حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھا ،
نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے لڑکے ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کے ذریعے اللہ تمہیں فائدہ دے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں ،
نبی ﷺ نے فرمایا
اللہ کی حفاظت کرو ( اس کے احکام کی )
اللہ تمہاری حفاظت کرے گا ،
اللہ کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے ، تم اسے خوشحالی میں یاد رکھو وہ تمہیں تکلیف کے وقت یاد رکھے گا ، جب مانگو
اللہ سے مانگو ، جب مدد چاہو
اللہ سے چاہو اور جان رکھو ! کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو
اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو
اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے ، قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے اور یاد رکھو ! مصائب پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے کیونکہ
مدد صبر کے ساتھ ہے ، کشادگی تنگی کے ساتھ ہے اور آسانی سختی کے ساتھ ہے ۔
(مسند احمد، 2804)
اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دُعائیں قبول کروں گا، بیشک جو لوگ تکبر کی بنا پر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
سورۃ غافر
کل فوڈ پانڈا سے آرڈر کیا تو یہ مسیج آیا ، جب وہ پارسل ڈلیور کرنے آیا تو بمشکل 18 سال کا تھا ، پسینے سے اس کی کمر گیلی تھی ، میں نے پانی کا پوچھا تو اس نے اشارے سے کہا ایک گلاس دے دیں ، وہ قوت گویائی سے بھی محروم تھا۔ میرے بیٹے نے اسے شربت کا گلاس پکڑایا ۔ آرڈر میں تین برگرز تھے ، ایک اسے آفر کیا مگر بارہا کہنے کے باوجود اس نے نہیں لیا۔ میں نے اسے کچھ Tip دی وہ بھی اس نے کافی جھجھکتے ہوئے رکھی۔ اور اشارے سے شکریہ کہہ کر چلا گیا ۔
یہ وہ لوگ جو عزت نفس کو قائم رکھ کر حلال روزی کے لیے نکلتے ہیں ۔ ورنہ ان سے جسمانی طور پر کئی گنا بہتر ہٹے کٹے مرد اور عورتیں بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ہم ان کی جھولیاں بھرتے بھی رہتے ہیں ۔ پٹرول مہنگا ہوگیا ہے ، پتا نہیں ان بائیکیا والوں کی روازنہ کتنی بچت ہوتی ہے ، اس گرمی میں کچھ بھی آرڈر کریں تو ان پر جتنی شفقت ہوسکتی ہے کریں ، لیٹ آرڈر پر سرزنش مت کریں ، ٹھنڈے پانی کا ضرور پوچھیں ، تھوڑا بہت بقایا ہو تو واپس مت لیں ، استطاعت ہو تو اضافی ٹپ دے دیں ۔ مسکرا کر ان کا شکریہ ادا کریں ۔ یہ نوجوان سفید پوش لڑکے پتا نہیں گھر کے کتنے افراد کا بوجھ کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں ۔۔ چھوٹی چھوٹی مدد سے ۔۔۔ یہ بوجھ بانٹ لیں ، ان محنت کشوں کے کندھے ہلکے ہونگے تو ہماری نیکیوں میں بھی اضافہ ہوگا ۔
درودِ ابراہیمی اور تاریخ کا آخری راز
ایک دعا جو ابھی تک آسمانوں میں جاری ہے.......
قرآن کھولیے...اور تاریخ کے دریاؤں میں الٹا سفر شروع کیجیے۔
ایک طرف ابراہیمؑ ہیں... دوسری طرف ان کی دعا ہے...اور تیسری طرف اللہ کا وعدہ۔
ابراہیمؑ نے عرض کیا:
"اے میرے رب! میری اولاد میں بھی ایسے لوگ پیدا فرما جو انسانیت کی رہنمائی کریں۔"
جواب آیا:
میرا وعدہ ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔
یہاں سے ایک عظیم داستان شروع ہوتی ہے۔ ابراہیمؑ کے گھر میں دو نسبتیں تھیں۔
سارہؑ...
اور ہاجرہؑ...
ایک نسل سے انبیاء کا طویل سلسلہ نمودار ہوا۔ پے در پے انبیاء اکرام کا مبعوث ہونا اللّٰه تعالیٰ کی توحید کا پرچم بلند کرنا جیسے
موسیٰؑ آئے...
داؤدؑ آئے...
