یورپ کے محلوں سے لے کر نیویارک کی کیچڑ بھری گلیوں تک ایک آدمی نے اپنے سلک ٹاپ ہیٹ کو اتارا اور اس گلی میں کھڑا ہو گیا جہاں کوئی اور ظالم کے خلاف کھڑا ہونے کی ہمت نہ رکھتا تھا۔
نیویارک سٹی، 1866۔ ایک لکڑی کی چھڑی گر کر ایک گرے ہوئے گھوڑے کی ریڑھ کی ہڈی پر ٹکرائی۔ آواز اینٹوں کی دیواروں سے ٹکرائی۔ گھوڑا گٹر میں پڑا تھا، مرتا جا رہا تھا۔
یہ معمول کی بات تھی۔ گھوڑوں کو مشین کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ اگر وہ گر جائے، تو مارو تاکہ وہ کھڑا ہو جائے۔ اگر نہ ہو، تو اسے چھوڑ دو اور بیس ڈالر میں نیا خرید لو۔ ظلم قانونی تھا۔ کتے جلائے جاتے، مرغے لڑائے جاتے، گھوڑے بھوکے رہتے جائیداد مالک کی ہوتی تھی، اس کو تباہ کرنے کا حق بھی اس کا تھا۔
لیکن اس سنہری شام، چھڑی دوبارہ نہیں گری۔
ایک لمبا آدمی ڈرائیور اور گھوڑے کے درمیان کھڑا ہوا۔ اس نے نفیس کپڑے پہنے تھے سلک ٹوپی، ٹیلر کا بنایا ہوا کوٹ، دستانے۔ وہ محل کا فرد لگتا تھا، نہ کہ ایک گندی گلی کا۔
ڈرائیور نے طنز کیا: "ہٹ جاؤ۔ یہ میری جائیداد ہے۔"
لیکن وہ آدمی نہیں ہلا۔ اس نے اپنا کوٹ کھولا، ایک چاندی کا بیج دکھایا، اور پرسکون مگر پختہ آواز میں کہا: "مار پیٹ ختم۔"
اس کا نام ہنری برگ تھا۔ اور وہ نیویارک شہر کے ساتھ ایک جنگ شروع کرنے والا تھا۔
محلوں سے کیچڑ تک
برگ امیر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جہاز بنانے والے تھے اور ایک بڑی جائیداد چھوڑ کر گئے۔ برگ یورپ گئے، پارٹیاں کیں، اور ایک شاندار زندگی جیتی۔ صدر لنکن نے انہیں روس کا سفارتکار مقرر کیا، جہاں وہ زار کے ونٹر پیلس کے ہالوں میں چلتے۔
وہ ہمیشہ کی عیش و آرام میں رہ سکتے تھے۔
لیکن سینٹ پیٹرز برگ میں، انہوں نے دیکھا کہ ایک کیریج ڈرائیور گرے ہوئے گھوڑے کو مار رہا ہے۔ یہ ظلم ان کے دل کو ہلا گیا۔ انہیں احساس ہوا کہ تہذیب محلوں سے نہیں، بلکہ طاقتور کی کمزور کے ساتھ برتاؤ سے ناپی جاتی ہے۔
برگ نے اپنا عہدہ چھوڑا اور نیویارک واپس آئے، مقصد کے ساتھ: ظلم کو روکنا۔
انصاف کو قانون میں بدلنا
اس وقت جانوروں کے ساتھ ظلم کے خلاف کوئی قانون نہیں تھا۔ برگ نے خود قانون بنایا۔ انہوں نے جانوروں کے حقوق کا مسودہ تیار کیا، قانون سازوں سے بات کی، اور انصاف کا مطالبہ کیا۔
10 اپریل 1866 کو نیویارک کی اسمبلی نے ASPCA امریکن سوسائٹی فار پریونشن آف کرولٹی ٹو اینیملز کے چارٹر کی منظوری دی۔ نو دن بعد، ریاست کی تاریخ میں پہلی بار جانوروں کے ساتھ ظلم جرم قرار پایا۔
عظیم مداخلت کنندہ
برگ نے خود اہلکار نہیں رکھے۔ وہ خود گلیوں میں جا کر مظالم روکتے۔ زیادہ بوجھ والے ہارس کار، گندی ڈیریاں، اور گلیوں میں لڑتے ہوئے کتے روک دیتے۔
انہیں مسلسل مذاق بنایا گیا۔ اخبارات نے انہیں "عظیم مداخلت کنندہ" کہا۔ کارٹونز نے مزاق اڑایا۔ بچے سبزیاں پھینکتے۔ ڈرائیور دھمکیاں دیتے۔
لیکن برگ شرمندگی سے نہیں ڈرتے تھے۔ کسی کی اجازت یا تعریف کی ضرورت نہیں تھی۔
وہ خود ٹریفک میں کھڑے ہو جاتے، بھری ہوئی اسٹریٹ کار کو روکتے۔ "یہ گھوڑا تمہیں کھینچنے کے لیے کمزور ہے۔ سب کو اترنا ہوگا اور چلنا ہوگا۔" مسافر گالیاں دیتے۔ برگ صرف گھوڑے کی ناک سہلاتے اور اسے کھانا کھلاتے۔
انہوں نے یہاں تک کہ پی ٹی بارنم کا سامنا بھی کیا، جو تفریح کے لیے زندہ جانور سانپ کو کھلاتا تھا۔ برگ نے انہیں عدالت میں لے جایا۔ بارنم نے آخرکار کہا کہ برگ "دل کے نیک انسان" ہیں۔
دل بدلنا
برگ کی سب سے بڑی فتح کوئی گرفتاری نہیں تھی بلکہ شعور کی تبدیلی تھی۔ ان سے پہلے، مارا ہوا گھوڑا ایک ٹوٹا ہوا اوزار تھا۔ ان کے بعد، وہ ایک متاثرہ تھا جسے تحفظ کا حق تھا۔
ایک شام، برگ نے ایک گاڑی روکی۔ گھوڑا ہڈیوں والا، بوجھ کے نیچے کپکپاتا ہوا تھا۔ ڈرائیور کے ہاتھ لڑنے کے لیے تیار تھے — جب تک اس نے برگ کی سخت، پر افسوس آنکھیں نہ دیکھیں۔
"میں بس روزی کمانے کی کوشش کر رہا ہوں،" ڈرائیور بولا۔
"اور یہ جانور بس زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے،" برگ نے جواب دیا۔
اس دن، برگ نے آدمی کو گرفتار نہیں کیا۔ انہوں نے اسے سکھایا۔
ہر جانوروں کا پناہ گزیں، ہر ہمدردی کا معاشرہ، ہر ظلم کے خلاف قانون سب برگ کے خواب کی وجہ سے ہیں۔
برگ کے پاس دولت، مرتبہ اور آرام تھا۔ وہ محل میں رہ سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے کیچڑ میں کھڑا ہونا، مذاق سہنا، دھمکیاں جھیلنا ان سب کو ترجیح دی، صرف ان مخلوق کی حفاظت کے لیے جو بول نہیں سکتی تھیں۔
انہوں نے ثابت کیا کہ ایک آواز، پختہ اور بے خوف، دنیا بدل سکتی ہے
ٹاپ ہیٹ والا فرشتہ
1866 میں، گلی میں گھوڑے کو مارنا قانونی تھا۔ 1888 میں، یہ جرم بن گیا۔ ایک شخص نے یہ ممکن بنایا۔
ہنری برگ: سفارتکار، جس نے محلوں کے لیے کیچڑ کا سامنا کیا، نظر انداز کرنے سے انکار کیا، اور دنیا کو سکھایا کہ خاموشی رضامندی ہے۔
لکڑی کی چھڑی گھوڑے کے اوپر اٹھائی گئی۔ لیکن یہ دوبارہ نہیں گری۔
منقول
کچھ تو لوگ کہیں گے.
