@MaidahMuhammad عوام ملک کے مالک انجانے میں بہت تعریف کیا کرتے تھے اور یہ گدھے ان کے گھر (ملک) پر چڑھ گئے اور سمجھتے کہ یہ ہمارے ملک کے محافظ ہیں عوام اپنے میٹرک پاس پتر ان گدھوں کے حوالے کرتے رہے اور یہ گدھے انھیں پتروں کو انھیں کے خون میں ڈبو تے رہے
@RoymukhtarRoy معصوم جوان کو پھنسانے کے لیے ۔۔۔قربان کرنے کے لیے۔
وہ مخصوص وردی والے اس لئے میڈیا پر دکھاتے ہیں لوگ شہادت کی موت سے خوش ہو کر مزید بھرتی ہوں جرنیلوں کی موج مستی چلتے رہے
برادر رائے صاحب!
اہلِ بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، احترام اور فضیلت پر کسی مسلمان کو اختلاف نہیں۔ اختلاف وہاں ہے جہاں فضائل سے وہ عقائد نکالے جائیں جو نہ قرآن نے بیان کیے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صریح الفاظ میں بیان فرمائے۔
آپ نے پوری پوسٹ میں بار بار اللہ کی طرف سے قطعی فیصلے سنا دیے کہ "نجات صرف اسی خاندان سے محبت رکھنے والوں کے لیے ہے، اللہ کلمہ قبول نہیں کرے گا، ایمان قبول نہیں کرے گا، اعمال قبول نہیں کرے گا۔"
قرآن تو بار بار نجات کا معیار ایمان، تقویٰ اور عملِ صالح بتاتا ہے:
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
بلکہ آپ کی اپنی معتبر کتاب الکافی میں امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں
"اللہ کی قسم! ہمارا شیعہ صرف وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور اس کی اطاعت کرے... ہماری ولایت صرف تقویٰ اور اطاعت کے ساتھ فائدہ دیتی ہے۔"
اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی لختِ جگر سیدہ فاطمہؓ سے فرمایا
"اے فاطمہ بنت محمد! اپنے عمل کی فکر کرو، میں اللہ کے مقابلے میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکوں گا۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اگر محض نسبت یا محبت ہی نجات کی ضمانت ہوتی تو یہ فرمان کیوں دیا جاتا؟
آپ کہتے ہیں دین اور قرآن صرف ایک خاندان نے محفوظ کیا، جبکہ قرآن اعلان کرتا ہے:
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
قرآن کی حفاظت اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے، نہ کسی خاندان نے۔ اور دین امت تک ہزاروں صحابۂ کرامؓ کے ذریعے پہنچا۔ اگر صحابہؓ قابلِ اعتماد نہ ہوتے تو حدیثِ غدیر، حدیثِ ثقلین، حدیثِ کساء اور اہلِ بیتؓ کے فضائل بھی امت تک نہ پہنچتے۔
اگر امامت دین کا بنیادی رکن تھی، تو قرآن میں بارہ ائمہ کے نام یا ان کی منصوص امامت کی ایک بھی صریح آیت کیوں نہیں؟ اور اگر نص اتنی واضح تھی تو بعد میں شیعہ خود اسماعیلی، زیدی، واقفیہ، فتحیہ اور اثناعشری جیسے مختلف گروہوں میں کیوں تقسیم ہوئے؟
اب ان میں فارم 47 والے کون سے اور کتنے ھیں یہ آپ ھی بتا دیں مگر دلیل کے ساتھ۔
ایک اور بات! اللہ نے جنت و جہنم، ایمان و کفر اور اعمال کی قبولیت کے فیصلے سنانے کا اختیار کے لیے کسی عالم، امام یا کسی کیمرج کے ٹیچر کو مقرر کو نہیں۔ اگر آپ واقعی اللہ کی طرف سے یہ فتویٰ دے رہے ہیں تو براہِ کرم قرآن کی ایک صریح آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک واضح اور غیر مبہم صحیح حدیث پیش کریں۔
آگے چلیں ۔۔۔
یہ بتائیے کہ قرآن کی کس صریح آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کس واضح حدیث میں لکھا ہے کہ اعمالِ صالحہ کی توفیق صرف اہلِ بیت سے محبت کے بعد ہی ملتی ہے؟
