Common man fighting Status quo, Married, MBBS, Youtuber, Wanna be Hussaini a.s.
Solution to Pak's problems lies in our own resolve۔
Istehkam Pakistan Party
کل مجھے ایک تحریک انصاف کے یوتھیوبر نے بولا کہ اگر کوئی خود کو افغانی یا کشمیری بولتا ہے یا قوم پرست بولتا ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے!
یہ رہا میرا جواب!
قوم پرستی اسلام میں حرام ہے اور پاکستان نظریہ اسلام پر بنا ہے۔ قوم پرستی کیسے کھوکھلا کرتی ہے، یہاں دیکھ لیں۔ب
اگر حکومت پاکستان نے ایلان مسک کو ہرانا ہے تو فوری طور پر سہیل آفریدی، مینا خان، شفیع جان اور شاہد خٹک کو پاکستانی سپیس پروگرام کا سربراہ بنا دیں۔
یہ چاروں اتنی لمبی لمبی چھوڑیں گے کہ ہمارے راکٹ دوسری گلیکسی تک پہنچ جائیں گے۔
امریکی غلامی نامنظور!
غزہ معاہدہ نا منظور!
کوئی شرم آتی ہے کہ نہیں؟
قوم یوتھ کے ہر بیانیہ کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں لیکن پھر بھی اتنے ڈھیٹ ہیں کہ ہر بیان پر نک دا کوکا پر ناچنا شروع ہوجاتے ہیں
ہماری امریکی صدر ٹرمپ سے گزارش ہے کہ وہ ٹیریان وائٹ جو کہ امریکی شہری ہیں کے پاپا جان جو کہ ہمارے بھی پاپا ہیں انہیں جیل سے نکلوانے میں ہماری مدد کریں قاسم سلمان گولڈ سمتھ
ناظرین امریکی غلامی سے آزادی کا رستہ ٹرمپ کی زِپ کے راہ سے ہی نکلے گا
یوتھیو تواڈی آزادی دی جنگ
وہ لوگ جو شیخ مجیب کو والد بنا کر بیٹھے تھے، انکے لیے عرض ہے کہ شیخ مجیب کا قوم پرست نظریہ دوبارہ دفن ہوچکا ہے،
آج بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں چیخیں آٹھ رہی ہیں کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے میں شریک ہونا ہے۔
اندرا گاندھی تم ہار گئی ہو۔ حملہ پھر سے دو جگہ سے ہوگا۔
تحریک انصاف برطانیہ میں پاکستان کا نام روشن کرتے ہوئے!
بعد میں یہی یوتھیا قوم معصوم ہو کر سوال کرتی ہے کہ پتہ نہیں ہمارے پاسپورٹ کو عزت کیوں نہیں مل رہی؟
آپ اندازہ کریں کہ ہری پور میں معصوم آیت نور کا سانحہ ہوا اور 14 سال سے حکومت کرنے والی تحریک انصاف کا ایک وزیر اور ایک وزیر اعلی انکے گھر نہیں پہنچا تاکہ جا کر انکو تسلی دے سکے۔
ان کو گھڑی چور کی فکر ہے لیکن خیبر پختونخواہ کے عوام کی نہیں
تحریک انصاف سانحہ پمز پر وزیر اعظم سے استعفی مانگ رہی ہے، ہزار دفعہ مانگے۔ یہ تحریک انصاف کا جمہوری حق ہے
لیکن ہری پور میں معصوم بچی آیت نور کو 3 درندوں نے زیادتی کے بعد قتل کیا، 15 دن لاش نا ملی۔ آج اسکی ماں سڑکوں پر دربدر ہے۔
اس پر سہیل آفریدی کا استعفی نہیں بنتا؟
الحمدللہ!
پاکستان میں انتہائی افغانستان کے کسی تعلیمی ادارے سے حاصل کی گئی کوئی بھی ڈگری پاکستان کے کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ ادارے میں قابلیت کے طور پے قبول نہیں کی جائے گی.
اب جو تھوک کے حساب سے قوم پرست اساتذہ افغانی لبرل پراپیگنڈا پھیلاتے تھے، یہ تماشہ بھی ختم ہوگا۔
آزاد کشمیر کا اگلا وزیر اعظم ایک نوجوان ہوگا۔
شکر ہے مسلم لیگ نواز کی قیادت بالآخر نئے اور بہتر چہرے لے کر آ رہی ہے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی نئے وزیر اعظم نامزد
اسلام آباد میں سانحہ ہوتا ہے!
14 معصوموں کی جان جاتی ہے۔
پورا پاکستان غم میں ہے
اور سہیل آفریدی یوتھیا شکر کر رہا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت نہیں ہوا جب عمران نیازی پمز میں تھا۔
پاکستان نے ایسا کیا گناہ کیا تھا جو یہ عذاب ہماری قوم پر مسلط ہوا؟
جہاں پر پمز ہسپتال سانحہ کو ہماری آنکھیں کھولنی چاہئے تھیں کہ بڑے شہروں کے ہسپتالوں پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ہے جس سے نظام تباہ ہوگیا ہے، ہمارے صحافی بھائی الٹا بیانیہ دے رہے ہیں
میری آپ سے گزارش ہے کہ ایک مرتبہ سیاست چھوڑ کر نیوٹرل دماغ سے بھی بات سنیں، ایسے واقعات بار بار ہونگے
صوبوں کا شوق رکھنے والو!