مزاح سے بھرپور۔
گل نوخیز اختر
پلمبر نے کمال مہارت سے ٹوٹے ہوئے پائپ کی جگہ نیا پائپ لگایا اور ٹونٹی کھولی۔ الحمدللہ پانی بالکل ٹھیک آرہا تھا اور لیک بھی نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے گہری سانس لی اور پلمبر سے اس کام کا معاوضہ پوچھا۔ سر میں خارش کرتے ہوئے بولا’اپنی خوشی سے جو مرضی دے دیں‘۔ میں نے جیب سے کڑکڑاتا ہوا ’دس روپے‘ کا نوٹ نکالا اور اس کی طرف بڑھادیا۔ پلمبر نے غور سے نوٹ کو الٹ پلٹ کر دیکھا، اپنی آنکھیں ملیں، بازو پر چٹکی کاٹی اور حیرت سے بولا ’یہ دس روپے کا نوٹ ہی ہے نا؟
‘۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ پلمبر کا چہرہ یکدم تانبے جیسا ہو گیا ’میں نے آپ کی گاڑی پر وائپر نہیں مارا، دس روپے کس حساب میں دے رہے ہیں؟‘۔ میں بوکھلا گیا ’ابھی تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ اپنی خوشی سے جو مرضی دے دیں، یقین کرو دس روپے دیتے ہوئے مجھے جو خوشی ہو رہی ہے وہ بیان سے باہر ہے‘۔ اس نے اطمینان سے رینچ واپس نکالا ’ٹھیک ہے! میں پرانا پائپ واپس لگا دیتا ہوں تاکہ دونوں کی خوشی کا لیول برقرار رہے‘۔ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی اور نہایت عزت سے پانچ سو کا نوٹ پیش کر دیا۔
پتا نہیں کچھ لوگوں کو کیوں یہ بیماری ہوتی ہے کہ معاوضہ لیتے وقت بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں ’اپنی خوشی سے دے دیں‘۔ بندہ پوچھے کہ پیسے دیتے ہوئے کس کو خوشی ہوتی ہے؟۔ دوسرا جملہ اس سے بھی زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے کہ ’جو بنے گا، دے دیجئے گا‘۔ یہ جملہ زیادہ تر رکشہ والے استعمال کرتے ہیں۔ بالفرض اگر اس بات پر یقین کر کے رکشے میں بیٹھ جائیں تو یقیناً منزل پر پہنچ کر جتنے پیسے بنیں گے ان کا تعین رکشے والا ہی کرے گا، آپ کچھ بھی طے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔
اس معاملے میں وہ لوگ زیادہ چالاک ہوتے ہیں جو عموماً رشوت لیتے وقت جملے میں معمولی سی تبدیلی کر کے آپ کو رقم سے بھی آگاہ کر دیتے ہیں، ان سے آپ کام کروانے کا جرمانہ پوچھیں تو بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں ’پانچ سو یا ہزار‘ جو خوشی سے دینا چاہیں دے دیجئے گا‘۔ پیسے نکلوانا ایک فن ہے اور جو اس فن سے آشنا ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔
ہمارے ایک دوست ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ انہیں کسی کے پاس 100روپے لینے کے لئے بھیجا جائے تو وہ 150روپے لے کر آتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک محلے دار نے ان سے فرمائش کی کہ وہ ان کے تین سال سے ڈوبے ہوئے دس ہزار روپے واپس دلوا دیں تو ان کو شکرانے کے طور پر دو ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔ موصوف نے فوراً ہامی بھری اور شام تک دس ہزار روپے واپس لے آئے۔ آٹھ ہزار محلے دار کو پکڑائے اور باقی دو ہزار اپنی جیب میں ڈال لیے۔
ہم سب بہت حیران تھے کہ آخر انہوں نے ایسی کون سی گیدڑ سنگھی استعمال کی کہ تین سال پرانا قرض لمحوں میں وصول ہو گیا۔ آخر کچھ دنوں بعد انہوں نے خود ہی طریقہ واردات بتا دیا۔ فرمانے لگے کہ ’جب میں مقروض شخص کے گھر پہنچا تو پتا چلا کہ اُس نے اور بھی بہت سے لوگوں کے پیسے دینے ہیں‘ یہ سن کر میں نے اُس سے کہا کہ اگر تم نے فوری طور پر میرے ’کلائنٹ‘ کے دس ہزار ادا نہ کیے تو میں گلی کے دکاندار سے لے کر سبزی اور دودھ والے تک سب کو بتا دوں گا کہ تم نے میرے کلائنٹ کے دس ہزار انتہائی آسانی سے ادا کر دئیے ہیں۔ یہ سنتے ہی مقروض شخص نے اس وعدے کے ساتھ دس ہزار کا انتظام کر لیا کہ کسی اور کو پتا نہ چلے‘۔
پیسے نکلوانے کا فن بیگمات پر بھی ختم ہے۔ یہ اچانک بتاتی ہیں کہ آٹا‘ گھی‘ سبزی اور چکن یکدم ختم ہو گیا تھا جو میں نے ذاتی پیسے ڈال کر دو ہزار کا منگوا لیا ہے لہٰذا اب مجھے میرے پیسے واپس دے دیں۔ ظاہری بات ہے کون مائی کا لعل ہے جو یہاں ’منی ٹریل‘ مانگ سکے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ دفتر جاتے وقت شوہر حضرات بیگم کے ہاتھ میں سو روپے پکڑائیں یا ایک لاکھ‘ شام کو واپسی تک اُس میں سے 80فیصد خرچ ہو چکے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ پیسے بچوں کے ذریعے بلیک میل کر کے نکلوائے جاتے ہیں۔
بچے بیٹھے بٹھائے گھر میں بنی ہر چیز سے عاجز نظر آنے لگتے ہیں۔ گھر میں دال‘ چکن‘ سبزی‘ ہر چیز پکی ہوئی ہے لیکن بچوں کو پسند نہیں آرہی۔ ایسے میں بچوں کی ماں سرگوشی میں بتا دیتی ہے کہ اصل میں یہ باہر سے کچھ منگوانا چاہ رہے ہیں۔ ظاہری بات ہے آپ زیادہ سے زیادہ کیا کہہ سکتے ہیں؟ دو ہزار دینا ہی پڑتے ہیں اور کیسا انوکھا اتفاق ہے کہ چیزیں بھی پور ے دو ہزار کی آجاتی ہیں۔ یہ تو کبھی کوئی بچہ ماں سے ناراض ہو جائے تو باپ کو پتا چلتا ہے کہ وہ جو اُس دن دو ہزار دیے تھے اُن میں سے بقایا تین سو بھی بچے تھے لیکن اب پچھتائے کیا ہوت‘ جب بیگم چُگ گئیں نوٹ۔
👇
موبائل کی یہ خفیہ سیٹنگ آپ کی پرائیویسی کو دوسروں سے محفوظ رکھے گی!
