حیران ہوں، گورنر راج کا تم نے سوچا بھی کیسے تھا؟ یہی حل نکالا تھا تم نے؟ ہمیشہ بحران پیدا کر کے تم نے اپنا اقتدار بچانے کی کوشش کی ہے، اور ہمیشہ ہی ناکام ہوئے ہو۔ یہ آپ کی کند ذہنی کی عکاسی کرتی ہے۔ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں، نہیں ہے تمہاری حیثیت گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی۔
عاصم منیر، ایک راستہ ہے: تم براہِ راست مارشل لا لگا لو۔ آرٹیکل 6 اسی مہینے لگے گا۔ نہ آپ کے پلے، نہ آپ کی آگے کی ہوئی اس فارم 47 کی پیداوار حکومت کے پلے کچھ ہے۔
میری جنگ کسی فردِ واحد کی نہیں، جمہوریت کی ہے، اور ازل سے ہے۔ قوم نے جس کو ووٹ دیا ہے، جس کو وہ دیکھنا چاہتی ہے، جس کا تم نے مینڈیٹ چھینا ہے، عاصم منیر، پھر کہہ رہا ہوں: پاکستان کے مسائل کا حل اڈیالہ میں بیٹھے اسی قیدی کے پاس ہے۔
سہیل آفریدی اور اس کے ساتھ جو کھڑا رہے گا، وہی سُرخرو ہوگا!
جو پاکستان قائدِاعظم نے بنایا تھا، وہ اسٹیبلشمنٹ نے کہیں گم کر دیا۔ 80 سال میں پہلی مرتبہ ایک شخص نے تمہیں ایکسپوز کیا اور عوام کو awareness دی۔ میں اس کے ساتھ یہ جنگ اس لیے لڑ رہا ہوں کہ وہ پاکستان، جہاں قائدِاعظم نے پالیسی میکر عوام کے منتخب نمائندوں کو بنایا تھا اور تمہاری حیثیت servant of the people کی رکھی تھی، وہ پھر کہیں گم نہ ہو جائے۔ اس لیے میری باتوں کو personally نہ لیں اور ان پر غور کریں!
امید ہے اب سمجھ آگئی ہوگی کہ میں عمران خان کے ساتھ کیوں ہوں!
اچھا ہے عقل آ گئی ، جیسے بھی آئی۔ کے پی، کے عوام کو، سہیل آفریدی کو، صدر زرداری کو اور ہر اس کو انسان کو سلام پہنچے جس نے صرف کے پی حکومت نہیں، بہت کچھ بچا لیا۔
یہ بھی بتایا کہ امید باقی ہے، اور باقی قوم کو راستہ دکھایا۔
اس قیدی کو بھی سلام جس نے سودا نہ کر کے باقی قوم کو حقیقی آزادی کا رستہ دکھایا۔
خدا پاکستان کو حماقتوں سے بچائے اور محفوظ رکھے ، آمین۔
اور ہاں، لعنت ہے ہر جمہوریت فروش پر، ان پر جو نظریہ بیچ کر کھا گئے اور آج زندہ لاش ہیں، ان پر جو سکرین پر نفرت کی آگ لگا کر اپنی روٹیاں پکانے کے لالچ میں بھونکتے رہے۔
رسوائی ان کا مقدر ہے اور جلد ہی لوگ ان کو راستوں پر دیکھ کر جوتے ماریں گے، ان کے منہ پر تھوکیں گے۔
عمران خان نے 24'سال پہلے پاکستان کو لاحق ناسور کو ایسے سمجھایا تھا جیسے ایک ماہر امراض کینسر بتاتا ہے ۔ اور کیوں نہ بتاتا ، وہ تو ہے ہی کینسر کے خلاف جنگ کا ماہر
"میں عالیہ حمزہ کیلئے پریشان تھی تو مجھے کہا گیا کہ 2037 تک بھول جاو، استثنی لیکر، آئین میں دو تین شقیں ڈال کر اور قانون بدل کر خدائی دعوی کیسے کر سکتے ہیں؟ سیاستدان اقتدار کیلئے جوتوں میں منہ کے بل لیٹے ہوئے ہیں، عالیہ حمزہ کے شوہر کینسر سروائیور ہیں، عالیہ کی چھوٹی بیٹی کی آنکھوں میں خوف اور آنسو جم چکے ہیں، انکے گھر میں مستقل ماتم کی فضا ہے، عالیہ کی سالگرہ پر بیٹی جیل میں کیک لے گئی جو نہیں لے جانے دیا گیا، ماں جیل کی تنگ جالی سے صرف انگلی نکال کر بیٹی کو چھو رہی تھی، عالیہ حمزہ کی گاڑی، فرنیچر، الماریاں، ٹی وی اور بچیوں کا لیپ ٹاپ تک توڑا گیا، دروازے پر گھنٹی بجے تو بچے گھبرا جاتے ہیں"
سابق ایم این اے @Saira_Banokhan@DRTPakistan
عمران خان کے دور میں طارق ملک کو نادرا کا چئیرمین بنایا گیا لیکن وہ حکومت ختم ہونے کے بعد 2023 میں طارق ملک کو مجبور کیا گیا کہ وہ استعفیٰ دیں. جرم یہ تھا کہ وہ جعلی ووٹ ختم کر رہے تھے. طارق ملک کا نام پہلے دنیا کے 25 نمایاں ڈیجیٹل گورنمنٹ اور شناختی ماہرین میں شامل کیا گیا اور اب ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (DPI) کے 50 عالمی رہنماؤں میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ جن لوگوں کی صلاحیتوں کو دنیا مانتی ہے، انہیں ہماری حکومت نکال باہر کرتی ہے!! افسوس!!
