کیا سچ میں ہمارے میزائلوں کے نام افغانیوں کے نام پر ہیں؟
غوری (شہباب الدین غوری نسلاً مشرقی ایران کے تاجک تھے)
اس میزائل کا نام انڈین پرتھوی میزائل کے جواب میں رکھا گیا تھا کیونکہ پرتھوی کو شہبا الدین غوری نے شکست دی تھی۔
غزنوی (محمود غزنوی نسلاً ترک تھا)
ابدالی (احمد شاہ ابدالی کو البتہ ضرور افغانی کہیں۔ وہ درانی پشتون تھے اور پنجاب سے افغانستان گئے تھے)
ڈاکٹر قدیر خان نے افغان فاتحین کو اپنا سمجھ کر انکو عزت دینے کی کوشش کی تھی جس پر افغانیوں نے بجائے خوش ہونے کے طعنے مارنے شروع کر دئیے۔ جس کے بعد پاکستان نے میزائیلوں کے دوسرے نام رکھنے شروع کر دئیے۔
بابر (ظہیرالدین بابر تیموری نسل سے تھے)
ٹیپو (انڈین کرناٹک سے تھا)
حتف (رسول اللہ (ص) کی تلوار کا نام)
العضب (رسول اللہ کی دوسری تلوار کا نام )
عنزہ (رسول اللہ کی نیزے کا نام )
ان کے دیگر میزائلوں کے نام
رعد
نصر
ابابیل
شاھین
ان میں کونسا افغانی ہے؟
#afghani
#Pakistan
یہ پنجابیوں کو کیا میسج دیا جا رہا ہے۔ کوئی بھی بلوچ / پشتون لیڈر پنجابی شہیدوں پر نہیں بولا۔ سارے چپ ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں بھی چلاتیں ، فوج کے خلاف بھی بولتے ، حکومتی اتحاد کا حصہ بھی۔ یہ پنجابیوں کے 70 سے بیوقوف بنا کر پنجاب کے وسائل کھا رئے۔
جاگ پنجابی جاگ
اندازہ کریں
بنوں میں پورا فارم ہاؤس ٹی ٹی پی والوں کو دیا ھوا تھا بلڈنگ فارم ہاؤس کی تھی لیکن اندر خوارج رہتے تھے پاک فضائیہ نے وہ فارم ہاؤس اُڑا دیا ھے 20 سے زیادہ خوارج جہنم واصل ھو گئے ہیں
پاکستان میں اور خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بنا مقامی سہولت کاری کے دہشت گردوں کا کاروائیاں کرنا ممکن نہیں ہوتا
میں نے گزشتہ ایک دہائی سے KP حکومت کے کسی ترجمان کو یہ کہتے نہیں سنا انکے وزیراعلی یا حکومت نے پختونخواہ کے لوگوں کے لیے تعلیم،صحت،ٹرانسپورٹ،سیاحت،انفراسٹرکچر یا کان کنی کے شعبوں میں آج یہ منصوبہ شروع کیا ہے اس سے اتنے لوگ مستفید ہونگے۔جب بھی دیکھا روتے اور الزامات لگاتے دیکھا۔
آج پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا افتتاح
لیہہ
چنیوٹ
سیالکوٹ
اوکاڑہ
مری
یہ عوام کیلئے بہترین پبلک ٹرانسپورٹ سہولت یے
جو حکومت پنجاب صوبے بھر میں مہیا کر رہی یے
سولین آمر بھٹو کو بھی اپنی مقبولیت دیکھ کر لگتا تھا وہ ریاست سے بڑا ہو گیا ہے پھر اس کا علاج کر دیا گیا
کراچی کے غنڈے الطاف حسین کو بھی لگتا تھا وہ ریاست سے بڑا ہو گیا ہے پھر اس کا بھی علاج کر دیا گیا
خادم حسین رضوی اور اسکے بیٹے کو بھی لگتا تھا وہ ریاست سے بڑا ہو گۓ ہیں اور ریاست ہم پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی پھر انکا بھی علاج کر دیا گیا
عمران احمد نیازی کو بھی لگتا تھا وہ ریاست سے بڑا ہو چکا ہے اور ریاست اس کو ہاتھ نہیں لگا سکتی اور آجکل وہ بھی زیرِ علاج ہے
فتنہ الخوارج TTPeeکو بھی لگا انہوں نے ریاست کو یرغمال بنا لیا ہے اور آجکل وہ بھی آئ سی یو میں زیرِ علاج ہیں
ملک ریاض کو بھی لگتا تھا وہ ریاست سے بہت بڑا ہو چکا ہے پھر اسکا بھی علاج کر دیا گیا