سلیمانؑ آئے...
زکریاؑ آئے...
یحییٰؑ آئے...
اور پھر عیسیٰؑ آئے...
صدیوں تک آسمان کی خبریں اسی شاخ سے زمین پر اترتی رہیں۔ اسی شاخ سے توحید کی کونپلیں پھوٹتی رہیں ۔
مگر دوسری طرف...
ہاجرہؑ اپنے ننھے اسماعیلؑ کے ساتھ ایک وادی میں چھوڑ دی گئیں۔
ایسی وادی... جہاں نہ کھیتی تھی، نہ درخت، نہ پانی، نہ آبادی۔ نہ کوئی بندہ بشر دور دور تک ویران بے آب و گیاہ ریگستان ، مکمل سناٹا
بظاہر خاموش۔
مگر اللّٰه کے منصوبے اکثر خاموشی میں پروان چڑھتے ہیں۔ کیونکہ اللّٰه بڑی شان والا ہے وہ دانا ہے وہ حکیم ہے اس کے ہر فیصلے میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ۔
وہ ویران وادی بعد میں مکہ بنی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انسانیت کا مرکز بن گئی ۔مکہ صرف ایک شہر نہیں تھا۔
بلکہ یہاں پر اللّٰه تعالیٰ کا گھر تعمیر ہونا تھا ۔
مکہ صرف ایک شہر نہیں تھا بلکہ یہاں بے آب و گیاہ ریگستان میں آب زمزم کا چشمہ پھوٹنا تھا ۔
مکہ
وہ ایک ایسی قدرت کی امانت تھی... جو وقت کے خزانے میں محفوظ رکھی گئی تھی..... صدیوں تک۔
یہاں تک کہ تاریخ ایک بلکل نئے اور نہایت خوبصورت موڑ پر پہنچی۔
پھر اسماعیلؑ کی نسل سے محمد ﷺ تشریف لائے اور یوں ابراہیمؑ کی دعا کا دوسرا سنہری باب کھل گیا۔
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کہانی نے قیامت تک رہنا ہے اس لیے یہ ختم کیسے ہو سکتی ہے ؟؟؟
کہانی کا کلائمکس
ہر نماز میں جب ایک مؤمن بیٹھ کر درودِ ابراہیمی پڑھتا ہے تو وہ دراصل تاریخ کے دو عظیم دریاؤں کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔
اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ... كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ...
غور کیجیے...
"کما صلیت"
یعنی...
جس طرح تو نے ابراہیمؑ اور ان کی آل پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائیں...
اسی طرح محمد ﷺ اور ان کی امت کے وہ خوش نصیب جو دین ابراہیمی پر ہیں ان پر فرما ۔
یہ صرف الفاظ نہیں۔ یہ زمین سے آسمان تک بلند ہونے والی ایک مسلسل دعا ہے۔ وہ دعا جو ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کا صلہ ہے ۔ جو اللّٰه تعالیٰ کا خصوصی انعام ہے ۔
یہ ایک ایسی دعا ہے... جو چودہ سو سال سے ہر نماز میں دہرائی جا رہی ہے اور شاید اسی لیے تاریخ ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
کیونکہ اللہ کے منصوبے وقت سے بڑے ہوتے ہیں۔
عیسیٰؑ کا ذکر ہو،
یا علم کی وہ وراثت جو انبیاء چھوڑ کر گئے...
ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
انبیاء سونا اور چاندی وراثت میں نہیں چھوڑتے۔
وہ علم چھوڑتے ہیں۔
شعور چھوڑتے ہیں۔
ہدایت چھوڑتے ہیں اور یہی وہ میراث ہے جس کے ذریعے انسان زمین پر اللّٰه کی نشانیوں کو پہچانتا ہے۔
شاید اسی لیے قرآن جو فرقان حمید ہے ، جو ہدایت کی کتاب ہے یہ صرف ماضی کی کتاب نہیں.... بلکہ یہ مستقبل کا آئینہ بھی ہے۔
اور درودِ ابراہیمی صرف ایک دعا نہیں...یہ ابراہیمؑ سے محمد ﷺ تک اور محمد ﷺ سے قیامت تک پھیلا ہوا ایک زندہ رشتہ ہے.
