ریٹویٹ کریں اور یہ ٹرینڈ #یرغمال_خان_کو_رہا_کرو شروع کریں !!
دو تہائی اکثریت سے منتخب عوامی رہنما، جسکی مقبولیت 90٪ ہے، کو جیل میں یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔
•قید تنہائی
•فیملی سےملاقات بند
•ذاتی معالجین سےعلاج بند
•وکلا سےملاقات بند
خان کی رہائی کا واحد حل عوامی مزاحمت !
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
ڈی جی @OfficialDGISPR کی آج کی پریس کانفرنس پر میرا جواب
سب سے پہلے تو میں آج احمد شریف کی تعریف کرنا چاہوں گی کہ آج بلآخر تم کھل کر سامنے آگئے ہو اور تم نے آج ثابت کردیا ہے کہ تم فوج کے ترجمان نہیں، بلکہ عاصم منیر کے ذاتی نوکر ہو
آج تم نے کہا کہ "ایک شخص کا بیانیہ سیکیورٹی رسک ہے"
آو تمہیں بتاؤں کہ سیکیورٹی رسک کس چیز کو کہتے ہیں
نواز شریف نے ممبئی حملوں میں پاکستان کو ملوث قرار دیا تھا اور نواز شریف کے اس بیان کو ہندوستان نے عالمی عدالتِ انصاف میں بطور ثبوت لے جاکر پاکستان کی بدترین تذلیل کروائی، تمہارے چیف عاصم منیر نے اُسی نواز شریف سے لندن میں ڈیل کرلی اور حکومت نواز شریف کی جماعت کو سونپ دی، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
خواجہ آصف نے اسمبلی میں کھڑا ہوکر کہا تھا کہ پاکستان فوج نے آج تک کوئی جنگ نہیں جیتی، آج جس نون لیگ کو عاصم منیر نے تخت نشین کیا ہوا ہے خواجہ آصف اُسی حکومت کا وزیرِ دفاع ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
کارگل محاذ سے متعلق نواز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان فوج نے میری پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے، آج اُسی نواز شریف کی نون لیگ تمہاری گود میں بیٹھ کر حکومت کررہی ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
آصف زرداری نے کہا تھا کہ میں پاکستان فوج کی اینٹ سے اینٹ بجا دونگا، آج اُسی فوج نے زرداری کو صدرِ پاکستان کے منصب پر بٹھایا ہوا ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
مریم نواز نے اپنے جلسے میں "یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے" کے نعرے سرعام لگوائے تھے، آج وہی مریم نواز پاکستان فوج کی حمایت سے پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ لگی ہوئی ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
یہ تو ہوگئی سیکیورٹی رسک پر چند مثالیں
آج تم نے یہ بھی کہا کہ "گھبراہٹ اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ (عمران خان) سمجھتا ہے میں نہیں تو کچھ نہیں"
گھبراہٹ کس کی کتنی بڑھ چکی ہے یہ ساری دنیا نے دیکھ لیا جب ایک نوٹیفکیشن کی خاطر تمہارا چیف عاصم منیر در بدر مارا مارا پھر رہا تھا، اور گھبراہٹ کا اندازہ یہاں سے لگاؤ کہ تم عمران خان سے ملاقاتیں اس لئے نہیں کرواتے تاکہ وہ کسی تحریک کا اعلان نہ کردے
تم نے آج یہ بھی کہا کہ "ہم کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا لیکر نہیں چلتے اور فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے"
یہ بات تو بذاتِ خود سب سے بڑا مذاق ہے، تم نے آج جو باتیں بولی ہیں سب کی سب سیاسی ہیں اور تم جب پریس کانفرنس کرتے ہو تو یوں لگتا ہے جیسے عطاء تارڑ یا مریم اورنگزیب پریس کانفرنس کررہے ہوں
تم نے آج کہا کہ "آپ کچھ لوگوں کو بیوقوف بنا سکتے ہیں سب کو نہیں"
اگر صرف چند لوگ بیوقوف ہیں تو تمہیں عام انتخابات میں فارم 47 کی ضرورت کیوں پڑی تھی، کیا 24 کروڑ بیوقوف ہیں اور صرف سات لاکھ تنخواہ دار ذہنی مریض
عقلِ کُل ہیں؟
تم نے کہا کہ "اپنی ذات کا ایک قیدی ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے"
عمران خان اپنی ذات کا قیدی نہیں ہے، عمران خان کو ایک ذہنی مریض عاصم منیر نے اپنی انا کی خاطر ناحق قید میں ڈال رکھا ہے
تم نے آج کہا کہ "اب کسی کو کوئی بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی"
تم کون ہوتے ہو کسی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کے بیانیے کو روکنے والے؟ آئینِ پاکستان نے تمہیں عوام کا نوکر بنایا ہے، مالک بن کر سیاستدانوں کے بیانیے روکنے والے تم ہو کون؟
آج جس بدمعاشی سے تم نے پریس کانفرنس کی ہے یہ واضح کرتا ہے کہ عاصم منیر خود کو ایکسٹینشن اور استثنیٰ ملنے کے بعد خُدا کی زمین پر خُدا سمجھ بیٹھا ہے
تم اور تمہارے عاصم منیر جیسے کئی فرعون آئے، کئی وقت کے یزید آئے، آج کوئی اُنکا نام لینے والا نہیں ہے، تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا، تاریخ تمہیں کوڑے دان میں پھینک چکی ہے، تمہارا ذہنی مریض عاصم منیر جلد ماضی بن جائے گا جس کی قبر پر بھی لوگ تھوکیں گے
"تم جب بھی بولو گے جھوٹ ہی بولو گے، جب بھی منہ کھولو گے تو غلاظت ہی بَکو گے"
Digital ownership was always the promise.
