اگر آپ کا تعلق شہر کراچی سے تو اس ٹرینڈ کا لازمی حصہ بنیں۔ اس ہیش ٹیگ پر ٹویٹس کریں اور ریٹویٹس بھی کریں تاکہ پیپلزپارٹی نامی عذاب سے اس شہر کو چھٹکارا ملے اور شہر کے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق ملیں جس کے وہ حقدار ہیں۔ شکریہ
#پیپلز_پارٹی_چور_ہے
@iwaseemmalik IS BAIGAIRAT KO ISKE HAAL PE CHORR DO AWAAM KHUD HI ISKA HAL DHOONDH LE GI JALDI
YEH AISE HI KUTTOON KI TARAH BHOONKTA PHIRE GA IN SHA ALLAH
جنابِ اقرار الحسن، میں مہذب معاشروں میں آئین، قانون و بنیادی انسانی حقوق کی بالادستی کا وہ سبق سنا رہا تھا جو بطور سینئر صحافی اور نومولود سیاستدان آپ کے لیے تو مشعلِ راہ ہونا چاہیے تھا، مگر توقع کے عین مطابق آپ نے اس اصولی بحث کو پھر سے شخصیات کے گرد گھما دیا۔
چلیں اسی پر بات کر لیتے ہیں، جیل جانے سے پہلے اپنی سیاسی زندگی میں یہ جرائم کئے ہونگے جن کی جانب آپ توجہ مبذول کروا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران خان پر درج تین سو مقدمات اور قید انہیں ان جرائم پر نہیں، بلکہ ایسے ٹرائلز میں ملی جن کی اپیلیں سنتے ہوئے آج اس 'رجیم' کو غشی کے دورے پڑ رہے ہیں، کیونکہ بندوبستی نظام جانتا ہے کہ اپنے ہی چنتخب ججز کے سامنے بھی وہ ان کیسز کا دفاع نہیں کر پائیں گے۔
آپ کا یہ مؤقف بھی نظر سے گزرا کہ سیاسی تحریکیں اپنے آغاز میں مقبول ترین بیانیے کو نشانہ بناتی ہیں، اور اسی بنیاد پر آپ عمران خان پر تنقید کرتے ہیں، اصولی طور پر آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ مگر کیا اس تنقید کی آڑ میں آپ 9 مئی سے پہلے اسے بلخصوص بعد ہونے والی اس وحشت کو نظر انداز کر سکتے ہیں جس نے لاکھوں زندگیوں کو اجاڑ دیا؟ اس بندوبستی نظام نے قانون کے نام پر سیاست کا وہ کھیل کھیلا جس کی لپیٹ میں وہ ہزاروں معصوم بھی آئے جو اس احتجاج کا حصہ تک نہ تھے۔ پنجاب میں پولیس کے غضب کا جو بازار گرم رہا، اس میں لوگوں کے گھر لٹ گئے اور غریب باپ اپنی بیٹیوں کے جہیز دے کر اپنی جانیں چھڑاتے رہے، چادر چار دیواری کے تقدس کی پالمالی کے دوران کتنے لوگ دل کے عارضے میں مبتلا ہوئے، اور کئی تو جان سے بھی گئے، الغرض معاشرتی بنیادیں ہلا دیں گئیں۔
اس پورے معاملے کو خالصتاً قانونی زاویے سے نمٹنے کے بجائے 'سیاست زدہ' کر دیا گیا، جس کا نتیجہ خاندانوں کی تباہی اور کاروبار کی بربادی کی صورت میں نکلا۔ اور جن لوگوں نے قانون ہاتھ میں لیا بھی تھا، تو اس دن کی انتظامی اور سیکیورٹی کوتاہیوں پر آج تک کوئی آزادانہ انکوائری کیوں نہ ہو سکی؟
سوال یہ ہے کہ آپ عمران خان کی مخالفت یا نفرت میں پاکستانی عام عوام کے ساتھ اس بربریت کو کیسے 'جواز' فراہم کر سکتے ہیں؟ آپ کی تو اپنی ایک "حقیقی جمہوری سیاسی تحریک" ہے، کیا آپ عوامی حقوق کی پامالیوں کا جواز فراہم کرکے اپنی تحریک کے لیے نئی نسل باہر سے امپورٹ کریں گے؟
آخر میں، آپ کو پی ٹی آئی کا ورکر ایک 'کلٹ' نظر آتا ہے، جو شاید کسی حد تک درست بھی ہو، بدلے میں آپ تحریک انصاف آپکو 'بغضِ عمران' کی انتہا پر دیکھتی ہے۔ یہ دونوں رویے دراصل ایک ہی نفسیاتی مسئلے کی دو مختلف شکلیں ہیں، لیکن عوام کیخلاف وحشت و بربریت پر ہمدردی اور آئین و قانون کی بالادستی کیلئے آواز اٹھانے کی بجائے اسے جواز فراہم کرنے کی کوشش میں مجھے تو آپ 'نفرت عوام' میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔
مولانا صاحب آپ نے جاکر ملزم کو چُھڑوا دیا۔ اور ان DNA کی بات کررہے ہیں ؟ DNA کا ثُبوت Sexual کیسز میں 72 گھنٹوں کے اندر اندر لے لیا جاتا ہے اور 72 گھنٹے کے بعد وہ رہتا ہی نہیں۔
اور آپ 12 دن 288 گھنٹے کے بعد DNA کا مُطالبہ کررہے ہیں ؟
اگر آپ اس ملزم کو نہ چھڑواتے اور خُود DNA کا مُطالبہ اُسی وقت کرتے تو آپ کے مُطالبے میں وزن ہوتا مگر اس وقت مُطالبہ ایک چالاکی کے سوا کُچھ نہیں۔
نوآبادیاتی دور میں فنڈ کی ضرورت پڑتی تھی تو لگان بڑھا دیا جاتا اور وسائل چھین لیےجاتے،بیوروکریسی کی فکری ترک تازی آج بھی وہی ہےکہ بحران آئے تو بوجھ عام پر منتقل کردو۔ اپنی مراعات،تعیشات یہ سب لامحدود ہے۔طاقت کا عالم یہ ہےکوئی حکومت افسر شاہی کی مراعات میں کمی کاسوچ بھی نہیں سکتی۔
March 18, 2023 Some painful highlights of the illegal attack by the police on the house of former Prime Minister Imran Khan...
Everything is remembered and not forgotten
18 مارچ 2023 کو پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی غیر موجودگی میں ان کے گھر پر حملہ ہوا، جب گھر پر صرف ان کی اہلیہ اور چند ورکرز موجود تھے جن کو زیر کرنے کے لئے سینکڑوں کی نفری اور کرینز پہنچی، یہ تماشا پوری دنیا نے دیکھا۔ #قومی_لیڈر_کو_رہا_کرو