اگر راہ چلتی عورت کو تم اسلیئے جلدی کراس کرلیتے ہو کہ اسکو یہ نا لگے کہ تم اسکا پیچھا کررہے ہو
اگر بس پہ بیٹھی عورت کے پیچھے والی سیٹ کی بجائے تم کھڑے ہونا پسند کرتے ہو کہ اسکو یہ نا لگے تم اسکو ٹچ کرکے اسکو ہراساں کرنے کی کوشش کروگے
اگر تمہاری وجہ سے کوئی عورت Uncomfortable محسوس نہیں کررہی ہے تو سنو تم اس دھرتی کے بہترین مرد ہو۔۔۔❤️
کینیڈا امریکہ میں گھروں کی چھتوں پر پانی کی ٹینکیاں کیوں نہیں ہوتیں؟
#قومی_زبان
کینیڈا آنے کے چند دن بعد ایک پاکستانی نے اپنے دوست سے بڑی حیرت سے پوچھا:
"یار، ایک بات سمجھ نہیں آئی۔ یہاں کسی گھر کی چھت پر پانی کی ٹینکی نظر نہیں آتی، نہ موٹر چلتی دکھائی دیتی ہے۔ پھر پانی آتا کہاں سے ہے؟"
دوست مسکرایا اور بولا:
"یہی تو اصل فرق ہے۔ یہاں ہر گھر اپنا پانی نہیں سنبھالتا، بلکہ شہر یہ ذمہ داری اٹھاتا ہے۔"
پاکستان میں اکثر گھروں کی اپنی ٹینکی، موٹر اور پانی ذخیرہ کرنے کا الگ انتظام ہوتا ہے۔ لیکن کینیڈا میں یہ کام شہری حکومت کرتی ہے۔ پانی جھیلوں، دریاؤں یا زیرِ زمین ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے، جدید واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس میں اسے انتہائی سخت معیار کے مطابق صاف کیا جاتا ہے، پھر طاقتور پمپوں کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر طویل زیرِ زمین پائپ لائنوں کے جال سے ہر گھر، اسکول، اسپتال، دفتر اور پارک تک پہنچایا جاتا ہے۔
وہ حیران ہو کر بولا:
"یعنی مجھے موٹر چلانے کی بھی ضرورت نہیں؟"
دوست ہنس کر بولا:
"نہ موٹر، نہ ٹینکی، نہ پانی ختم ہونے کی فکر۔ بس نل کھولو... پانی حاضر!"
لیکن اس کے ذہن میں ایک اور سوال آیا۔
"اچھا، جب سردیوں میں درجہ حرارت منفی 30 یا 40 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے تو پانی جم کیوں نہیں جاتا؟"
دوست نے جواب دیا:
"کیونکہ پانی کی لائنیں زمین کے کافی نیچے بچھائی جاتی ہیں، فراسٹ لائن سے بھی نیچے، جہاں مٹی مکمل طور پر نہیں جمتی۔ گھروں کے اندر پائپ بھی گرم حصوں سے گزارے جاتے ہیں، اس لیے عام حالات میں پانی مسلسل بہتا رہتا ہے۔"
وہ ابھی بھی متاثر تھا۔
"اتنا بڑا نظام آخر سنبھالتا کون ہے؟"
دوست نے کہا:
"شہر کی میونسپل حکومت۔"
مثال کے طور پر صرف ٹورانٹو واٹر تقریباً 36 لاکھ افراد اور کاروباروں کو پانی فراہم کرتا ہے۔ ہر سال تقریباً 435 ارب لیٹر صاف پانی سپلائی کیا جاتا ہے، جبکہ تقریباً 400 ارب لیٹر استعمال شدہ پانی کو دوبارہ صاف کرکے ماحول میں واپس چھوڑا جاتا ہے۔
یہ کوئی معمولی منصوبہ نہیں۔ صرف ٹورانٹو نے اپنے پانی، سیوریج اور اسٹورم واٹر کے نظام کی بہتری کے لیے آئندہ برسوں میں 15 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ اس پورے انفراسٹرکچر کی مالیت 90 ارب ڈالر سے بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
پھر اس نے پوچھا:
"کیا پورے کینیڈا میں یہی نظام ہے؟"
دوست نے جواب دیا:
"اصول تقریباً ایک ہی ہے، صرف پانی کا ذریعہ بدل جاتا ہے۔"
ٹورانٹو اپنا زیادہ تر پانی لیک اونٹاریو سے لیتا ہے۔
وینکوور پہاڑوں کے قدرتی ذخائر سے پانی حاصل کرتا ہے۔
کیلگری میں باؤ اور ایلبو ریور بنیادی ذریعہ ہیں۔
جبکہ مونٹریال زیادہ تر سینٹ لارنس ریور پر انحصار کرتا ہے۔
یعنی شہر بدل جاتا ہے، لیکن نظام وہی رہتا ہے: صاف پانی، جدید ٹریٹمنٹ پلانٹس، زیرِ زمین پائپ لائنیں اور چوبیس گھنٹے مسلسل سپلائی۔
لیکن اس کہانی کا سب سے دلچسپ حصہ ابھی باقی تھا۔
پاکستان میں ہم اکثر نلکے کا پانی پینے سے گھبراتے ہیں، فلٹر، کولر یا بوتل والا پانی استعمال کرتے ہیں۔ مگر کینیڈا میں صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔
یہاں گھروں، اسکولوں، کالجوں، دفاتر، اسپتالوں، پارکوں اور عوامی مقامات کے نلکوں سے آنے والا یہی پانی براہِ راست پینے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ روزانہ یہی پانی پیتے ہیں، اپنی دوبارہ استعمال ہونے والی بوتل ساتھ رکھتے ہیں اور جہاں نل نظر آئے، وہیں بھر لیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹورانٹو میں پانی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ہر سال ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار لیبارٹری ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ پانی کو پلانٹ سے نکلنے کے بعد بھی مختلف مقامات پر مسلسل چیک کیا جاتا ہے تاکہ ہر نل تک محفوظ پانی پہنچے۔
