✈️ ضروری اعلان سماعت فرمائیں 🥳
اگر کسی دوست ، بھائی نے لندن کوئی پارسل ، ڈاکومنٹ ، مٹھائی ، کشمیری برفی ، دیسی گھی یا "گندلاں دا ساگ " وغیرہ بھیجنا ہے تو ۔۔۔
باؤ جی جا رہے ہیں ۔۔۔!!!!!
😂
❤️🙂
دنیا کی سب سے پرسکون جگہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس طرح ایک معصوم بچے کو دنیا کی کچھ خبر نہیں ہوتی ایسی ہی کیفیت مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں طاری ہوتی ہے جو دنیا و مافہیا سے بے نیاز کردیتی ہے ۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جانا ہو تو قدم بہت تیز چلتے ہیں یوں لگتا ہے ہواؤں میں اڑ رہے ہیں اور جب در اقدس سے واپسی ہو تو قدم اٹھائے اٹھتے نہیں جیسے کوئی بہت ہی طاقتور کشش ان کو واپس کھینچ رہی ہو ۔
کعبہ بھی پرسکون ترین جگہ ہے جہاں کوئی فکر کوئی ٹینشن زہن میں آتی ہی نہیں لیکن فرق یہ ہے کہ کعبہ میں بہت زیادہ خوف اور ڈر بھی محسوس ہوتا ہے ۔جو کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں محسوس نہیں ہوتا ۔ ایک در ان کا ہے جو تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس در پر محبتوں اور عقیدتوں کی برسات ہوتی ہے کوئی ڈر کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا ۔ ایک در اس کا ہے جو تمام کائناتوں کا رب ہے ۔ وہاں محبتیں اور عقیدتیں تو خوشبو بکھیرتی ہی ہیں لیکن ان کیساتھ جاہ جلال بھی ہے ۔ بیشک یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس سے ڈرا جائے خوف محسوس کیا جائے ۔
یہ تصویر گزشتہ سال حج کے موقع پر اپنے موبائل سے لینے کی سعادت حاصل ہوئی گوکہ شرطے صاحب حجر اسود سے ہٹنے کو بالکل بھی تیار نہ تھے
تنویر اعوان
فری آئی ٹی کورسز
ہفتے میں دو دن کلاس ہوگی
کلاس کا دورانیہ 2 گھنٹے
تین ماہ کا کورس ہوگا۔
کورس مکمل کرنے پر سرٹیفکیٹ بھی ملے گا
کورسز کی مزید تفصیلات ویڈیو میں
@ArifRetd کوئی مسجد یا مدرسہ ہی بنوا دیتے بڑا ثواب بھی ملتا سکول بنانے کا ثواب بہت چھوٹا ہے عقل سلیم رکھنے والے وہ کام کرتے ہیں جس میں ان کو زیادہ فائدہ ہو
مختار مسعود بیوروکریٹ تھے اور مصنف بھی ، وہ دو ہزار سترہ میں انتقال کر گئے لیکن دو ہزار دو میں انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی اکٹھی کی جو کہ دس کروڑ روپیہ بنی اور اُسے آزاد کشمیر کی ایک فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا اور انہیں سکول بنانے کا کہا ، فاؤنڈیشن نے سکول بنا دیا اور مختار مسعود صاحب کو افتتاح کی دعوت دے دی ، مختار مسعود صاحب نے یہ دعوت تین شرائط کے ساتھ قبول کی ۔
ایک کہ افتتاح کی کوئی تقریب نہیں ہو گی ۔
دو کہ افتتاح چھٹی والے دن ہو گا ۔
تین کہ ڈونیشن کی کوئی تشہیر نہیں کی جائے گی ۔
یوں مختار مسعود صاحب ایک اتوار کو سکول کے افتتاح کے لئے چلے گئے ، وہ خالی کلاس روم میں گئے ، بلیک بورڈ پر “ بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھا اور واپس آ گئے ۔
جب کسی نے مختار مسعود صاحب سے پوچھا کہ آپ نے یہ سکول کھولنے کے لئے چوکی ( گاؤں ) کا انتحاب کیوں کیا تو مختار مسعود صاحب نے جواب دیا “ میرے دادا کشمیر سے چوکی کے راستے پنجاب میں داخل ہوئے تھے ، وہ رات چوکی میں رکے تھے اور چوکی گاؤں کے لوگوں نے اُن کی بہت خدمت کی تھی ، اُن کے دادا ساری عمر چوکی کے لوگوں کی تعریف کرتے رہے اور میں اس گاؤں میں سکول بنا کر یہ احسان اتارنا چاہتا ہوں“
یہ واقعہ دو حصوں پر مشتمل ہے ، پہلا حصہ ڈونیشن ، سادگی اور تشہیر پر مشتمل ہے ، اُس بندے نے اپنی زندگی کی ساری جمع پونجی ڈونیٹ کر دی اور کسی کے سامنے نام تک لینا گوارا نہیں کیا جبکہ دوسرا حصہ پہلے حصے کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے ، بڑے لوگ ایسے ہی بڑے نہیں ہوتے ، اُن کے دادا نے ایک رات گاؤں میں گزاری اور ساری عمر اُس گاؤں کی مہمان نوازی کی تعریف میں گزار دئیے جبکہ پوتے نے دادا کی وہ بات پلے باندھ لی اور ساری عمر کی جمع پونجی اُس گاؤں پہ لگا دی ۔ اللہ اللہ
آج ہم کسی غریب کو کچھ دیں بھی تو اُس کی تشہیر چاہتے ہیں ، فوٹو لگتی ہے ، بینر لگتے ہیں ، دوسروں کو واقعات سناتے اُس کا ذکر ہوتا ہے اور ایک وہ تھے کسی کو کان و کان خبر نا ہونے دی ۔
بات کردار کی ہوتی ہے جناب
ورنہ قد میں سائے بھی لمبے ہوتے۔
منقول