وزیر تعلیم پنجاب کا کہنا تھا کہ اب ہم نے فی طالبعلم رقم 2500 روپے کردی ہے ،
یعنی سکول لینے والے مالکوں کو ہر بچے کا ماہانہ 2500 ملا کرے گا . اب وہ کیا خرچ کرتے ہیں اُن کی مرضی.
ویسے جب گورنمنٹ سارا خرچہ اُٹھا رہی ہے تو اساتذہ کی تعلیم اور تنخواہوں کے بارے میں کوئی ضابطہ کیوں نہیں لاگو کرتی .
کسی بھی میڈیا چینل یا صحافی کی جانب سے ججوں کی مراعات پر بات نہیں کی جا رہی، سوائے مبشر لقمان کے۔ ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد تاحیات مفت بجلی، مفت پٹرول اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جس پر سوال اٹھتا ہے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ دوسری جانب ایک عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو چکا ہے۔
نہم جماعت کمپیوٹر سائنس: مسائل اور حقیقت
📌 کتاب کے مسائل
کل 12 ابواب، 261 صفحات، مواد گوگل کاپی پیسٹ اور بے ربط۔
اگر صرف پہلا باب "سسٹمز کا تعارف" دیکھیں تو یہ 26 صفحات پر مشتمل، غیرضروری تفصیلات، طلبہ کی سطح سے بالا تر۔
50 نمبروں کے پیپر میں 12 ابواب: ایک باب = صرف 3 نمبر کا حصہ → غیر متوازن بوجھ۔
📌 وسائل کی کمی
پنجاب کے زیادہ تر سکولز میں N-Computing لیبز نان فنکشنل۔
کمپیوٹر لیب اٹینڈنٹ ہی نہیں۔
کمپیوٹر ٹیچرز کو غیر تدریسی کاموں (داخلہ رجسٹریشن، فارم فلنگ وغیرہ) میں مصروف رکھا جاتا ہے۔
دیہات کے بچوں کے پاس ڈیوائسز اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی نہیں۔
📌 اصل حقیقت
کتاب یونیورسٹی لیول کے موضوعات پر مبنی ہے (AI, IoT, Big Data وغیرہ) جبکہ طلبہ ابھی بنیادی Skills بھی نہیں جانتے۔
نصاب اور وسائل میں کوئی ہم آہنگی نہیں، نتیجہ → بوجھ، رٹّا، اور ناکامی۔
📌 گزارش
نصاب کو سادہ، مختصر اور طلبہ کی سطح کے مطابق بنایا جائے۔
اساتذہ کو نصاب سازی میں شامل کیا جائے۔
لیبز کو Functional اور لیب اٹینڈنٹ فراہم کیے جائیں تاکہ عملی سیکھنے کا عمل ممکن ہو۔
حالیہ میٹرک کے امتحانات میں ملک بھر سے بہترین پوزیشنز گورنمنٹ سکولوں کے طلبہ نے حاصل کی ہیں، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پرائیویٹ سکول صرف لوٹنے کا کام کرتے ہیں، گورنمنٹ کو چاہیے کہ گورنمنٹ سکولوں پر توجہ دیں ان کی بحالی کا پروگرام بنایئں۔ آج سے 30 ، 40 سال پہلے گورنمنٹ سکولوں کا تعلیمی معیار بے مثال ہوتا تھا پھر یہ پرائیویٹ سکول مافیا آ گیا۔ جس نے عوام پر تعلیمی اخراجات میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ تمام وزرائے تعلیم کو ٹارگٹ دیا جائے کہ دو سال کے اندر گورنمنٹ سکولوں کو بحال کرنا ھے ۔ اگر تمام حکومتی اراکین اور بیوروکریسی کے بچے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کریں تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔
2018 سے آج تک۔۔۔۔
پنجاب کے ملازمین کے لیے دور ابتلاء و آزمائش۔۔۔۔
بھرتی پہ مکمل پابندی۔۔۔
لیو انکیشمنٹ ختم۔۔۔
پینشن پہ ڈاکہ۔۔۔
وفاق اور باقی صوبوں کے مقابلے میں 80 فی صد کٹ۔۔۔
17 اے کا خاتمہ۔۔۔
تنخواہوں میں تفریق۔۔۔۔
سکولوں و ہسپتالوں کی نجکاری۔۔۔
ظلم کے ضابطے کب تک۔۔۔؟
یہ ایک سکول جسکو کو ابھی آوٹ سورس کیا گیا تھا ٹھیکیدار جس نے مال غنیمت سمجھ کر سب سے پہلے درختوں کو کاٹ کر بیچ دیا....
اے پیا جے توڈا ویژن....
#سرکاری_سکولوں_کی_نجکاری_نامنظور
@YasirFarid77@naziagoraya@UstadSays@ayyaz_hussain میں تو کہتا ہوں شاپر میں تعلیم ہر گھر تک پہنچائی جائے، دو دو کلو کے شاپر تعلیم سے بھرے ہوئے ہر بچے کا حق ہے، اِس طرح کوئی بچہ بھی نا خواندہ نہیں رہے گا🤗🫣🏃♂️
استادوں سے پچھلے سال بھر کی تنخواہ کاٹ لی وہ روتے پھر رہے دس پندرہ سال سے جاب کرتے ہیلتھ سٹاف کو نکال دیا سرکارئ ملازمین کو ڈسپیریٹئ الاونس نہی دے رہے پینشن والوں کی پیینشن کھا گے ملکی خزانہ خالئ ہے مگر وزیروں مشیروں کو چھٹیوں پر بھی پوری تنخواہ دینی ہے
پنجاب میں گڈ گورنس کی اشرافیہ کے کھابوں کی حکومت
ایسا کچھ نہیں،کچھ عرصہ پہلے گیلپ سروے میں 70 فیصد عوام کی رائے تھی کے سرکاری سکولز کے اساتذہ کم تنخواہوں کے باوجود زیادہ لگن سے پڑھاتے۔ یہ حکومتیں ہی ہیں جو اپنی زمہ داری بھی ادا نہیں کرتیں اور سہولیات اور ٹیچرز کی کمی سے معیار تعلیم کی تنزلی کا زمہ دار بھی اساتذہ کو ٹھہراتی ہیں
پنجاب کے سرکاری ملازمین کا جائز مطالبہ ہے کہ وفاق کی طرح 30% ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دیا جائے!
وفاق بھی آپکا
پنجاب بھی آپکا
پھر تنخواہوں میں فرق کیوں
#EqualPayForPunjab