اسی لیے بوتل والا پانی یہاں ضرورت نہیں بلکہ زیادہ تر سہولت، سفر یا ذاتی پسند کی چیز ہے۔ روزمرہ زندگی میں لوگوں کی اکثریت نلکے کا پانی ہی استعمال کرتی ہے۔
یہ سب دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ملک صرف اونچی عمارتوں، خوبصورت سڑکوں یا بڑی گاڑیوں سے نہیں بنتا۔
اصل ترقی وہ نظام ہوتے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو سوچنا ہی نہ پڑے۔
جب پانی وقت پر آئے، صاف ہو، محفوظ ہو، ہر موسم میں دستیاب ہو، اور ہر شہری کو برابر ملے، تو لوگ اپنی توانائی زندگی، تعلیم، کاروبار اور ترقی پر صرف کرتے ہیں، پانی جمع کرنے پر نہیں۔
ہم صرف نل کھولتے ہیں... مگر اس ایک گلاس پانی کے پیچھے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، ہزاروں کلومیٹر پائپ لائنیں، جدید ٹیکنالوجی، مسلسل نگرانی اور ہزاروں انجینئرز، سائنس دانوں اور ماہرین کی محنت کام کر رہی ہوتی ہے۔
کبھی کبھی ترقی کا راز اونچی عمارتوں میں نہیں، بلکہ زمین کے نیچے چھپے ہوئے ان مضبوط نظاموں میں ہوتا ہے، جنہیں ہم دیکھ بھی نہیں پاتے
اک دن خواجہ شاہد حسین، سیکرٹری وزارتِ سیاحت و ثقافت اسلام آباد کا فون آیا
کہنے لگے یار عکسی رانی جنداں کی حویلی کی چھت ٹپک رہی ہے پانی سم کر رنجیت سنگھ کے دربار کی اہم ترین پینٹنگ کو خراب کر رہا ہے
یہ بہت ہی قیمتی اثاثہ ہے
اس کی قیمت کئی لاکھ پونڈ ہے
ستیاناس ہو جائے گا
یار تم وہاں ہو فورا پینٹنگ بچانے کاانتظآم کرو
میں نے اسی وقت ڈائریکٹر نارتھ کو فون کرکے درخواست کی مجھے اک سیڑھی فراہم کی جائے تاکہ میں حویلی کی چھت پر جا سکوں
ڈائریکٹر صاحب نے سب سن کر کہا جی ہاں ضرور،
لیکن آپ یہ درخواست فائل پر لکھ کر بھیجیں
میں نے تعمیل کی
ہفتہ گزر گیا ،جواب نہ آیا
پوچھا تو کہنے لگے: آپ کو سیڑھی نہیں ملی ابھی تک؟
ہفتہ اور گزر گیا
دریافت کیا تو فرمانے لگے سیڑھیاں تو میرے پاس نہیں ہوتیں
وہ تو ٹھیکیدار کا کام ہے
فائل اپنے نائب کو بھیج دی ہے
عکسی صاحب آپ پریشان نہ ہوں
آٹھ دن اور بیت گئے
سیڑھی کا کوئی نام و نشان نہ تھا
اب تو یہ پتہ لگانا بھی محآل تھا کہ وہ فائل ہے کہاں
اک دن مغرب کے وقت واک کرتے ہوئے احاطے کے ایسے کونے میں داخل ہوا جہاں پہنچ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی
وہاں کئی قسم کی سیڑھیاں تھیں
میں نے اپنے انجینیئر کے ساتھ اک سیڑھی اٹھائی
مائی جنداں کی حویلی کی چھت پر پہنچ گیا
چھت پر جس جگہ سے پانی نیچے ٹپکتا تھا
ہم نے اسی وقت درزوں کو 10/15منٹ میں بھردیا
نیچے اترے
سیڑھی واپس وہیں رکھ دی گئی
اگلے روز اسلام آباد سے خواجہ شاہد کا پھر فون آیا
یار عکسی آپ کو مائی جنداں کی حویلی کے کام کا کہا تھا اس کا کیا بنا ؟
میں نے کہا سر اس کی مرمت تو ہو چکی
ہم نے پوری تحقیق کرلی ہے اب چھت بالکل نہیں ٹپکتی
خواجہ شاہد نے حیرت سے پوچھا: کیا کہا اب چھت نہیں ٹپکتی کب ہوئی کس نے کی ؟
میں نے کہا میں نے خود کی یہ معمولی سا کام تھا
پوچھا کتنے پیسے خرچ ہوئے؟
میں نے بتایا کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوا
شاہد کہنے لگے: حیرت ہے میرے سامنے چھت ٹپکنے کی فائل پڑی ہے
محکمہ آثار قدیمہ نے اس کام کے لیے 25 لاکھ روپے مانگے ہیں
عکسی مفتی/کاغذ کا گھوڑا
اردو کلاسیک
صبح بخیر
کیا آپ بھی گردن کے درد اور دائمی کمر درد سے پریشان ہیں؟
دوائیں کھا کھا کر تھک گئے ہیں؟
ایک سادہ سی تبدیلی آپ کی زندگی بدل سکتی ہے۔
طبِ ماہرین کے مطابق:
تکیے کے بغیر سیدھا بستر پر سوئیں
جب آپ تکیے کے بغیر لیٹتے ہیں تو آپ کی ریڑھ کی ہڈی قدرتی حالت میں آجاتی ہے۔ اس سے گردن اور کمر پر پڑنے والا غیر ضروری دباؤ ختم ہوجاتا ہے۔ نتیجہ؟
بغیر کسی دوا کے گردن اور کمر کا درد ٹھیک ہونے لگتا ہے۔
آج رات سے ہی آزما کر دیکھیں۔
چند دنوں میں فرق خود محسوس کریں گے۔
❤️ اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کو بھی یہ مسئلہ ہے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں۔
صحت مند رہیں، قدرتی طریقوں سے صحت حاصل کریں۔
صبح بخیر
تندرست رہیں، خوش رہیں ✨
ایک جرمن آدمی بار میں داخل ہوا اور ایک بیئر کا آرڈر دیا۔
بار ٹینڈر نے کہا: "20 یورو!"