فرض کریں اسلام آباد ایک چھوٹا سا صوبہ ہے۔
یہاں کے وزیراعلیٰ مصطفیٰ کمال ہیں یہاں کے وزیر داخلہ پاکستان کی طاقتور ترین شخصیات میں سے ایک محسن نقوی ہیں اس صوبے میں دو ہسپتال پمز اور پولی کلینک ہیں اس صوبے کے ایک ہسپتال میں آگ لگتی ہے اور چودہ بچے جھلس جاتے
@theblindside_pk@JamalAbdullahPk انتہائی جہالت بھری بات ہے کیونکہ پمز میں آزاد کشمیر سے لیکر پنجاب، خیبر پختونخواہ اور وزیرستان تک کے مریض آتے ہیں۔
اگر چھوٹے انتظامی یونٹس بنتے ہیں تو ان تمام کے ڈویژن کو اپنا ہسپتال بنانے کا حصہ ملتا۔ انکو ڈیرہ اسماعیل خان میں بہتر علاج ملتا بجائے اسکے کے وہ اسلام آباد آئیں۔
پمز ہسپتال سانحہ، وہ تلخ سوال جو ہمیں کرنے چاہئے لیکن فضول بحث میں الجھا دیا گیا ہے!
ابھی تحریک انصاف کے یوٹیوبر صدیق جان صاحب کا ٹویٹ دیکھا جس میں وہ فرما رہے ہیں کہ ہیلتھ کارڈ نا ہونے کی وجہ سے یہ واقعہ ہوا، اگر وہ تحریک انصاف کی بجائے تھوڑی سی بھی صحافت کرتے تو انہیں پتہ چلتا کہ 16 جنوری سے اسلام آباد میں ہیلتھ کارڈ ایکٹو ہے، لیکن تحریک انصاف کا کام بغض برائے بغض ہے اسلئے نا انکی تنقید کی کوئی اہمیت ہے نا تعریف کی۔ یہ صرف بغض سے ہی آپریٹ کرتے ہیں۔
اصلی مدعے پر آنے سے پہلے چند چیزیں کلئیر ہونی چاہئے!
14 معصوم جان سے گئے،
کیا ہسپتال انتظامیہ کا قصور ہے؟
جی ہاں۔
کیا حکومت کی ذمہ داری ہے؟
بالکل ہے۔
اس چیز پر کوئی اختلاف نہیں لیکن ہمیں حل کی طرف بھی غور کرنا چاہئے۔ چار دن شور مچے گا، حکومت پر تنقید ہوگی، یوتھیا قوم پوائنٹ سکور کرے گی۔ بات ختم ہوجائے گی۔
میں نے زمانہ طالب علمی میں 3 سال راولپنڈی کے سب سے بڑے ہسپتالوں میں کام کیا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ راولپنڈی کے ہسپتالوں میں مریض کہاں سے آتے تھے؟
پشاور ریجن
ایبٹ آباد ریجن
وزیرستان ریجن
مری ریجن
اٹک ریجن
آزاد کشمیر ریجن
پوٹھوہار ریجن جس میں میانوالی تک شامل ہے۔
یہ راولپنڈی کے 3 بڑے ہسپتالوں کی صورتحال ہے، پمز کی صورتحال اس سے مختلف تو نہیں ہوگی۔ بظاہر دیکھنے میں یہ اسلام آباد کا ہسپتال لگتا ہے لیکن خیبر پختونخواہ سے لیکر کشمیر اور پنجاب کے مریض یہاں آتے ہیں۔ یہاں دس ارب کا سالانہ بجٹ بھی کم پڑ جاتا ہے۔
پھر سوال جنم لیتا ہے کہ مریض آتے کیوں ہیں؟ کیا ان مریضوں کے پاس اپنے علاج کی اپنے علاقے میں سہولت نہیں؟
جی ہاں، انکے پاس سہولت نہیں۔
پنجاب کے اندر مشہور محاورہ یے کہ یہ نہیں بچے گا، اسکو لاہور لے جاو۔ چاہے کوئی ساہیوال سے ہو، سیالکوٹ سے ہو، گجرات سے ہو، سب یہی کہتے ہیں۔
لاہور میں ترقی ہونی چاہئے، وہ واقعی بڑا شہر ہے لیکن بات وہی ہے کہ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ سے لاہور میں دس اعلی سرکاری ہسپتال بن جائیں گے لیکن اسی بجٹ سے مری، اٹک، میانوالی کے عوام محروم رہیں گے، انہیں مجبورا اسلام آباد آنا پڑے گا۔
سندھ کے بجٹ سے حیدر آباد اور کراچی میں اعلی ہسپتال بن جائیں گے لیکن لاڑکانہ اور سبی والے بیچارے مریض اپنے شہر چھوڑ کر وہاں علاج کروانے جائیں گے۔
