کیا آپ کو معلوم ہے کہ شداد کی جنت دریافت ہو گئی ہے ؟
جی ہاں ، عمان کے شہر صلالہ کے قریب یہ جنت دریافت کر لی گئی، وہ جنت کہ جس میں ٹنوں کے حساب سے سونا چاندی موجود ہے
آج کے حساب سے کھربوں ڈالرز کی دولت ہے
تو پھر سوال یہ کہ عوام یا کوئی حکومت یہ سونا چاندی نکالتی کیوں نہیں ؟؟
کیونکہ نکال ہی نہیں سکتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس جگہ یہ جنت دھنسی تھی ، اس جگہ پر گندھک کی بھاری مقدار موجود ہے ، یہ پوری جنت گندھک کے ایک بڑے ذخیرے کے اندر دھنسی ہوئی ہے ، اللہ نے انتظام ایسا کیا ہے کہ نہ کوئی اندر جا سکتا ہے نہ ہی سونا چاندی نکال سکتا ہے
لوگ جاتے ہیں ، دور سے دیکھ کر واپس آ جاتے ہیں
ایسے ہی اللہ نے زمین اور کائنات کے درمیان ماحولیاتی توازن کیلئے بہت سے نایاب معدنیات کو زمین کے اندر چھپا رکھا ہے ، اگر یہ معدنیات نکالنے کی کوشش کی جائے تو تابکاری پھیل جائے گی اور ایسی تباہی لائے گی کہ کوئی شخص اس کا سامنا نہیں کر سکے گا ، اس تباہی کے براہ راست اثرات سورج تک پہنچیں گے اور پوری دنیا کا توازن خراب ہو جائے گا
کروڑوں لوگ مر جائیں گے
خیبرپختونخوا میں نایاب معدنیات کی یہی کہانی ہے
لہذا بھول جائیں کہ یہ معدنیات نکالی جا سکیں گی
قدرت اپنے اثاثوں کی حفاظت کرنا بہتر جانتی ہے
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
یہ سندھ کا کوئی اسکول ہے، جہاں پر لڑکوں کو سکھایا جا رہا ہے کہ کس قسم کی لڑکیوں کو آپ تاڑ سکتے ہیں، ہراساں کر سکتے ہیں، اور کن لڑکیوں کی آپ نے عزت کرنی ہے۔
یہ ویڈیو دیکھیں بچیاں آ رہی ہیں، لڑکے انہیں دیکھ رہے ہیں، ہنس رہے ہیں، تاڑ رہے ہیں، ان پر کمنٹس پاس کر رہے ہیں۔ اس کے بعد آتی ہیں حجابی لڑکیاں، لڑکوں نے منہ دوسری طرف کر لیا ہے اور دیکھ بھی نہیں رہے۔
ہم کیا سکھا رہے ہیں اپنے بچوں کو ؟ جس نے حجاب نہیں کیا، اس کے ساتھ جو مرضی کرو ؟ ان پر کمنٹس پاس کرو ، انہیں تاڑو ۔ وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں پر حجابی لڑکیوں کو بھی ہراساں کیا جاتا ہے ، چھوٹی بچیوں کو بھی نہیں چھوڑا جاتا ، وہاں پر ہم کس قسم کی تعلیم دے رہے ہیں۔
یہ ویڈیو اسکول نے اپنے آفیشل ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر لگائی ہے۔
میرے بیٹے!
کبھی اتنے اونچے نہ ہونا
کہ کندھے پر سر رکھ کر اگر کوئی رونا چاہے
تو اسے سیڑھی لگانی پڑے!
اتنے متعصب نہ ہونا
کہ ایشور کو بچانے کے لیے
انسان پر ہی تمہارا ہاتھ اٹھ جائے!
نہ کبھی اتنے دیش بھگت بننا کہ کسی زخمی کو اُٹھانے کے لیے اپنا
جھنڈا زمین پر نہ رکھ سکو!
چودہ اگست گزری ہے ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی صدارتی ایوارڈ کی بندر بانٹ عروج پر رہی. یہ کوئی نئی بات نہیں ہے پچھلے پچاس سال سے یہ ایوارڈ نااہل نکمے لوگوں کو دئیے جا رہے ہیں. ستر اور اسی کی دہائی میں عوام کو بےوقوف بنانے کا جو سلسلہ شروع ہوا آج تک جاری ہے.
اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ممتاز مفتی، قدرت اللہ شہاب وغیرہ نے ڈھیروں کتابیں چھاپیں. پینسٹھ کی جنگ میں بم کیچ کرنے والے بابے ایجاد کیے، گلیوں میں پاگل پھرنے والے خفیہ ایجنٹ تراشے. کبھی کسی ریڑھی والے کو قطب ابدال بنا دیا، کبھی جنات سے مکالمے لکھنے شروع ہو گئے.
اشفاق احمد کو 1979 میں صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی اور 1980ء میں ستارۂ امتیاز دے دیا گیا،
حفیظ جالندھری کو محض قومی ترانا لکھنے پر 1981ء میں ہلالِ امتیاز دے دیا. بانو قدسیہ کو ڈرامے اور راجہ گدھ پر ایوارڈ دے دیا. ممتاز مفتی کو صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی دے دیا. قدرت اللہ شہاب کو شہاب نامہ لکھنے پر ایوارڈ دے دیا.
پرویز خٹک اور فیصل واڈا کو بھی ایوارڈ دے دیا، مہوش حیات، ریشم، وینا ملک، میرا اور ساحر لودھی کو ایوارڈ دے دیا. عامر لیاقت، وقار زکاء اور ضیاء شاہد کو ایوارڈ دے دیا. نجم سیٹھی اور رمیض راجہ بھی ایوارڈ کے حقدار قرار پائے.
اس سال تمغہ امتیاز کا مزید مذاق بنا دیا، ریوڑیوں کی طرح تمغے بانٹے گئے ہیں. مولوی طاھر اشرفی اور ریاض حسین نجفی کو تمغہ دے دیا. اسحاق ڈار کو نشان امتیاز دے دیا، وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اسٹیبلشمنٹ اور احد خان چیمہ، وزیر خزانہ بلال اظہر کیانی کو بھی نشان امتیاز دے دیا ہے. کوئی ہے جو ان کی خدمات گنوا سکے. صالح ظافر کی خدمات سے تو پوری قوم واقف ہے.
ایاز صادق کے بیٹے کو بھی میڈیکل تعلیم کے لئے تمغہ امتیاز دے دیا، ڈاکٹر محمد علی ایاز آنکھوں کا ڈاکٹر ہے پھر بھی لاہور الیکٹرک سپلائی کا ممبر بورڈ آف ڈائریکٹر لگایا ہوا ہے. ہے نا ریوڑیوں کا بٹوارا..
قمر نقیب خان
اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایٹمی ریاست کے پاس LPG ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے جبکہ 800 ارب سے زائد رقم ایک بھکاری پروگرام BISP میں برباد کرنے کی صلاحیت ضرور موجود ہے
@ShamaJunejo Nhe walay 66 fesad wo log hn jinko ni pata k in payso say ketnay gareeb logo ki choti choti kushi pori hoti hy jes k leye wo log Taras rhy hotay hn