۱۹۴۸ سے لے کر آج دن تک پاکستان کے دفاع کے لیے بنا وردی بنا کسی تمغے کی تمنا کے سربکف رہے ہیں ہم۔
کشمیر آزاد کرانا تھا تو اپنی منشاء سے آپ سے آگے چلے ہم۔
افغانستان کو غاصب روسیوں سے نجات دلانی تھی تو آپ کا تھمایا اسلام کا علم سینے سے لگایا ہم نے۔
امریکہ کی خوشنودی آپ کو مطلوب تھی، سلامیاں ہماری ماؤں کو ملیں۔ ہم نے قبول کیں۔ ایک بھرم تھا جانے کم فہمی تھی یا خوش فہمی۔ جو اس حقیقت سے آنکھیں موڑے بیٹھے رہے ہم کہ تم مرو تو شہید۔ ہم مریں تو کولیٹرل ڈیمج۔
ہمارے لیے بے گھری۔ تمہاری لیے پلاٹ۔
تم ملک بیچ کھاؤ تو بھی سینے پہ تمغے سجاؤ۔
ہم سر بھی واریں اور اپنے گلے میں لٹکیں بغاوت کی دفعیں بھی گنیں۔
ہم بے موت مرنے سے انکار کریں تو دہشت گرد ہیں۔
امن کا سوال کریں تو غدار ہیں۔
تو پھر وفادار کون ہے؟ تم؟
یا تمہارے قدم بوس یہ زباں دراز؟
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ اس سے پہلے گیدڑوں کو ہر طرح سے غیر قانونی طور پر فیسلیٹیٹ کیا گیا، لیکن ایک لیڈر سے خوف اتنا ہے کہ اسے اور اس کے اہل خانہ اور ورکرز کو جائز قانونی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔
پاکستان پر جن لوگوں کا زبردستی قبضہ قائم رکھوایا ہوا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارا پاکستان ٹوٹ جائے۔ جن کو ہندوستان سے خطرہ نہیں، لیکن پاکستانی عوام سے خطرہ ہے- جنہوں نے ڈان لیکس کروائے، جنہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کیا، جنہوں نے ۵۳۰۰ ارب کی IMF سے تصدیق شدہ کرپشن کی، جنہوں نے فوج کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہماری ہڈیاں تک کھا لی ہیں، جنہوں نے پاکستان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی، جن کا جعلی وزیرِ اعظم کسی شہید کے جنازے میں نہیں گیا، جن کا بھگوڑا قائد اور اس کی بیٹی انڈیا سے جنگ کے دوران خاموش رہے، جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے، اور جنہوں نے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے، وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔
دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے کسی “بیانیے کی جنگ” نہیں ہے، اس سے ہر شہری متاثر ہے- عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپنے ہی لوگوں پر ملٹری آپریشنز کرنا اور انہیں بےگھر کرنا کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ ڈرون اٹیکس اور نام نہاد “کولیٹرل ڈیمج” سے دہشت گردی بڑھتی ہے۔ میں اس بات پر چٹان کی طرح قائم ہوں۔ آج خیبر پختونخوا میں یہ صرف PTI کا موقف نہیں رہا، بلکہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کا یہی موقف ہے، جس کے دستخط صوبائی اسمبلی کے جرگے میں بطور ثبوت موجود ہیں۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبرپختونخوا Terrorism نہیں Tourism کے لیے جانے جاتے تھے- رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا۔ جب 2022 کی گرمیوں میں ہم نے آواز اُٹھائی تو آپ نے ہی ہمیں جھوٹا کہا، لیکن آج اُسی دہشت گردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
جب میں کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں ۱۰۰ دن کے اندر امن آ سکتا ہے اور آپ نے صرف پالیسی میں تبدیلی لانی ہے، کیونکہ آپ کی موجودہ پالیسی کامیاب نہیں ہے، تو اُس بات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تو دہشت گردی کی سہولت کاری کون کر رہا ہے؟ ہمارے وزیروں اور کارکنوں کو اپنے “گُڈ” لاڈلوں کے ساتھ مل کر کون اُٹھا رہا ہے؟ ہمارا خریدا ہوا اسلحہ کون ہماری پولیس تک نہیں پہنچنے دے رہا؟ ہماری پولیس بغاوت کرنے پر کیوں مجبور ہو گئی ہے؟
بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں، پھر وہاں بھی امن کیوں نہیں آ رہا؟ دہشت گردی میں پاکستان پہلی بار پہلے نمبر پر کیوں آ گیا ہے؟ کیونکہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط تھے، آج بھی غلط ہیں، اور جب تک اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے، تب تک غلط ہی رہیں گے۔
باقی، ہم ۹ مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ جس نے CCTV فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے ۹ مئی کروایا۔
4 اکتوبر، گنڈی چوک، دن ایک بجے۔ سب پاکستانی یاد رکھیں !!
