بلوچستان میں “اٹھاؤ، مارو اور پھینکو” کی پالیسی کیا ہے؟
براہگ بلوچ
2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار سنبھالتے ہی پاکستانی فوج کے ساتھ معاہدے کے تحت بلوچ آزادی تحریک کو کچلنے کے لیے بلوچستان کے طول و عرض میں بلوچ نسل کشی میں مزید شدت لاتے ہوئے پاکستانی فوج نے "اٹھاؤ، مارو اور پھینکو" کی پالیسی کا آغاز کیا۔ اس پالیسی کا مقصد بلوچ پرامن سیاسی سرگرمیوں پر قدغن لگانا، بلوچ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو دن دہاڑے کہیں سے بھی بلا روک ٹوک اغوا کرنا، دورانِ حراست ان پر انسانیت سوز تشدد کرنا اور پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک دینا تھا، تاکہ خوف و ہراس کا ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
اس پالیسی کا آغاز پاکستانی فورسز کی جانب سے 3 اپریل 2009 کو شہید غلام محمد، شہید لالا منیر اور شہید شیر محمد کے اغوا سے ہوا، جنہیں دن دہاڑے بلوچستان کے شہر تربت میں ایک وکیل کے دفتر سے حراست میں لیا گیا۔ 9 اپریل 2009 کو ان کی تیزاب سے مسخ شدہ لاشیں مرگاپ سے برآمد ہوئیں۔
اس سنگین جرم کے خلاف بلوچستان کے طول و عرض میں مظاہرے پھوٹ پڑے، جس کے نتیجے میں بلوچستان میں ریاستِ پاکستان کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوا اور آزادی کی جدوجہد مزید تیز ہو گئی۔ دوسری جانب ریاستِ پاکستان نے بھی اپنے جنگی جرائم میں مزید تیزی لائی۔ آزادی پسند جماعتوں کے اتحاد بلوچ نیشنل فرنٹ، جس میں بلوچ ریپبلکن پارٹی، بلوچ نیشنل موومنٹ، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد سمیت دیگر سیاسی و طلبہ تنظیمیں شامل تھیں، کے رہنماؤں اور کارکنوں کو اغوا کر کے ماورائے عدالت قتل کیا گیا اور ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ مزید بڑھا دیا گیا۔ یہاں تک کہ بلوچستان کے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، وکلاء اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے بلوچ افراد کو بھی نہیں بخشا گیا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جولائی 2010 تا مئی 2011 کی رپورٹ کے مطابق ایک سال کے اندر بلوچوں کی 140 مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں، جو زیادہ تر بلوچ قوم کے تعلیم یافتہ اور بااثر طبقے سے تعلق رکھتی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ریاستِ پاکستان کی جانب سے بلوچوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں مزید اضافہ ہوتا گیا، یہاں تک کہ ہزاروں بلوچ اپنے وطن سے ہجرت پر مجبور ہو گئے اور کئی افراد خلیج عرب اور یورپ میں آباد ہو گئے۔ سیاست پر قدغن اس وقت بھی جاری تھی اور آج بھی ہے، اس کے باوجود ریاستِ پاکستان اور پاکستانی فورسز ہر اس بلوچ کو جو بلوچ حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے، ریاست کا دشمن قرار دے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیتی ہیں یا اس کی مسخ شدہ لاش پھینک دیتی ہے۔
2010 میں ریاستی فورسز نے اپنے جرائم میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ڈیتھ اسکواڈز بنانے کا آغاز کیا۔ پہلی بار 2 مارچ 2010 کو خضدار میں ایک ثقافتی تقریب پر دستی بم سے حملہ کیا گیا، جس میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے کارکن سکندر بلوچ اور جنید بلوچ شہید ہوئے، جبکہ بیبرگ بلوچ سمیت کئی کارکن شدید زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری ریاستِ پاکستان کی تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ "بلوچ مسلح دفاعی تنظیم" نے قبول کی، اور اخبارات کے ذریعے بلوچ ریپبلکن پارٹی، بلوچ نیشنل موومنٹ اور بی ایس او کے تینوں دھڑوں کو بلوچستان بھر میں نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی گئیں۔
اسی پالیسی کے تحت مزید منظم ڈیتھ اسکواڈز تشکیل دیے گئے، جن میں سراوان میں "بلوچ بنیاد پرست آرمی" اور ڈیرہ بگٹی میں "بگٹی امن فورس" شامل ہیں۔ ان ڈیتھ اسکواڈز کا مقصد بلوچ کو بلوچ کے ہاتھوں قتل کروانا اور اپنے کیمپوں میں بیٹھ کر بلوچ نسل کشی کے اس تماشے کو دیکھنا تھا۔
بلوچستان میں آج بھی مختلف حربوں کے ذریعے بلوچ قوم کی نسل کشی جاری ہے۔ سڑکوں کے جال سے لے کر ڈیموں کی تعمیر اور نام نہاد ترقیاتی منصوبوں تک، ریاست نے ہر عمل کو اس انداز میں تشکیل دیا ہے کہ وہ بلوچ قوم کی بقا کے خلاف ثابت ہو۔ ان منصوبوں کا مقصد بلوچ عوام کو تنگ آ کر اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے، تاکہ قابض قوتیں بلا روک ٹوک اپنی لوٹ مار جاری رکھ سکیں۔
The armed attack on Nushki Girls Degree College,which injured Students Mahmona,Maryam and Rukhsana,is an attack on education,human dignity n the future of Baloch society. One student is reportedly in critical condition.Girls seeking education must never become targets of violence
بلوچ وائس فار جسٹس کا نوشکی گرلز ڈگری کالج پر حملے کی شدید مذمت اور عالمی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ!
