Top Tweets for #ReleseBycleaders
گوادر میں کیا ہوا؟
انسانی ذہن بھی عجیب شے ہے۔ جن یادوں کو سینے سے لگانا چاہو، وہ دھند میں گم ہو جاتی ہیں، اور جنہیں دفنانا چاہو، وہ ہر رات قبر سے نکل کر سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ گوادر کی راجی مُچی بھی میری یادوں میں ایسا ہی ایک زخم ہے
#ReleseBYCLeaders
گوادر میں کیا ہوا؟
انسانی ذہن بھی عجیب شے ہے۔ جن یادوں کو سینے سے لگانا چاہو، وہ دھند میں گم ہو جاتی ہیں، اور جنہیں دفنانا چاہو، وہ ہر رات قبر سے نکل کر سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ گوادر کی راجی مُچی بھی میری یادوں میں ایسا ہی ایک زخم ہے کہ جس پر وقت کبھی مرہم نہیں رکھ پایا۔
ہم گوادر کے لوگ سمندر کے پالے ہوئے پرزند ہیں۔ ہماری صبحیں جال سمیٹتے اور شامیں انہیں سمندر کے سپرد کرتے گزرتی ہیں۔ اپنی چھوٹی سی کشتی “یکدار” پر بیٹھے ہم نے بھی کبھی ترقی کے خواب دیکھے تھے۔ ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ گوادر بدلے گا، ہماری زندگیاں بدلیں گی، ہمارے بچوں کا مستقبل بدلے گا۔ لیکن بدلنے والی چیز صرف یہ تھی کہ ہمارے اپنے گھر، ہماری زمینیں اور ہمارا سکون ہم سے چھن گیا۔
جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی نے احتجاج کا اعلان کیا تو شاید پہلی بار محسوس ہوا کہ خاموشی کو آواز مل گئی ہے۔
ہم ہر شام سمندر میں جال ڈالنے نکلتے ہیں تاکہ اگلی صبح رزق لے کر لوٹیں، مگر اس شام ہم نے سمندر کا رخ نہیں کیا۔ اس روز ہمارا رزق مچھلیاں نہیں، بلکہ اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا تھا۔
موبائل نیٹورکس انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرائع پہلے ہی بند کیے جا چکے تھے۔ اب ایک ہی آواز باقی تھی، مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں کی، جن سے لوگوں کو راجی مُچی میں شرکت کی دعوت دی جا رہی تھی۔
27 جولائی — پہلا حملہ
صبح ہم سید ظہور شاہ ہاشمی چوک کی طرف روانہ ہوئے۔
گلی سے نکلے تو یوں محسوس ہوا جیسے پورا گوادر گھروں سے نکل آیا ہو۔ پدی زر کی سڑک انسانوں سے بھری ہوئی تھی۔ بوڑھے، نوجوان، عورتیں، بچے۔۔۔ ہر طرف چہروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ سمندر کے کنارے ایک اور سمندر اُتر آیا ہے، مگر اس بار پانی کا نہیں، انسانوں کا کہ جسکی لہروں میں حق کی للقار تھی، امید کی کرنیں تھیں، اپنے ہی سرزمین پر چین سے سانس لینے کے خواب تھے۔
سڑک پر جگہ جگہ گھڑے کھود دیے گئے تھے، رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں، لیکن لوگوں کے قدم نہیں رکے۔ ہر لمحہ ایک نیا قافلہ آ رہا تھا۔
دوپہر کے قریب ہم کسی طرح سید ظہور شاہ ہاشمی چوک پہنچے۔ بی وائی سی کی قیادت ابھی نہیں پہنچی تھی کہ اچانک سامنے فوجی گاڑیاں نمودار ہوئیں۔ چند لمحوں میں ایف سی اور آرمی کی کئی گاڑیاں چوک کے سامنے آ کھڑی ہوئیں۔
لوگ نعرے لگا رہے تھے۔
“تم ماروگے ، ہم نکلیں گے”
مظلوم کی یہ للقار، جزبہِ مزاحمت، حاکمِ وقت کو گران گزری، اور عیں تاریخی روایت کے مطابق ظالم اپنے بے بسی کا اظہار تشدد کی صورت میں کرنے لگا۔
پھر اچانک فضا بدل گئی۔
آنسو گیس کے شیل فضا میں بلند ہوئے، اور ان کے فوراً بعد گولیوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔
پہلے پہل ہمیں لگا شاید صرف منتشر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن اگلے ہی لمحے میرے برابر کھڑا ایک نوجوان لڑکھڑایا اور میرے قدموں میں آ گرا۔
میں چند لمحوں تک ساکت کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
اس کے سینے میں دو گولیاں پیوست تھیں۔ خون سڑک پر بہہ رہا تھا۔
چند قدم کے فاصلے پر ایک اور شخص بازو میں گولی لگنے کے بعد تڑپ رہا تھا۔ اس کی ٹوٹی ہوئی سانسوں کی آواز آج بھی میرے کانوں میں زندہ ہے۔
ہر طرف بھگدڑ تھی۔
عورتوں کی چیخیں، بچوں کا رونا، لوگوں کی دوڑتی ہوئی آہٹیں۔۔۔
میں اسے اٹھانا چاہتا تھا، مگر پیچھے سے آتے ہوئے لوگوں کے ہجوم نے مجھے بھی اپنے ساتھ بہا دیا۔
جب شیلنگ کچھ دیر کے لیے رکی تو زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہاں بھی فوج نے قبضہ کر لیا تھا۔ نہ کسی کو زخمیوں سے ملنے دیا گیا، نہ ان کی حالت کے بارے میں کوئی اطلاع دی گئی۔
مگر خوف کے باوجود لوگ واپس آئے۔
جو منتشر ہوئے تھے، وہ دوبارہ جمع ہو گئے۔
بی وائی سی کے رہنما بھی پہنچ چکے تھے۔ اسٹیج بنایا گیا، کیمپ قائم ہوا،
نعرے اُسی جوش و جزبہِ مزاحمت کے کیساتھ بلند ہوئے؛
“گوادر نہ رؤت، تئی واب شُتگ”
اور ڈاکٹر ماہ رنگ نے لوگوں سے خطاب شروع کیا۔
انہوں نے کہا:
“آج ہم گوادر کے مہمان ہیں”
یہ جملہ ختم ہوا ہی تھا کہ لوگ خاموشی سے اپنے گھروں کی طرف چل پڑے۔
کوئی پانی لینے جا رہا تھا، کوئی کھانا، کوئی چٹائیاں اور کوئی برتن۔۔۔
اس لمحے گوادر نے ثابت کیا کہ احتجاج صرف نعروں سے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا سہارا بن کر بھی کیا جاتا ہے۔
رات تقریباً آٹھ بجے اچانک شور بلند ہوا:
“پکڑو! پکڑو!”
لوگوں نے ایک مشکوک شخص کو پکڑ لیا۔ اس کے قبضے سے واکی ٹاکی، دو موبائل فون اور ایک پستول برآمد ہوا۔ بعد میں اس کی ویڈیو بھی سامنے آئی، جس میں اس نے اپنے بارے میں اعترافات کیے کہ ریاستی انٹلیجنس اداروں نے ڈاکٹر ماہ رنگ کو “قتل” کرنے کی ٹاسک دی ہے۔