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی دوست ہمارا موبائل مانگتا ہے کہ "یار ذرا ایک کال کرنی ہے" یا بچہ کہتا ہے کہ "یوٹیوب پر کارٹون لگا دیں"۔ لیکن ہمیں ڈر رہتا ہے کہ وہ کال کرنے یا کارٹون دیکھنے کے بعد ہمارے موبائل کی گیلری، واٹس ایپ یا دیگر ذاتی چیزیں نہ دیکھنا شروع کر دے۔ اس مسئلے کا حل اینڈرائیڈ میں "ایپ پننگ" (App Pinning) کی صورت میں موجود ہے۔
اس خفیہ ٹرک کا فائدہ اور طریقہ کار:
جب آپ کسی ایپ کو پن (Pin) کر دیتے ہیں، تو موبائل اسی ایک ایپ پر لاک ہو جاتا ہے۔ سامنے والا بندہ اس ایپ سے باہر نہیں نکل سکتا، نہ ہی ہوم اسکرین پر جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی دوسری ایپ کھول سکتا ہے جب تک آپ خود موبائل کا لاک نہ کھولیں۔
اپنے موبائل کی Settings میں جائیں اور وہاں Security یا Privacy کا آپشن تلاش کریں۔
نیچے سکرول کریں، وہاں آپ کو More Settings یا Advanced میں App Pinning یا Screen Pinning کا آپشن ملے گا، اسے آن (ON) کر دیں۔
اب جو ایپ آپ نے کسی کو کھول کر دینی ہے (مثلاً یوٹیوب)، اسے کھولیں۔
ریسنٹ ایپس (Recent Apps) والا بٹن دبائیں جہاں ساری چلنے والی ایپس نظر آتی ہیں، وہاں یوٹیوب کے آئیکن یا تین ڈاٹس پر کلک کر کے Pin کو منتخب کر لیں۔
اب موبائل اسی ایپ پر رک جائے گا۔ اس لاک کو ختم کرنے کے لیے بیک (Back) اور ریسنٹ (Recent) بٹن کو ایک ساتھ دبانا پڑتا ہے، جس کے بعد موبائل آپ سے دوبارہ مین اسکرین کا پاس ورڈ یا فنگر پرنٹ مانگے گا۔ اس طرح آپ کا ڈیٹا ہمیشہ محفوظ رہے گا۔
میں جب بھی اپنا موبائل بچوں کو دیتا ہوں تو یہ سیٹنگ لازمی آن کر دیتا ہوں تاکہ وہ کارٹون دیکھنے کے دوران کسی کو غلطی سے کال نہ ملا دیں یا کوئی اہم ڈیٹا ڈیلیٹ نہ کر دیں۔
منقول
#موناسکندر
ایک دن اسے قومی ایوارڈ ملا۔
اسٹیج پر اینکر نے پوچھا،
"آپ یہ اعزاز کس کے نام کرنا چاہیں گے؟"
حمزہ نے جواب دینے کے بجائے اپنا بیگ کھولا۔
اس میں سے وہی پرانی، زنگ آلود پانی کی کین نکالی۔
ہال میں بیٹھے لوگ حیران رہ گئے۔
اس نے مائیک کے قریب ہو کر صرف ایک جملہ کہا،
"یہ ایوارڈ اس آدمی کے نام...
جسے دنیا مالی کہتی رہی،
اور جس نے میری شخصیت کو لوگوں کے پھینکے ہوئے کیچڑ سے سینچا۔"
وہ مزید کچھ نہ بول سکا۔
کیونکہ پہلی قطار میں کوئی نہیں بیٹھا تھا...
جو آج یہ سن کر مسکرا دیتا۔
باپ کو گئے کئی برس ہو چکے تھے۔
گھر واپس آ کر اس نے وہی کین صحن میں رکھی، اس میں پانی بھرا اور ایک ننھا سا پودا سینچ دیا۔
پھر دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
اب اسے سمجھ آ گیا تھا...
کچھ لوگ اپنی زندگی میں پھول نہیں بنتے۔
وہ مالی بنتے ہیں...
تاکہ ان کے بعد بھی دنیا میں کہیں نہ کہیں بہار آتی رہے۔
منقول
#موناسکندر
اس دن حمزہ نے اسکول سے آ کر جوتے بھی نہیں اتارے۔
وہ سیدھا صحن کے اُس کونے میں جا بیٹھا جہاں اس کے ابو ہر شام سوکھے پتے چُنا کرتے تھے۔ مٹی گیلی تھی، مگر اس کی آنکھیں اس سے زیادہ بھیگی ہوئی تھیں۔
باپ نے دور ہی سے دیکھ لیا تھا۔
گیارہ برس کے بچے اچانک خاموش نہیں ہوتے...
انہیں خاموش کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے لوہے کی پرانی پانی کی کین دیوار کے ساتھ رکھی، ہاتھ دھوئے بغیر اس کے پاس آ بیٹھے۔
"آج کس نے دل توڑا ہے؟"
حمزہ نے سر نہیں اٹھایا۔
کافی دیر بعد اس نے بمشکل کہا،
"ابو... اگر آپ کسی بڑے دفتر میں ہوتے... یا سوٹ پہنتے... تو کیا میں بھی آج اتنا ہی چھوٹا ہوتا؟"
یہ سوال سن کر باپ کے چہرے پر ایک ایسی خاموشی اتری جو شاید صرف غریب باپ ہی سمجھ سکتے ہیں۔
انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو دیکھا۔
ان دراڑوں میں برسوں کی مٹی تھی...
اور انہی ہاتھوں نے شہر کے سب سے خوبصورت باغ سنوارے تھے۔
"کیا ہوا؟"
حمزہ کی آواز بھرّا گئی۔
"آج پوری کلاس ہنس رہی تھی۔ کہتے تھے... 'مالی کا بیٹا بھی انگلش اسکول آ گیا۔' پھر ایک نے کہا... 'تمہارے ابو دوسروں کے پھولوں کو پانی دیتے ہیں، اپنے لیے کیا بچتا ہوگا؟'"
وہ چپ ہو گیا۔
بعض جملے انسان کے کانوں سے نہیں...
اس کی خودداری میں پیوست ہو جاتے ہیں۔
باپ نے اس کے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا۔
تسلی نہیں دی۔
نصیحت بھی نہیں کی۔
وہ خاموشی سے اٹھے، اسٹور سے دو چھوٹے لفافے نکالے اور وہی پرانی پانی کی کین ہاتھ میں لے آئے۔
"آؤ..."
انہوں نے آہستہ سے کہا۔
"آج ہم لوگوں کی باتوں کا جواب نہیں دیں گے...
صرف دو پھول اُگائیں گے۔"
---
گھر کے پیچھے چند گز کا ایک باغیچہ تھا۔
ایک طرف چنبیلی، دوسری طرف گلاب، اور بیچ میں خالی مٹی۔
باپ نے دو کیاریاں بنائیں۔
ایک میں خود بیج بوئے۔
دوسری حمزہ کے حوالے کر دی۔
"میں اپنے پودے کو نلکے کا صاف پانی دوں گا۔"
انہوں نے کہا۔
"اور میں؟"
"تم گلی کے آخر والے جوہڑ سے پانی لانا۔"
حمزہ چونکا۔
"وہ تو گندا ہے۔"
باپ نے صرف مسکرا کر پرانی کین اس کے ہاتھ میں دے دی۔
"بس اتنا ہی کرنا۔"
---
یہ کھیل چند دنوں کا نہیں رہا۔
یہ ان دونوں کی روزمرہ زندگی بن گیا۔
ہر شام حمزہ وہی پرانی کین اٹھاتا، جوہڑ سے بدبودار پانی بھرتا اور خاموشی سے اپنے پودے کو دے آتا۔
راستے میں کبھی وہی لڑکے مل جاتے۔
"اوئے مالی کے بچے!"