@ReplyTariq
یہ سب باتیں اچھی ہیں مگر تھوڑی ہمت کر کے ایک ملاقات کروا دیں تو مذاکرات بھی با معنی ہونگے باقی ہر پارٹی میں چند لوگ ایسی اچھی اچھی باتیں کرنے والے رکھے جاتے ہیں۔
نواز شریف جیل میں ہوں اور ایک سال سے زائد عرصے تک انکی ملاقات اہل خانہ، وکلا یا سیاسی قائدین سے نہ کرائی جائے تو سعد رفیق نواز شریف سے ملاقات یا مشاورت بغیر کس منہ سے کس سے کیا مزاکرات کرینگے؟
رند کے رند رہے
ہاتھ سے جنت نہ گئی
عمر چیمہ کے بارے میں اکثر صحافی کہتے ہیں کہ یہ اتنا گھٹیا اور غلیظ نکلا ہے جسکا سوچا بھی نہیں تھا۔ اس نے 2014 میں سٹوری بتائی تھی کہ کسی سیاستدان نے کوئی نوجوان لڑکی حاملہ کردی ہے اس خبر کا کیا بنا؟؟ اس نے خبر کی تھی کہ سہیل آفریدی کے ڈارک ویب پر راء سے رابطے ہیں۔ اس قدر غلیظ اور مکروہ کردار ہے اسکی شکل بھی مکروہ ہوگئی ہے!اسد طور۔
🚨عمران خان کا جیل میں غیر متززل ایمان صبر اور اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین کی حقیقت مفتی صاحب کی زبانی پوری سن کر اپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا
ماشاءﷲ جب اپکی ایمان کی پختگی اس حد تک چلی جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ♥️💯
عمران خان کے اہل خانہ کا بیان
۲۷ ستمبر ۲۰۲۶
* نورین نیازی اور ان کی عمران خان سے ملاقات سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
* اس ملاقات سے منسوب بیان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ گردش کرنے والی تمام باتیں من گھڑت ہیں۔
* نورین نیازی نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق آخری بار ۲۵ اگست ۲۰۲۶ کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے اس ملاقات کی کوئی تفصیلا ت کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیں۔
* یہ بات بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ اس طرح کی من گھڑت کہانی ایک ایسے وقت میں پھیلائی جا رہی ہے جب وہ خود غیر قانونی طور پر حراست میں ہیں اور ان کے پاس ان دعوؤں کا جواب دینے یا وضاحت کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔
ہم ان جھوٹی خبروں کی سخت تر دید کرتے ہیں!
منجانب
عمران خان کا خاندان
"ستائیس ستمبر والا لانگ مارچ اب چار اکتوبر کو ہے آپ لوگوں نے نکلنا ہے چار اکتوبر کو پاکستان کی تقدیر اور تاریخ دونوں بدلے گی ان شاء اللہ۔
یہ جو مسخرے،جوکر اور ٹی وی چینلز پر ٹاؤٹ لگے ہوئے ہیں گورنر راج گورنر راج میں لعنت بھیجتا ہوں اس کرسی پر جو مجھے میرے مقصد سے پیچھے ہٹائے
ایک لوٹا جو تحریک انصاف چھوڑ گیا تو اس وقت عمران خان نے کہا تھا کہ " وہ شخص چھوٹا ہوتا ہے جو کرسی اور عہدے کے پیچھے بھاگتا ہے ، اپنا کردار اتنا عظیم کرو کہ وہ کرسی تقاضا کرے کہ مجھے یہ شخص چاہیے " ہمیں نہ عہدہ چاہئے نہ کرسی چاہئے ہمیں بس ملک میں آئین،قانون و انصاف ،جمہوریت اور حقیقی آزادی چاہیے،"۔ وزیراعلی سہیل آفریدی