آج الطاف حسین ، آفاق احمد اور خالد مقبول صدیقی نے الگ الگ جگہ سے اک ہی پیغام دیا کہ شہری سندھ میں روا ظلم وستم اور نا انصافی کے ذمہ دار پیپلز پارٹی اور اسکے بانی ہیں ، جس دن تینوں اک مرکز سے یہ بات کہیں گے اسی دن پیپلز پارٹی دِنوں میں سمٹ جاۓ گی
2/2
ذوالفقارعلی بھٹو کی اقتدار کی ہوس اور آمرانہ سیاسی سوچ کی وجہ سے جب 1971ء میں پاکستان دولخت ہوگیا تو وہ مہاجریا اردواسپیکنگ جوسابقہ مشرقی پاکستان میں آباد تھے جنہوں نے 1971ء کی جنگ کے دوران پاکستان کی فوج کا ساتھ دیا، جنہوں نے پاکستان کوبچانے کے لئے اپنی جانوں اوراملاک کی قربانیاں دیں، لیکن پاکستان کی وہ ایک لاکھ فوج جو بھارتی فوج کے آگے ہتھیارڈال کر دو سال تک بھارتی فوج کی قید میں رہنے کے بعد پاکستان واپس آگئی لیکن اردو اسپیکنگ مہاجرجوسابقہ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ریڈکراس کے کیمپوں میں دھکیل دیے گئے، جب ان کوپاکستان لانے کا مطالبہ کیا گیا توپیپلزپارٹی اوراس کے نام نہاد قوم پرستوں نے ان اردواسپکنگ مہاجروں کی وطن واپسی کی مخالفت کیوں کی؟ کیایہ مہاجروں سے نفرت اورتعصب نہیں تھا؟ پیپلزپارٹی اورنام نہاد قوم پرستوں نے ان مہاجروں کی پاکستان واپسی کی مخالفت کی،”بہاری نہ کھپن“ کے نعرے لگائے اورسادہ لوح سندھی عوام میں ان کے خلاف نفرت پیداکی۔ فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے ان مہاجروں کو، جنہیں عرف عام میں ”بہاری“ کہاجاتا ہے، انہیں ”بھکاری“ کہا، یہ محب وطن پاکستانی 55سال گزرجانے کے بعدآج بھی بنگلہ دیش کے ریڈکراس کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ ان تاریخی حقائق کی روشنی میں،میں سوال کرتا ہوں کہ کیا مہاجروں نے کسی سے نفرت اور تعصب کا عمل کیا یا مہاجروں کے ساتھ نفرت اورتعصب برتا گیا؟ اورآج بھی برتا جارہاہے؟ مگربعض عناصر پیپلزپارٹی سے پیسے لیکرسوشل میڈیاپر اپنی پوسٹ کاڈز میں ایم کیوایم، الطاف حسین اورمہاجروں پر بہتان تراشی اورمن گھڑت الزامات لگا کرنفرت پھیلانے کاعمل کررہے ہیں۔ ایم کیوایم اورمہاجروں کوتنگ نظرقراردے رہے ہیں جبکہ الطاف حسین اور اس کی ایم کیوایم نے صرف مہاجروں کےلئے ہی جدوجہد نہیں کی بلکہ سندھیوں، پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں، سرائیکیوں، کشمیریوں، ہزارے وال اورتمام زبانیں بولنے والوں کے حقوق کے لئے آوازاٹھائی، سب کواپنی پارٹی میں نمائندگی دی،سب کوایوانوں میں پہنچایا۔
الطاف حسین نے اپنے گھرعزیزآباد سے سندھی بولنے والے عزیزاللہ بروہی، نثار پنہور اوربلوچ نبیل گبول کومنتخب کرکے قومی اسمبلی میں بھیجا، کیا پیپلزپارٹی نے آج تک کسی مہاجر کولاڑکانہ، رتوڈیرو یاخیرپور سے کامیاب کرایا؟ ایم کیوایم تمام زبانیں بولنے والوں کی جماعت ہے، وہ کسی سے نفرت نہیں کرتی، یہی وجہ ہے کہ میرا ایک سندھی ساتھی نثارپہنور میری ایم کیوایم کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنے کی پاداش میں آج پانچویں مرتبہ لاپتہ ہے، آج اس کاجوان بیٹامحسن پہنور بھی اپنے باپ کے ساتھ لاپتہ ہے، فیصل مجیب کے ساتھ ساتھ کراچی اورحیدرآباد کے دیگر کئی کارکنان لاپتہ ہیں، میرے پختون ساتھی انور خان ترین کودومرتبہ گرفتارکرکے لاپتہ کیا گیا، میرے پنجابی،بلوچ، سرائیکی، کشمیری ساتھیوں کوریاستی جبرکانشانہ بنایا گیا مگرمتعصب پوڈکاسٹرزالطاف حسین اور اس کی ایم کیوایم پر تعصب اورتنگ نظری کا شرمناک بہتان لگارہے ہیں، ایسا بہتان لگانے والوں کوشرم آنی چاہیے۔
ایسے حالات میں سندھیوں اورمہاجروں کوبہت ہوشیاری اورسمجھداری سے کام لیناہوگااورنفرت پھیلانے والے متعصب عناصر کی سازشوں کواپنے اتحاد سے ناکام بنانا ہوگا، اس کے لئے سندھی دانشوروں کوبھی آگے آناہوگا، سندھی اورمہاجردونوں سندھ دھرتی کے مستقل باشندے ہیں، انہیں اس دھرتی پر ملکر رہنا ہوگا۔
میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈمارشل عاصم منیرصاحب سے بھی کہتاہوں کہ ایم کیوایم ایک غریب اورلوئرمڈل کلاس کی جماعت ہے،جوسب کے لئے حقوق چاہتی ہے، آپ اورفوج کے تمام کورکمانڈروں کوبھی اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ الطاف حسین نے ملک میں اسٹیٹس کوکے خلاف بات کی تھی، ملک میں منصفانہ نظام کے لئے آوازبلند کی تھی تولاہورہائیکورٹ کے ذریعے ستمبر2015ء میں میری تحریر تقریر پرپابندی عائد کردی گئی، یہ پابندی آج تک کیوں ہے؟ آج پھر الطاف حسین، اس کی ایم کیوایم اورمہاجروں کے خلاف زہرافشانی کرکے سندھ میں نفرتیں پیدا کرکے ایک بار پھرفساد برپاکرنے کی کوشش کی جارہی ہے، خداکے لئے سندھ میں نفرت اورفساد کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرنے والوں سے بچایا جائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 433 ویں فکری نشست سے خطاب
21 جولائی 2026ء
https://t.co/b7iJZmLfCQ
سندھ کودیہی اورشہری کی بنیادپر تقسیم کیا الطاف حسین نے کیا یا ذوالفقارعلی بھٹو نے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمہوریت اوروفاق کی نام نہاد علمبردار پیپلزپارٹی کی اصل سوچ اورسیاست آمرانہ، سندھ میں تعصب اورتقسیم کی سیاست ہے، پیپلزپارٹی کی یہ سیاسی سوچ اورپالیسی آج کی نہیں بلکہ اس کے بانی ذوالفقارعلی بھٹوکے زمانے سے ہے، متعصبانہ سوچ وفکر رکھنے والے جو متعصب عناصر آج سوشل میڈیا پر اپنے تبصروں اورتجزیوں میں ایم کیوایم کے خلاف زہراگل رہے ہیں،اس پرشرانگیز الزامات لگارہے ہیں وہ یہ بتائیں کہ اگر پیپلزپارٹی واقعی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے تواس کےبانی ذوالفقارعلی بھٹو نے 1970ء کے الیکشن کے نتائج کیوں تسلیم نہیں کئے تھے؟ اس نے عوامی لیگ کی بھاری اکثریت سے کامیابی کوتسلیم کرنے کے بجائے ” اِدھر ہم ادھرتم“ کانعرہ کیوں لگایا تھا؟ کیا بھٹو کایہ نعرہ اس کی جمہوری سوچ ہے یاآمرانہ سوچ ہے جس نے ملک توڑنا گوارا کرلیا لیکن عوامی لیگ کواقتداردینا قبول نہیں کیا؟ اگربھٹو جمہوریت کاعلمبردار تھا تو اس نے 1971ء میں پاکستان کے دولخت ہونے کے بعدجنرل یحییٰ خان کی جانب سے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بننا کیوں قبول کیا؟ بھٹونے”سوشلزم ہماری معیشت“ اور”روٹی کپڑا اور مکان “ کا نعرہ لگایا تھا، اس نے اقتدارمیں آتے ہی نیشنلائزیشن کے نام پر ملک کے عوام سے ان کی معیشت کیوں چھین لی تھی؟ عوام کوروٹی، کپڑااورمکان کا جھانسہ دینے والے بھٹونے عوام روٹی، کپڑا اورمکان کیوں چھینا؟
پیپلزپارٹی کے پے رول پر سوشل میڈیا پرمنفی پروپیگنڈہ کرنے والے بعض متعصب پوڈ کاسٹرز الطاف حسین پر تقسیم کا بہتان لگاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں نفرت، تعصب اور دیہی اورشہری کی تقسیم کی بنیاد پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے ڈالی۔بھٹونے اقتدارمیں آنے کے بعد اپنی متعصبانہ پالیسیوں اوراقدامات کے ذریعے سندھ میں تقسیم، نفرت اور تعصب کی جوبنیاد ڈالی وہ آج تک قائم ہے جس سے نہ پیپلزپارٹی انکارکرسکتی ہے اور نہ ہی کوئی سچامؤرخ اور نہ ہی کوئی غیرمتعصب صحافی اوروی لاگر انکارکرسکتا ہے۔
ذوالفقارعلی بھٹو نے 1972ء میں سندھ اسمبلی میں ایک لسانی بل پیش کیا جس کے تحت سندھی زبان کوسندھ کی سرکاری زبان قراردیکر سندھی زبان کو لازمی قراردے دیا گیا۔ یہ قومی زبان اردو کے خلاف ایک جبری اورمتعصبانہ اقدام تھاجس سے سندھ میں آباد اردو بولنے والوں میں شدید بے چینی پھیلی، اردو بولنے والے بیوروکریٹس، طلبہ اورسرکاری ملازمین کونشانہ بنایا جانے لگا۔ اردوبولنے والوں نے بھٹوحکومت کے اس متعصبانہ اقدام کے خلاف پرامن احتجاج شروع کیا توذوالفقارعلی بھٹو کےکزن اور اس وقت کے صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ ممتازعلی بھٹو جنہیں ذوالفقارعلی بھٹو اپنا ”ٹیلنٹڈ کزن“ کہتے تھے، انہوں نے کراچی ، حیدرآباد اورسندھ کے دیگر شہروں میں اردوبولنے والوں کو حکومتی طاقت سے کچلا، بڑی تعداد میں اردو بولنے والوں کوپولیس کے ذریعے گولیاں ماری گئیں، صرف یہی نہیں بلکہ بھٹو حکومت نے حکومت کی سرپرستی میں اندرون سندھ میں لاڑکانہ، خیرپور، شکارپور اوردیگردیہی علاقوں میں مہاجروں کی املاک پر حملے شروع کرادیے، مہاجروں کوقتل کیا گیا، مہاجروں کے گھروں، دکانوں اوراملاک کو لوٹا گیا، فصلوں اور املاک کوآگ لگائی گئی،اس وقت اندرون سندھ کے کئی شہروں میں مہاجروں بہت بڑی تعداد آباد تھی، لاڑکانہ کامیئرتک اردو بولنے والاہوتا تھا لیکن بھٹو حکومت کی سرپرستی میں کرائی گئی اس قتل وغارتگری کی وجہ سے مہاجروں کواندرون سندھ کے شہروں سے ہجرت کرکے کراچی اورحیدرآباد میں نقل مکانی کرنی پڑی۔اس طرح مہاجروں نے دوسری مرتبہ ہجرت کی۔یہ سب کچھ ایم کیوایم اور الطاف حسین نےکیا یا بھٹو اوراس کی پیپلزپارٹی نے؟ اس وقت نہ توایم کیوایم تھی اورنہ ہی الطاف حسین سیاست میں تھا۔