"آج پھر گٹر کا پانی لے آیا؟"
وہ پہلے کی طرح روتا نہیں تھا۔
بس کین کا دستہ اور مضبوطی سے پکڑ لیتا۔
کبھی کبھی اسے لگتا، شاید ابو واقعی غلط ہیں۔
یہ پودا مر جائے گا۔
جیسے عزت مر جاتی ہے۔
جیسے خواب مر جاتے ہیں۔
---
تین ہفتے گزر گئے۔
ایک صبح ابو نے اسے آواز دی۔
"آؤ، فیصلہ ہو جائے۔"
دونوں کیاریاں سامنے تھیں۔
حمزہ کا پودا حیرت انگیز طور پر زیادہ سرسبز تھا۔
اس کی شاخیں مضبوط تھیں۔
پتے چمک رہے تھے۔
جبکہ صاف پانی والا پودا اگرچہ زندہ تھا، مگر کمزور دکھائی دیتا تھا۔
حمزہ خوشی سے اچھل پڑا۔
"ابو!
آپ ہار گئے!"
باپ ہنس دیے۔
"ہاں...
شاید میں ہار گیا۔"
پھر وہ جھکے۔
انہوں نے مٹی کو انگلیوں سے ہٹایا۔
"بیٹا... ہر گندگی زہر نہیں ہوتی۔
کچھ گندگی مٹی کو طاقت بھی دیتی ہے۔"
حمزہ خاموشی سے سنتا رہا۔
"لوگ بھی اسی گندے پانی کی طرح ہوتے ہیں۔
وہ حسد، غرور، مذاق اور نفرت تم پر پھینکیں گے۔
اگر تم ہر بات کو دل پر لے لو گے تو سڑ جاؤ گے۔
اور اگر اسے اپنی محنت کی کھاد بنا لو گے...
تو ایک دن وہیں کھڑے ہو کر تمہیں دیکھتے رہ جائیں گے۔"
ہوا سے چنبیلی کی خوشبو اٹھی۔
حمزہ نے پہلی بار اپنے باپ کے ہاتھوں کو عزت سے دیکھا۔
اسے احساس ہوا...
یہ ہاتھ صرف پودے نہیں اُگاتے۔
یہ انسان بھی اُگا دیتے ہیں۔
---
چند دن بعد اسکول میں تقریری مقابلہ تھا۔
موضوع تھا...
"میرا ہیرو۔"
سب بچوں نے ڈاکٹر، فوجی، پائلٹ اور سائنس دان چنے۔
حمزہ اسٹیج پر پہنچا تو پہلی قطار میں بیٹھے چند لڑکے پھر مسکرا رہے تھے۔
اس نے جیب سے ایک مٹھی مٹی نکالی۔
اور میز پر رکھ دی۔
پھر بولا،
"یہ مٹی میرے ابو کے ہاتھوں سے آئی ہے۔
انہیں لوگ مالی کہتے ہیں۔
مجھے فخر ہے...
کیونکہ انہوں نے کبھی کسی انسان کو نیچا دکھا کر روزی نہیں کمائی۔
صرف پھول اُگا کر کمائی ہے۔"
پورا ہال خاموش تھا۔
"اور ہاں...
میں بھی مالی کا بیٹا ہوں۔
لیکن یاد رکھیے...
ہر پھول کے پیچھے کسی مالی کے ہاتھ ہوتے ہیں۔
بس وہ ہاتھ نظر نہیں آتے۔"
اس دن پہلی بار تالیوں کی آواز ان بچوں سے زیادہ اونچی تھی...
جو کل تک ہنستے تھے۔
---
برسوں گزر گئے۔
حمزہ زرعی یونیورسٹی میں استاد بن گیا۔
ملک بھر میں اس کے تحقیقی کام کا چرچا ہونے لگا۔
👇
اورنگی ٹاؤن والوں کی حرکتیں کب سُدھریں گی؟
اورنگی ٹاؤن کے ایک اور نوجوان نے ایک عجیب حرکت کر دی۔ ظاہر ہے اورنگی، کورنگی یا لانڈھی کا نام آ رہا ہے تو کوئی فضول حرکت ہی زیرِ گفتگو ہوگی۔
سو بس اس نوجوان نے بھی ایسا ہی کیا۔ دن رات ایک کر کے محنت کی، صرف 25 سال کی عمر میں NED University کا کم عمر PhD Scholar اور لیکچرر بن گیا، اور اس کی ریسرچ دنیا کے معروف Nature Portfolio کے جرنل Scientific Reports میں شائع ہو گئی۔
لیکن چونکہ اس نوجوان نے کوئی غیر اخلاقی حرکت نہیں کی، نہ کوئی لڑائی کی، نہ کوئی اسکینڈل بنایا، تو پھر کیسے ہم اس نوجوان کو مشہور کریں؟ آخر یہ کیسے کہہ سکیں گے کہ اورنگی، کورنگی یا لانڈھی والے تو ایسے ہی ہوتے ہیں؟
ہاں، اگر ہمیں ان علاقوں کا نام بدنام کرنا ہو تو پاکستان کے کسی بھی کونے میں ہونے والی کوئی فضول حرکت بھی اورنگی، کورنگی یا لانڈھی کے نام سے چلا کر تذلیل ضرور کریں گے۔
بہرحال، یہی نوجوان اورنگی ٹاؤن، کراچی اور پاکستان کا اصل چہرہ ہیں۔
اب ہم بھی دیکھ لیتے ہیں کہ محمد شاہمیر سیف کی اس عالمی کامیابی کو کتنی پذیرائی ملتی ہے۔
🇵🇰 پاکستان زندہ باد۔
کاپیڈ
اسے بولتے ہیں جدید طریقے سے چوری کرنا
کچھ ہی دیر میں ساری مشین خالی کر دی۔
مجھے حیرانگی اس بات کی ھے کہ اتنا دماغ رکھنے والے شخص کو کیا یہ معلوم نہیں تھا کہ وہاں CCTV کیمرا لگا ہو گا۔ آخر اس نے اپنی شناخت چھپانے کے لئے ماسک وغیرہ کیوں نہیں پہنا؟؟
یاد ہے نا بچپن کا وہ مشہور صابن؟
صابن تو آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا تھا، مگر اس کے اوپر لگی ہوئی وہ چھوٹی سی چِپ آخر تک ویسے کی ویسے رہتی تھی۔
ہم بچے اسے بار بار ناخن سے کریدتے، رگڑتے اور حیران ہوتے تھے کہ آخر یہ اترتی کیوں نہیں!
آج سمجھ آتا ہے
کہ وہ صرف ایک چِپ نہیں تھی، بلکہ ہمارے بچپن کی ان خوبصورت یادوں کا حصہ تھی... جنہیں وقت بھی نہیں مٹا سکا۔
کیا اپ نے بھی یہ صابن استعمال کیا ہوا ہے!