بلوچ وائس فار جسٹس نوشکی گرلز ڈگری کالج میں طالبات پر مسلح حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، جس کے نتیجے میں مہمونہ، مریم اور رخسانہ زخمی ہوئیں، جبکہ ایک طالبہ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ علم حاصل کرنے والی بچیوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا محض ایک مجرمانہ فعل نہیں، بلکہ تعلیم، انسانی وقار اور بلوچ معاشرے کے مستقبل پر حملہ ہے۔
نوشکی گزشتہ کئی ماہ سے فوج اور ایف سی کے محاصرے اور کرفیو جیسی صورتِ حال میں ہے۔ ایسے سخت سکیورٹی ماحول میں مسلح افراد کا گرلز کالج میں داخل ہونا، سی سی ٹی وی کیمروں اور پرنسپل کے دفتر کو نقصان پہنچانا اور طالبات پر فائرنگ کرنا ریاستی سکیورٹی انتظامات کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حملے میں آئی ایس آئی، ایم آئی اور ان کی سرپرستی میں سرگرم ریاستی ڈیتھ اسکواڈز ملوث ہیں۔ بلوچستان میں تعلیمی اداروں اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے سابقہ واقعات کے تناظر میں یہ حملہ بھی ریاستی سرپرستی اور خفیہ اداروں کے کردار کے وسیع تر پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
حملے کے فوراً بعد ریاستی حمایت یافتہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی غیر معمولی سرگرمی اور بلوچ مزاحمتی تنظیموں پر بغیر قابلِ تصدیق شواہد کے الزامات کی یلغار، اصل حقائق سے توجہ ہٹانے اور عوامی رائے کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ جب خود ریاستی اداروں پر اس حملے میں ملوث ہونے کے الزامات ہوں تو انہی اداروں سے غیر جانب دارانہ تحقیقات اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ مفادات کے ایسے واضح تصادم میں ان اداروں کے زیرِ نگرانی تحقیقات انصاف کے بنیادی تقاضوں پر سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔
بلوچ وائس فار جسٹس اقوامِ متحدہ، دفترِ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے پُرزور اپیل کرتی ہے کہ نوشکی گرلز ڈگری کالج پر حملے کا فوری نوٹس لیں، آزاد اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے مؤثر اقدامات کریں، شواہد اور سی سی ٹی وی ریکارڈ کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کریں اور تحقیقات کو مبینہ طور پر ملوث ریاستی اداروں کے اثر و رسوخ سے مکمل طور پر آزاد رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ذمہ داروں کی شناخت، شواہد کی بنیاد پر قانونی جواب دہی اور متاثرہ طالبات کو انصاف کی فراہمی بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی فوری توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔
قلاتی نوابزادہ اور گوادری ملا ایسے لڑ رہے ہیں جیسے ان دونوں کو یہ فیصلہ کرنا ہو کہ سرداری نظام رہے گا یا ختم ہو جائے گا۔
درحقیقت بلوچستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ فیصلے راولپنڈی میں ہوتے ہیں، اور وہ اپنے مفادات کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں کہ سرداری نظام رہے گا یا نہیں، اور اگر رہے گا تو سردار کون ہوگا۔
نوشکی میں افسوسناک واقعہ بلوچ خواتین کو تعلیم سے دور رکھنے کی سازش ہے، رواں سال اسی گرلز کالج سے چند گز کے فاصلے پر پروفیسر غمخوار حیات کو شہید کرکے نوشکی میں علم و ادب کے چراغ کو بجھانے کی کوشش کی گئی تھی۔
خیال رہے گرلز کالج کے عقب میں پاکستانی فورسز کی چوکیاں قائم ہے جبکہ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر مرکزی کیمپ ہے جبکہ طالبات پر فائرنگ کرنے والوں کا حملے کے بعد اسی جانب فرار ہونا کئی سوالات کھڑی کرتی ہے۔
باہوٹ بلوچ
17 سال گزر گئے، مگر کبیر، مشتاق اور عطاء اللہ تاحال جبری لاپتہ ہیں، بلوچستان کی سرزمین پر ایک نسل جبری گمشدگیوں کے اندھیرے میں کھو گئی، اور دوسری نسل انہی زخموں کی گواہ بن کر جوان ہو رہی ہے۔
#EndEnforcedDisappearances
Ten years ago today, Shabir Baloch, former Information Secretary of BSO-Azad, was reportedly taken into custody by Pakistani forces from the Gorakop area of Kech, Balochistan. Since that day, he has remained a victim of enforced disappearance, leaving his family trapped in a decade of pain, uncertainty, and unanswered questions.