قرآن تو کہتا ہے
وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ
"اور جو لوگ ہدایت اختیار کرتے ہیں، اللہ انہیں مزید ہدایت عطا کرتا ہے اور انہیں ان کا تقویٰ (پرہیزگاری) عطا فرماتا ہے۔"
(سورۃ محمد، 47:17)
ہدایت اور تقویٰ اللہ عطا کرتا ہے، کسی خاندان سے منسوب نہیں کرتا۔
(اقبال کا شعر دلیل نہیں، قرآن اور سنت دلیل ہیں۔)
آخر میں ۔۔۔
"حسد" کا الزام دلیل کا متبادل نہیں۔
ہمیں اہلِ بیتؓ سے نہیں، اہلِ بیت کے نام پر کیے جانے والے غلو سے اختلاف ہے۔
اگر آپ سچے ہیں تو مخالف کو حاسد کہنے کے بجائے قرآن کی صریح آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح حدیث پیش کریں۔
اللہ اور قرآن بھی بھی بات بار یہی کہتا ھے
"اگر سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔"
اگر واقعی رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے تو سب سے پہلے لوگوں کو ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھنے کی تلقین کیجیے، کیونکہ خود رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اللہ کا کلام پہنچایا تھا، روز ایک نیا عقیدہ نہیں۔
جس عقیدے کو قرآن کی واضح آیت اور صحیح، صریح حدیث سے ثابت نہ کیا جا سکے، اسے دین کا لازمی حصہ بنا کر پیش کرنا درست نہیں۔
محبت کا سب سے بڑا ثبوت دعوے نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی وحی کی پیروی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾
"کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔" (سورۃ آل عمران 3:31)
لہٰذا میری دعوت آج بھی وہی ہے: ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھیے، پھر قرآن اور صحیح سنت کی روشنی میں عقائد کو پرکھیے۔
امیر المومنین مولا علی علیہ السلام نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حکومتوں کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی
کہ جو بھی حالات رہے
بہر حال یہ تینوں حکومتیں عوام کی منتخب حکومتیں تھیں،
مولا علی علیہ السلام نے مگر بنو امیہ کے خلاف تلوار اٹھائی، کیونکہ وہ ناجائز طریقے سے حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے تھے،
امام حسن علیہ السلام بھی بڑا لشکر لے کر باغی حکومت کو کچلنے کیلئے آئے
امام ، کا سپہ سالار بک گیا ، جنگ بندی کا معاہدہ کرنا پڑا تو اس شرط پہ کیا کہ گیا کہ بنو امیہ، مسلمانوں کو ان کے خلیفہ کو منتخب کرنے کا حق واپس کریں گے
اور جب اس معاہدے کو توڑ کر بنو امیہ نے یزید کو اپنا جانشین مقرر کر دیا
تو امام حسین علیہ السلام اس کیخلاف کھڑے ہوئے کہ یزید ناجائز طور پر مسلط کیا گیا تھا.
نبی کریم ﷺ سے لے کر امام حسین علیہ السلام تک ، محمد و اہل بیت محمد ﷺ کی لڑائی ناجائز حکومتوں کیخلاف تھی
کہ ناجائز طور پر مسلّط شدہ حکومت ہمیشہ انسانیت اور معاشرے کو تباہ کرتی ہے
پاکستان پہ بھی ایک ناجائز حکومت مسلط ہے
اور پاکستان کا جو حال ہے
وہ سب کے سامنے ہے
#پاکستان
@RoymukhtarRoy@Gondalsabi54 رائے صاحب!
خونی رشتے داری کے مطابق
عبداللہ بن عبد المطلب
اور
بنو امیہ بن امیہ
کے دادا جان "عبد مناف" بھی ایک
اور
پردادا جان " قصی بن کلاب"
بھی
ایک ہی تو ہیں
مولوی صاحب کا مذہب!!!
داڑھی
مسواک
تسبیح
پگڑی
غیر مسلم کو سلام کرنا گناہ ہے
غیر مسلم سے تعلقات گناہ ہے
غیر مسلم کے ساتھ کاروبار گناہ ہے
دنیا میں زندہ رہنے کا حق صرف مسلمان کا ہے
اللہ کا دین!!!