اور کیا ابھی بھی یہ مارکیٹ سے مل جاتا ہے؟
منقول
بوری بند لاشیں متعارف کروانے والا
انکار پر سزائے موت سنانے والا ، کراچی کو منٹوں میں بند کروا سکنے والا یہ شخص
آج بستر مرگ پہ پڑا ہے
پارٹی قطع تعلقی کرچکی ،متعدد بار جیل جاچکا
کیسز ہیں ، مالی حالات تنگ ہیں
لہذا دماغ مفلوج ہوچکا ۔
دنیا میں کسی کا احتساب ہمارے لیئے سوچنے کا موقع ہے
الطاف حسین بننے سے پہلے سوچ ضرور لینا۔
"منگ پناہ محمد بخشا بے پرواہ جنابوں۔۔"
الطاف حسین مالی مشکلات کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر ہسپتال داخل۔۔۔
اللہ اکبر۔
"گردش دوراں تو دیکھیے"
کیا دور تھا کہ کراچی کا میئر صرف الطاف بھائی کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کے حلیم کھا لیتا تو فخر سے پھولے نہ سماتا۔۔
پورا کراچی آن واحد میں شہر خموشاں بن جاتا۔
کسی چوہدری، وڈیرے کی جرات نہ تھی کہ الطاف بھائی کی کال پہ ’’نہ’’ بھی کہہ سکتا۔
کتنے لاشے الطاف بھائی کی ہاں میں ہاں نہ ملانے پہ اٹھے،
کتنے سہاگ الطاف بھائی کی مرضی کے خلاف قدم اٹھانے پہ لٹے،
کتنی ماؤں کے لخت جگر زیر زمین جامکین ہوئے وجہ الطاف بھائی کے خلاف زبان سے لفظ نکل گیا،
نہ معافی نہ تلافی سیدھا ٹھاہ۔۔۔
آج الطاف بھائی ہیں
مالی مشکلات کا شکار بھی اور ذہنی دباؤ بھی۔
اللہ اکبر۔۔
آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہے
بھول جاتا ہے زمین سے ہی نظر آتا ہے
عرصہ قبل ایسی ہی ایک ویڈیو جناب شیخ رشید کی نظر آئی تھی
جس میں وہ زمانے کا شکوہ کرتے نظر آئے اور بہت کرب سے روتے دکھائی دیے ۔ وہ شیخ رشید جن کے تکبر کا عالم یہ ہوتا کہ وہ قرآن خوانی پہ ہاتھ سے سگار نہ نکالتے۔
تاریخی بات ہے ایک اداکارہ کو فیملی سمیت لاہور سے اسلام آباد بلا کر صرف اس لیے ایوارڈ کی دوڑ سے باہر نکال پھینکا کہ وہ شب میں شیخ صاحب کے روم میں نہ جا سکی۔ مگر وہی شیخ رشید جیسے کرب کے ساتھ رویا تو پتھر دل بھی ہل گئے ۔۔۔۔
یہی شیخ رشید تھے کہ سوال کیا گیا کہ
"شادی کیوں نہیں کرتے ؟"
تو جواب ملا کہ
" جس کو صبح شام تازہ دودھ میسر ہو اسے بھینس پالنے کی کیا ضرورت"
آج وہ بلک بلک کر روتے پھرتے ہیں کہ
تین دن ہو گئے ہیں کوئی ملنے نہیں آیا ۔
تو ثابت ہوا کہ صرف دودھ ہی سب کچھ نہیں ہوتا ،
کچھ کٹے وچھے بھی ضروری ہوتے ہیں
جو کمزور لمحے میں آپ کے لئے توانائی کا سورس ہوتے ہیں ۔
ورنہ بندے کو گلہ کرنے کے لئے بھی کوئی دستیاب نہیں ہوتا ۔
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
”اَلْمُسْتَطْرَف فِیْ کُلِّ فَنٍّ مُسْتَظْرَف“
“حضرت شہاب الدین محمدبن احمدشافعی علیہ الرحمۃ (مُتَوَفّٰی۸۵۰ھ)کی عظیم اور اپنی نوعیت کی عجائبات دنیا پر منفرد اور انوکھی تصنیف ہے۔
لکھتے ہیں
"ایک امیر شخص اپنی اہلیہ کے ساتھ بیٹھ کر عمدہ قسم کے کھانے کھا رہا تھا کہ فقیر نے خیرات کی صدا لگائی۔
فقیر کی ندا کی آواز اسے بہت بری لگی ۔
اسے جھڑک کر دروازے سے دھتکار دیا۔
بے چارہ سائل فقیرانہ آیا تھا اور صدا کر کر چلا
گردش دوراں دیکھیے ،
قدرت نے انگڑائی لی یا کہیے فطرت نے پلٹا کھایا
یہ شخص خود فقیر ہو گیا ،
مال و دولت جاتا رہا، حسن جوانی سب خاک ہوگیا،
وزیر مشیر سب رفو ہو گئے۔ ہم نشیں بیگانے اور اپنے ، اجنبی بن گئے ۔
بیوی کو طلاق دے دی اور منظر سے غائب ہو گیا۔
بیوی نے کسی اور بندے سے نکاح کر لیا
یہ دونوں میاں بیوی ایک دن اسی طرح عمدہ کھانا کھا رہے تھے ایک فقیر نے صدا لگائی ،
شوہر نے کہا "یہ کھانا اسے دے آؤ، وہ کھانا دے کر واپس لوٹی تو رونے لگی،"
میاں نے وجہ پوچھی تو گویا ہوئی ۔
"سرتاج!! یہ فقیر میرا سابق شوہر تھا۔ اس حالت میں اسے دیکھ کر رونا آگیا۔ اور سائل کو جھڑکنے کا پورا واقعہ بھی کہہ سنایا۔
اتنا سننا تھاکہ شوہر پھوٹ پھوٹ رویا
عورت سہم گئی کہ مبادا کوئی غلطی ہوگئی ہو۔ رونے کی وجہ پوچھی تو اس کے شوہر نے نے بخدا وہ فقیر میں تھا۔
پژمردگئ گل پہ ہنسی جب کوئی کلی
آواز دی خزاں نے، کہ تو بھی نظر میں ہے
یہ سب یہاں رہ جائے گا،
یہ فراٹے بھرتی گاڑیاں،
یہ پروٹوکول،
یہ اقتدار،دولت ،حرص ہوس سب۔۔۔۔
فاعتبروا یا اولی الابصار۔۔۔
"اللہ کریم ہمیں ہمہ قسمی تکبر سے محفوظ رکھے۔ اور ہر اس عمل کی توفیق بخشے جس سے وہ راضی ہو۔
سب سے خوبصورت باتیں
ماں نے اپنی بہو سے مسکراتے ہوئے کہا، شادی کے بعد کے پہلے مہینے کے اختتام پر: "تم نے میرے بیٹے کو مسجد میں نماز پڑھنے کا پابند بنا دیا۔ تم نے تیس دنوں میں وہ کامیابی حاصل کی جس میں میں تیس سالوں میں ناکام رہی،" اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
بہو نے جواب دیا: "کیا آپ کو پتہ ہے، اے ماں، پتھر اور خزانے کی کہانی؟"
کہا جاتا ہے کہ ایک بڑا پتھر لوگوں کے راستے میں رکاوٹ تھا۔ ایک آدمی نے اسے توڑنے اور ہٹانے کی کوشش کی۔ اس آدمی نے پتھر پر 99 بار کلہاڑی ماری اور پھر تھک گیا۔ پھر ایک اور آدمی وہاں سے گزرا اور اس سے مدد کرنے کے لئے کہا۔ اس آدمی نے کلہاڑی لی اور ایک ہی وار میں پتھر کو توڑ دیا۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ پتھر کے نیچے سونے سے بھری ہوئی ایک تھیلی تھی۔ اس آدمی نے کہا: "یہ میرا ہے، میں نے پتھر توڑا۔" دونوں آدمی جھگڑ کر منصف کے پاس گئے۔