A decade has passed, yet Shabir’s family continues to wait for his return. Ten years of longing, ten years of tears, and ten years of living with the unbearable uncertainty of not knowing where their loved one is or what has happened to him. No family should have to endure such endless suffering.
Shabir Baloch’s case is a painful reminder of the enforced disappearances of Baloch students and political activists a grave human rights concern that demands urgent attention, accountability, and justice.
Ten years have passed, but his family has not given up hope. Shabir is not forgotten. His absence is still felt, his name is still remembered, and the demand for answers remains alive.
#SaveShabirBaloch
#SaveBalochMissingperson
We demand nothing from Pakistan except the right to live.End the genocide, release our forcibly disappeared loved ones,and let us live with dignity.Gul Zadi demanded human rights. Now she faces a life sentence for demanding the very rights every human deserves
#ReleaseBYCLeaders
A leader of the Peace Committee in KP.
We may also be forced to take up arms like the BLA.
Because this occupying group Army will not grant us our human rights.
Pak Army kills Pashtuns in every possible way, using one pretext or another.
Now, we are being forced to rebel like the BLA.
Baloch Republican Party held a protest demonstration in Bonn, Germany, to raise awareness of human rights abuses in Balochistan being committed by the Pakistani Army and intelligence agencies, and to demand justice and accountability.
Baloch Yakjehti Committee, has long campaigned against enforced disappearances, torture, and killings affecting the Baloch minority in Balochistan; her own father was abducted and later found dead with signs of torture, and her brother was also forcibly disappeared.
• She was arrested in March 2025 during a protest and convicted in June 2026 by an Anti-Terrorism Court in Quetta of murder and terrorism for allegedly inciting a crowd that killed a paramilitary soldier at a July 2024 rally in Gwadar; human rights groups describe the charges and closed-door trial as politically motivated attempts to silence peaceful advocacy, while Pakistani authorities maintain the verdict followed a fair process.
#Balochistan
#ReleaseDrMahrangBaloch
“I do not consider my own suffering separate from the suffering of my people. My greatest concern has never been simply when I will walk out of this prison. It is when families across Balochistan will no longer have to search for their disappeared loved ones, when young people will be able to express their political beliefs without fear, and when the demand for justice will no longer be treated as a crime.”
Mahrang Baloch
Today, HRF shines a light on human rights defender Dr. Mahrang Baloch. She is serving two life sentences in Pakistan for her advocacy on behalf of the Baloch minority, who have faced enforced disappearances, torture, and killing.
Writing from prison, Mahrang describes her work as both deeply personal and collective:
“I do not consider my own suffering separate from the suffering of my people. My greatest concern has never been simply when I will walk out of this prison. It is when families across Balochistan will no longer have to search for their disappeared loved ones, when young people will be able to express their political beliefs without fear, and when the demand for justice will no longer be treated as a crime.”
HRF demands that Pakistan release Mahrang Baloch and echoes her vision for a society where all people can live freely, without fear:
“I remain convinced that fear cannot be the permanent foundation of any society. Prisons may confine individuals, but they cannot permanently contain the desire for freedom, dignity, and justice.”
Learn more → https://t.co/qTPxf6LDTN
#DispatchesfromDetention #MahrangBaloch
Sudais Baloch, son of Mohammad Ashraf, was a 20 year old student and resident of Madrisa Road, Langove Mohalla, Killi Ismail, Quetta. He was forcibly disappeared from his home at 2:00 AM on 20 May 2026.
His case was submitted to the Missing Persons Committee, which operates under the supervision of the Home Department. At the committee’s first hearing, held at the DG office on 16 October 2026, his family was given no information about his whereabouts. Then, at the second hearing on 21 October 2026, the Counter Terrorism Department (CTD) informed the committee that Sudais had been killed in an encounter in Aghbarg, Qilla Abdullah, on 20 August 2026 and labelled him a terrorist.
Sudais Baloch was killed exactly three months after he was taken from his home, and his family was kept in the dark for another two months while his case remained before a government committee.