انسانیت سے محبت
عدل
احترام
برداشت
سخاوت
ہمدردی
اور محبت ہے
عمران خان نے تحریک انصاف اس مشن کے تحت بنائی تھی کہ پاکستان میں قانون کا نفاذ امیر و غریب سب کیلئے برابر ہو
تحریک انصاف کے قیام میں آنے کی وجہ ہی یہی تھی کہ پاکستان میں طاقتور کو قانون کے نیچے لایا جا سکے
مگر آپ دیکھیں کہ ملک دشمن عناصر نے اس شخص کو ہی انصاف سے محروم کر رکھا ہے کہ جو پوری قوم کو انصاف دلانا چاہتا تھا
پاکستان پہ قابض عفریت انسانیت کا بدترین دشمن ہے اور ابلیس کا آلہ کار ہے
اس میں آپ کو اب کوئی شک نہیں رہنا چاہیے
#پاکستان
@chafzal_isb@RoymukhtarRoy اس معاشرے کی یہ حالت انہی لوگوں کی دن رات کی محنت سے ہوئی ہے ۔
پہلے ہندوستان کو صوفی دیے گئے تھوک کے حساب سے پھر جنرل ضیاء الحق نے شیعہ سنی فسادات تحفے میں دیے۔
اب لوگ دین علم کی منہاج پر نہیں بلکہ اندھی عقیدت و تقلید کی روشنی میں ہڑھتے ہیں
میں اسلامی ملک جسے اسلام کا قلعہ کہتے ھیں میں پیدا ہوئی تھی۔
جہاں گلی گلی مسجد نہیں مسجدیں ھیں ۔ھزاروں مدارس ھیں جگہ جگہ تبلیغی اجتماع ھوتے ھیں
جگہ جگہ مزار آستانے ھیں بزرگوں کے فیضوں کی ندیاں بہ رہی ھیں
پانچ وقت نماز اور حج عمرہ کرنے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ھیں
مگر یہاں
کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ زوروں پر ھے
دوائیں جعلی یا زائد المعیاد ہوتیں۔۔ ھیں
ملازموں کو وقت پر تنخواہ نہیں ملتی
بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے زندگی اجیرن ھے
پانی پینے کے لیے ٹینکر خریدنا پڑتا ھے
گیس کی دستیابی مشکوک ہے
پیٹرول بلیک میں نایاب بکتا ھے
باہر نکلتے ہوئے اسٹریٹ کراءیم کا سامنا ھوتا ھے
بچوں کی تعلیم کے لیے اسکول گھوسٹ ھیں
ھنگامی صورتحال میں پولیس اور ایمبولینس موقع پر کبھی نہیں پہنچتی
اسپتال مریض کو پیسے نہ ھونے واپس لوٹاتے ھیں،اور علاج سے انکار کرتے ھیں
کسی سرکاری دفتر میں رشوت کے بغیر کام نہیں ھوتا
دفتر میں سرکاری لوگ کبھی وقت پر نہیں پہنچتے
عوام کی سفری ضرورت کے لیے بسیں اور ٹرینیں دستیاب نہیں
سڑکیں۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھیں
تجاوزات۔ کی علاقوں میں بھر مار ھے
شھری پلاننگ کی کسی پالیسی کا نفاذ کسی جگہ نظر نہیں آتا
پبلک ٹرانسپورٹ کے نام پر منی بسیں اور شور مچاتے رکشے ہیں
چوراہوں پر بھکاریوں کی یلغار ھر شاھراہ پر نظر آتی ھے
گاڑی چلانے والے ہارن اور رات کو ہائی بیم کے بغیر گاڑی نہیں چلاتے
کسی شاپنگ مال شادی ھال اسپتال اسکول میں پارکنگ کی جگہ ھی دستیاب نہیں ہے
کار اگر کسی جگہ کھڑی کردیں تو نقصان کا دھڑکا لگا رہتا ھے کہ کوئی سائیڈ مرر ھی نہ توڑ کر لے جاے
رائے کے اظہار پر بندہ لاپتا ہوجانے کا خوف سر پر رہتا ھے نام، رنگ، نسل مذھب یا قومیت کی وجہ سے نفرت کی جاتی ھے
ماحولیات کا ستیاناس کر رکھا ھے درخت لگانے کی بجاے کاٹنے پر زور ھے
رہائشی علاقوں میں دفاتر یا دکانیں قاءیم ھیں
عبادت گاہوں پر لاؤڈ اسپیکرز سے مزھبی منافرت کو بڑھاوا دیا جاتا ھے۔۔۔۔