حل صرف ایک ہے جو ہمیں گھور رہا ہے لیکن ہم اس سے نظریں چھپا رہے ہیں۔ وہ حل انتظامی یونٹس ہیں۔ اگر پنجاب یا سندھ یا خیبر پختونخواہ کا پیسہ اضلاع کو اپنے اپنے حصے کے مطابق ملے تو یہ تمام اضلاع اپنے ہسپتال خود بنا سکتے ہیں، پیسوں کی غیر مساوی تقسیم نہیں ہوگی۔ یہ نہیں ہوگا کہ ایک شہر میں دس ہسپتال بن جائیں اور دوسرے شہر میں ایک بھی نا ہو۔
پمز سانحہ چیخ چیخ کر بول رہا ہے کہ اگر ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں میرٹ پر تقرری ہو، وفاقی حکومت جو دفاع اور خارجہ کے معاملات دیکھتی ہے، اسکی بجائے مقامی انتظامیہ یہ معاملات دیکھے، دیگر شہروں کا بوجھ ختم ہو تو یہ نظام بہتر ہوسکتا ہے لیکن یہ بات چونکہ چسکہ اور سیاسی فائدہ نہیں دیتی اسلئے یہ بات کوئی نہیں کرے گا۔ سب سیاسی فائدہ لیں گے اور بات ختم ہوجائے گی۔
مرضی آپ کی ہے۔ اگر آپ اس بات سے متفق ہیں تو یہ تحریر اٹھائیں اور کاپی پیسٹ کریں۔
ورنہ چار دن بعد ایک اور ایسا سانحہ ہوگا اور سیاسی گدھ معصوم عوام کو ایسے نوچ کر سیاست کریں گے۔ حل کہیں نہیں ملے گا
اگر یہی پمز والا سانحہ عمران خان دور حکومت میں ہوتا، میاں نواز شریف اڈیالہ میں ہوتے تو عمران ریاض اور تحریک انصاف کے یوٹیوبرز کیا بیانیہ بناتے؟
"پمز ہسپتال میں نواز شریف کے سپورٹر نے آگ لگوائی ہے تاکہ میاں نواز شریف کو اڈیالہ سے پمز کی بجائے شفا ہسپتال شفٹ کیا جائے۔"
سرحد یونیورسٹی کی طالبہ کا آڈیو نوٹ بھی منظر عام پر آ گیا۔
پروفیسر جدون نامی افغانی قوم پرست اپنے پسندیدہ بچوں کو مہینہ مہینہ چھٹیوں کے بعد بھی نمبر لگا کر پاس کردیا کرتا تھا۔
ایسی حرکتیں کرکے یہ قوم پرست پروفیسر بچوں کو ساتھ ملاتے ہیں، پھر انکو ریاست مخالف استعمال کیا جاتا ہے
@ShakirAwan88 بھائی یہ تحقیقاتی صحافت ہے جو ہم سوشل میڈیا ایکٹیویٹس کو کرنی پڑ رہی ہے کیونکہ جو اصلی صحافی تھے وہ عمرانڈو عمرانڈو کرکے بس ویوز کمانے میں لگے ہیں۔
کل ایک صحافی شاہد قریشی کو اسی سرحد یونیورسٹی نے 4 گھنٹے یونیورسٹی حدود سے باہر ہونے پر اغوا کیا۔ اسلام آباد پریس کلب کی جانب سے مزمت ہوچکی ہے
لیکن اعزاز سید پاک فوج کے بغض میں اس صحافی کے ساتھ بھی کھڑے نہیں ہو رہے
جب سے کن کتروں سے ویوز ملنے شروع ہوئے ہیں، شاہ جی بدل گئے ہیں
کل سے کرنل صاحب کے یونیورسٹی میں باوردی داخل ہو کر گولی چلانے کو بیوی کے تحفظ کے لیے “غیرت” کا معاملہ قرار دینے کی بڑی کوششیں کی جارہی تھیں ۔ اس معاملے میں صحافی اور آزاد و غلام چینلز بھی “دفاع” کے لیے دھکیل دئیے گئے تھے مگر شاید ان سب کو معلوم نہیں تھا کہ موصوف جس کے دفاع کے لیے اپنا منہ کالا کررہے تھے وہ محترمہ تو پولیس تک کے ڈنڈے چھین کر بے قابو ہو چکی تھیں ۔ اس ویڈیو میں فوجی افسر نظر نہیں آرہا بظاہر یہ ان کے آنے سے پہلے کا معاملہ ہے ۔ یقین ہے کہ فوج ایسے معاملے پر ضرور ایکشن لے گی ۔کرنل صاحب نے اپنی نہیں فوج کی توہین کی ہے۔