عمران خان اکیلے کے ساتھ انہوں نے دھوکا نہیں کیا، انہوں نے 1971 میں دھوکا کیا، انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ بھی دھوکا کیا۔ موجودہ جرنیلوں کی جو الاٹ ہے، اس میں احساسیت، انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ یہ اپنے ہی لوگوں کے جذبات کے ساتھ ایسے کھیلتے ہیں جیسے دشمن ملک میں کرتے ہیں۔ شہباز گل
@SHABAZGIL #pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
عاصم منیر نے جو جال بچھایا تھا، اسی تارِ عنکبوت میں وہ خود، ن لیگ اور پیپلز پارٹی بری طرح پھس چکے ہیں۔ یہ جماعتیں اپنی حیثیت جانتی ہیں۔ صوبے بن گئے تو ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں رہے گا۔
عاصم منیر تم کس کس سے لڑو گے؟ پٹھانوں سے لڑو گے؟ بلوچوں سے لڑو گے؟ کشمیریوں سے لڑو گے؟ سندھیوں سے لڑو گے؟ پنجابیوں سے لڑو گے؟ لڑ لو! نہیں ہرا سکتے!
عظمیٰ خانم، نورین خانم اور علیمہ خانم، آپ کا بھائی عمران خان، عاصم منیر کے اس دامِ فریب میں نہیں آیا۔ آپ مبارک باد کی مستحق ہیں۔
اس میں اس کی اپنی جرأت تو تھی ہی، کچھ ہم فقیروں کی دعائیں بھی شامل ہیں۔
تاریخ اپنا موڑ مڑ چکی ہے۔
'ہمت مرداں مدد خدا'
عمران خان شفاف الیکشن چاہتا ہے جس میں موجودہ رجیم کی سیاسی موت ہے۔ جبکہ ملک میں سیاسی استحکام کے بغیر ہر شے جام ہے۔ عاصم منیر نے زرداریوں اور شریفوں کو الگ گارنٹیاں دے رکھی ہیں۔ یہ واقعی پھنس گئے ہیں۔
پمز میں جن ڈاکٹرز نے عمران خان کا چیک اپ کیا، ان کو پتہ تک نہیں تھا کہ وہ کون سی دوائیاں لیتے ہیں۔ انہوں نے فائل تک نہیں پڑھی ہوئی تھی، ڈاکٹرز عمران خان سے پوچھ رہے تھے کہ آپ کون سی دوائیاں استعمال کرتے ہیں، تو عمران خان نے کہا، مجھے پتہ ہوتا کہ آپ مجھ سے پوچھیں گے تو میں لکھ کر لے آتا۔ حامد میر
#pakistan @HamidMirPAK
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
“عمران خان نے کبھی تاخیری حربے استعمال نہیں کیے کبھی طبی بنیادوں پر کوئی اپیل نہیں کی،
وہ ہمیشہ ہمیں کہتے تھے کہ میرا اسٹیمنا بہت ہے آپ اپنا اسٹیمنا دیکھیں، ان مقدموں کو فیس کرنا انسانی اور قانونی طور پر ناممکن تھا مگر انہوں نے ورلڈ رکارڈ قائم کیا، لوگوں پر 3 مقدمے بن جائیں تو وہ ملک چھوڑ جاتے ہیں” سلمان صفدر
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
@MoonisElahi اس پورے سسٹم میں محسن نقوی جتنا گٹھیا بد کردار بندا اور کوئی نہیں یہ وہ غلیز گندہ انڈہ ہے جو کونسلر بھی نہیں بن سکتا اس کے ہاتھ سے مائک چھڑوا کر اس کو ملک کا وزیر داخلہ بنا دیا