ناپاک فوج ۔ مردہ باد
حرام خور فوج ۔ مردہ باد
کرائے کی فوج ۔ مردہ باد
ڈالری فوج ۔ مردہ باد
جرنیلی مافیا ۔ مردہ باد
کرپٹ فوج ۔ مردہ باد
تم سے اب نفرتیں انتہا کی ہیں!
یہ نفرت کسی ایک جرنیل سے نہیں، بلکہ غلاظتوں میں لتھڑے اس ادراے سے وابسطہ ہر فرد سے ہے)
جس تکلیف سے آپ گزر رہے ہیں جب تک ظالم اسی تکلیف سے نہیں گزرتا تو اسے آپکے درد کا احساس نہیں ہو سکتا. 12 ارب کے جہاز میں گھومنے والا جب تک آپکی طرح بھوکا نہیں ہو گا اسے آپکی بھوک کی تکلیف کا اندازہ نہیں ہو سکتا ہے... یہ جو باتیں کرتے ہیں سب بکواس ہیں... آپکو دھوکہ دیتے ہیں...70 گاڑیوں کے پروٹوکول میں گھومنے والے بلاول کو کیا معلوم ہاتھ میں سی وی پکڑ کر گرمیوں کی دوپہر میں ایک دفتر سے دوسرے دفتر نوکری ڈھونڈنا کیسا ہوتا ہے
@Patwaran786 ہمیں ان سے نفرت ھے شدید نفرت
ان کی شکلیں یقین کریں ٹرولنگ میں ہی دیکھنی پڑتی ہیں ادر وائز انہیں اب کوئ منہ نہیں لگاتا اور ان کے یہ منحوس بوتھے دیکھ کر ابتے آ رہے ہیں
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں. آبلے پڑ گئے زبان میں کیا۔
سرحد کے پار دونوں طرف ایک ہی کہانی ہے ایک ہی فارمولے پر لکھی۔ لیکن جب منہ عسکری موتیوں سے بھرے ہوں تو عوام سے بولنے کا حق تو چھینا ہی جاتا ہے لیکن جن کو بولنے کی اجازت ہے ان کی قریبی نظر کمزور کر دی جاتی ہے۔
شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
#خان_قید_نہیں_یرغمال_ہے
بے دلی سی ہے ، کمزوری اور تضحیک کا احساس ہے۔ عمران خان کیساتھ بدسلوکی اب انتہاء کو پہنچ رہی۔ بے پناہ عوامی مقبولیت ووٹوں میں تو تبدیل ہوگئی لیکن سوٹوں میں نہیں ہوئی۔ ہوتا ہے۔ شروع شروع میں ایسے ہی ہوتا ہے۔ مٹی ڈھونے والوں کے لڑکے کو پیار ہوا اس سے کسی نے پوچھا پیار کیسا ہوتا ہے۔ کہتا ہے جیسے پیارا سا کھوتی کا کوئی بچہ ہوتا ہے۔ شروع شروع میں سب ایسے ہی لگتا ہے۔ پھر ایک دن مستونگ ، زیارت اور ڈھاکہ ہوجاتا ہے۔ بی ایل اے اور مکتی باہنی ہوجاتا ہے۔
ابھی تو خدا مزید برا کرے فیلڈ مارشل اور اسکے جرنیلی ٹولے کا ، چار سال ہوگئے کچھ بھی سنبھال نہیں پائے۔ آج بھی تسلے جیسے منہ اٹھا کر سعودی عرب اور امریکہ سے ادھار تیل مانگ رہے ہیں۔ ایکسپورٹس گررہی ہیں ، امپورٹس بڑھ رہی ہیں۔ انڈسٹری ساری کھا پی گئے ہیں۔ امن و امان ان سے برقرار نہیں رکھا جارہا ہے ۔ ہمیں تو ایک غم ہے کہ ہم کمزور ہیں ادھر اوپر نیچے ناکامیاں ہیں۔ ہر گزرتا دن مصیبت ہے۔ اگر ہمارے سینوں میں بے مائیگی کا احساس کے تو انکے دلوں پر خوف اور انجام کا بوجھ ہے۔ ہم نے تو پہلے دن سے دیکھ لیا تھا ، کہ لمبی لڑائی ہے۔ لڑیں گے۔ انکے تو دن ہیں انہوں نے وہی گزارنے ہیں۔ گزار لیں جتنے گزار سکتے ہیں۔
ہم نے نہ جانے کیوں خان کو پتھر سمجھ لیا ہے، حالانکہ وہ بھی ایک انسان ہیں
کیا اکیلے ایک 73 سالہ شخص نے ہی پاکستان کو بچانے کا ٹھیکہ لیا ہے؟
وہ ہماری خاطر 1077 دنوں سے قید اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ہم صرف یہ کہہ کر مطمئن ہیں کہ "وہ ڈٹے ہوئے ہیں۔"
خان صاحب کہاں ہے۔؟