ایک نوجوان نے اپنے ماہی گیر باپ سے پوچھا۔
"پاپا، کیا لوگوں کو زندگی میں اپنے مقاصد اور خوابوں کے بارے میں بتانا ٹھیک ہے؟"
ماہی گیر ایک لمحے کے لیے خاموش رہا پھر پوچھا۔
"تم یہ کیوں جاننا چاہتے ہو؟"
ماہی گیر مسکرایا پھر بولا۔
" ماہی گیر بولا.. چلو دریا پہ مچھلیاں پکڑنے چلتے ہیں۔ اور پھر، ہم یہ بات چیت جاری رکھیں گے"
ماہی گیر اور اس کا بیٹا اپنا ماہی گیری کا سامان لے کر مچھلیاں پکڑنے چلے گئے۔ دریا پر، انہوں نے ہک پر ضرورت کی چیزیں لگا کر مچھلی پکڑنے کی چھڑی کو دریا میں ڈال دیا۔
چند گھنٹوں میں انہوں نے اتنی مچھلیاں پکڑ لیں کہ انکی ٹوکری بھر گئی۔ ماہی گیر نے بیٹے کو ٹوکری کی طرف اشارہ کرکے مخاطب کیا کہ
"ٹوکری میں موجود ان تمام مچھلیوں پر ایک نظر ڈالو۔اب ان کی قسمت دریا میں رہنے والی مچھلیوں ھسے مختلف ہے۔ ان مچھلیوں نے اپنی زندگی میں سب کچھ کھو دیا ہے؛ اپنے خاندان، دوست اور گھر۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کو ایک بھیانک طریقے سے مارا جائے گا، کچھ کو پکایا جائے گی، کچھ کو گرل کیا جائے گا، کچھ کو بھاپ دیا جائے گا۔
ماہی گیر نے ایک گہرا سانس لیا اور بولا کہ یہ جلد شکار ہوگئیں کیونکہ یہ اپنا منہ بند نہیں کر سکتے تھیں۔ اگر یہ منہ بند رکھتیں تو کبھی شکار نہ ہوتیں۔
یہ کہہ کر ماہی گیر نے اپنے بیٹے کے کندھے پر تھپکی دی، مسکرایا اور پھر آگے بڑھا،
"بیٹا، حقیقی زندگی میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ ناکام ہوئے ہیں اور انہوں نے زندگی میں جو کچھ حاصل کیا ہے وہ سب کچھ کھو دیا ہے کیونکہ انہوں نے اپنا منہ بہت وسیع کیا اور دوسرے لوگوں کو اپنے خوابوں اور منصوبوں کے بارے میں بتایا۔ آنے والے منصوبوں کے بارے میں یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ آپ کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے جو آپ سے حسد کرتے ہیں آپ کو اپنے خوابوں کا اعلان کبھی نہیں کرنا چاہیے۔ لوگ اپنی طاقت میں سب کچھ کریں گے تاکہ آپ کامیاب نہ ہوں
اس لیے کچھ بھی بڑا کرنا ہے تو خاموشی سے محنت جاری رکھو۔
یہ صرف ایک میٹر کی دُوری نہیں... یہ 70 سال کا فاصلہ ہے
ایک طرف انجان رستوں کا خوف مگر آگے بڑھنے کی لگن ہے
دوسری جانب کچھ چُھوٹ جانے کی ، کھو جانے کی حسرت ہے...
یہی زندگی ہے
اگر ایک گلاس دودھ سے بھرا ہوا ہے تو آپ اس میں مزید دودھ نہیں ڈال سکتے لیکن آپ شکر یا چینی ڈال سکتے ہیں وہ اپنی جگہ بنا لے گی اور اپنے ہونے کا احساس بھی دلائے گی،اسی طرح اچھے لوگ ہر کسی کے دل میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں اور اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہتے ہیں،ںھلا کیسے بس دو چمچ ہنسی اور چٹکی بھر مسکراہٹ یہ خوراک ہے شناخت ہے خوشی کی ایسی تحریر پڑھنے کے بعد دل میں خوشی کو محسوس کیجئے اور ہستی مسکراتی زندگی بسر کیجئے
منقول
ٱلْحَمْدُلِلَّهِ
ہم دیہات کے رہنے والے ہیں ہمیں کبھی پانی کی کمی کا مسئلہ پیش نہیں آیا, ایک بٹن دبانے پر تین انچ چوڑا پائپ ساڑھے دو سو فٹ کی گہرائی سے بھر بھر کر پانی باہر نکالتا ہے۔
ہم دیہاتیوں کو کبھی خالص دودھ کی کمی کا مسئلہ پیش نہیں آیا وہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھار بھینس اور گائے کا اپنا ملاوٹ کرنے کا دل کررہا ہو۔
ہم دیہات میں رہتے ہیں ہم سال بھر کی گندم اور چاول اپنی حویلیوں میں ذخیرہ کرلیتے ہیں، ہمیں گندم کے ریٹ کے بڑھنے یا چاول کی شارٹیج جیسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
ہم تمام قدرتی اجزاء سے بھرپور آٹے کی روٹی کھاتے ہیں۔
ہم جیٹھ اور ہاڑ کی دوپہروں کو گاؤں کے ٹوبے کنارے برگد کے درخت کی چھاؤں میں چارپائیاں بچھا کر سوتے ہیں لہذا ہمیں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ نہیں ہوتا۔
ہم دیہات کے رہنے والے ہیں ہمارے باغیچوں میں تمام موسمی سبزیاں ہوتی ہیں جنہیں ہم وہیں سے توڑ کر کھانے کے لیے پکا لیتے ہیں۔
ہم گاؤں کے باسیوں کو کبھی ٹریفک کے شور اور گاڑیوں کے دھوئیں کی آلودگی جیسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
ہمارے دیہاتوں میں کبھی کسی محلے دار کی بکری کا بچہ بھی مرجائے تو سارا گاؤں افسوس کو امڈ آتا ہے، ہمارے اندر کا انسان ابھی تک زندہ ہے ۔
ہم پنڈ واسیوں کی حویلیوں میں، فارم ہاؤس پر کوئی نہ کوئی موسمی پھل کا پودا ضرور ہوتا ہے جس کے نیچے بیٹھ کر اوبامہ سے لیکر اسامہ تک سب کی زندگیوں کے احوال ڈسکس کیے جاتے ہیں۔
ہمارے بزرگ ہمیں ساتھ قبرستان لیکر جائیں تو پانچ پانچ نسلوں تک کے پُرکھوں کی قبروں کی جگہیں بغیر کسی نشان دہی کے بتادیتے ہیں.
اور ہاں سنو,
ہمارے دِلوں کی طرح ہمارے گھر , ہمارے ڈیرے اور ہماری حویلیاں بھی کشادہ اور کُھلی ہوتیں ہیں۔
ہاں ہم دیہات کے رہنے والے ہیں۔
.
.
.
.
.
.
.
.پنجاب پاکستان
گاؤں کی خوبصورتی اور گاؤں کا خوبصورت کلچر اور روایات اور ثقافت پنجابی زبان اور پنجابی لوگوں کا رہن سہن پیش خدمت ہے
👌💕🥀💯🇵🇰
#Village
#پنڈ