عمران خان صاحب کی جھلک سے زیادہ ضروری ان کی صحت ہے۔۔ آئیے اپنے قائد سے محبت کا ثبوت یہ دیں کہ ان کے علاج میں کوئی رکاوٹ نہ بنیں۔
کوئی بندہ بھی شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل کے باہر نہ جائے کیونکہ اگر آپ باہر جائیں گے تو سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوگی جس کی وجہ سے عمران خان صاحب کے لئے پھر مشکلات پیدا نہ ہو جائیں۔
نعیم پنجوتہ
@NaeemPanjuthaa
اس سے لگ رہا ہے ہم یعنی عمران خان کے ساتھی اتنے کمزور ہو گئے ہیں کہ ایک جائز حق، ایک ایسے قیدی کا جو پاکستان کا سب سے پاپولر لیڈر ہے۔ ایک جائز کام ہوا ہے، ہم اس پر بھی خوشیاں منا رہے ہیں کہ بہت بڑا آسمان گرایا ہے، مبارک ہو جی ہسپتال جانے دیا ہے۔ البتہ ٹھیک بات ہے، دیر آئے درست آئے، شرافت کا دروازہ کھل گیا ہے۔"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
انتہائی خوفناک انکشاف!!
بلوچستان کوئیٹہ میں ایک طرف, بارودی پولیس والوں کی لاشیں پڑی ہے, تو دوسری طرف DG اور اسکی ٹیم نے Dance party رکھی تھی, کوئیٹہ شہر میں!!💔
سائفر بھولنا مت 🚨
ڈونلڈ لو نے جب پاکستان کے سفیر اسد مجید کو دھمکی دی کہ عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹاؤ تو وہ کس کو یہ پیغام دے رہا تھا کیونکہ وزیراعظم تو میں تھا
🚨عمران خان نے جیل میں کہا تھا کہ عاصم منیر مجھے جیل میں مارنا چاہتے ہیں یہ اپ سب یاد رکھنا،
عاصم منیر ایک سرکاری ملازم ہیں ان کے ہاتھ میں بندوق ہیں کیا ہم اس لئیے خاموش ہیں؟ وہ بندوق تو اپ سب کے ٹیکس کے پیسوں سے لیا گیا ہے۔
علیمہ خان
Founding Chairman Imran Khan writes to the Chief Justice of Pakistan, highlighting the grave state of affairs in the country, and reminds him of his responsibility to stay true to his oath and declared belief in the principles and values espoused by Pakistan's founding fathers & his proclamation of Supremacy of the constitution.
کمیٹیوں سے استعفیٰ دینے کے باوجود ثناء اللہ مستی خیل سرکاری گاڑی سمیت سارے مراعات لیکر عیاشیاں کر رہا ہے۔
صرف مستی خیل نہیں بلکہ سارے پارلیمنٹرینزز عمران خان کے نام پر عیاشیاں کر رہے ہیں 🖐🏿
ریڑھی چھینی تو چھینی...
غریب کا خون پیا تو پیا...
پنجاب کے غریبوں پر مسلط یہ خودنمائی کے مرض میں مبتلا مریم کا کٹھ پتلی راج عوام پر ایک عذاب ہے، جو طاقت کی ہوس میں اندھا ہو کر اب غریبوں کے چولہے بجھانے پر اتر آیا ہے۔ ریڑھی بانوں اور دیہاڑی داروں پر گرنے والی ہر لاٹھی اس فاشسٹ سوچ کا اشتہار ہے جو پورے صوبے کی معیشت کو نگلنے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہے۔
اس عمر میں اس لڑکے کو مستقبل کے سپنے سجائے کالج میں ہونا چاہیے تھا، مگر اس جبری مسلط شدہ نظام نے اسے سڑکوں پر رول دیا۔ اس قوم کا المیہ یہ ہے کہ جو لیڈر ان نوجوانوں کو کتاب اور شعور دینا چاہتا تھا، اسے انتقام کی آگ میں جھونک کر قیدِ تنہائی کا نشانہ بنا دیا گیا ہے۔
لیکن اقتدار کے نشے میں دھت یہ ٹولہ یاد رکھے؛ یہ ظلم اس مظلوم نسل کے اندر ایک لاوا پکا رہا ہے۔ جس دن اس نوجوان نسل کا سیاسی شعور مکمل ہوا، اسی دن تمہارے اس جبر کے بت پاش پاش ہو جائیں گے اور تمہارے اس اقتدار کی سانسیں اکھڑ جائیں گی!