کوئٹہ میں بشیر چوک اور کرانی روڈ پر رات 9 بجے تک جاری دھرنا خواتین مظاہرین کے رہائی کے بعد ختم کر دیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
#ReleseBYCLeaders
کوئٹہ میں بشیر چوک اور کرانی روڈ پر رات 9 بجے تک جاری دھرنا خواتین مظاہرین کے رہائی کے بعد ختم کر دیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
آج بلوچستان کے شہر کوئٹہ، سریاب روڈ برما ہوٹل کے مقام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے اہلخانہ کی جانب سے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف پُرامن احتجاج ریکارڈ کیا گیا، جس میں بی وائی سی کی قیادت کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھاری تعداد میں پولیس نفری تعینات کی گئی، جس دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس اقدام کے ردعمل میں پُرامن احتجاج کو کوئٹہ کے مختلف مقامات پر دھرنوں کی صورت میں توسیع دیا گیا۔
بعد ازاں گرفتار کیے گئے چند مظاہرین کو رہا کر دیا گیا، تاہم کچھ راہ گیروں کو بھی پولیس نے حراست میں لیاگیا تھا جو اب بھی بغیر کسی جرم کے قید ہے جنہیں کل رہا کرنے کی یقین دہانی کی گئی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرنا چاہتی ہے کہ بلوچستان میں موجود سول انتظامی نظام کو عملی طور پر عسکری طرزِ انتظام میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں ایک پُرامن احتجاج کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بھی برداشت نہیں کیا جارہا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ انسانی حقوق، انصاف اور جبر کے خلاف اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔ہم تنظیم کے رہنماؤں کے خلاف جاری فیس لیس ٹرائیل کے خاتمے اور غیر منصفانہ سزا کے موخری تک مسلسل آواز بلند کرتے رہینگے۔ تمام شہریوں، سیاسی و سماجی قوتوں، وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں بنیادی حقوق کی پامالیوں اور پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر عائد قدغنوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔

