, then under Benazir Bhutto in 1994, and now in 2026 under Asif Ali Zardari who signed the proclamation suspending the powers of the elected provincial government.
@BarristerGohar@salmanAraja@BBhuttoZardari
اللہ اکبر اللہ اکبر
لاہور پولیس کا ایک اور کارنامہ معصوم فرشتوں کو ماں سمیت بے گناہ قید میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بناتے رہے
معصوم ننھے فرشتوں کو تو بخش دو اللہ کے بندو یہ ہے مریم نواز کی ریڈ لائن
🚨🚨🚨Updates on Emergency and Governor’s Rule in Khyber Pakhtunkhwa (KP)
The IG Police KP, a known PML-N loyalist who has repeatedly been working for the ISI in KP for the past two years, has prepared a concocted report claiming a lack of support from the provincial government in the fight against terrorism.
This report has as per sources, been cooked up on the instructions of Brigadier Omar Sharif, Sector Commander Peshawar, with the deliberate objective of creating grounds for the imposition of Governor’s Rule and a state of emergency in KP.
But the duffers seem to have forgotten one crucial fact: Half of the KP Police Force is already on record protesting and going on strike against the interference and dominance of intelligence agencies, accusing them of supporting militants and securing their release even after successful arrests.
Yet the duffers simply do not care. They appear determined to push ahead with fabricated reports and manufactured narratives to portray PTI as a Taliban-supporting political party.
The objective is clear: to manufacture a justification for extraordinary measures against the elected provincial government.
Now it is up to the people of Pakistan to expose who the real “Dehshatgard” (terrorists) in Pakistan are.
ائی جی پنجاب صاحب اپ سے گزارش ہے کہ اس معاملے پر ایک جے ائی ٹی بنائی جائے ۔۔اس معاملے کی مکمل انکوائری کروائی جائے ۔۔۔انسپیکٹر صاحب کا کیا رول ہے وہ دیکھا جائے ۔۔۔تاکہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ہو ۔۔قصور انتظامیہ سے بھی درخواست ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کروائیں @OfficialDPRPP
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
”جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔“ @MuradSaeedPTI
توہینِ عدالت کا اصل مرتکب کون؟
وزیراعلیٰ آفریدی کو توہینِ عدالت کی دھمکی دینے والو، ذرا اپنے گریبان میں جھانکو۔ تمہارا پورا اقتدار عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی کوکھ سے پیدا ہوا ہے۔ جس جمہوریت کا لبادہ اوڑھے بیٹھے ہو، وہ 14 مئی 2023 کو سپریم کورٹ کے واضح حکم کو پاؤں تلے روند کر حاصل کی گئی تھی۔۔۔!!
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
تحریک انصاف کےریاستی جبر کا شکار مفرور اور اشتہاری رہنما دوستوں کو مشورہ ہوگا کہ اگر کوئی ایسا ساتھی گرفتارہوتاہےجسکوآپکےمسکن کی معلومات ہوں توفوری طورپروہاں سےنکل جائیں۔
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر
وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنی ہی عوام کے خلاف یکطرفہ طور پر فوجی آپریشنز شروع کرنے کے تباہ کن نتائج پر بات کرتے ہوئے بلوچستان کی صورتحال کی مثال دی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا:
"میرے پاکستانیو! پہلا ملٹی آپریشن بلوچستان میں 1970 کی دہائی میں ہوا، اس وقت ذولفقار علی بھٹو کی حکومت تھی تب کہا گیا ہم ملٹری آپریشن سے بلوچستان میں امن لائیں گے پچاس سال ہوگئے امن نہیں آیا یہ ذولفقار علی بھٹو اپنی کتاب میں لکھتا ہے آپریشن کے وقت وہاں سے سویلین کو سائیڈ پر کیا گیا وہاں کے وسائل سمیت سب کچھ ملٹری کے ہاتھ میں آگیا یہ سہیل آفریدی نہیں کہہ رہا یہ عمران خان نہیں کہہ رہا یہ جو گورنر راج لگانے پر تُلا ہوا ہے اس کا لیڈر کہہ رہا ہے"۔
وزیر اعلی سہیل آفریدی
یہ جو عمران خان پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، یہ جو ان کی فیملی تک کو اٹھا اٹھا کر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، سوچیں کہ یہ آخر کس جرم کی سزا ہے؟
جرم صرف ایک ہے وہ عوام کے لئے آزادی کیوں مانگ رہا ہے؟ یہ جرم کیا اتنا بڑا ہے کہ اس کی فیملی کو بھی اذیتیں دی جائیں؟ مظالم ڈھائے جائیں؟
#جاگ_اٹھا_وطن_خان_کیلیے
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار