رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
” اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: تیر بنانے والے کو جو بناتے وقت ثواب کی نیت رکھتا ہو، تیر انداز کو اور تیر دینے والے کو“ ۔
(جامع ترمذی، ۱۶۳۷)
پانچ نمازیں اللہ نےفرض کی ہیں،جو ان کا وضو عمدہ بنائے اور انہیں ان کےاوقات پر ادا کرے،ان کے رکوع اور خشوع کامل رکھے،توایسےشخص کےلیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسےبخش دے گا۔اور جو یہ نہ کرے تو اس کےلیے اللہ کاکوئی وعدہ نہیں ہے اگر چاہےتو معاف کر دےاور اگر چاہے توعذاب دے۔
(ابوداؤد،۴۲۵)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی تو اس نے اس دن کا شکر ادا کر دیا
*اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ ، أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ ، فَمِنْكَ وَحْدَكَ لا شَرِيكَ لَكَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ*
اے اللہ! صبح کو جو نعمتیں میرے پاس ہیں یا تیری کسی ملخلق کے پاسس ہیں وہ تیری ہی دی ہوئی ہیں، تو اکیلا ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے،تیرے ہی لئے سری تعریفیں ہیں اور تیرے ہی لئے شکر ہے
صحيح ابن حبان ٨٦٨-حسن
شعب الإيمان للبيهقي ٤٠٥٣-صحیح
السنن الكبرى للنسائي ٩٤٤٧ -صحیح
موٹاپا سستی کاہلی کا سبب
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
تمام لوگوں سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹے تازے ہوں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دیتے پھریں گے۔
ترمذی، ح2221
نبی کریمﷺنے فرمایا:
(جمعہ کے) دن مجھ پرکثرت سے درود پڑھا کرو تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔
پوچھا گیا کہ جب آپﷺکا جسم مبارک خاک ہوجائیگا تب کسطرح ہمارا درود آپﷺکے سامنے پیش ہوگا؟
آپﷺنے فرمایا:
اللہ نے زمین پر حرام کر دیاہے کہ وہ نبیوںؑ کے جسموں کو کھائے۔
{ابن ماجہ۔۱۰۸۵}
ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
(صحیح بخاری ،٦٢٣٦)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
منافق کی علامتیں تین ہیں ۔ جب بات کرے جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے ۔
(صحیح البخاری : 33)
اے الله!
بے شمار درُود و سلام، رحمتیں و برکتیں اُس آخری رسول پر کہ جس پہ تو نے اپنے دین، ہدایت اور نبوت کی تکمیل فرمائی، جس نے ہمیں اندھیروں سے نکال کر صراط مستقیم کی ہدایت عطا کی.
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد
(بخاری 3370)
السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته
(بخاری 6230)
قالَ النبی ﷺ:
الله کی قسم! دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی یہ انگلی سمندر میں ڈالے (راوی یحییٰ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا)، پھر دیکھے کہ وہ انگلی کتنا پانی ساتھ لے کر واپس آتی ہے.
مسلم 7197
(ترمذی 2323؛ ماجہ 4108؛ حاكم 6510؛ مشکوٰۃ 5156)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
مجھے دنیا سے کیا مطلب ہے، میری اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سوار ہو، جو ایک درخت کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لئے بیٹھے، پھر وہاں سے کوچ کر جائے، اور درخت کو اُسی جگہ چھوڑ دے.
ترمذی 2377
(ماجہ 4109؛ حاکم 7859؛ حبان 6352؛ مشکوٰۃ 5188)
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں:
رسول الله ﷺ سے عرض کیا گیا: یا رسول الله! مشرکین کے خلاف دعا کیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، (بلکہ) مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے."
مسلم 6613
(السلسلة الصحيحة 3449؛ مشکوٰۃ 5812)
قالَ النبی ﷺ:
الله نے آدم ؑ کو ایک مٹھی مِٹی سے پیدا کیا، جس کو اس نے ساری زمین سے لیا تھا، چنانچہ آدم ؑ کی اولاد اپنی مٹی کی مناسبت سے ہے. کوئی سفید، کوئی سرخ، کوئی کالا اور کوئی ان کے درمیان، اور کوئی نرم مزاج تو کوئی سخت مزاج، کوئی خبیث (ناپاک) تو کوئی پاک باز.
ابوداؤد 4693
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی، میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔“
(صحیح بخاری، ۶۴۲۴)
اے نبی! بیشک ہم نے تمہیں ایسا بنا کر بھیجا ہے کہ تم گواہی دینے والے، خوشخبری سنانے والے اور خبردار کرنے والے ہو اور اللہ کے حکم سے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے، اور روشنی پھیلانے والے چراغ ہو
سورۃ الاحزاب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی دل سے الحمدلله رب العالمین کہیگا (یعنی زبان کے ساتھ دل سے بھی اس کا یکین ہو کی تمام تعارف الله کے لئے ہے اور وہ ہی سارے جہاں کا پالنے والا ہے ) تو اس کے لئے ٣٠ نیکیاں لکھی جائے گی اور ٣٠ گناہ مٹا دیے جاینگے
مسند احمد ٥٤٥٠ صحیح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الحمد لله کہنے سے میزان (نیکیوں سے) بھر جاتا ہے
سنن ابن ماجہ جلد ١ ، حدیث ٦٨١ حسن