1973ء میں ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت نے سندھ کودیہی اورشہری کی بنیادپر تقسیم کرتے ہوئے صرف صوبہ سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کیااور جوازیہ پیش کیا گیا کہ دیہی علاقوں کے عوام شہری سندھ سے پیچھے ہیں لہٰذا سرکاری ملازمتوں اورمیڈیکل،انجینئرنگ اوراعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں میں دیہی سندھ سے تعلق رکھنے والوں کے لئے 60 فیصد اورشہری علاقوں کے لئے 40 فیصد کوٹہ مقررکیا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگراس تقسیم کامقصد دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابرلانا ہوتا تودیہی علاقے صوبہ پنجاب، سرحد اور بلوچستان میں بھی تھے لیکن یہ کوٹہ سسٹم صرف سندھ میں نافذ کیا گیا۔ اس طرح صوبہ سندھ کودیہی اورشہری کی بنیاد پر تقسیم کردیا گیا۔ میں سوال کرتا ہوں کہ سندھ کودیہی اورشہری کی بنیادپر تقسیم الطاف حسین نے کیا یا ذوالفقارعلی بھٹو نے کیا؟ کیا اس وقت الطاف حسین سیاست میں تھا؟ کیا اس وقت ایم کیوایم کاوجود تھا؟ یہ کوٹہ سسٹم محض دس سال کے لئے تھالیکن یہ آج بھی نافذ ہے۔ 1/2
Phd from Reading University London, Post doctoral research from Harward Univerisy USA, Professor of Karachi University for 35 years & Senior Leader of MQM Dr Hasan Zafar Arif.
Brutally tortured to death, But Hamid Mir from Punjab remained Silent.
اے پی ایم ایس او ……کیا ہے!
#11JuneAltafHai
اے پی ایم ایس او……اپنے حقوق کے حصول کے لئے غوروفکر کرنے اورجدوجہد کرنے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او…… بے نام، گمنام اور اپنی شناخت سے بے بہرہ لوگوں کو ایک نام……ایک پہچان اورایک شناخت دینے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او…… محر ومیوں اور ناانصافیوں کا شکار لوگوں میں احساس محرومی اوراس کے اسباب کا شعور بیدار کرنے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او……محرومی کی آگ میں اندر ہی اندرجلنے والوں کو اپنے حقوق کے لئے عملی جدوجہد کرنے کا پیغام دینے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او……”جیسا ہے ویسا چلنے دو“ کی سوچ بدلنے اوراسٹیٹس کو چیلنج کرنے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او……چلتے ہوئے غیرمنصفانہ نظام کوتبدیل کرنےکےلئے جدوجہد کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او…… خاموشیوں میں آوازبلند کرنے اورسناٹے میں شور برپا کرنے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او……خود کوکمزور، ناکارہ، ناکام، بے وقعت اور بے حیثیت سمجھنے والوں کواپنی طاقت، اپنی حیثیت اوراہمیت سمجھانے ……جدوجہد کی راہ سجھانے ……اور کامیابیوں کی راہ دکھانے کا نام ہے۔
اے پی ایم ایس او…… منزل کا راستہ دکھانے اورعمل کے ذریعے منزل پرپہنچانے کا نام ہے۔
تمام ساتھیوں کو اے پی ایم ایس او کا 48 واں یوم تاسیس مبارک ہو۔