پہلا آدمی بولا: "مجھے خزانے کا کچھ حصہ دو، میں نے 99 بار پتھر پر مارا اور پھر تھک گیا۔"
دوسرا آدمی بولا: "خزانہ میرا ہے، میں نے پتھر توڑا۔"
منصف نے کہا: "پہلے آدمی کو خزانے کے 99 حصے ملیں گے اور جس نے پتھر توڑا اسے ایک حصہ۔"
منصف نے کہا: "اگر پہلے آدمی کی 99 ضربیں نہ ہوتیں تو پتھر سوویں ضرب میں نہ ٹوٹتا۔"
تیس سالوں تک ماں اپنے بیٹے کو نماز کی تلقین کرتی رہی، بغیر کسی مایوسی کے۔ پھر وہ خوش ہوئی کہ اس کا بیٹا بہو کے اثر سے نماز پڑھنے لگا، حالانکہ اس نے تیس سال تک ماں کی نافرمانی کی تھی۔ بہو کا خوبصورت رویہ اور عظیم اخلاق دیکھیں جب اس نے یہ کریڈٹ خود کو نہیں دیا بلکہ ماں کو مکمل یقین دلایا کہ اس کی محنت ضائع نہیں ہوئی اور وہی تھی جس نے بنیاد رکھی اور ایک ایک اینٹ رکھ کر عمارت بنائی، آخری اینٹ بہو نے لگائی۔
اصل اخلاق صرف ایک اصلی شخص سے ہی آتے ہیں۔
اگر آپ نے پڑھ لیا ہے، تو پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں۔
کوٹ مٹھن میں ایک مجذوب تھا جو ہر آتے جاتے سے ایک ہی سوال پوچھتا رہتا کہ
" عید کڈاں"؟؟
(عید کب ہو گی)
کچھ لوگ اس مجذوب کی بات اَن سُنی کر دیتے
اور کچھ سُن کر
مذاق اُڑاتے گُزر جاتے
ایک دن حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ اس جگہ سے گزرے تو اُس مجذوب نے
اپنا وہی سوال دہرایا،
عید کڈاں؟؟
(عید کب ھو گی)
آپ صاحبِ حال بزرگ تھے،
اُس کا سوال سُن کر
مسکرائےاور کہا،
یار ملے جڈاں
(جب محبوب ملے وہی دن عید کا دن ہو گا)
یہ الفاظ سُنتے ہی مجذوب کی آنکھوں سے موتیوں کی طرح آنسو جاری ہو گئے
اور وہ مزید ترستی آنکھوں سے گویا ہوا
"سرکار یار ملے کڈاں"؟
(محبوب کب ملے گا ؟)
خواجہ غلام فرید
رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا
"میں مرے جڈاں"
(جب" میں " مرے گی)
بس یہ فرمانا تھا
کہ مجذوب نے کپکپاتے اور تھرتھراتے ہوئے عرض کیا کہ
"حضور میں مرےِ کڈاں"
(میں کب مرے گی)
سرکار رحمتہ اللہ علیہ مسکرائے اُسے پیار سے تھپکی دیتے
ہوئے یہ کہتے چل دئیے
"یار تکے جڈاں"
(جب محبوب دیکھے گا)
سارا عالم" ہو "کا ہے!
جھگڑا" میں" اور" تو" کا ہے
پُھلاں دا تو عطر بنا
عطراں دا فیر کڈھ دریا
دریا وِچ فیر رج کے نہا
مچھلیاں وانگوں تاریاں لا
فیر وی تیری بو نئیں مکنی
پہلے اپنی "میں" مُکا
ڈی پی او آفس کے دروازے پر کھڑا وہ کھوکھا اس ملک کے پورے نظام کی تصویر ہے!
کل رحیم یار خان ڈی پی او آفس جانا ہوا، داخل ہوتے ہی پولیس اہلکار نے روکا، موبائل اندر نہیں لے جا سکتے، ٹھیک ہے، یہ سمجھ میں آتا ہے۔ مگر اگلا جملہ سمجھ میں نہیں آیا۔ موبائل ادھر بھی جمع نہیں ہوگا، باہر والے کھوکھے پر رکھوائیں اور ٹوکن لے لیں!
باہر گیا، کھوکھے والے نے موبائل لیا، ٹوکن دیا، اور ساتھ مانگے پچاس روپے!
میں نے حیرانی سے سوال کیا کس چیز کے؟ بولا موبائل رکھنے کے!
میں نے کہا واپسی پر دیتا ہوں!
اندر گیا، کام نمٹایا، انفارمیشن کاؤنٹر پر بیٹھے آفیسر سے پوچھا کہ یہ پچاس روپے کس اتھارٹی کے تحت لیے جا رہے ہیں،گول مول جواب آیا، وہ پرائیویٹ دکان ہے، مجھے نہیں پتہ!
واپسی پر موبائل لیا، پچاس روپے دیے اور رسید مانگی!
اس نے ایسے دیکھا جیسے میں نے کوئی انوکھی زبان بول دی ہو، حیرانی سے کہتا کس چیز کی رسید؟
میں نے کہا تم عوام سے فیس وصول کر رہے ہو، نہ بلدیہ کا لیبل ہے، نہ کوئی منظوری، تو یہ پیسے کہاں جا رہے ہیں؟
کھسیانا ہو کر بولا، میں تو ملازم ہوں، مالکوں سے بات کریں، اور کھسک گیا!
اب ذرا حساب لگائیں۔
ڈی پی او آفس جس کے انڈر پورے ضلع کے ستائیس تھانے کام کرتے اور اس کو رپورٹنگ کرتے ہیں، جہاں روزانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں، اس کے دروازے پر کھڑے اس کھوکھے پر اگر ایک دن میں صرف ایک ہزار لوگ آئیں، تو پچاس ہزار روپے روزانہ،مہینے کے پندرہ لاکھ، سال کے؟
جی ہاں کروڑوں!
بغیر کسی لائسنس کے، بغیر کسی رسید کے، بغیر کسی منظوری کے!
اب سوال یہ ہے کہ یہ کھوکھا وہاں کیسے لگا؟ کس نے اجازت دی؟ کس کی سرپرستی میں چل رہا ہے؟ اور یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
جو آفیسر اندر بیٹھا تھا اسے پتہ ہے، جو پولیس اہلکار باہر کھڑا تھا اسے بھی پتہ ہے، جس نے یہ کھوکھا لگوایا اسے پتہ ہے، اور ڈی پی او آفس کی چھت کو بھی پتہ ہے۔ صرف عوام کو نہیں پتہ، اور عوام کو پتہ نہ چلے، یہی اس کھیل کی کامیابی ہے۔
یہ پاکستان میں کرپشن کا وہ چہرہ ہے جو بڑے بڑے اسکینڈلز میں نہیں ملتا، یہ چھوٹے چھوٹے ڈاکوں میں ملتا ہے۔ ہر سرکاری دفتر کے باہر کوئی نہ کوئی کھوکھا ہے، ہر کام کے لیے کوئی نہ کوئی غیر سرکاری فیس ہے، ہر عام آدمی کو کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے اور یہی چھوٹے چھوٹے ڈاکے مل کر اربوں کا وہ کالا دھن بناتے ہیں جو نہ کسی ٹیکس ریٹرن میں ہے، نہ کسی رجسٹر میں، نہ کسی حساب میں!