With Sui, it finally delivers.
Clunky becomes programmable. Friction becomes flow.
Sui's object-based model powers digital ownership for the modern internet.
▶️ Watch the explainer.
آسٹریلین میڈیا SBS News کی کل رات پاکستان میں عوام کے ریاستی قتل عام پر رپورٹ جاری جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی حکومت پاکستان کا شہریوں پر شوٹ ایٹ سائٹ کے آرڈرز پر تنقیدی ٹویٹ کیا جو میڈیا نہیں دیکھا رہا وہ ہم دیکھائیں گے۔ #IslamabadMassacre
اسلام آباد کے ہسپتالوں سے پی ٹی آئی کے زخمیوں کو پولیس گرفتار کر رہی ہے کیُونکہ پولیس نے سوشل میڈیا پر لکھا گیا نمبر پورا کرنا ہے۔
نوکریاں کرتے ہوئے یزید بن چکے ہیں، ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظلم میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔
گذشتہ دس گھنٹوں سے اپنی ٹیمز اور گراؤنڈ پر موجود ساتھیوں کی خبر لینے کی کوشش کررہا ہوں۔ کئیوں سے ابھی تک رابطہ نہیں ہو پارہا نہ دیگر کو ان کی کوئی خیر خبر ہے، کون زندہ ہے، کون زخمی، کون گرفتار کوئی اتاپتا نہیں۔ جن سے رابطہ ہوا ان میں سے بیشتر شاک میں ہیں، موصول ہونے والی معلومات کے لیے کوئی ایک لفظ نہیں کہ جس میں خلاصہ ہوسکے۔
عوام کی بڑی تعداد کے ڈی چوک پہنچنے پر فوجی جوانوں کی جانب سے انہیں تسلی دی گئی کہ احتجاج آپ کا قانونی حق ہے آپ پر امن طور پر بیٹھیں یہاں وغیرہ۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان کی نیتوں کا فتور ظاہر ہوتا گیا۔ قریب کی بلڈنگز سے سنائپر پکڑے گئے تو فرنٹ پر موجود ٹیموں کو لیڈ کرنے والے افراد (جن میں آئی ایس ایف یوتھ کے نوجوانوان کے علاوہ ایم پی ایز، ایم این ایز بھی شامل تھے) سے درخواست کی گئی کہ اپنے اپنے کارکنان کو لے کر پیچھے آجائیں۔ پوری دنیا کی سامنے ہے کہ یہ سب پر امن لوگ تھے نہتے جان ہتھیلی پر رکھے آگ کا دریا پار کرکے وہاں تک آئے تھے۔
اندھیرا ہوتے ہی علاقے کی تمام لائٹس بند کردی گئیں۔ کچھ وقت بعد ڈی چوک کے قریب عمارتوں سے فائر کھول دیا گیا۔ ہمیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ وزیر اعلی اور بشری بی بی کو گرفتار کرنے کی کوشش ہوگی لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بھی اندیشہ تھا کہ انہیں وہیں نقصان پہنچایا جائیگا۔ آئی ایس ایف اور یوتھ کے جوان بی بی کی گاڑی کو حفاظتی تحویل میں لینے کے لئے پلٹے۔ گراؤنڈ پر موجود کارکن اندھیرے میں گولیوں کو ربڑ بلٹس سمجھ کر اپنی جگہ کھڑے رہے اور کئی منٹ تک گولیوں کی بوچھاڑ کے سامنے ڈٹے رہے یہاں تک کہ ایک ایک کرکے اپنے ساتھیوں کو گرتے دیکھا تو ادراک ہوا کہ جسے وہ اپنی فوج اپنی ریاست سمجھ رہے تھے وہ آدم خور درندے تھے۔ جتنے لوگ وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے انہیں آگے جاکر گھیر لیا گیا۔ اس وقت تک ان میں سے بیشتر کے کوائف نامعلوم ہیں۔ ڈی چوک پر فائرنگ کے وقت محتاط اندازے کے مطابق بھی کم از کم دس ہزار افراد موجود تھے۔ یہ لوگ کوئی لاوارث نہیں تھے ہمارے ہاتھوں پر شمولیت کرنے والے ہماری آنکھوں کے سامنے بڑے ہونے والے نوجوان تھے۔ ہمارے بے لوث کارکن تھے جو ایک اچھے مستقبل کی امید لے کر نکلے تھے۔ یزید کے پیروکارو نے جس بےدردی سے ان بے گناہوں کا خون بہایا ہے۔ اس خون کا رائیگاں جانا ہماری ہستیوں پر لعنت ہوگا۔