جرمن حیران رہ گیا: "20 یورو؟ کل تو یہی بیئر صرف 3 یورو کی تھی!"
بار ٹینڈر بولا: "جی ہاں، لیکن آج اس کی قیمت 20 یورو ہے۔"
جرمن نے غصے سے پوچھا: "آخر کیوں؟"
بار ٹینڈر نے وضاحت کی:
3 یورو بیئر کی قیمت ہے۔
3 یورو یوکرین کی مدد کے لیے۔
4 یورو ان یورپی ممالک کی امداد کے لیے جنہوں نے روس پر پابندیاں لگائی ہیں لیکن یورپی یونین کے رکن نہیں۔
4 یورو برطانیہ کی مدد کے لیے تاکہ وہ روس کے خلاف پابندیوں کو کامیابی سے نافذ کر سکے۔
3 یورو بلقان کے ممالک کو کوئلہ خریدنے کے لیے امداد کے طور پر۔
اور آخری 3 یورو یورپی یونین میں گیس سبسڈی اور روس پر پابندیاں برقرار رکھنے کے فنڈ کے لیے۔
جرمن نے خاموشی سے 20 یورو نکالے اور بار ٹینڈر کو دے دیے۔
بار ٹینڈر نے رقم کیش رجسٹر میں ڈالی اور 3 یورو واپس کر دیے۔
جرمن نے حیرت سے پوچھا: "ایک منٹ! تم نے 20 یورو مانگے تھے، میں نے 20 دیے ہیں، پھر یہ 3 یورو واپس کیوں؟"
بار ٹینڈر مسکرایا اور بولا:
"کیونکہ... ہمارے پاس بیئر ہی نہیں ہے!"
😂
پاکستان میں یوٹیلٹی بلوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے؛ بل تو پورا آ جاتا ہے، مگر سہولت اکثر غائب ہوتی ہے!
آپ نے کبھی قرآن مجید کی آخری دو سورتوں پر غور فرمایا ہے
سورہ فلق میں چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے۔
اور وہ چاروں بڑی خطرناک، خوفناک اور ہلاکت خیز چیزیں ہیں۔
جبکہ سورۃ الناس میں صرف ایک چیز سے پناہ مانگی گئی ہے۔
مگر وہ ایک چیز اپنی تباہی اور ہلاکت میں سورہ فلق والی چار چیزوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
اب غور کریں سورہ فلق میں چار چیزوں سے پناہ مانگی گئی
مگر اس کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی صرف ایک ”صفت“ کا وسیلہ پکڑا گیا
اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے ربّ کی ان چار چیزوں سے
(١) تمام مخلوق کے شر سے
(٢) چھا جانے والے اندھیرے کے شر سے
(٣) جادوگر عورتوں کے شر سے
(٤) حسد کرنے والوں کے شر سے جب وہ اپنے حسد پر چل پڑیں۔
اب سورۃ الناس کو دیکھیں۔
اس میں پناہ صرف ایک چیز سے مانگی گئی مگر آغاز میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا وسیلہ پکڑا گیا۔
اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ، اِلٰهِ النَّاسِ
میں پناہ مانگتا ہوں
تمام انسانوں کے ربّ کی
تمام انسانوں کے بادشاہ اور مالک کی
تمام انسانوں کے حقیقی معبود کی
صرف ایک چیز سے اور وہ چیز ہے
خنّاس کا وسوسہ
اے تمام انسانوں کے ربّ ،اے تمام انسانوں کے شہنشاہ ،اے تمام انسانوں کے معبود برحق مجھے خنّاس کے وسوسے کے شر سے بچالے۔ یہ ”خنّاس“ یعنی چھپا ہوا دشمن انسان ہو یا کوئی جن یا شیطان۔
”خنّاس“ اسے کہتے ہیں جو سیدھا آپ کے دل پر وار کرے۔ اور آپ کو پتا ہی نہ چلے۔ اور وہ یہ وار کرکے چھپ جائے۔ چھپ جانے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو نظر ہی نہ آئے۔ یا بظاہر دوست اور خیر خواہ نظر آئے۔ مگر حقیقت میں وہ آپ کے دل میں کوئی برائی اُتار دے۔
بڑا خطرناک معاملہ ہے۔ بہت ہی خطرناک، دل میں وسوسہ اُتر گیا تو پھر تباہی ہی تباہی ہے۔
خاوند بیوی محبت سے رہ رہے ہوتے ہیں۔ کوئی آتا ہے ہنستے کھیلتے دو لفظ بول کر اُن میں سے کسی کے دل میں وسوسے کا بیج بوتا ہے۔ اور چلا جاتا ہے۔ بس اس کے دو لفظ کا وسوسہ
اتنے حسین اور قریبی رشتے کو برباد کر دیتا ہے۔ اور محبت فنا ہوجاتی ہے۔ دکھ، غم اور شکوے جنم لے لیتے ہیں۔
آپ کسی اچھے انسان سے محبت کرتے ہیں۔ اس کی محبت سے آپ کو دینی فائدہ ہوتا ہے۔ ایک چغل خور آتا ہے۔ باتوں باتوں میں غیر محسوس طریقے سے آپ کے کان میں وہ ڈال جاتا ہے کہ آپ کی محبت نفرت اور شک میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اور سالہا سال کی محنت اور محبت کا منٹوں میں جنازہ نکل جاتا ہے۔
اسی طرح شیاطین جو جنات ہیں نظر نہیں آتے آپ کو کسی ایسی بدگمانی میں ڈال دیتے ہیں کہ پھر آپ خود کو روک نہیں سکتے۔ اور اس بدگمانی کے طوفان میں آپ کے کتنے رشتے، نعمتیں اور محبتیں تنکوں کی طرح بہہ جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے خنّاس کے شر سے محفوظ فرمائیں (آمین یارب العالمِین)
میاں بیوی کی ناراضگی اتنی بڑھ گئی کہ گھر میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
نہ صبح کی چائے پر کوئی بات، نہ رات کے کھانے پر کوئی سوال۔
شوہر سکون سے اخبار پڑھ رہا تھا اور بیوی غصے میں بار بار اسے گھور رہی تھی۔
آخر ایک دن بیوی نے ڈرامائی انداز میں اعلان کیا:
"میں ابھی 10 تک گنتی گنوں گی… اگر تم نے ایک لفظ بھی نہ بولا تو میں زہر کھا لوں گی!"