آج بی وائی سی کے اسیر رہنماؤں کے اہلِ خانہ کی جانب سے برما ہوٹل، سریاب، کوئٹہ میں ایک پُرامن احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ اسیر رہنماؤں کی رہائی اور ان کے خلاف جاری کارروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کی جا سکے۔
#ReleseBYCLeaders
آج بی وائی سی کے اسیر رہنماؤں کے اہلِ خانہ کی جانب سے برما ہوٹل، سریاب، کوئٹہ میں ایک پُرامن احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ اسیر رہنماؤں کی رہائی اور ان کے خلاف جاری کارروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کی جا سکے۔
احتجاج کے آغاز سے قبل ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی بھاری نفری مقام پر تعینات تھی۔ جیسے ہی مظاہرین نے اپنا پُرامن احتجاج شروع کیا، انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی چھوٹی بہن سمیت متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔
گرفتاریوں کے خلاف احتجاجاً مظاہرین نے بشیر چوک کو بند کر دیا اور مظاہرے کو دھرنے میں تبدیل کردیا۔ اس وقت بشیر چوک پر دھرنا جاری ہے اور جب تک باقی مظاہرین کو رہا نا کیا جائے گا تب تک مظاہرہ جاری رہے گا۔ ہم کوئٹہ کے با شعور عوام، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتے کہ وہ دھرے میں شامل ہو کر اظہارِ یکجہتی کریں اور انصاف، بنیادی حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کی عمر قید کی سزا کے خلاف مستونگ بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے۔ بازار، سبزی منڈی، اڈہ اور شہید سفر خان چوک بند ہیں۔
ناانصافی کے خاتمے تک ہماری مزاحمت جاری رہے گی۔
بی وائی سی مستونگ زون
#ReleseBYCLeaders
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کی عمر قید کی سزا کے خلاف مستونگ بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے۔ بازار، سبزی منڈی، اڈہ اور شہید سفر خان چوک بند ہیں۔
ناانصافی کے خاتمے تک ہماری مزاحمت جاری رہے گی۔
بی وائی سی مستونگ زون
#ReleseBYCLeaders

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کی عمر قید کی سزا کے خلاف مستونگ بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے۔ بازار، سبزی منڈی، اڈہ اور شہید سفر خان چوک بند ہیں۔
ناانصافی کے خاتمے تک ہماری مزاحمت جاری رہے گی۔
بی وائی سی مستونگ زون
#ReleseBYCLeaders

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی مرکزی رہنما ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کو کوئٹہ کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش کر دیا گیا، جہاں عدالت نے ملزمان کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
#Quetta
#ReleseBYCleaders
#Balochistan
https://t.co/J0yZsDcy8X
Seven years
There are questions in a sister's eyes,
But the answers only meet the silent walls.
#Releaseasifandrassheed
#NdenForceddisApppearances
#ReleseBycleaders

