اگر پارلیمنٹ میں موجود منتخب نمائندے اپنے ہی قائد سے نہیں مل سکتے
قانون سازی پر مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتے کارکنوں کے حق میں آواز بلند نہیں کر سکتے اور احتجاج تک نہیں کر سکتے تو پھر ایسی پارلیمانی موجودگی کا فائدہ کیا ہے؟
اگر مقصد صرف نشستیں بچانا نہیں بلکہ اپنے مؤقف اور قائد کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تو پھر ہر ممکن مؤثر آئینی اور سیاسی آپشن پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔
قوم جواب چاہتی ہے خاموشی نہیں۔
آواز اٹھائیے خان بچائیے
#releaseimrankhan
پاکستان کی طرح کیا کشمیر بھی اپنے لیڈر کی گرفتاری پر امن اور دیگر قائدین کی پھکی کھائے گا یا پاکستانی اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اپنی آزادی کو یقینی بنائے گا؟
گرفتاریاں شہادتیں اور صعوبتیں وہاں رنگ لاتی ہیں جہاں تسلط ہو نہ سامراج۔
جہاں ظلم ہو وہاں قربانی نہیں لڑائی ناگزیر ہے۔
کرنسی اور سرکاری دفاتر میں قائد اعظم کی تصویر اور پاکستان کے جھنڈے کا ساتھ سلوک قوم کی آزادی کی طرف اشارہ ہے یا ملک کا سودا کرنے کی ابتداء۔
بٹوارہ روکنے کیلئے جان لینے سے بہتر ہے جان بچانے کیلئے کر بٹ جائیں۔
لڑ کر الگ ہونگے تو ملنے کی امید نہیں رہتی امن سے پھر اتحاد ہو سکتا ہے
نامکمل انسان، مسلمان یا پاکستانی کی طرح، تحریک انصاف کے کارکن، ووٹر، سپورٹر اور عمران خان کے زیادہ تر فالوورز بھی پیروی کرنے کی بجائے نام بیچنے والے نکلے۔
انسان ایسا ہونا چاہیے ہم نہیں
مسلمان ویسا ہوتا ہے ہم نہیں
پاکستانی ہونا چاہیے ہم نہیں
بس کچھ ایسا ہی رویہ سوشل میڈیا پر ہے۔
ڈیرہ غازی خان یہ ویڈیو دیکھ کر بہت دکھ اور تکلیف ہو رہا ہے وہ اس لیے نمبر ون کسی بھی ادارے کے دفتر یا پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنا بہت بڑا جرم ہے دہشت گردی کہیں تو غلط نہ ہوگا یہ تھانہ گدائی پر ان لوگوں نے حملہ کیا ہے کیا انصاف مانگنے کا یہی طریقہ درست ہے ہمارے کنفرم ذرائع کے مطابق جو حقیقت ہے کسی خواجہ سرا نے 15 پر پولیس کو کال کیا خواجہ سرا میرے گھر پر حملہ کر چکے ہیں اور مجھے مارنا چاہتے ہیں میں اپنے گھر کے اندر موجود ہوں اور میں نے دروازہ لاک کر دیا پولیس موقع پر پہنچی اور اس شخص کو ساتھ لے کر پولیس اسٹیشن پہنچ گئے حملہ اور سارے خواجہ سرا تھانہ گدئی پہنچ گئے یہ شخص ہمارے حوالے کر دو پولیس نے ان کے حوالے نہ کیا تو ان لوگوں نے وہاں اپنی گنڈا گردی شروع کر دی جو ویڈیو آپ کے سامنے ہے جس طرح سے یہ خواجہ سرا پولیس اسٹیشن یا پولیس ملازمین کے اوپر تشدد کر رہے ہیں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں گاڑی پر پتھراؤ کر رہے ہیں دھمکیاں نازیبہ الفاظ ادا کر رہے ہیں ریاست اور اداروں کو للکار رہے ہیں میرا سوال ہے کیا یہ دہشت گردی نہیں ان لوگوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا یہ لوگ دستی دو نمبر خواجہ سرا بنے ہوئے ہیں جنہوں نے برائی کے اڈے قائم کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان نسل میں ایڈز جیسی لعنت مرض لاعلاج بیماری پھیل رہی ہے جس طرح ہمارے پنجاب پولیس کے جوان وہ بھی یونیفارم کے اندر دوران ڈیوٹی تھانے پر موجود ہیں یہ لوگ دیکھو کس طرح ان پر حملہ کر رہے ہیں بے بسی تکلیف کی بات تو یہ ہے فقط ہمارے پولیس کے جوانوں کے پاس ارڈر نہیں اگر وہ کچھ کرتے تو سب لوگ ظالم کہتے پولیس والے ظالم ہیں مگر وہ تشدد سب کچھ برداشت کرتے رہے اور خاموش رہے پولیس کے جوان