شوہر نے اخبار سے نظریں اٹھائیں، ایک لمحہ بیوی کو دیکھا… پھر دوبارہ اخبار میں مصروف ہوگیا۔
بیوی نے غصے اور جذبات کے ملے جلے انداز میں گنتی شروع کی۔
ایک…
شوہر خاموش۔
دو…
شوہر نے اخبار کا صفحہ پلٹ لیا۔
تین…
شوہر نے کھنکار کر گلا صاف کیا، مگر کچھ نہ بولا۔
چار…
بیوی نے امید بھری نظروں سے دیکھا… مگر خاموشی برقرار۔
پانچ…
بیوی نے ماتھے پر ہاتھ رکھا، جیسے آخری وقت قریب ہو۔
چھ…
شوہر نے پانی کا گلاس اٹھا کر آرام سے پی لیا۔
سات…
بیوی کے چہرے پر پریشانی بڑھنے لگی۔
آٹھ…
شوہر نے موبائل نکال کر وقت دیکھ لیا۔
نو…
اب بیوی واقعی رونے لگی، آنسو بہنے لگے۔
اسے لگا آج تو شوہر نے ضد کی انتہا کر دی!
جیسے ہی وہ دس کہنے لگی،
شوہر اچانک زور سے بولا:
"ارے گنتی گنو، رونا بند کرو… ورنہ دوبارہ ایک سے شروع کرنا پڑے گا!"
بیوی فوراً خوش ہو کر بولی:
"شکر ہے! آپ بولے تو سہی!"
شوہر نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا:
"میں تو صرف اس لیے بولا تھا کہ کہیں تم غلطی سے گیارہ نہ بول دو!"
اور یوں
ایک عظیم خاتون کی جان بچ گئی… اور ایک بے چارے شوہر کی خاموشی ٹوٹ گئی
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا:
آپ مجھے کوئی ایسی دعا بتا دیجئیے جسے میں اپنی نماز میں مانگا کروں، آپ نے فرمایا: ”کہو:
( اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ)
”اے اللہ! میں نے اپنے آپ پر بڑا ظلم کیا ہے، جب کہ گناہوں کو تیرے سوا کوئی اور بخش نہیں سکتا، اس لیے تو مجھے اپنی عنایت خاص سے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، تو ہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے“۔
(جامع ترمذی :3531)
1973 میں جب سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان جنگ ہوئی تو سعودی بادشاہ Shah Faisal نے امریکہ سمیت ایشیا کے متعدد ممالک کو تیل کی فراہمی بند کر دی۔ کنگ شاہ فیصل کے اس فیصلے کے بعد اُن تمام ممالک میں کھلبلی مچ گئی جہاں سعودی عرب تیل سپلائی کرتا تھا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے سعودی عرب کو دھمکی دی کہ اگر تم نے تیل کی فراہمی دوبارہ شروع نہ کی تو ہم تیل کے تمام کنوؤں پر بمباری کر دیں گے۔
امریکہ کی اس دھمکی کے باوجود کنگ شاہ فیصل نے بڑی جرات اور دلیری کے ساتھ جواب دیا:
“تم وہ لوگ ہو جو تیل کے بغیر جی نہیں سکتے، چل نہیں سکتے۔ مگر شاید تمہیں معلوم نہیں کہ ہم ریگستان سے آئے ہیں۔ ہمارے آبا و اجداد نے کھجور اور دودھ پر زندگی گزاری ہے۔ ہم بھی پیچھے جا سکتے ہیں اور وہی زندگی دوبارہ شروع کر سکتے ہیں، لیکن کسی بے گناہ کا خون نہیں بہنے دیں گے۔”
آج کے مسلم حکمرانوں کو کنگ شاہ فیصل سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ہم غربت قبول کر لیں گے، لیکن کسی بے گناہ کا قتل برداشت نہیں کریں گے۔ 
جب تک دنیا اس سٹیلتھ فلائنگ برڈ کا توڑ نہیں نکال سکتی، اس وقت تک دنیا کا ہر ملک شکست، اندھیرے اور غلامی میں رہے گا۔
امریکہ کا بی ٹو سپرٹ بمبار طیارہ جس نے گزشتہ چالیس سال سے دنیا کے تمام غریب ممالک کو راکھ بنا ڈالا۔
اس وقت تک انٹرنیٹ پر اس طیارے کی مکینیکل انجینیئرنگ سے متعلق جتنا بھی ڈیٹا موجود ہے وہ کافی عرصہ سے سٹڈی کررہا ہوں اور محو حیرت ہوں کہ چالیس سال پہلے بنائے گئے یہ طیارے آج بھی جدید دنیا پر حاوی ہیں۔
خاص بات یہ ہے کہ امریکہ نے اپنا ہر طرح کا جنگی ساز و سامان دوسرے ممالک کو بیچا لیکن یہ سٹیلتھ طیارہ ابھی تک کسی ملک کو نہیں دیا۔
اور ایسے ایک طیارے کی لاگت تقریبا دو بلین ڈالر ہے۔
ظلم پر جذباتی ہونے احتجاج کرنے یا بد دعائیں دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
پچھلے ڈھائی سو سال سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑا تو اب جذباتی ہونے سے کیا بدلے گا؟
صرف ٹیکنالوجی پر کام کرنے اور اس میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
بہت سے لوگوں کو ہارٹ اٹیک ہونے والا ہے دو دن پہلے زمین بوس ہونے والا سونا چاندی دوبارہ سیڑھی چڑھنے شروع ہوگیا ہے جن لوگوں نے پینک ہوکر بیچا وہ اب گھبرا سکتے ہیں کیونکہ JP مورگن آج بھی اپنی بات پر قائم ہے کہ سونا چاندی کی قیمت ہر حد کراس کرے گی۔
ابو ہريره رضى الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی، اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ (کا بوجھ) ہوگا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی‘‘۔
شرح الحديث :
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی“۔ "من دعا إلى هدى": یعنی جسے نے ہدایت کو لوگوں کے سامنے واضح کیا اور اس کی طرف انہیں بلایا۔ مثلا وہ لوگوں کو بتائے کہ چاشت کی دو رکعت نماز سنت ہے اور یہ کہ انسان کو چاشت کے وقت دو رکعت نماز پڑھنی چاہیے۔ پھر اگر لوگ اس کی بات مان کر چاشت کی نماز پڑھنا شروع کر دیں تو اسے ان کے اجر کے برابر اجر ملے گا بغیر اس کے کہ اس سے ان کے اجر میں کچھ کمی ہو۔ کیونکہ اللہ کا فضل بہت وسیع ہے۔ یا پھر اس نے لوگوں سے کہا کہ رات کو وتر کو اپنی آخری نماز بناؤ اور وتر پڑھے بغیر نہ سویا کرو، سوائے اس شخص کے جو رات کے آخری حصے میں اٹھنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اسے چاہیے کہ وہ رات کے آخری حصے میں وتر پڑھے۔ لوگوں نے اس پر اس کی اتباع شروع کر دی تو اسے ان کی طرح کا اجر ملے گا۔ یعنی جب بھی کوئی وتر پڑھے گا گویا اس شخص کو اللہ نے اس کے ہاتھ پر ہدایت دی اس لیے اسے اس کے برابر اجر ملے گا۔ اسی طرح دیگر نیک اعمال ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی، اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ (کا بوجھ) ہوگا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی“ یعنی جب اس نے کسی گناہ یا پھر ایسے کام کی طرف دعوت دی جس میں گناہ ہو مثلا وہ لوگوں کو لہو لعب و لغو، گانے بجانے یا سود وغیرہ جیسے حرام اشیاء کی طرف بلائے تو اس صورت میں جو انسان بھی اس کی دعوت سے متاثر ہو گا ان کا گناہ اس کے کھاتے میں بھی لکھا جائے گا کیونکہ اس نے گناہ کی دعوت دی تھی۔ ہدایت اور گناہ کی طرف دعوت قول کے ذریعے بھی ہوتی ہے جیسے وہ کہے کہ تم اس طرح کرو یا تم ایسے کرو، اور فعل کے ذریعے بھی ہوتی ہے بطورِ خاص لوگوں میں سے اس شخص کے فعل سے جس کی اقتداء کی جاتی ہو۔ اگر وہ شخص ایسا ہو جس کی اقتداء کی جاتی ہو اور وہ کوئی کام کرے تو وہ گویا لوگوں کو اپنے اس فعل کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس وجہ سے کہ لوگ اس کے فعل کو دلیل بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلان نے ایسا کیا اس لیے یہ کام جائز ہے یا فلاں نے اس کام کو چھوڑ دیا چنانچہ یہ (اس کا چھوڑنا) جائز ہے۔
فاضل ایک ان پڑھ شخص تھا جو کسی طرح پیرس پہنچ گیا۔ وہاں کئی سال رہا۔
سارا دن ہوٹلوں میں برتن دھوتا، باورچی خانے میں جھاڑو دیتا اور رات کو کسی فٹ پاتھ پر پڑ کر سو رہتا۔
آٹھ دس سال بعد سنا کہ فاضل پیرس کے سب سے پوش ہوٹل کا شیف (ہیڈ باورچی) لگ گیا ہے۔
شیف کی تنخواہ ہوٹل کے جنرل منیجر کے برابر ہوتی ہے۔
پھر پتہ چلا کہ فاضل چھٹی پر گاؤں آیا ہوا ہے۔
میں اس سے ملنے کے لئے گاؤں چلا گیا۔
میں نے پوچھا کہ فاضل، کیا تُو واقعی ہوٹل میں شیف ہے؟ وہ ہنسا اور بولا کہ شیف تھا۔
چار سال شیف کا کام کیا۔ اب میں نے وہ ہوٹل خرید لیا ہے۔
میں نے پوچھا کہ تُو کون کون سی ڈشیں بنا سکتا ہے؟
تو وہ بولا کہ انگریزی، فرانسیسی، جرمن، اطالوی، چینی، روسی، عرب، سب ملکوں کے کھانے بنا سکتا ہوں۔
میں نے کہا ’’یہ بتا کہ سب سے عمدہ ڈش کون سی ہے؟‘‘
ایک منٹ کے لئے اُس نے توقّف کیا، پھر بولا ’’سچّی بات پوچھتے ہو تو دنیا کی کوئی ڈش ہماری ہانڈی روٹی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
جب میں شیف تھا تو میں نے ہوٹل کے مالک سے کہا کہ صاحب جی، باورچی خانے میں مجھے ایسے برتن چاہئیں جو مٹّی کے بنے ہوئے ہوںَ‘‘
’’مٹّی کے برتنوں سے کیا فرق پڑا پھر؟‘‘ میں نے پوچھا۔
بولا، ’’میں نے لوگوں کو لذّت کی لت ڈال دی۔
وہ وہ ہانڈیاں پکائیں کہ گوروں کی رال چل پڑی۔ بس جی میں نے وہاں ایک بات سیکھی ہے کہ کھانوں میں ہانڈی اور مذہبوں میں اسلام کا جواب نہیں ہے۔‘‘