From the National Assembly floor, PTI MNA @JunaidAkbarMNA asked Speaker @AyazSadiq122 to send MPs to meet #Baloch families protesting enforced disappearances — 29 days outside Islamabad’s National Press Club.
1/2 @MIqbal_BRP @nadirbaluchs
@msafi82
#ReleseBYCLeaders
اسلام آباد میں جب میں دو سال پہلے اپنےبھائیوں کی بازیابی کے لیے آئی اور آج بھی بیٹھی ہوں مگر اس شہر اقتدار کے رویے میں بس بے بسی دیکھی ہےیہ ہمیں انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں ان کی نظر میں ہمیں جانوروں جتنے حقوق بھی نہیں ہیں کتنے بےحس لوگ ہیں
#ReleaseAsifAndRasheed
#ReleseBYCLeaders

اسلام آباد میں جب میں دو سال پہلے اپنےبھائیوں کی بازیابی کے لیے آئی اور آج بھی بیٹھی ہوں مگر اس شہر اقتدار کے رویے میں بس بے بسی دیکھی ہےیہ ہمیں انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں ان کی نظر میں ہمیں جانوروں جتنے حقوق بھی نہیں ہیں کتنے بےحس لوگ ہیں
#ReleaseAsifAndRasheed
#ReleseBYCLeaders

اسلام آباد میں جب میں دو سال پہلے اپنےبھائیوں کی بازیابی کے لیے آئی اور آج بھی بیٹھی ہوں مگر اس شہر اقتدار کے رویے میں بس بے بسی دیکھی ہےیہ ہمیں انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں ان کی نظر میں ہمیں جانوروں جتنے حقوق بھی نہیں ہیں کتنے بےحس لوگ ہیں
#ReleaseAsifAndRasheed
#ReleseBYCLeaders

اسلام آباد میں جب میں دو سال پہلے اپنےبھائیوں کی بازیابی کے لیے آئی اور آج بھی بیٹھی ہوں مگر اس شہر اقتدار کے رویے میں بس بے بسی دیکھی ہےیہ ہمیں انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں ان کی نظر میں ہمیں جانوروں جتنے حقوق بھی نہیں ہیں کتنے بےحس لوگ ہیں
#ReleaseAsifAndRasheed
#ReleseBYCLeaders

سانکل تئی کندگانی نوِانءَ ہجالت انت۔
#ReleseBYCLeaders

They are doing everything to avoid releasing @MahrangBaloch_ and our other leaders spreading lies placing false blame just silence the truth They have been imprisoned for months without any valid reason and the authorities are fabricating excuses to justify it #ReleseBYCLeaders

Last Seen Hashtags on Sotwe
YourVids
Seen from United States
女同性恋
Seen from Japan
incest sleeping
Seen from Colombia
BabyNM
Seen from United States
granny #creampie
Seen from Argentina
HeroinePunishment
Seen from Italy
NoLimit()**** filter:native_video
Seen from Mexico
pokepasta
Seen from Japan
mbulls
Seen from India
เด็กขี้เงี่ยน
Seen from Thailand
Most Popular Users

Elon Musk 
@elonmusk
241.6M followers

Barack Obama 
@barackobama
119M followers

Cristiano Ronaldo 
@cristiano
114.1M followers

Donald J. Trump 
@realdonaldtrump
111.8M followers

Narendra Modi 
@narendramodi
107.2M followers

Rihanna 
@rihanna
98.7M followers

NASA 
@nasa
92.4M followers

Justin Bieber 
@justinbieber
91.8M followers

KATY PERRY 
@katyperry
89.8M followers

Taylor Swift 
@taylorswift13
83.8M followers

Lady Gaga 
@ladygaga
75.3M followers

Virat Kohli 
@imvkohli
73.1M followers

Kim Kardashian 
@kimkardashian
70.8M followers

YouTube 
@youtube
68.8M followers

Neymar Jr 
@neymarjr
66.1M followers

Bill Gates 
@billgates
65M followers

Selena Gomez 
@selenagomez
62.9M followers

The Ellen Show
@theellenshow
62.3M followers

CNN 
@cnn
61.8M followers

X 
@x
60.7M followers
























