"ہم نے معرکہ حق جیت لیا، عوام سے آپ ہارگئے ہیں، عوام کو بھی جیتیں ناں۔ آپ کے گھر میں فاقے ہیں، باہر جاکر آپ کیا کریں گے؟"، "شہباز شریف مینارپاکستان بیٹھ کر پنکھا جھلتے تھے وہ پنکھا کہاں گیا؟ آپ کی عوام کے پاس بجلی نہیں ہے، آپ تھری پیس سوٹ پہن کرپھررہے ہیں"،"افتتاح ہورہے ہیں، فیتے کٹ رہے ہیں، زمین پر ہوتا کچھ نظر نہیں آرہا، یہ کاغذی ترقی ہے، ایسی ترقی نہیں چاہئے، آپ غریب کا چالان کررہے ہیں، جس کی تنخواہ ہی 15000 روپے ہے ، وہ 2000 کیسے دے گا؟ "-وارث بیگ
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
قید تنہائی : دنیا کے بدترین ٹارچر اور اذیت میں سب سے بڑی سزا "قید تنہائی" ہوتی ہے جو انہتائی خطرناک دہشت گردوں کو بھی نہیں دی جاتی مگر میرے پاکستان میں سابق وزیراعظم ایک سیاسی قیدی کو اپنی ضد اور انا کی تسکین کے لیئے یہ سزا دی گئی : نواز شریف کیساتھ موازنہ ضرور کیجیئے مگر پہل انہیں کہیں کہ قید تنہائی میں صرف مہینہ گزار کر آئیئے
اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ٹریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اعتماد معالجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ اور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے اس دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔
عمران خان کا نظام گرایا تھا کہ یہ نہیں چل رہا بلکہ ہمارے والا چلے گا وہ آج کہ رہے ہیں کہ ہمارے والا تو بلکل نہیں چلا - 33 سال نظام نہیں چل رہا کہ کر حکومت کرنے والے اب سیاسی مداخلت کرنے کی بجائے اس دفعہ واپس جا کر اپنا کام کریں. نظام کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ اسٹیبلشمنٹ ہے.