الطاف حسین
11جون2026ء
یہ سنہ ۸۷ کے وسط کی بات ہے، ہم کالج کے دوسرے سال کے اوائل میں اپنی بھرپور جوانی کے ساتھ رنگ رلیوں میں مصروف رہا کرتے تھے، کالج میں درمیانی عمر کی ایک خاتون ہوا کرتی تھیں نقاب پوش، ایک دن اچانک ایک خوبصورت دوشیزہ داخل ہوئیں، بہترین لباس زیبِِ تن کئے ہوئے، دراز قد، نکھرا رنگ، شخصیت ایسی کہ نفاست کے ساتھ رعب بھی شامل، تمام لڑکے اس حسینہ کی جانب متوجہ ہوئے، ہم بھی ان میں سے ایک تھے، دیکھتے ہی دیکھتے اس حسینہ نے ایسا جادو کیا کہ کالج کی ایک وسیع تعداد اسکی زلف کی اسیر ہوگئی---- اب کلاسز کے علاوہ زیادہ وقت اسکے ساتھ گزرتا، ہر کوئی اپنی تمام تر توجہ اسکی جانب مرکوز رکھتا، وقت گزرتا رہا اور کالج کے دن تمام ہوئے، یونیورسٹی گئے تو وہاں وہی حسن و جمال کا پیکر کو پہلے سے کہیں زیادہ بھرپور شخصیت اور کئی دیوانے لئے موجود پایا----- بس پھر کیا تھا، پہلے دل دیا تھا اور ہوش و خرد سب اسی کے نام کردئے----- کئی دہائیاں گزر گئیں، سر پہ بال کم اور سفیدی زیادہ ہوگئی، چہرے پہ وقت نے اپنے آثار بھی شھوڑ دئے لیکن اس حسینہ سے دل و دماغ کا رشتہ آج تک قائم ہے، اسکا خیال آج بھی ذہن کے نہاں خانے پہ ویسے ہی جوان ہے جیسا کہ پہلے دن تھا------ اب ہم عمر کے اس حصے میں ہیں کہ سوائے دعا کے کسی کو کچھ دے بھی نہیں سکتے، دعا ہے کہ اس حسینہ جوانی قائم رہے، اسکا حسن آنے والے نوجوانوں کو بھی اپنا گرویدہ بنائے رکھے، آمین-
#11June #APMSO #11JuneAltafHai
2012سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں کراچی کے 260 شہری جھلس کر ہلاک ہوئے یہ پاکستان کی تاریخ میں آتشزدگی کا بدترین سانحہ تھا آج سپریم کورٹ نے ایم کیوایم کو اس واقعہ کی کلین چٹ دیدی اس واقعہ کے کئی پہلو ہیں جن کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا 14سال تک اس سانحہ کی بنیاد پر ایم کیوایم پر الزام تراشی ہوتی رہی بھتہ نہ دینے پر آگ لگانے کا الزام لگاکر ایم کیوایم کو سیاسی طور پر لپیٹ دینے کی کوشش کی گئی مگر آج سپریم کورٹ کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ ایم کیوایم پر الزام غلط تھا مگر اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو معصوم شہری مرے تھے ان کی موت کا زمہ دار کون ہے کیا ان زمہ داروں کو تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی کیا اس تلاش کو سیاسی مقاصد اور خواہشات کے تابع تو نہیں بنایا جائے گا اس وقت اہم بات یہ نہیں ہے اس واقعہ میں ایم کیوایم ملوث نہیں ہے اہم بات یہ ہے اصل کرداروں کو بچانے کے لیے اس کیس کو سیاسی رنگ کیوں دیا گیا 260 شہدا کے لواحقین کو انصاف چاہیے ان کو انصاف کون دے گا ایم کیوایم سے وابستگان آج کے فیصلے کا جشن ضرور منائیں مگر اس جشن منانے میں یہ مت بھول جائیے گا کہ 260 افراد انسان تھے جو بڑی بے رحمانہ موت مرے ہیں ان کے اہل خانہ کے کرب و تکلیف کو محسوس کریں