پاکستان کے دشمن سندھو دیش کے مٹھی بھر دہشتگردوں نے پولیس کی حفاظت میں گلستان جوہر کے مین روڈ کو بلاک کیا ہوا ہے اسپتال اور اسکولوں سے واپسی آنے والے شہریوں کی زندگی اجیرن کردی ہے ان مٹھی بھر دہشتگردوں نے پولیس سڑک کھلوانے کے بجائے ان دہشتگردوں کو پروٹوکول دے رہی ہے
Her name was Hind Rajab — just 5 years old.
Trapped in a car for 48 hours, surrounded by Israeli tanks, she begged for help.
They executed her with 355 bullets.
Never forgive. Never forget.
لاھور میں دو نوجوان لڑکیوں کو تھانے لایا گیا ،ایک کی عمر 17 دوسری کی 22 سال ،اگر ان پر کوئی جرم درج تھا تب بھی کیسے وہ تھوڑی دیر بعد مردہ حالت میں پائی گئیں؟اس کیس کو میڈیا کیوں نہیں اٹھا رھا؟
یہ پاکستان ہے…
جہاں قانون کی کتاب ایک ہے، مگر انصاف کے ترازو الگ الگ ہیں۔
شاہ رخ جتوئی ہو یا نتاشہ دانش، ایسے مقدمات ایک سوال ضرور چھوڑ جاتے ہیں:
کیا پاکستان میں قانون بھی دولت، طاقت اور حیثیت دیکھ کر اپنا لہجہ بدل لیتا ہے؟
غریب کے لیے قانون کی پوری طاقت،
اور طاقتور کے لیے قانون کی نرم زبان۔
جب انصاف جیب دیکھ کر ملے تو قانون کتاب میں زندہ رہتا ہے، معاشرے کے دل میں نہیں۔
لاہور کے ڈپٹی کمشنر میں متکبرانہ انداز تھا اس لیے کرسی پر جھولے لے رہا تھا جبکہ پختونخواہ کا کمشنر سفید داڑھی والے بزرگوں کو زمین پر بٹھا کر دستحط لے رہا ہے یہاں کسی راتب خور کی غیرت نہیں جاگے گی کیونکہ سھیل آفریدی ان کے گھروں کے بجلی کے بل ادا کرتا ہے
گلبرگ گرین اسلام آباد میں نئے بننے والے پٹرول پمپ (PSO ) نے 50 لٹر والی گاڑی کی ٹینکی میں 57 لٹر پٹرول ڈال دیا ۔شہری کے مطابق اسکی گاڑی میں تقریباً 15 لٹر پٹرول پہلے بھی موجود تھا
جس کا بھی بس چلتا ہے وہ ڈاکے مارتا ہے کوئی روک ٹوک نہیں ، آئے دن اسلام آباد کے پٹرول پمپوں پر یہی شکایات سامنے آتی ہیں مگر اسلام آباد انتظامیہ خواب خرگوش میں ہے
وزیر داخلہ صاحب کہیں ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کا سسٹم بھی کلیپس تو نہیں ہو گیا
@MohsinnaqviC42@dcislamabad@ccislamabad@PSOPakistan@PakPMO
جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے ہم مسجد میں گئے.
گھر جیسی پرسکون۔
نہ نارکا خوف نہ جہنم کی دہشت۔
نماز اتنی شتابی سے پڑھی گئی کہ ہم تو مطمئن نہ ہوۓ.
ہم تو تب مطمئن ہوتے جب ہم غلطی سے مقامی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جاتے
مولوی صاحب ہمیں لعن طعن کرتے
جہنم کی نوید سناتے
تب ہم مطمئن ہوتے.
یہ ایک نہایت دل دہلا دینے والا اور غم ناک واقعہ ہے، جسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے لیے زیادہ مؤثر، پیشہ ورانہ اور اثر انگیز انداز میں ذیل میں تیار کیا گیا ہے۔ اس تحریر میں نہ صرف واقعے کی سنگینی کو سامنے لایا گیا ہے بلکہ پڑھنے والوں کی توجہ کو شروع سے ہی جلب کرنے کی کوشش کی گئی ہے:
سفاکی کی انتہا: تین سالہ زونیشہ اور ہمارے بے حس معاشرے کا بھیانک سچ!