اور سب سے تکلیف دہ بات کیا ہے؟
یہ کہ ہم سب جانتے ہیں ہر کوئی جانتا ہے مگر پچاس روپے کے لیے لڑنا اس ملک میں بہادری نہیں بلکہ پاگل پن سمجھا جاتا ہے۔
آدمی سوچتا ہے کہ چھوڑو جھگڑا، کام نکالو اور نکل چلو، اور یہی سوچ اس نظام کی سب سے بڑی طاقت ہے!
مگر میں آج کہتا ہوں کہ یہ پچاس روپے چھوڑنے والا معاملہ نہیں۔ جب تک ہم یہ سوال نہیں پوچھیں گے، جب تک ہم رسید نہیں مانگیں گے، جب تک ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ کس کی اجازت سے ہے، یہ کھوکھے پھیلتے رہیں گے، یہ ڈاکے چلتے رہیں گے، اور یہ نظام عوام کو لوٹتا رہے گا!
ڈی پی او رحیم یار خان سے سوال ہے کہ آپ کے آفس کے دروازے پر یہ کھوکھا کس کی اجازت سے ہے، اس کی کمائی کہاں جا رہی ہے، اور کیا آپ کو واقعی نہیں پتہ؟
عوام جانتی ہے۔ اور اب عوام پوچھے گی بھی!
تحریر: مسعود باجوہ
#موناسکندر
غلیظ ترین کھانا
میرا ایک فوتگی والے گھر جانا ھوا،دیکھا ایک لڑکا بہت ہی زیادہ رو رہا ھے معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ جو فوت ہوئیں ہیں وہ رونے والے کی والدہ تھیں
میں ہکا بکا ایک طرف کھڑے ہو کے سوچنے لگی کہ بھرپور جوانی کے وقت اتنا بے رحم دکھ اس نوجوان کو آدھا کر دے گا
مجھ سے اس کا رونا دیکھا ہی نہیں جا رہا تھا ، اس کی چیخیں لگتا تھا قیامت لے آئیں گی
وہ اکلوتا بیٹا تھا اپنے ماں باپ کا
اچانک ایک بھائی صاحب آگے آتے ہیں وہ اس سے کھانے کا مینیو پوچھتے ہیں
میں حیران کہ اس حالت میں وہ کھانا کیسے کھا سکتا ھے ،اس سے تو صحیح سے بولا بھی نہیں جا رہا
بعد میں پتہ چلا کہ وہ ان لوگوں کے کھانے کی بات کر رہے تھے جنہوں نے گھر افسوس کرنے آنا ھے
یہ ھو کیا رہا ھے ،یہ چل کیا رہا ھے
ان کے گھر کوئی شادی یا سالگرہ کا فنکشن نہیں ھے بلکہ ایک لڑکے کی جنت اسے چھوڑ کے چلی گئی ھے
بجائے اس چیز کے کہ ہم اس گھر کا حوصلہ بنیں اس گھر کے دکھ میں شریک ھو جائیں الٹا وہ لوگ ہماری گندی اور کبھی نہ مٹنے والی بھوک کا بندو بست کرنے میں لگ گے ہیں
کیا ہم اس قدر بے حس اور گھٹیا قوم ہیں کہ میت والے گھر بھی کھانا پینا نہیں چھوڑتے
اور پھر جنازے کہ بعد گھناونا کھیل شروع ھوا ایک ایسا کھیل جسے دیکھ کے کسی غیرت مند کو موت آ جائے مگر ہمیں نہیں آتی
وہی لڑکا جس کی دنیا لٹ گئی برباد ھو گئی ہاں ہاں وہی لڑکا روتی آنکھوں کے ساتھ ان بھوکی ننگی زندہ لاشوں ،جن کی عقلوں پہ ماتم کرنا چاہیے ان کو کھانا دے رہا ھے کیا ان کو شرم نہیں آتی کیوں یہ غیرت سے مر نہیں جاتے
پھر میرے کانوں نے سنا کہ ایک آدمی نے اسی لڑکے کو آواز دے کے کہا کہ بھائی یہ پلیٹ میں لیگ پیس ڈال کے لانا
اف میرے خدا!یہ کون لوگ ہیں جن کے پیٹ نہیں بھرتے ،ایسے لوگ دنیا میں ہی کیوں ہیں یہ مر کیوں نہیں جاتے۔
شرم نہی آتی اسی سے لیگ پیس مانگتے جس کی ماں مر گئی ھے
بجائے اس کے کہ تمہارا ہاتھ اس کے کندھے پہ ھو اور حوصلہ دے رہا ھو ، تمہارا ہاتھ لیگ پیس کو پڑ رہا ھے
کسی دانا آدمی کا قول یاد آ گیا کہ
''سب سے غلیظ ترین کھانا وہ ھے جو ہم میت والے گھر سے کھاتے ہیں ''
ہمیں ترس یا رحم نہیں آتا یہ دیکھ کے بھی کہ لوگ روتے ھوۓ کھانا بانٹ رہے ہیں
میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو میت والے گھر سے ناراض ھو کے چلے جاتے ہیں کہ ہمیں کھانا نہیں دیا۔۔
منقول
یہ دنیا کے مختلف ممالک کے بہترین کہاوتیں ہیں:
"جو اپنے پڑوسی کے گھر کو ہلاتا ہے، اس کا اپنا گھر گرجاتا ہے" (سوئس کہاوت)
"اگر کوئی شخص پیٹ بھر کر کھا لے تو اسے روٹی کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا" (اسکاٹ لینڈ کہاوت)
"اگر تم مسکرانا نہیں جانتے تو دکان نہ کھولو" (چینی کہاوت)
"اچھی شکل سب سے مضبوط سفارش ہے" (انگلش کہاوت)
"نیکی کرنا احسان فراموش کے ساتھ ایسا ہے جیسے سمندر میں عطر ڈالنا" (پولینڈ کہاوت)
"اگر تم کسی قوم کی ترقی دیکھنا چاہتے ہو تو اس کی عورتوں کو دیکھو" (فرانسیسی کہاوت)
"ہم اکثر چیزوں کو ان کی حقیقت سے مختلف دیکھتے ہیں کیونکہ ہم صرف عنوان پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں" (امریکی کہاوت)
"دوسروں کی غلطیاں ہمیشہ ہماری غلطیوں سے زیادہ واضح ہوتی ہیں" (روسی کہاوت)
"تمہاری قناعت تمہاری نصف خوشی ہے" (اطالوی کہاوت)
"ہر انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے" (انگلش کہاوت)
"اپنے دماغ کو علم سے لیس کرو، بہتر ہے کہ جسم کو زیورات سے سجاؤ" (چینی کہاوت)
"خود پسندی جہالت کی پیداوار ہے" (اسپین کہاوت)
"وہ محبت جو تحفوں پر انحصار کرے، ہمیشہ بھوکی رہتی ہے" (انگلش کہاوت)
"اس عورت سے ہوشیار رہو جو اپنی فضیلت کے بارے میں بات کرتی ہے اور اس مرد سے جو اپنی دیانت داری کے بارے میں بات کرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)
"اپنی بیوی کو محبت دو اور اپنی ماں کو اپنا راز بتاؤ" (آئرلینڈ کہاوت)