آج روئے زمین پر بسنے والے مسلمان اپنی صلواۃ میں دن رات ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمت کی دعا پڑھتے ہیں ۔
اور جب بھی ہم "بارک علی محمد" پڑھتے ہیں تو ہم اس وعدے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہم ابراہیمؑ کی دعا کا جواب ہیں۔ ہم ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے گواہ ہیں ۔ہم اسماعیلؑ کی نسل کا مان ہیں۔ ہم اسمعیل علیہ السلام کی نسل کے امین ہیں ۔سوچیں، ہماری ہر صلواۃ ایک تاریخ لکھ رہی ہے۔ اور یہ تاریخ قیامت تک لکھی جائے گی۔
ابراہیم علیہ السلام اور ان کی مومن آل اولاد پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں بیشک ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے اور نہ ہی نصرانی بلکہ وہ یکسو مسلم تھے اور ان کے اس خوبصورت عقیدے کو پسند فرما کر اللّٰه تعالیٰ نے ہمارا اور ہم سے پہلے والو کا نام مسلم رکھا ۔
تو بتائیں، جب ہم ہر نماز میں یہ درود پڑھتے ہیں، کیا ہم اس عظیم وراثت کا حق ادا کر رہے ہیں؟ یا بس الفاظ دہرا رہے ہیں؟؟؟؟
تحریر: حنا محسن
*کیا آپ لیلۃ القدر اور یومِ عرفہ کے درمیان فرق جانتے ہیں؟*
لیلۃ القدر میں: ہر چیز نازل ہوتی ہے۔
قرآن نازل ہوا۔
فرشتے نازل ہوتے ہیں۔
تقدیر نازل ہوتی ہے۔
رحمت آسمانوں سے برسنے لگتی ہے۔
لیکن یومِ عرفہ ایک بالکل مختلف دن ہے۔
کیونکہ اس دن فرشتے نہیں اترتے…
بلکہ انسان اللہ کی طرف اٹھتے ہیں۔
یہ قیامت کے دن کی جھلک پیش کرتا ہے؛
لاکھوں لوگ سادہ لباس میں، آسمان کے نیچے کھڑے، رحمت کی بھیک مانگتے ہوئے۔
لیلۃ القدر میں اللہ اس کی صحیح رات کو مخفی رکھتا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ تم اسے تلاش کرو، رمضان کے آخری عشرے کی بھوک اور عبادت میں۔
یہ اس شخص کو اجر دیتی ہے جو مسلسل تلاش کرتا رہتا ہے۔
اور یومِ عرفہ کے بارے میں، اللہ سب کو اس کا صحیح دن بتا دیتا ہے۔
وہ ٹوٹے دل والوں، تھکے ہوئے لوگوں، اور بوجھ تلے دبے انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ سب ایک ہی وقت میں حاضر ہوں، ایک ایسی رحمت کے لیے جس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔
اور ایک اور فرق ہے جسے اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔
لیلۃ القدر کا تعلق وحی کے آغاز سے ہے۔
“اقْرَأْ” — “پڑھو”
اور عرفہ کا تعلق تکمیل سے ہے۔
“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا…” (5:3)
ایک دن اسلام کے نور کا آغاز تھا۔
اور دوسرے نے اسے مکمل کر دیا۔
ایک رات تمہاری تقدیر بدل سکتی ہے۔
اور ایک دن تمہارے گناہوں کو مٹا سکتا ہے اور تمہیں بابرکت لوگوں میں شامل کر سکتا ہے۔
سب سے بڑی رحمت یہ ہے کہ اللہ نے یہ دونوں دن اس امت کو عطا فرمائے۔
یا اللہ، ہم سب کو ان دنوں کو پانے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرما۔۔
میں نے عید کے فوراً بعد اپنا یوٹیوب چینل لانچ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان شاء اللہ۔
یہ چینل آپ کی مدد کے لیے ہو گا۔
کوئی سنسنی خیز مواد نہیں، کوئی سستی سیاست نہیں۔
ٹاپکس ہوں گے:
خود کو بہتر بنانا (Self Improvement)، عالمی امور (Global Affairs)، فنانس (Finance)۔
