یہ بندہ گزشتہ 29 سال سے اٹلی میں مسجد کا امام تھا شہریت بھی تھی
لیکن جب اس نے نمازیوں کو کہا کہ اسلام کو نہ ماننے والوں سے جنگ فرض ہے
اٹلی کو وزیر اعظم گرجیا میلانی نے اگلے روز امام ذولفقار کو بیوی بچوں سمیت پاکستان ڈپورٹ کردیا
یہ کیسا ملک اور انصاف ہے کہ ایک شخص کو غائب کرنے کے بعد ریاستی ادارے عدالت میں پیش کرتے ہیں، عدالت کہتی ہے الزام جھوٹے ہیں، اسے رہا کرو… مگر عدالت کے حکم کے باوجود ریاستی ادارے اُسے دوبارہ اٹھا لیتے ہیں۔ اور اردو میڈیا جج بن کر اپنی عدالت لگا کر اُسے دہشتگرد قرار دے دیتا ہے۔
Every passing day of Jangiyan Baloch disappearance deepens the suffering of his family. Enforced disappearances must end, and he must be released immediately.
#ReleaseJangiyanBaloch#ReleaseAllBalochMissingPersons
کل جب پنجگور سے ایک ماں اور بیٹی کی جبری گمشدگی، جنسی تشدد، اور پھر بیٹی کی موت کی خبر سامنے آئی، تو میں نے اسی متعلق سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا۔ آج اپنے اسی پوسٹ پر میں نے کمینٹس پڑھے ، کچھ لوگوں نے کہا “یہ جھوٹ ہے، یہ پروپیگنڈا ہے، یہ ریاست دشمن بیانیہ ہے۔” کچھ لوگ سچائی کے ثبوت مانگ رہے تھے، کچھ لوگ گروک سے تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سچ جاننا چاہتے ہے تو ان سوالات سے میرے بھی ذہن میں ایک سوال ابھرا کہ سچ کیا ہے؟ اور سچ کس کا ہے؟
میشل فوکو کہتا ہے کہ سچ ہمیشہ طاقت سے بندھا ہوتا ہے۔ وہ محض کسی واقعے کی حقیقت نہیں، بلکہ ایک طاقتی ڈھانچے کی پیداوار ہے۔ یعنی جس کے پاس طاقت ہے، وہی یہ طے کرتا ہے کہ “سچ” کیا ہے، اور “جھوٹ” کیا ہے۔ اسی لیے ایک بلوچ عورت کی زندگی، اسکے ساتھ ہونے والے درندگی سب “جھوٹ” قرار پاتی ہے، اور ریاست جس کے پاس طاقت ہے اس کی کسی بھی نمائندے کی تردید “سچ” بن جاتی ہے۔
بلوچ چونکہ مظلوم ہے اور مظلوم کا سچ ظالم کے لیے کبھی سچ نہیں ہوتا، کیونکہ سچ صرف طاقت کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کو سمجھا جاتا ہے۔ وہ زبان جو ریاستی اداروں، میڈیا، اور نظامِ علم نے تشکیل دی ہے۔ فوکو کے مطابق یہ “regime of truth” ہے ، ایک ایسا نظام جو صرف طاقت کے دائرے میں موجود سچائی کو پہچانتا ہے، اور باقی سب کو خاموش کر دیتا ہے۔
ایڈورڈ سعید کے مطابق، طاقت صرف ہتھیار یا فوج نہیں، بلکہ علم اور بیانیہ بھی ہے۔ جس طرح مغرب نے مشرق کو “Orient” کے نام سے تعریف کر کے اسے ہمیشہ ایک غیر، کمزور، اور غیر متمدن وجود کے طور پر پیش کیا، اسی طرح پاکستانی ریاست نے بلوچ عوام کو شک، غداری اور بغاوت کے استعارے میں قید کر رکھا ہے۔
یہ وہی “استعماری بیانیہ” ہے جو مظلوم کے دکھ کو افسانہ بنا دیتا ہے، تاکہ طاقت کی برتری پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے۔
پنجگور کی اس لڑکی کی کہانی ، جو ریاستی جبر اور سماجی خاموشی کے درمیان کہیں دفن ہو گئی ، صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک علمی، اخلاقی، اور فکری جنگ ہے۔
یہ اس سچ کی جنگ ہے جسے طاقت “جھوٹ” قرار دیتی ہے،یہ اس حقیقت کی جنگ ہے جو انتہائی قرب ناک و وہشت ناک ہوکر جھوٹ کے لقب میں دفن ہوجاتی ہے
بلوچستان وہ سرزمین ہے جہاں انٹرنیٹ بند ہے، بلوچ اپنی میڈیا سے محروم ہے، یہاں سچ بولنے والا یا تو غائب کر دیا جاتا ہے یا مار دیا جاتا ہے۔ یہاں “خبر” صرف وہی بن سکتی ہے جو طاقت کو راس آئے۔جو ریاستی بیانیے کو مقصود ہو، باقی سب جھوٹ ہے، چیخیں، آہیں، انتظار، آنسو، وہشت، سب جھوٹ ہے کیونکہ یہ طاقت کے زبان سے بیان نہیں ہورہے۔
بلوچستان کا سچ فوکوالٹین سچ ہے ، وہ سچ جو طاقت کے مقابل بولتا ہے، جو نظمِ علم کے خلاف مزاحمت کرتا ہے، جو غیاب میں موجود رہ کر بھی صداقت کی سب سے بلند صورت بن جاتا ہے۔اور یہ سعید کے استعماری تجزیے سے جڑا ہوا سچ ہے ، جو یہ یاد دلاتا ہے کہ ہر مظلوم قوم کی کہانی دنیا کے مرکز سے نہیں، بلکہ اس کے کناروں سے لکھی جاتی ہے۔
