جیئند بلوچ نے ساختیاتی جبر کو سمجھنے کے لیے سوشیالوجی پڑھی۔ انہیں انکمیونیکاڈو رکھ کر ریاست نے ان کا مقالہ سچ ثابت کر دیا: ریاستی مشینری کا واحد مقصد جمہوری آوازوں کو کچلنا ہے۔ #ReleaseJiandBaloch
آج مستونگ میں ہونے والے مسلح حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ صاحب اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت کی خبر سن کر شدید دکھ ہوئی۔
مجھے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات، خصوصاً ان کی ضمانت کی درخواستوں میں، متعدد بار مستونگ میں حکیم صاحب کی عدالت میں پیش ہونے کا موقع ملا۔ ان کی زندگی میں بہت سی باتیں ایسی تھیں جو میں نہیں لکھ پائی لیکن آج مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ دراصل کیسے انسان اور کیسے جج تھے۔
میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ عبدالحکیم کاکڑ ایک نہایت دیانت دار، اصول پسند اور باوقار جج تھے۔ وہ اکثر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات کی قانونی نوعیت پر مجھ سے کھل کر بات کیا کرتے تھے۔ کئی بار انہوں نے مجھ سے کہا کہ حالات چاہے جس نہج پر بھی ہوں، میرے فیصلوں میں آپ کو ہمیشہ قانون کی بالادستی اور انصاف کے اعلیٰ تقاضوں کی پاسداری نظر آئے گی۔
ان کی یہ باتیں ان سیاسی گھٹن زدہ حالات میں میرے لیے ہمیشہ امید کی ایک کرن ہوا کرتی تھیں، اور بعد میں ان کے فیصلوں نے بھی ان کے ان الفاظ کو سچ ثابت کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور گلزادی بلوچ کو تین مقدمات میں ضمانت دی، جبکہ بیبرگ بلوچ کو ایک ایف آئی آر میں ضمانت کے مرحلے پر ہی مقدمے سے بری کر دیا۔ ان کے فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ دباؤ سے بالاتر ہو کر قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے پر یقین رکھتے تھے۔
تربت میں اپنی تعیناتی کے دوران بھی انہوں نے اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں سبغت اللہ شاہ جی کی ضمانت منظور کی اور ایک بار پھر دباؤ کے بجائے قانون کی بالادستی کو ترجیح دی۔
مجھے آج بھی مستونگ کی ایک پیشی یاد ہے جب محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈ��) ایک کم عمر لڑکے کو مختلف الزامات کے تحت عدالت میں پیش کر رہا تھا۔ حکیم صاحب نے اس بچے سے پوچھا، “تمہیں کب گرفتار کیا گیا تھا؟” بچے نے جواب دیا، “کل۔” اس پر حکیم صاحب نے سی ٹی ڈی کے انچارج کی طرف دیکھ کر کہا، “اس بچے کے چہرے کو دیکھو، ایسا لگتا ہے جیسے اس نے برسوں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی۔ اور تم لوگوں نے اسے اس قدر ڈرایا اور دھمکایا ہے کہ اب وہ تمہاری ہر بات میں ہاں ملا رہا ہے۔” پھر انہوں نے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں سے کہا، “اللہ سے ڈرو۔”
آج جب ان کی شہادت کی خبر دیکھی تو دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ صرف ایک انسان کو نہیں مارا گیا، بلکہ انصاف پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ ��یونکہ حکیم صاحب قانون کی حکمرانی، انصاف، آئینی حقوق اور عوام کے وقار پر یقین رکھتے تھے
میں جج عبدالحکیم کاکڑ کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں اس غم کی گھڑی میں ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔
معزز شہید عبدالحکیم کاکڑ صاحب، بلوچستان کے عوام آپ کو ہمیشہ آپ کی دیانت، اصول پسندی اور انصاف کے ساتھ مضبوط وابستگی کے لیے یاد رکھیں گے۔
آپ کے اصول اور آپ کی جرأت اُن لوگوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے جو انصاف اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔
It's time we football fans, demand resignation of the FIFA President for being incompetent for the wrongful decisions made in favour of Argentina! #ResignInfantino
Cape Verde won our hearts but they were wrongfully eliminated due to dodgy refree decisions.