1. میں اپنے تمام کیپیٹل مارکیٹس کے ویڈیو کورسز سب کے لیے مفت اپ لوڈ کروں گا، بشمول میرا انویسٹمنٹ بینکنگ کورس بھی مکمل طور پر FREE ہونگے۔
2. میں عالمی مسائل، عالمی معیشت اور سیاسی معیشت پر ویڈیوز بناؤں گا۔
3. میں نوجوانوں اور تمام عمر کے لوگوں کے لیے سیلف امپروومنٹ ویڈیوز بناؤں گا تاکہ وہ زندگی کی رکاوٹوں کا سامنا کر سکیں، مثبت سوچ پیدا کریں اور کامیاب ہو سکیں۔ تمام ویڈیوز اردو میں ہوں گی اور کبھی کبھی انگریزی میں بھی۔
ج
4. ہفتے میں ایک بار میں ناظرین کے سوالات لوں گا اور انہیں رہنمائی دیتے ہوئے جواب دوں گا۔
براہ مہربانی ری ٹویٹ کریں۔
کینسر سے مرنا سب کے لیے باعثِ شرم ہے کیونکہ اس کا علاج اب ہمارے ہاتھ میں ہے!🗣️
میڈیکل اور حکمت کی ریسرچ کے مطابق گرم لیموں کا پانی کیمو تھراپی سے ہزار گنا بہتر اور محفوظ ہے🍋💧
چینی کا استعمال بہت کم کردیں❌
اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی بچانے کے لیے اس پیغام کو عام کریں! ♻️
آئیں آپ کو اپنی زندگی میں سورہ رحمان کا معجزہ سُناؤں۔
ضرور پڑھیں۔ تھوڑا سا تفصیل سے ہے مگر آپ کی زندگی بدل دے گا اللہ کے حُکم سے۔
سالوں پہلے میں چئیرمین سی پیک اتھارٹی کے آفس گیا۔ چئیرمین سی پیک اتھارٹی میرے بہت قریبی دوست تھے۔ وہ میٹنگ میں تھے تو مجھے سی پیک اتھارٹی کے چیف آف اسٹاف بریگیڈئیر جاوید اقبال کے آفس میں بٹھا دیا گیا۔
آدھا گھنٹہ بھی نہیں بیٹھا ہونگا کہ باتیں کرتے ہوۓ ایسا لگا کہ میں جاوید بھائ کو صدیوں سے جانتا ہوں۔ اللہ رسول اور صوفیانہ باتیں ایسے طول پکڑ گئیں کہ چئیرمین سے ملاقات کے بعد میں پھر جاوید بھائ کے آفس میں جا پہنچا۔ ہم تقریباً چار گھنٹے بیٹھے باتیں کرتے رہے۔
پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ فون پر تقریباً ہفتے بات ہوتی رہی۔ ایک دن انھوں نے مجھ سے سید شاکر بُخاری @qalandarbaba1 کا ذکر کیا۔ میں جاوید بھائ کے ساتھ ملنے گیا۔ اُن کی باتوں سے ایسا دل کو سکون ملا کہ بیان سے باہر تھا۔ دوستی ہو گئی۔
پھر میرے والد سخت بیمار ہوگئے۔ Covid ہوگیا۔ اور ساتھ میں SEPSIS ہوگیا۔ ڈاکٹرز نے تقریباً جواب دیدیا۔ سیِد شاکر صاحب جن کو سب پیار سے باباجی کہتے ہیں اُن کا فون آیا۔ کہا کہ اس خاص طریقے سے سورہ رحمان سنائیں اپنے والد کو۔ میری ایمان کی کمزوری تھی شاید کہ میرا ڈاکٹرز پر زیادہ اور سورہ رحمان پر یقین کم تھا اُس پریشانی میں۔ میں نے والد کی بے ہوشی کی حالت میں اسی طرح جیسے باباجی نے کہا تھا دن میں تین مرتبہ سورہ رحمان سنائ والد کے کان کے قریب رکھ کر قاری باصط کی آواز میں۔
معجزہ ہونا شروع ہوا تیسرے دن اور والد صاحب کو ہوش آنا شروع ہوگیا اور پانچویں دن میری حیرانگی کی حد پار ہوگئی جب والد صاحب کو مکمل ہوش آگیا۔ اور اگلے آٹھ دن میں Covid بھی معجزانہ طریقے سے ختم ہوا اور پندرہ دن کے اندر ہم سی ایم ایچ لاہور سے گھر آگئے۔ جب میں لاہور میں رہتا تھا۔
اب آتے میں میری بیماری پر جو کہ ایک ناقابلِ علاج نیئورولاجیکل بیماری ہے۔ بیماری کا علاج نہیں فقط درد کو کنٹرول کرنے کے لئیے خطرناک ترین Opiate کے انجیکشن لگتے ہیں۔ میری حالت چند سالوں میں بد سے بدتر ہو گئی ہے۔
دو مہینے پہلے میری یہ حالت ہو گئی تھی کہ ہفتے میں تین دن ہسپتال میں گزرتے تھے۔ انجیکشن لگوا کے گھنٹوں سوتا رہتا تھا۔
