If you cannot free the Palestinian prisoners from Israeli prisons, then at least speak about them
Speak about them so the world can hear their cries, about years being taken from their lives behind bars, and about families waiting for their return, not knowing when they will be able to hold them in their arms again
They do not die just once
They die a thousand times every day; with every morning that rises while they remain behind bars, and with every moment they long for their mothers, their children, and their homes
Do not let the prison swallow their names, and do not let forgetfulness become another prison for them
If we cannot open the prison doors for them, then let us open the doors of the world with our words
Speak about the Palestinian prisoners. Do not let the world forget them
بالآخر ایرانی کھیل سب کے سامنے بے نقاب ہو چکا ھے۔ ناسمجھ دوست بھی یہ بات سمجھ چکے ہیں۔
آج ہر پاکستانی پوچھ رہا ہے کہ حوثی اسرائیل کو چھوڑ کر سعودی عرب پر میزائل کیوں مارتا ہے؟؟
تو اس کا جواب مسقط معاہدہ ہے۔
حوثیوں نے مسقط میں امریکہ اور اسرائیل سے ڈیل کی ہے کہ بحیرہ احمر میں
1/7
یہ ویڈیو قابض یہودیوں کے بچوں کی ہے جنکی عمر 15 اور 10 سال جو فلسطینیوں کے گھروں جائیداد میں گھس کر فلسطینی بچوں کو انکے والدین کے سامنے مار رہے ہیں
کیا وقت آ گیا ہے مسلمانوں پر بھی جہاد چھوڑا اب یہودیوں سے ماریں کھا رہے ہیں
کتنی شرم اور افسوس کی بات ہے کہ جس صوبے کے عوام نے ان کو ووٹ دیا ان کی انکو پرواہ نہیں اور جو متکبر اور چور اڈیالہ جیل میں بیٹھا ہے اسکے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ اسکو اپنے کرتوتوں کی سزا مل رہی ہے
سوال؛ وزیراعلیٰ صاحب! صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کیا کر رہے ہیں؟
سہیل آفریدی؛ ہم عمران خان کی صحت کی فکر میں لگے ہیں، اور آپ کو دہشت گردی کی پڑی ہے!
کوہاٹ میں دہشتگردی کا بڑا واقعہ:دہشتگردی کے سنگین معاملے پر مل کر بیٹھنے کے بجائے وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیوں کررہے ہیں؟ دیکھیے وزیر اطلاعات کےپی شفیع جان اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا موقف
لگتا ہے شہباز حکومت کے دن گنے جاچھکے ہے۔ پورا پاکستان اس پر آواز اٹھاو اور اس ناجائز حکومت کو مجبور کرو اپنا ناجائز فیصلہ واپس لینے پر
#QadianNawaziNaManzoor
جس کا دل کرتا ہے دین کو اپنے ذاتی مقصد کے لیے جنتا چاہتا ہے استعمال کرتا ہے اب تو باقاعدہ کاروبار بنا لیا گیا ہے
یہ دونوں اینکر اور مہمان کہہ رہے ہیں کے
اسلام آباد اور بہاولپور میں حلالہ سینٹر بنے ہوئے ہیں
ہماری ایک یوٹیوبر صحافی بہن نے ایک حلالہ سینٹر پر لائیو کال کی اور ریکارڈنگ کی ادھر سے جواب آیا
ریٹ دو لاکھ روپیہ ہے ادھر سے نکاح کریں رات ٹھہریں اگلے دن بیوی واپس لے جائیں
مسئلہ ہی کوئی نہیں سیف سکیور ہے ہمارا تو بزنس ہے یہ
اب سوال یہ ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حلالہ کے نام پر سینٹر کھول کر کمائی کر رہے ہیں تو کس کی گردن پکڑیں اور کس سے سوال کریں؟
کدھر ہیں ہمارے وہ ٹھیکیدار جو اس ملک کو سیاسی اور اسلامی بنیادوں پر سنبھال کر بیٹھے ہیں؟