دنیا کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ بلوچ لڑکی کا دکھ کوئی محض “خبر” نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کے ساتھ روا رکھی جانے والی علمی، اخلاقی اور انسانی ناانصافی کی علامت ہے۔ طاقت کے اس شور میں مظلوم کی خاموشی ہی سب سے بڑا احتجاج ہے۔ اور آج اگر مظلوم کا سچ خاموشی کی تہوں میں دب گیا ہے، تو کل وہ احتجاج کی صورت میں ابھرے گا ۔ وہ احتجاج ایک مزاحمت بن کر جو کسی بھی صورت، کسی بھی آواز، اور کسی بھی شکل میں اپنا اظہار کرے گی۔ اس دن مظلوم کا سچ ایک گونج بن جائے گا ۔ ایسا شور جو فراموش نہیں کیا جا سکے گا
Enforced disappearance refers to the detention, abduction, or other form of deprivation of liberty by state officials, followed by a refusal to acknowledge the act or provide information about the person's whereabouts.
#ReleaseSaeedBaloch#EndEnforcedDisapperances
Baloch Voice for Justice strongly condemns the recent enforced disappearances of four young Baloch Students, including three from Mand and one from Panjgur. On October 23, 2025, FC and MI personnel abducted Hamood Baloch (16), Haroon Baloch (19), and Fahad Baloch (22) from Baloch Abad, Mand. Earlier, on October 17, 2025, Asim Nawaz (18), a student from Katagari, Panjgur, was forcibly disappeared from Bonastan, Panjgur.
These abductions reflect a deeply troubling continuation of state-backed repression and collective punishment against the Baloch population. The targeting of minors and students underscores the systematic nature of these crimes.
We call on international human rights organizations and the United Nations to take urgent notice of these cases and pressure Pakistan to end its policy of enforced disappearances. Every disappeared person must be released, and those responsible must be held accountable.
#EndEnforcedDisappearances
Ghani Aman, A Progressive Student Politics and Human Rights Activist from Sindh has been abducted. Peaceful Student Activist are not criminals... They are the voice of people. We demand the safe recovery of Ghani Aman.
#ReleaseGhaniAman
#ReleaseGhaniAman
The illegal and unjust abduction of Ghani Aman Chandio shows how insecure and terrified this government is of those who stand for and speak up for Rights of the People.
Nowhere is anyone safe here.
Speak up against Repression before you become its Victims.
.
سترہ اکتوبر کو پنجگور سے طالب علم جبری طور پر لاپتہ
بلوچستان کے شہر پنجگور سے سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے عاصم ولد نواز نامی طالب علم کو جبری طور پر لاپتہ کردیا تھا جو ابھی تک بازیاب نہیں هوا ہے۔
#SaveBalochStudents#EndEnforcedDisappearances
Ghani Baloch was not a criminal, but an M.Phil scholar. His only “crime” was belonging to Balochistan.
Stop punishing families with enforced disappearances.
#ReleaseGhaniBaloch
The state wants to silence the voice of peace and the message of Latif, but young voices like Ghani Aman keep that light alive. His abduction is state terrorism, yet the consciousness of Sindh will never bow down.
#ReleaseGhaniAman#ReleaseGhaniBaloch#releaseghaniamanchandio
آج دس دن ہو چکے ہیں مگر وھاب اور نزیر کا کوئی پتہ نہیں چل سکے ۔ہم پاکستانی اداروں اور ریاستِ پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ان بچوں کو واپس لایا جائے اور اُن سب بےگناہ نوجوانوں کو بھی ۔ جنہیں آپ نے اپنے ٹارچر سیلوں میں بند کیا ہوا ہے۔
#ReleasewahabBaloch#ReleaseNazeerbaloch
وہ مظلوم قوموں پر ہونے والی ریاستی جبر اور بربریت پر بات کرتا تھا، ان بہن بھائیوں کا آنسو پونچھتا تھا جو اپنے جبری گمشدگی کے شکار بچوں کی تصویریں اٹھائے پریس کلبوں کے سامنے احتجاج کرتے نظر اتے تھے.
آج ان بے آوازوں کی آواز کو لاپتہ کر دیا گیا ہے.
#ReleaseGhaniAman@atifthepoet