ترقی پسند پارٹی ہونے کے باوجود۔۔ووٹ نا ملیں
اور
قبروں پر سیاست کرنے والوں کو اقتدار ملتا جائے تو
سمجھ لیں
کہ
ن لیگ کے سارے سسٹم کو
تیزاب سے غسل دینے کی ضرورت ہے۔
تکبر،رعونت،اقربا پروری،
خوشامد،چاپلوسی
تباہ کرتی جا رہی ہے۔
عوام کو Connect نہیں کر پا رہے۔
سب"اچھا جی"سن سن کر
خوش/مطمئن رہتے ہیں۔
ایسے ہی رہا تو جلد ہی کوئی
"کاکروچ پارٹی"جنم لے لے گی۔
*ساڈا کم اے رولا پانا۔۔۔اگو اینا دی مرضی
(اسد آر چوہدری)
بجلی کے بل نا قابل برداشت تھے آپ نے الٹا ان پر فکسڈ ٹیکس کے نام پر ہزاروں روپے اور ڈال دیے غریب سے غریب صارف سے نو سو روپے لے رہے اس کے بعد آپ یہ امید رکھتے کہ عوام آپ کی تعریفیں کرے کہ صاحب کیا شاندار حکومت ہے ؟
راتب خوروں نے ضمیر بیچے ہیں قوم نے نہی
ہمارے پالیسی ساز پٹرول کے ساتھ بھی وہی کر رہے ہیں جو انہوں نے بجلی کے ساتھ کیا، آپ سات روپے فی یونٹ کی لاگت سے بننے والی بجلی بجلی ستر روپے فی یونٹ پر خرید رہے ہیں۔ یہی حال پٹرول کا کردیا گیا ہے۔
اگر ٹویٹر پر ہر ہر شخص حکومت پر پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر کھل کر تنقید کریں تو کل کے دن ہی سو روپے فی لیٹر سستا ہو جائے گا
یاد رکھیں اگر سب لوگ مل کر اس ہم ایسے پوسٹوں کو ری پوسٹ کریں لائک کریں تو یہ ممکن ہوگا
چھترول جاری رکھیں یہ پیٹرول قیمت واپس ہو جائے گی ان کے درباریوں ، وزیروں کسی کو کوئی اور مسلہ مت لکھنے دیں ان سے صرف مہنگے پیٹرول پر سوال کریں
آج کے دور کا موثر ترین احتجاج یہ ہے
عوامی مطالبہ
بے نظیر بھٹو دور کے لگائے گئے تمام آئی پی پیز کے پاور پرچیز ایگریمنٹس ختم کرو۔ ان کو دی گئی توسیعات، کم قیمت ایندھن کی سہولتیں ختم کرو۔ حکومت جتنی بجلی خریدے، اتنی رقم ادا کرے۔ کیپیسٹی چارجز ختم کرو۔ مشکل وقت ہے، صرف قوم ہی کیوں قربانی دے، یہ بھی قربانی دیں۔ کئی گنا زیادہ منافع کما چکے ہیں۔
آواز اٹھائیں اگر آپ متفق ہیں تو
لگتا ھے اکاؤنٹ کو بہت زیادہ رپورٹ کیا جا رہا ھے۔ مجھے صبح سے خود اپنی پوسٹ شو نہیں ہو رہی۔ صرف وہی پوسٹ شو ہو رہی ہیں۔ جنکو آرٹی کیا ھے۔۔
جن دوستوں کو میری پوسٹ شو ہو وہ پلیز لائک، آرٹی کمنٹ ضرور کر دے۔
شکریہ۔
اگر تمام آئی پی پیز کے معاہدے قانون کے مطابق اس سال ختم ہو جائیں، جیسا کہ ان کے معاہدوں میں لکھا ہوا ہے، تو موجودہ گرمیاں مہنگی بجلی کی آخری گرمیاں ہیں۔ موجودہ بحران اس لئے پیدا کیا جا رہا ہے، تا کہ ان آئی پی پیز کے معاہدوں میں ناجائز توسیع کی جا سکے۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی خبر تو آپ تک پہنچ چکی ہو گی۔ اب ایکسپریس نیوز کی آج ہی شائع ہونے والی خبر بھی دیکھ لیجیے ۔۔۔۔
"نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ پیٹرول پر عائد ڈیویلپمنٹ لیوی 80.61 روپے سے بڑھا کر 107.38روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ اگر پیٹرول پر لیوی نہیں بڑھائی جاتی تو پیٹرول کی سابق قیمت برقرار رکھی جاسکتی تھی۔"
یعنی پیٹرول کی قیمت میں یہ اضافہ بین الاقوامی قیمت خرید میں کسی ردوبدل کا نتیجہ نہیں بلکہ محض ٹیکس میں اضافہ کر کے عوام کو لگایا گیا ٹیکہ ہے۔