This is all over World Cup 2022, we didn't do anything back then but now we must demand President's resignation!
Join the movement! #ResignInfantino
بلوچ قوم کو یاد ہونا چاہیے کہ 9 مہینے12دن سے ماہ جبین بلوچ،اور106دن گزرنے کے باوجود نسرین بلوچ، آج بھی لاپتا ہے،انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل ہے کےماجبین نسرین سمیت تمام بلوچ لاپتہ خواتین کے لیے اواز اٹھائیں
#ReleaseMahjabeenBaloch#ReleaseNasreenBaloch#SaveBalochWomens
🚨🚨#BREAKING: 24 days passed since their arrest, despite the High Court Bar Association in Islamabad becoming active, the appeals of #Pakistan’s most prominent human rights defenders @ImaanZHazir and @AdvHadiali against conviction in the controversial tweets case could not be fixed for hearing tomorrow, Monday.
آج بلوچ اسکالر اور پبلشر غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کو 266 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ جبری گمشدگی صرف ایک فرد کے لاپتہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک پورے گھرانے کے سکون، استحکام اور امید کے چھن جانے کی کہانی ہوتی ہے۔ یہ وہ کرب ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ م��ید گہرا ہوتا جاتا ہے، جہاں اہلِ خانہ بے یقینی، خوف اور اذیت کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کسی بھی انسان کو اس کے نظریات، سیاسی سوچ یا فکری وابستگی کی بنیاد پر لاپتہ کرنا نہ صرف آئین اور قانون کی روح کے منافی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق اور انسانی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔
بلوچ وائس فار جسٹس بلوچ اسکالر اور پبلشر غنی بلوچ کی فی الفور اور باحفاظت بازیابی کا پرزور مطالبہ کرتی ہے۔ کسی بھی فرد اور سیاسی کارکن کو ان کے نظریات اور سیاسی مؤقف کی بنیاد پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا اور تشدد یا دباؤ کے ذریعے اپنے خیالات، نظریات اور بیانیے کو مسلط کرنا ایک ناپسندیدہ، غیر انسانی اور غیر جمہوری عمل ہے۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہوتا ہے، نہ کہ جرم۔ ریاست اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال اور آزادیِ اظہار کے حق کا تحفظ کریں، نہ کہ انہیں خوف اور جبر کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور کریں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ غنی بلوچ کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے، ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے اور جبری گمشدگی جیسے عمل کا خاتمہ کیا جائے تاکہ قانون کی بالادستی، انصاف اور انسانی وقار کو بحال رکھا جا سکے۔
#ReleaseGhaniBaloch
@amnestysasia @UNinPak @EUPakistan
@HRCP87 @HamidMirPAK @MunizaeJahangir @AsadAToor @KenRoth
The ongoing repression on Baloch women testifies the level of low standards of the state’s institutions, where for months and days, they have kept in their illegal detention several Baloch women. We demand their immediate release without further delay.
#SaveBalochWomen
نظر بلوچ ایک انسانی حقوق کے کارکن ہیں اور اگست کے مہینے سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔ ان کا کیس متعدد فورمز پر رپورٹ کیا جا چکا ہے، مگر تاحال ان کے بارے میں کوئی مستند معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
نظر بلوچ کے حوالے سے کسی بھی قسم کا منفی پروپیگنڈا نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ موجودہ حالات میں اسے کھلی دھمکی اور سنگ��ن نتائج کی تمہید سمجھا جائے گا۔ اگر نظر مری کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری سیکیورٹی فورسز پر عائد ہوگی، اور ساتھ ہی ان انکے کرائے کے چینل براق کے اےنکرز پر، جو گمراہ کن بیانیے کے ذریعے اس عمل کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کرائے کے جرنلسٹس کو بھی برابر کا گناہگار سمجھا جائے گا۔
#ReleaseNazarMarriBaloch
#ReleaseBYCLeaders