پھر باباجی نے کہا کہ سورہ رحمان سات دن کے بجاۓ سات سات دن کرکے اکیس دن تک سُنیں۔ مجھے علم تھا کہ میری بیماری لاعلاج ہے مگر پھر بھی میں نے سورہ رحمان سُننا شروع کردیا۔ اس سے پہلے یاد رکھیں کہ میرا درد نیئوروکاجیکل دردوں میں دنیا کا دوسرا بدترین درد کہلاتا ہے میڈیکل ٹرم میں اسے Suicidal Pain بھی کہا جاتا ہے۔
میری بیماری تو ختم نہیں ہوئ مگر ایک معجزہ ہونا شروع ہوا کہ مجھے آہستہ آہستہ اپنے درد کو برداشت کرنے کی قوت آنے لگی۔ انجیکشنز کم ہونے لگے اور میرے نیورولیجیسٹ جو پاکستان کے بہترین کی ایک پوری پانچ لوگوں کی پاکستان بھر سے ایک ٹیم ہے، ان کو فقط حیرانگی کے اور لاجواب ہونے کے اور کچھ نہیں کہہ سکے۔
میرے دو ٹیسٹ جو سالوں میں کم ریڈینگ نہیں دے رہے تھے وہ دینے لگے۔ میرا HB جو آپ سُن کر حیران رہ جائینگے سالوں سے 23 اور 24 کے درمیان تھا۔ مہینے میں میں تین مرتبہ خون کی بوتل دیتا تھا وہ بھی 18.7 پر آگیا۔
میں کبھی اپنی بیماری کی تفصیلات سو سال میں بھی سوشل میڈیا پر شئیر نہیں کروں کیونکہ مجھے ہمدردی پسند نہیں مگر آج میں اپنے HB کی تفصیلات بھی اس لئیے بتا رہا ہوں کہ آپ لوگ معتقد ہوجائیں سورہ رحمان کے معجزے کے۔
اور بہت کچھ ہو رہا ہے بہتری میں میری بیماری میں مگر میری جنگ بہت طویل ہے۔ آپ کی نہیں ہوگی۔ کسی بھی ذہنی خلفشار اور جسمانی بیماری کے لئیے فورا سورہ رحمان سنیں۔
نیچے میں لنک دے رہا ہوں۔ اور میرے بھائ سے زیادہ دوست اور دوست سے زیادہ بھائ کے لئیے دعا کریں اور اس کو زیادی سے زیادہ شئیر کریں۔
اور بہت کچھ لکھنا تھا مگر فی الوقت اتنا کافی ہے۔
https://t.co/v3zgted8LN
وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ
اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا
سُورَةُ النَّحۡلِ - 112
This is Ustadh Shafiq Zaman from Pakistan. For as long as he could remember, he had one wish — to be able to paint even one panel on the walls of Masjid an-Nabawi. In 1990, he entered a competition in the Hijaz to restore 133-year-old calligraphy on the old structure of the mosque and create new designs for new structures added to the building.
He won the competition and has been working in Masjid al-Nabawi for the last 30 years. He is the blessed man whose calligraphy is used on the blessed rawda of the Messenger of Allah ﷺ. This is a matter of pride and happiness for those of us who descend from the Subcontinent. May Allah bless him immensely.
اے ایمان والو ! جب جمعہ کےدن نماز کےلیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارےلیےبہتر ہے،اگر تم سمجھو۔
پھر جب نماز پوری ہوجائےتو زمین میں منتشر ہوجاؤ، اور اللہ کافضل تلاش کرو،اور اللہ کو کثرت سےیاد کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔
﴿الجمعہ۔۹،۱۰﴾
💥🇵🇰🇨🇭 Pakistan can be a potential hub of tourisms.
According to google source the area of North Pakistan is 135,663km²,it has beautiful top peaks,valleys and fairy meadows. It is 3X times bigger in size then Switzerland 41,285Km².