@RoymukhtarRoy خدا کی قسم کل میں نے اپنے بچے کی اردو کی کتاب دیکھی اس میں ان حرام زادوں کی تصویریں نظر آئی آرمی کی یونیفارم دماغ خراب ھوگیا اتنی نفرت ھو گئی ھے
By the end of his rule, Ayub Khan's staff hid his plummeting popularity from his daily briefings, leaving him completely isolated until his own children told him about the hostile street chants. It's a classic echo chamber much like Asim, who is similarly surrounded by yes-men, except Munir's popularity has been zero since day one.
This is a video the 10-year-old son of PTI Member of the National Assembly Zubair Khan Wazir made from the bathroom, where he was locked in as his father was being abducted by intelligence agencies. The women of the family inside the home were also violently dragged.
Pakistan has had dictators rule in the past, but none have targeted children and families this way. #AsimLaw
کیپٹن صفدر کے ساتھ لاکھ اختلاف سہی، لیکن وہ کافی حد تک بہادر اور کھرا انسان ہے۔ بہت سے معاملات میں وہ اصول پرست بھی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ ڈرتا کسی سے نہیں۔ اس نے تو ایک معمولی بات پر وقت کے وزیراعظم کی بیٹی کو اس کے گھر کے گیراج میں ٹھوک دیا تھا، میاں داؤد جیسے ٹٹوؤں کی کیا اوقات ہے!!!
ایبٹ آباد میں دن دہاڑے آئی ایس ایف ہزارہ ریجن کے صدر رمیز سواتی کو تین ڈالوں میں سوار نقاب پوش نامعلوم افراد کا اغوا کرنا فسطائیت، جنگل کے قانون اور ریاستی دہشت گردی کا ایک اور شرمناک باب ہے۔
گزشتہ چار سالوں سے اغوا، اغوا کاری، خوفناک تشدد، جھوٹے پرچوں، کاروبار کی بندشوں اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے کے تمام جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کر کے دیکھ لیے گئے، لیکن فارم 47 کی یہ بزدل اور مسلط کردہ کٹھ پتلی حکومت اپنے ناپاک مقاصد میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ نہ عوام کے دلوں سے عمران خان کی محبت کم کی جا سکی اور نہ ہی تحریک انصاف کا نظریہ ختم کیا جا سکا۔
قانون کی دھجیاں اڑانے والو اور طاقت کے زعم میں اندھے حکمرانو! کان کھول کر سن لو، لاقانونیت کا یہ ننگا ناچ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ تم چاہے جتنی بھی فرعونیت دکھا لو، لیکن عوام کے دلوں سے عمران خان، اس کی قیادت اور حقیقی آزادی کا جذبہ کبھی نہیں نکال سکو گے۔ اس جبر اور فسطائیت کے راج کا زوال بالکل طے ہے۔
#نکلو_ڈٹ_جاؤ_خان_کیطرح #ہمارا_مارچ_ہماری_مرضی
♦️ خبری ♦️
ایوب خان کے
دور حکومت میں جب
تبلیغی جماعتوں کے بڑے بڑے اجتماعات ہونے لگے تو
جنرل صاحب کو تشویش ہوئی کہ کہیں
یہ میری حکومت کے خلاف
سازش تو نہیں کرتے ؟
لہذا انھوں نے اپنے ایک مشیر کو
ان اجتماعات کی مخبری کیلئے
بھیجا-
وہ مشیر کچھ دن اجتماع میں رہا
اور جب واپس آیا تو
جنرل صاحب سے کہنے لگا,,,,,
" جناب ! آپ کی حکومت کو
ان سے کوئی خطرہ نہیں ؛
کیونکہ وہ موجودہ نظام اور زندہ
انسانوں کی تو بات ہی نہیں کرتے-
یا تو وہ بہت آگے کی بات
کرتے ہیں (جنت و دوزخ کی) یا
پھر بہت پیچھے کی ( فرعون و نمرود کی)
لہذا آپ سکون سے حکمرانی کریں
🤣🤣🤣😜😜😎
اس وقت مُحسن نقوی بھی
وہی “خبری” بنا ہوا ، عاصم منیر اور موجودہ حکومت کو مِس گائیڈ کرتا رہتا ہے 😝😎💯
جیل میں ایک حکایت پڑھی
ایک پردیسی سخت سرد موسم میں کسی شہر میں داخل ہوا تو کتے حملہ آور ہو گئے اس نے پتھر اٹھا کر مارنا چاہا تو پتھر زمین میں یوں دھنسے تھے کہ پتھر نہیں اکھاڑ پایا اس بے بسی میں اس نے پکارا
"این چه حرامزاده شهریست که سگها را گشادهاند و سنگها را بسته!"
(یہ کیسا عجیب شہر ہے جہاں کتوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے اور پتھروں کو باندھ دیا گیا ہے
حوالہ: گلستانِ سعدی
مصنف:سعدی شیرازی
باب: "در سیرتِ پادشاہاں"