تصویر میں نظر آنے والی یہ کمسن اور بد نصیب بچی تین سالہ زونیشہ ہے، جو اس وقت جناح ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔
دائیں جانب اس کا مظلوم والد اور بائیں جانب ایک فلاحی ورکر موجود ہیں، جو اس المناک داستان کی تفصیلات حاصل کر رہی ہیں۔ والد کی زبانی سنیں کہ کس طرح اپنوں کی بھیس میں چھپے درندوں نے اس ننھی پری کی دنیا اجاڑ دی:
والد کے مطابق، زونیشہ اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ اپنے نانا کے گھر گئی ہوئی تھی۔ شام کو جب وہ اسے لینے سسرال پہنچا، تو سوتیلی ماں بچی کو نہلا رہی تھی اور بچی شدت سے رو رہی تھی۔ والد نے یہی سمجھا کہ شاید نہانے سے کترانے پر رو رہی ہے۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد جب بچی کو باہر لایا گیا، تو اس کے پاؤں پر خون کے قطرے دیکھ کر والد کا دل دہل گیا۔
سوتیلی ماں نے اسے "معمولی زخم" قرار دے کر ٹالنے کی کوشش کی، مگر خون مسلسل بہتا دیکھ کر والد فوری طور پر بچی کو اورنگی ٹاؤن کے ایک نجی ہسپتال لے گیا۔ وہاں حالت تشویشناک دیکھ کر ڈاکٹروں نے اسے عباسی شہید ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔
عباسی شہید ہسپتال میں جب لیڈی ڈاکٹر نے بچی کا معائنہ کیا تو وہ چیخ اٹھی اور اسے پولیس کیس قرار دیا۔ تب تک والد کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے۔ دوسرے ڈاکٹر نے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بچی کو فوری طور پر جناح ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس کی جان بچائی جا سکے۔
جناح ہسپتال پہنچ کر جو حقیقت سامنے آئی، وہ کسی بھی باپ کے لیے قیامت سے کم نہ تھی—تین سالہ زونیشہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی!
ہسپتال انتظامیہ کی اطلاع پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سوتیلی ماں کے گھر چھاپہ مارا اور سوتیلے ماموں اور سوتیلے نانا کو گرفتار کر لیا، جبکہ سوتیلی ماں موقع سے فرار ہو گئی۔ دورانِ تفتیش دونوں درندوں نے بچی کے ساتھ زیادتی کا اعتراف کر لیا اور اس مکروہ فعل میں سوتیلی ماں کی شمولیت کا بھی انکشاف کیا۔
موجودہ صورتحال:
زونیشہ اس وقت ہسپتال میں انتہائی نازک حالت میں زیرِ علاج ہے۔ درندوں کی بربریت کے باعث بچی کا اندرونی نظام مکمل طور پر شدید متاثر ہوا ہے اور اسے پیشاب کے لیے بیگ لگایا گیا ہے۔ ملزم ماموں اور نانا جیل میں ہیں، جبکہ جرم میں برابر کی شریک سوتیلی ماں نے ضمانت کروا لی ہے۔ تینوں افراد کے خلاف FIR درج ہو چکی ہے۔
ہماری ذمہ داری:
یہ واقعہ ہمارے لیے ایک تازیانہ ہے کہ ہمارا معاشرہ کس حد تک غیر محفوظ ہو چکا ہے۔
اپنی بچیوں کی حفاظت خود کریں اور کسی پر بھی اندھا اعتماد نہ کریں۔
اپنے ارد گرد کے ماحول اور رشتوں کے رویوں پر کڑی نظر رکھیں۔
اس معصوم، بے گناہ بچی زونیشہ کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے دعاؤں کی اپیل ہے۔
آپ اس دردناک واقعے اور ہمارے نظام پر کیا رائے رکھتے ہیں؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔
— feeling sad.