زرداری نے بھی سوچا وہ بھی ریاست سے بڑا بنے گا اور اینٹ سے اینٹ بجانے والا بیان دے دیا لیکن جلد سمجھ گیا کہ میرا ”ایک ہی بیٹا ہے“ پھر زرداری صاحب سنبھل گۓ
مولانا فضل الرحمن کو چاہیے خود کو ریاست سے بڑا سمجھنا چھوڑ دیں کیوں کہ" چوہدری ریاست " بہت ڈاڈا ہے اور اسکی مثال ہاتھی کے سر جیسی ہے جو کچھ بھولتا نہیں بس مناسب وقت پر مناسب علاج کرتا ہے
سننے میں آیا ہے کہ فضل الرحمان صاحب اداروں کو بلیک میلنگ کا شکار کر کے اپنے بیٹے کی کرپشن کا این آر او چاہتے ہیں
تاکہ انکے بیٹے اور انکی کرپشن پر پردہ پڑا رہے ۔
مولانا فضل الرحمن، پی ٹی آئی، اے این پی، افغانی، اجیت ڈیول، عمران خان، اچکزئی وغیرہ میں سے کسی ایک پر تنقید دراصل پختونوں پر تنقید ہوتی ہے اور آپ نسل پرست پنجابی ہوتے ہیں جو ملک توڑنا چاہتے ہیں۔
ایہہ جے اصل پمبل پوسا
جس طرح عین جنگ کے دوران پپل پارٹی نے بھارت کی گود میں بیٹھ کر مانک شاہ ڈاکٹرائن کے عین مطابق پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اپنے مطالبات منوا لئے تھے، کچھ دیگر احباب سیاست کا خیال ہے کہ وہ افغانوں کی لال ہونے سے پہلے اپنے مطالبات منوا لیں۔
حق اے
حق اے
تمھارے لیے، تمھارے بیٹے کی شہادت کی دلی دعا ہے، حافظ حماداللہ۔ جب اسے دفنا کر آؤ تو بتانا۔ میں جواباً تمھیں بتاؤں گا: خیر ہے یار مولوی۔ تمھارا فوجی بیٹا بھی تو تنخواہ لیتا تھا۔
پاکستان میں 99 فیصد دھشتگردی میں بلوچ اور پشتون ملوث ہیں۔ یہ دونوں اقوام اپنے ہم قبائلیوں کو ہر قسم کی لاجسٹک، رہائشی، سفری، مالی اور اسلحی امداد فراہم کرتی ہیں۔ خود کش پر جانے والوں کو جنسی خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ اپنا پرانا کہنا ہے کہ ان دونوں اقوام کے ارکان کی دھشتگردی کے حوالے سے بات کھل کر ہونی چاہیے۔ پنجابی طالبان بھی کبھی حقیقت تھے۔ ان کو پنجابی معاشرے نے قبولیت نہ بخشی۔ بلوچ اور پشتون گھروں میں آج بھی کہیں دھشتگردوں کی خدمت کی جا رہی ہوگی، عین اس وقت۔ تم لوگ قبائلی وحشت کے نمائندے ہو۔ تمھارا تہذیب، تمدن، اور امن کی بنیاد پر کھڑی ترقی سے کچھ لینا دینا نہیں۔
پاکستانی عوام کو ساری برائیاں پنجاب میں ہی کیوں نظر آتی ہیں؟؟؟ جبکہ دوسرے صوبے کبھی اس پر اپنی حکومتوں کے خلاف بات بھی نہیں کرتے۔ بجلی پٹرول گیس وفاق کا محکمہ ہے اور اس پر بھی پنجاب حکومت ان سے گالیاں کھاتی ہے جس نے پوری پنجاب میں سرکاری ٹرانسپورٹ مفت کر دی ہے،
++
سولر پینل قومی گرڈ کیلئے خطرہ بنتے جارہے ہیں ۔ ان سے قومی گرڈ کو نئے تکنیکی اور انتظامی مسائل کا سامنا ہے ۔ وزیر توانائی اویس لغاری
دبئی میں تقریبا ایک ہزار میگا واٹ بجلی سولر سے بن رہی جو نیشنل گریڈ سے منسلک ہے۔
پاکستان میں ضلع لیہ کی تحصیل چوبارہ میں بہت بڑ سولر پارک ہے جو نیشنل گریڈ سے منسلک ہے۔
اب میں بتاتا ہوں وزیر صاحب کی اصل تکلیف!!
واپڈ اور پالیسی میکرز کی نالائقیوں کی وجہ سے تنگ آجر جب عوام نے اپنا تمام لوڈ سولر پر شفٹ کر لیا جو کہ ہاکستان کی ٹوٹل ڈیمانڈ کا تقریبا پچیس فیصد ہے تو واپڈ کی کمائی کم ہو گئی اب ٹکریں مار رہے کہ سولر گریڈ کیلئے تکنیکی مسائل ہے۔
یہ جو دفتروں اور اسمبلیوں میں اشرافیہ بیٹھی ہے ان کو صرف غریب کا چار،پانچ کلو واٹ کا سولر ہضم نہیں ہو رہا۔