"پانچ سال تک اپنے بچے کو شہزادہ بناؤ، دس سال تک غلام کی طرح اور اس کے بعد دوست بن جاؤ" (ہندی کہاوت)
"انسان ہونا آسان ہے، مگر مرد بننا مشکل ہے" (روسی کہاوت)
"میرے خاندان نے مجھے بولنا سکھایا، اور لوگوں نے مجھے خاموش رہنا سکھایا" (چیکوسلوواک کہاوت)
"جو لوگوں کو علم کی نظر سے دیکھتا ہے ان سے نفرت کرتا ہے؛ اور جو انہیں حقیقت کی نظر سے دیکھتا ہے انہیں معاف کرتا ہے" (اطالوی کہاوت)
"غصہ ایک تیز ہوا ہے جو عقل کے چراغ کو بجھا دیتا ہے" (امریکی کہاوت)
"جو لوگ دیتے ہیں انہیں اپنے دینے کی بات نہیں کرنی چاہیے، جبکہ جو لوگ لیتے ہیں انہیں اس کا ذکر کرنا چاہیے" (پرتگالی کہاوت)
"بڑا درخت زیادہ سایہ دیتا ہے مگر کم پھل دیتا ہے" (اطالوی کہاوت)
"اپنی فکر کو پھٹی ہوئی جیب میں ڈال دو" (چینی کہاوت)
"زیادہ کھا لینا بھوک سے زیادہ نقصان دہ ہے" (جرمن کہاوت)
"ہر دن بوئے، ہر دن کھاؤ" (مصری کہاوت)
"اے انسان، موت کو نہ بھولو کیونکہ یہ تمہیں نہیں بھولے گی" (ترکی کہاوت)
"انتقام کی لذت ایک لمحے کی ہے، مگر معافی کا سکون ہمیشہ کے لئے رہتا ہے" (اسپین کہاوت)
"محبت اور خوشبو کو چھپایا نہیں جا سکتا" (چینی کہاوت)
"جس کی جیب خالی ہو، اسے اپنی زبان کو میٹھا بنانا چاہیے" (ملائیشیائی کہاوت)
"پانی کے چھوٹے قطرے بھی ندی بنا سکتے ہیں" (جاپانی کہاوت)
"اللہ پرندوں کو رزق دیتا ہے مگر انہیں اسے پانے کے لیے پرواز کرنا پڑتا ہے" (ہالینڈ کہاوت)
"محبت تب تک باقی رہتی ہے جب تک پیسہ ہوتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)
"جو اپنے دوست کو قرض دیتا ہے، وہ دونوں کو کھو دیتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)
"جو کوئی خوبصورت عورت سے شادی کرتا ہے اسے دو آنکھوں سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے" (انگلش کہاوت)
"جس کی پشت پر تنکا ہوتا ہے، وہ ہمیشہ آگ سے ڈرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)
"جس نے منزل تک پہنچنے کا عزم کر لیا، اس نے ہر رکاوٹ کو معمولی سمجھا" (فرانسیسی کہاوت)
"جو خود کو بھیڑ سمجھتا ہے، بھیڑیا اسے کھا جائے گا" (فرانسیسی کہاوت)
پاکستان کی کہاوت کمنٹ میں لکھ دو کسی کو آتی ہے تو
#قومی_زبان
لیاقت پور میں امتحان کے دوران شدید گرمی کے باعث ایک طالبہ اچانک بے ہوش ہو گئی۔ فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی گئی۔ اہلکاروں نے بروقت پہنچ کر ابتدائی طبی امداد دی، اور جب طالبہ کو ہوش آیا تو اس نے ایک ہی خواہش ظاہر کی: "میں اپنا پیپر مکمل کرنا چاہتی ہوں۔" ریسکیو اہلکاروں نے وہیں امتحانی مرکز میں طالبہ کو ڈرپ لگا دی، اور تقریباً آدھے گھنٹے تک ایک اہلکار خاموشی سے ڈرپ تھامے کھڑا رہا، تاکہ طالبہ اپنا امتحان مکمل کر سکے۔ بعض اوقات ہیرو جانیں بچانے کے ساتھ خواب بھی بچا لیتے ہیں۔
ہاہا ہاہا۔۔۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجابی زبان انگریز نے سیکھنی ہو تو چینی زبان سے بھی زیادہ مشکل ہے۔
ایک گورا 16 سال پنجابی سیکھتا رہا۔ آخر پنجابی زبان کا ٹیسٹ دینے ایک گاؤں گیا۔ اسکول کے لڑکوں کے پاس گیا۔
انہوں نے کہا "پنجے" بیٹھ جا۔
وہ بیٹھ گیا۔
پھر زمین پر سب نے پھونکیں مار کر ساری دھول اڑا دی۔ جگہ صاف ستھری کر دی۔ نیچے سے گیلی زمین جو خشک ہوچکی تھی نکل آئی۔
لڑکوں نے پوچھا: اسے کیا کہتے ہیں؟
اس نے مختلف چیزیں کہیں۔ صاف، تمیز، ستھرا۔۔۔۔
لڑکوں نے کہا توں فیل ہوگیا۔
اسے "رڑا پٹک" کہتے ہیں۔
گورا بیچارہ پھر پنجابی سیکھنے نکل پڑا۔ اس نے کہا ابھی کسر باقی ہے۔
قبر کی مٹی نے امانت میں خیانت نہ کی ۔۔۔ !!!
کئی روز قبل جنوبی پنجاب کے ایک باپ کا بے گناہ جوان بیٹا مارا گیا ۔ والد بہت چیخا چلایا کہ یہ قتل ہے لیکن کسی نے نہ سنا اور لاش والد کے حوالے کردی جو اسے دفنانے پر مجبور ہو گیا ،
جوان بیٹے کو دفن کرتے وقت والد نے قبر پر بیٹھ کر کہا میں اپنے بیٹے کی میت بطور امانت تمہارے حوالے کر رہا ہوں ۔۔۔۔
کئی روز گزر گئے والد اور وکیل کی کوشش رنگ لائی مقدمہ درج ہوا اور پوسٹ۔ مارٹم کے لیے نمونے لینے اور قبر کشائی کا حکم جاری ہو گیا ،
قبر کشائی کے وقت قبرستان میں موجود درجنوں لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ قبر سے ویسی ہی خوشبو آرہی تھی جیسی دفن کرتے وقت تھی ، کفن ذرا بھی میلا نہ تھا اور نمونے لینے والی ٹیم کی توقعات کے برعکس شدید گرمی کے باوجود بدبو کا نام نشان تک نہ تھا ،
وکیل صاحب نے مقتول کے والد کو سینے سے لگایا اور اسے مبارکباد دی کہ تمہارا بیٹا شہیید تھا ،
اس بات کی قبر نے گواہی دی ہے اب اللہ پر بھروسہ رکھو ہم اسکے قاتلوں کو سزا دلوانے کے لیے پورا زور لگا دیں گے ، آج کے بعد ماتم نہ کرنا مطمئن رہنا کہ تمہارا بیٹا شہیدوں کی صف میں شامل ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