’’ارے،‘‘ میں حیرت سے چلّایا۔ ’’ہانڈی اور اسلام کا کیا جوڑ ہے؟‘‘
وہ بولا، ’’بھائی صاحب، ہانڈی متوازن خوراک ہے اور اسلام متوازن مذہب ہے۔
اسلام میں ہانڈی کی سب خوبیاں موجود ہیں۔
دنیا بھی ہے، اللہ بھی ہے، اُس کی مخلوق بھی ہے، مخدومی بھی ہے، محبّت بھی ہے، جہاد بھی ہے، انتقام بھی ہے، رحم بھی ہے، معافی بھی ہے، سزا بھی ہے۔
کیا Balanced مذہب ہے بھائی جی۔
دنیا سے بھی تعلّق قائم رہے، اللہ سے بھی تعلّق قائم رہے۔ کماؤ کماؤ، دولت کے ڈھیر لگا دو، مگر پھر بانٹ کے کھاؤ۔
اپنے لئے بنگلہ بناؤ تو کسی غریب کے لئے ایک جھونپڑا بنا دو۔ اپنے لئے ریشمی سوٹ بناؤ تو کسی حاجت مند کے لئے کھدر کا جوڑا بنوا دو۔
اپنی اولاد کی فیس دو تو کسی غریب کی اولاد کی فیس بھی ادا کر دو۔
اسلام بھی کیا مذہب ہے۔
بےشک دولت کی ریل پیل ہو، لیکن دولت ایک جگہ ڈھیر نہ ہو، چلتی پھرتی رہے۔
بانٹنا سیکھ لو تو سرمایہ دارانہ نظام قائم نہیں ہوتا۔
منقول
#موناسکندر
#قومی_زبان
وہ 37 سال کی عمر میں انتقال کر گیا، اسے نہ شہرت ملی اور نہ دولت—لیکن اس کی ایجاد آپ نے اس وقت بھی پہن رکھی ہے، اور اپنی زندگی کے ہر دن پہنتے ہیں۔"
یہ کون ہیں اور کیا ایجاد کیا؟
تصویر میں نظر آنے والی شخصیت کا نام جان ایڈورڈ میٹزیلگر (Jan Ernst Matzeliger) ہے۔ وہ ایک افریقی نژاد موجد تھے جنہوں نے جوتوں کی صنعت میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔
اہم نکات اور وضاحت:
جوتا بنانے والی مشین: 1883 میں انہوں نے ایک ایسی مشین ایجاد کی جو جوتے کے اوپری حصے کو تلوے (sole) کے ساتھ جوڑتی تھی۔ اس عمل کو "Lasting" کہا جاتا ہے۔
ایجاد سے پہلے کا حال: اس مشین سے پہلے، یہ کام صرف ہاتھوں سے ہوتا تھا جو کہ بہت مشکل اور وقت طلب تھا۔ ایک ماہر کاریگر دن بھر میں بمشکل 50 جوڑے بنا پاتا تھا۔
انقلاب: میٹزیلگر کی مشین نے ایک دن میں 700 جوڑے تیار کرنا ممکن بنا دیا۔
عام آدمی کے لیے فائدہ: اس ایجاد کی وجہ سے جوتوں کی قیمتوں میں زبردست کمی آئی، جس کی وجہ سے وہ جوتے جو کبھی صرف امیر لوگ پہن سکتے تھے، عام لوگوں اور غریبوں کی پہنچ میں بھی آگئے۔
بدقسمتی سے، جان میٹزیلگر اپنی اس عظیم ایجاد سے نہ تو دولت کما سکے اور نہ ہی اپنی زندگی میں وہ شہرت دیکھ سکے جس کے وہ حقدار تھے، کیونکہ جوانی میں ہی تپِ دق (Tuberculosis) کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا تھا۔
کل شبِ برأت ہے، مگر…؟
پندرہویں شعبان کی شب کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
سب سے پہلے اس اصطلاح کو سمجھنا ضروری ہے۔ "شب" فارسی لفظ ہے جبکہ "برأت" عربی لفظ ہے۔ عربی میں برأت کے معنی بیزاری، نفرت اور لا تعلقی کے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو ' جو کئی سو سال بعد وجود میں آئی ' میں "برات" دولہے کے اس جلوس کو کہا جاتا ہے جسے لے کر وہ زندگی بھر اپنا جلوس نکلوانے جاتا ہے 😊۔ فارسی میں "برأت" کا مطلب حصہ، نقد اور تقدیر وغیرہ بھی لیا جاتا ہے۔
یوں "شبِ برأت" کا خالص عربی نہ ہونا ہی اس کی اصل پر سوال اٹھاتا ہے، کیونکہ قرآن و حدیث کا ماخذ عربی زبان ہے۔ اگر اس کا نام "لیلة البراءة" ہوتا تو شاید بات کچھ سمجھ میں آتی
مزید یہ کہ اس رات کی کسی خاص عبادت یا مخصوص نوافل کا ذکر نہ قرآن میں ملتا ہے اور نہ صحیح احادیث میں ' سوائے چند گھڑت اور ضعیف روایات کے۔
کیا اس رات تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں؟
عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ شعبان کی پندرہویں رات کو انسانوں کی تقدیر، موت و حیات کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ مگر قرآن و حدیث سے ایسا کچھ ثابت نہیں۔ قرآن واضح طور پر کہتا ہے:
"اللہ کے حکم کے بغیر کوئی جاندار نہیں مر سکتا، مقرر شدہ وقت لکھا ہوا ہے۔"
(آل عمران)
یعنی زندگی اور موت کا حساب پہلے ہی طے کیا جا چکا ہے۔
ویسے بھی یہ حکم قرآن میں لیلة القدر سے ثابت ہے۔ "اس رات میں فرشتے اور روح اللہ کا حکم کے کر اترتے ہیں"
ترمذی میں ایک حدیث ملتی ہے جس میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے پاس نہ پایا، تو باہر نکلیں اور دیکھا کہ آپ ﷺ جنت البقیع میں موجود ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی شب آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلۂ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت کرتا ہے۔
مگر امام بخاری کے مطابق اس روایت کے دو راویوں کی اپنے سے پہلے راوی سے ملاقات ثابت نہیں، یعنی سند کے لحاظ سے یہ حدیث دو مقامات پر منقطع ہے: ایک حجاج اور یحییٰ کے درمیان اور دوسرا یحییٰ اور عروہ کے درمیان۔ خود امام ترمذی نے بھی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد اس کے ضعیف ہونے کی صراحت کی ہے۔ مزید یہ کہ روایت میں اللہ کی طرف سے "حق تلفی" کا سوال بھی محلِ نظر ہے۔
شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت سے متعلق کوئی حدیث بخاری اور مسلم میں جگہ نہیں پا سکی۔ اگر یہ واقعی ایک بڑی فضیلت والی رات ہوتی تو صحابہ کرامؓ میں اس کا چرچا ہوتا، معتبر اور ثقہ راوی اسے روایت کرتے۔ اتنی اہم بات صرف ضعیف راویوں تک کیسے محدود رہ گئی؟
ابنِ ماجہ کی روایت
ابنِ ماجہ میں ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب نصف شعبان کی رات ہو تو رات میں قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ غروبِ آفتاب کے وقت آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ میں اسے بخش دوں؟ کوئی رزق مانگنے والا کہ اسے رزق دوں؟ کوئی مصیبت زدہ کہ اسے عافیت دوں؟ — یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔
لیکن اس حدیث کے ایک راوی ابن ابی سبرہ کو امام احمد بن حنبل نے حدیثیں وضع کرنے والا قرار دیا ہے جبکہ امام نسائی اسے متروک کہتے ہیں۔
حاصلِ بحث یہ ہے کہ شبِ برأت نہ قرآن سے ثابت ہے، نہ سنتِ رسول ﷺ سے، اور نہ ہی صحابہ کرامؓ کے زمانے میں اس کا کوئی چرچا ملتا ہے۔ یہ روایت بعد کے ادوار میں رائج ہوئی اور اس کی تائید میں پیش کی جانے والی روایات یا تو ضعیف ہیں یا موضوع (من گھڑت) کوئی روایت صحت کے درجے تک نہیں پہنچتی۔
آج بھی عرب دنیا کے کئی علاقوں میں اس انداز سے شبِ برأت نہیں منائی جاتی۔
درست یہ ہے کہ پورا شعبان رسول اللہ کثرت سے روزے رکھتے اور نوافل کا اہتمام کرتے تھے مگر اس کیلئے کوئی رات مخصوص تھی نہ روزے کیلئے کوئی دن۔ نہ حلوے پکتے تھے نہ قبرستان جانے کے اہتمام کو لازم سمجھا جاتا تھا
اور نہ دیوالی کی طرح پٹاخے پھوڑنے جاتے تھے
یہ نظم آج سے 40 سال قبل حکیم سعید صاحب نے لکھی تھی۔
جس میں جسم کے مسائل کا حل بڑی خوبصورتی سے بتایا گیا ھے
خود بھی پڑھیں اور صدقہ جاریہ سمجھ کر شئیر کریں۔
جہاں تک کام چلتا ہو *غذا* سے
وہاں تک چاہیے بچنا *دوا* سے
اگر *خوں* کم بنے، *بلغم* زیادہ
تو کھا *گاجر، چنے ، شلغم* زیادہ
*جگر کے بل* پہ ہے انسان جیتا
اگر ضعف جگر ہے کھا *پپیتا*
*جگر* میں ہو اگر *گرمی* کا احساس
*مربّہ آملہ* کھا یا *انناس*
اگر ہوتی ہے *معدہ* میں گرانی
تو پی لی *سونف یا ادرک* کا پانی
تھکن سے ہوں اگر *عضلات ڈھیلے*
تو فوراََ *دودھ گرما گرم* پی لے
جو دکھتا ہو *گلا نزلے* کے مارے
تو کر *نمکین* پانی کے *غرارے*
اگر ہو درد سے *دانتوں* کے بے کل
تو انگلی سے *مسوڑوں* پر *نمک* مَل
جو *طاقت* میں *کمی* ہوتی ہو محسوس
تو *مصری کی ڈلی ملتان* کی چوس
شفا چاہیے اگر *کھانسی* سے جلدی
تو پی لے *دودھ میں تھوڑی سی ہلدی*
اگر *کانوں* میں تکلیف ہووے
تو *سرسوں* کا تیل پھائے سے نچوڑے
اگر *آنکھوں* میں پڑ جاتے ہوں *جالے*
تو *دکھنی مرچ گھی* کے ساتھ کھا لے
*تپ دق* سے اگر چاہیے رہائی
بدل پانی کے *گّنا چوس* بھائی
*دمہ* میں یہ غذا بے شک ہے اچھی
*کھٹائی* چھوڑ کھا دریا کی *مچھلی*
اگر تجھ کو لگے *جاڑے* میں سردی
تو استعمال کر *انڈے کی زردی*
جو *بد ہضمی* میں تو چاہے افاقہ
تو *دو اِک وقت* کا کر لے تو *فاقہ*
یہ پیغام پیاروں تک پہنچائیں
جزاک اللّہ عزوجل
نصیحت ان لوگوں کو کرتی ہوں جو 40، 50، 60 سال یا اس سے اوپر کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ، حتی کہ 80 سال کی عمر تک بھی !