میاں صاحب کچھ تو خدا کا خوف کریں۔۔ جو لوگ روٹی اور پانی کے پیسے افورڈ نہیں کر پاتے، آپ ان پر اضافی ٹیکس، اور بجلی و گیس کے بھاری بلوں کا بوجھ ڈال رھے ہیں، اور مسلسل بڑھاتے چلے جا رھے ہیں۔
کل رات آپ نے پھر سے پٹرول کا ریٹ بڑھا دیا ھے،
یہ یاد رکھیں آپ لوگ جو سبسڈی یا خیراتی پروگرام چلا رھے ہیں ان سے ایک مخصوص طبقہ ہی فائدہ اٹھا رہا ھے۔ لیکن ایسا سفید پوش طبقہ جو اپنی عزت نفس کسی حال میں مجروح نہیں کر سکتا۔۔۔ وہ طبقہ پس رہا ھے۔ وہ طبقہ جھولیاں اٹھا کر بددعائیں دے رہا ھے۔۔ ماں لیا آپ ایران و امریکہ کی صلح کروا رھے ہیں جو یقیناً بہت اچھا کام ھے۔۔ لیکن اس دوران آپ عوام کی تکلیفوں کو کیسے بھول سکتے ہیں؟
آپ ان پر اتنا ظلم کیسے کر سکتے ہیں؟
خدارا اشرافیہ کی فضول خرچیاں بند کروائیں خود کو عوام کا جوابدہ سمجھیں۔۔ مہنگائی کا خاتمہ کریں جیسا کے آپ نے وعدہ کیا تھا اور عوام کو کاغذی نہیں حقیقی ریلیف فراہم کریں۔۔
ہم شہباز حکومت کو کم وقت میں زیادہ سے زیادہ گالیاں دلوانے پر جناب اویس لغاری کو صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کے لئے نامزد کرنے پر ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہیں۔ امید ہے والد گرامی کی طرح آپ جناب اس شاخ کو کاٹنے کا عمل جاری رکھیں گے جس پر آپ تشریف رکھتے ہیں۔
🙏
حکومت آئی پی پیز کے ساتھ مہنگے ظالمانہ عوام دشمن معاہدے ختم کرنے کی بجائے ۔۔انکے اپنی محنت سے لگائے گئے سولر پینلز پہ ٹیکس لگانے اور انکی زندگی اجیرن کرنے کا سوچے بیٹھی ہے ۔
کیسی لعنتی اشرافیہ ہے ۔۔۔
🚨بھائیو اور بہنو! دل دہلا دینے والا ظلم ہو رہا ہے بجلی کے بل دینے والوں کے ساتھ!
اویس لغاری صاحب نے پہلے تو نیٹ میٹرنگ کو عملاً ختم کر کے گراس میٹرنگ (نیٹ بلنگ) تھوپ دیا۔
اب آسان الفاظ میں سمجھ لو:
جب آپ واپڈا سے بجلی خریدیں گے تو 50-55 روپے فی یونٹ دیں گے۔ جب آپ اپنی سولر بجلی گرڈ کو دیں گے تو صرف 10 روپے فی یونٹ ملیں گے!
یونٹ ٹو یونٹ ایڈجسٹمنٹ ختم! 2016-17 کی پرانی پالیسی میں ایسا ظلم نہیں تھا۔
پھر میاں نواز شریف کے نوٹس پر کہا گیا “پرانے صارفین متاثر نہیں ہوں گے” حالانکہ وہ تو پہلے ہی نیپرا کے 5-7 سالہ کنٹریکٹس میں محفوظ تھے۔
اصل کھیل یہ ہے: جیسے جیسے ان کے کنٹریکٹس ختم ہوں گے، انہیں ایک ایک کرکے 10 روپے والے نئے جال میں ڈال دیا جائے گا۔ بالآخر ہر سولر والا اسی مہنگے خریدنے اور سستے بیچنے کے چکر میں پھنس جائے گا۔
اب اویس لغاری نے ایک قدم اور آگے بڑھا دیا ٹیکس لگا دیے اور لائسنسنگ کی شرط ڈال دی کہ عام آدمی سولر سسٹم لگا ہی نہ سکے!
نتیجہ صاف ہے:
سولر سسٹم ختم ہو جائیں گے، لوڈشیڈنگ بڑھے گی، اور پھر مہنگی بجلی گھروں سے خریدنے کا راستہ کھلے گا جہاں کمیشن بھی بنے گا، کیونکہ سولر سے تو کوئی کمیشن نہیں بنتا تھا۔
یہ سیدھا نون لیگ کے ووٹ بینک اور متوسط طبقے پر کاری وار ہے۔
میاں نواز شریف صاحب!
وزیراعظم شہباز شریف صاحب!
فوری نوٹس لیں، اس ناقابلِ تلافی نقصان کو روکیں۔
ورنہ لوگ سولر لگانے کا خواب بھی چھوڑ دیں گے اور مہنگی بجلی کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے اور ووٹ تو آپ بھول ہی جائیں بدعائیں روز ملیں گی