موقع پر تشدد نازیب الفاظ حملہ دیکھتے رہے برداشت کرتے رہے اگر وہ کچھ کرتے سب لوگ یہ کہتے یہ اختیارات کا ناجائز استعمال ہے یہ پولیس کی غنڈہ گردی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن ڈی جی خان کی تاریخ عوام سب اس بات کا گواہ ہیں کچھ عرصہ پہلے میں نے ان من گھڑت خواجہ سراؤں کے خلاف آواز اٹھایا تھا اور میدان میں میں اکیلا تھا کوئی میرے ساتھ نہیں تھا نہ میرے پاس اسلحہ نہ کوئی دیگر طاقت اور نہ کسی کا سپورٹ میں فقط سچائی اور رب کے سہارے پر تھا الحمدللہ میں نے ان لوگوں کو بٹا ڈالا ان کا اصل چہرہ اور کردار دکھایا الحمدللہ پنجاب پولیس تو بہت بڑی ایک طاقت ہے خدا جانے خاموش کیوں ہیں مجھے آج ادارے اجازت دے دیں ڈیرہ غازی خان میں دو نمبر من گھڑت جسم فروش بلیک میلر خواجہ سرا نظر آیا تو میرا نام رزاق نہیں اللہ کے حکم سے ایمان اور سچائی کے ساتھ میں ان کو روک سکتا ہوں جناب محترم ڈی پی او ڈیرہ غازی خان صادق بلوچ صاحب سے ریکویسٹ اپیل ہے ان جسم فروش دہشت گردوں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے تاکہ ایسا گھٹیا عمل دہشت گردی کا سوچ کوئی دوبارہ نہ سوچے
جو لوگ عسکری پروپیگنڈہ کو لے کر ملاقات نہ ہونے پر پریشان ہیں ان کو سکون عمران خان کے جنازے سے ہی ملے گا ورنہ نہیں۔
اپنی بے چینی کو مٹانے کیلئے عمران خان کو ہدف بنا کر بہنوں کو متنازع کرنے والوں میں زیادہ تر ذاتی عناد اور کینے کا شکار ہیں اور کچھ صرف تشہیر اور بغض کے مارے ہوئے ہیں
جذباتی اور کینہ پرور ناہنجاروں کے شور کی وجہ سے ناپاک فوج عمران خان اور علیمہ خان کے نام پہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں اورپروپیگنڈہ کا شکار اپنا اپنا سودا بیچنے لگتے ہیں اور نتیجتاً تحریکِ انصاف میں شامل عسکری سیاستدان فوج کے مذموم عزائم پورے کرتے رہتے ہیں۔
بجٹ میں بھی وہی ہوا۔
#دوڑجہالت
مریم رنڈی پنجاب کے بازاروں کو بازار حسن، سرکاری ملازموں کو کنجر دلال اور پنجابیوں کو تماش بین بنانے کیلئے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ادھورے خواب پورے کر رہی ہے۔
اللّٰہ اور عاصم منیر کے درمیان جاری جنگ میں اللّٰہ کی طرف عمران خان اور بہنیں جبکہ عاصم منیر کی طرف پی ڈی ایم اور مریم رانی ہے
طاقت کے پیچھے لالچ ہو یا مجبوری وہ ظلم بن جاتی ہے
طاقت ایمان اخلاق یا کردار کی ہو تو عدل بن جاتی ہے
یہی طاقت جیت بھی ہے اور امن بھی
لیکن مقابلہ ہتھیار اور لاقانون سے ہو نتیجہ بھی ہتھیار اور لاقانون سے ہی ملتا ہے صرف کردار اخلاق یا ایمان سے نہیں۔
رشتے نہیں اصول قوم بناتے ہیں
قوم کو نہ جھکا سکے تو تقسیم کرنے کی سازش شروع ہوگئی۔
ڈٹ جانے کا سبق @ImranKhanPTI نے دیا
اتحاد کا سبق @Aleema_KhanPK دے رہی ہے
عمران خان کو جھکانے کی سازش میں دھول چاٹنے والوں کی طرح بہنوں کو تقسیم کر کے قوم میں تقسیم پیدا کرنے کی سازش بھی ناکام ہوگی۔
لمبڑ ون کا آخری نشانہ عورتیں
کچھ وہ ہیں جو سمجھتے ہیں میر جعفر نے غداری کی تو اسے بہترین زندگی ملی
کچھ کہتے ہیں اس راہ پہ چل کر عزت ملتی ہے نہ سکون
اور کچھ وہ ہیں جو مذکورہ بالا کچھ کو بیغیرت اور کچھ کو شکست خوردہ کہتے ہیں
اور کچھ ایسے بھی ہیں جو قرآن سے کہتے ہیں میرے باپ کے گناہ کا جواب مجھ سے نہیں بنتا۔
کامیابی کسی فرض کے پورے ہونے کا نام ہے نہ زمہ داری نبھانے اور نہ ہی کسی شخص کے معیار پہ اترنے کا نام۔
کامیابی اللّٰہ کا وہ راز ہے جو کبھی نقصان میں تو کبھی کھو جانے سے اور کبھی کبھی تو مٹ جانے سے ملتا ہے۔
#دوڑجہالت