اللہ آپ کو فرمانبرداری، صحت، اور عافیت عطا فرمائے۔
1. پہلی نصیحت:
ہر سال حجامہ کروائیں ، چاہںے آپ بیمار نہ ہںوں یا کوئی مرض نہ ہںو ۔
2. دوسری نصیحت:
ہمیشہ پانی پیئیں ، چاہںے پیاس نہ لگے ۔ بہت سی صحت کے مسائل جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے پیدا ہںوتے ہیں ۔
3. تیسری نصیحت:
جسمانی سرگرمی کریں ، چاہںے آپ مصروف ہںوں ۔ اپنے جسم کو حرکت دیں ، چاہںے وہ صرف چلنا ہںو یا تیراکی کرنا ہںو ۔
4. چوتھی نصیحت:
کھانے میں کمی کریں ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا،
"آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں۔"
زیادہ کھانے سے پرہیز کریں؛ اس میں کوئی بھلائی نہیں ہںے ۔
5. پانچویں نصیحت:
جتنا ممکن ہو، گاڑی کا استعمال نہ کریں جب تک کہ ضرورت نہ ہںو ۔ اپنے مقامات تک پیدل چل کر جائیں ، جیسے مسجد ، دکان ، یا کسی سے ملنے ۔
6. چھٹی نصیحت:
غصے کو پیچھے چھوڑ دیں ...
غصہ اور فکر آپ کی صحت کو ختم کرتے ہیں اور آپ کی روح کو کمزور کرتے ہیں ۔
اپنے آپ کو ا یسے لوگوں کے ساتھ رکھیں جو آپ کو سکون دیتے ہیں۔
7. ساتویں نصیحت:
جیسا کہ کہا جاتا ہںے ، "اپنے پیسے کو دھوپ میں رکھو اور خود سایہ میں بیٹھو۔" یعنی حتیٰ الوسع پیسے کو استعمال میں لائیں اور سہولیات حاصل کریں یہ نہیں کہ پیسے بچائیں اور خود مشقت اٹھائیں ۔ اپنے آپ کو یا اپنے ارد گرد کے لوگوں کو محروم نہ رکھیں ، پیسہ زندگی کو سہارا دینے کے لیے ہںے ، خود زندگی نہیں ہںے ۔
8. آٹھویں نصیحت:
اپنی روح کو کسی کے لیے ، کسی ایسی چیز کے لیے جسے آپ حاصل نہیں کر سکتے ، یا کسی ایسی چیز کے لیے جو آپ حاصل نہیں کر سکے ، افسوس میں نہ ڈوبنے دیں ۔ اسے بھول جائیں —
اگر یہ آپ کے لیے مقدر ہںوتا ، تو یہ آپ کے پاس آ جاتا ۔
9. نویں نصیحت:
عاجزی اختیار کریں ، کیونکہ دولت ، مرتبہ ، طاقت ، اور اثر و رسوخ سب غرور کے ساتھ زوال پذیر ہںو جاتے ہیں ۔ عاجزی آپ کو لوگوں کے قریب لاتی ہںے اور اللہ کے ہاں آپ کے مقام کو بلند کرتی ہںے ۔
10. دسویں نصیحت:
اگر آپ کے بال سفید ہںو گئے ہیں ، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی ختم ہںو گئی ہںے ۔ یہ ایک نشانی ہںے کہ زندگی کا بہترین حصہ ابھی شروع ہںو رہا ہںے ۔
پر امید رہیں ، اللہ کی یاد کے ساتھ جئیں ، سفر کریں ، اور حلال طریقوں سے لطف اندوز ہںوں ۔
• آخری اور سب سے اہم نصیحت:
کبھی بھی نماز نہ چھوڑیں ، یہ آپ کے جیتنے کا کارڈ ہںے اس زندگی میں اور اس دن میں جب نہ دولت کام آئے گی اور نہ اولاد۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا 😍
لاہور کے ایک معروف شاپنگ سینٹر pace میں میرا ایک جاننے والا گھڑیاں، پرس ، بیلٹس وغیرہ کا سٹال لگاتا تھا
جتنی جگہ اس کے پاس تھی
اس کی قیمت پچاس لاکھ سے زیادہ تھی
پیس کو ایک طاقتور شخصیت کے لڑکوں نے آگ لگا دی ، پورا شاپنگ سینٹر جل گیا
ساری دکانوں میں پڑا اربوں روپے کا سامان راکھ ہو گیا، سینکڑوں دکاندار بیٹھے بیٹھے برباد ہو گئے
اور وہ سٹال لگانے والا مجھے ایک دن شاپنگ پلازہ کے صحن میں ایک پھٹے پہ تھوڑا سا سامان لگائے نظر آیا
میں اس کے پاس گیا تو گلے لگ کر بچوں کی طرح بلک بلک کر رویا
کچھ ماہ تک اس کا باقاعدہ خیال بھی رکھا
پھر وہ اچانک غائب ہو گیا
اور دوبارہ اس کی کوئی خبر نہیں
یہ پلازے اور دوکانیں جلنا ہمارے لئے محض ایک خبر ہوتی ہے
مگر ہر دکان ہر سٹال کے پیچھے ایک پورا خاندان ہوتا ہے
جو اجڑ جاتا ہے
#گل_پلازہ