*الرٹ: (ٹریفک کا دباؤ ہے)*
*بوقت:* 08 بجکر 38 منٹ
*بمقام* عیسی نگری جانب نیشینل اسٹیڈیم سرشاہ سلیمان روڈ
*بوجہ* ایکسپو سینٹر میں O لیول کے امتحانات ہو رہے ہیں طلباء کی آمد و رفت جاری ہے
جس کی وجہ سے عیسی نگری جانب نیشینل اسٹیڈیم ٹریفک کی روانی آہستہ ہے
*ٹریفک پولیس
نیشنل میڈیا+پٹواری+زردار کے کتورے+قلم کتے ۔۔۔۔ سب نے تحریکِ انصاف کی واضح اکثریت کے بعد ۔۔ چووں چووں شروع کر دی ۔۔۔ اور مالک کے دروازے پہ بھکاریوں کی طرح کھڑے ہیں ۔۔۔ مالک کچھ کرو ۔۔۔ تمھارا بیانیہ زمین بوس کر دیا ۔۔۔ گلگت بلتستان کی غیور عوام نے ۔۔۔ @iamlyari
وہ اس نے اپنے منافع کے لیے رکھی نہ کہ حکومت کے اداروں کے لے کہ آؤ ہمیں نقصان دو حکومت کو اپنے انوسٹر کے لیے گندم لینی تھی تو کسان کی منت کر کے گندم لیتے نہ کہ عوم سے گندم کھینچ
@Nehakhaannn کروڑوں لاکھوں کے جانور لیتے
گلی محلہ میں باڑہ بنانے کے ھزاروں لگاتے تو باقیات اور فضلہ کو پراپر تھیلیوں میں ریپ کرکے ڈسپوز کرنے کا عمل بھی کرلیں۔
مگر اپنی اوقات دکھانے کا موقع اور سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں پر رنگ بازی کون کریگا
کراچی ایڈمنیسٹریشن بشمول چیف منسٹر اور مئیر کراچی نکمی ناھل اور منہ کے بدچودے ھیں
اور کراچی کے رھائشی ان سے بھی بڑھکر ھیں
لوگوں نے اپنے گھروں کے سامنے بندھے جانور کا کچرہ اور قربانی کے بعد جانور کا فضلہ مین شاھراھوں پر پھینک کر سنت ابراھیمی منائی ھے ۔
گلشن اقبال والے متوجہ ھوں
الخدمت قصائی سروس رحمتیہ گراؤنڈ متصل جامع مسجد الستار گلشن اقبال بلاک 13ڈی 02 1/2 دن صرف بکروں کیلئے 14سے 15کلو کا بکرا 4500 میں اسلامی / شریعتی روایت کے مطابق
مولانا قاری محمد شریف برائے رابطہ 03143977886٫03212537759
یہ کسان بھی عید کے دنوں میں فرعون بن جاتے ھیں
جائز منافع لیں سب بکتا ھے
اس دفعہ کراچی منڈی میں ایا بیوپاری اپنا مال بیچ کر گھروں کو روانہ ھو چکا ھے کیونکہ اس دفعہ جائز منافع پر مال بکا۔
آج سنگجانی میں قائم مویشی منڈی جانے کا اتفاق ہوا دور دراز علاقوں سے کسان اپنے مال مویشی لے کر راولپنڈی اور اسلام آباد اس امید کے ساتھ پہنچے ہیں کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر اچھی فروخت ہوگی اور سال بھر کی محنت کا کچھ معاوضہ مل جائے گا
مگر زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس دکھائی دئیے��نڈیوں میں کسان پریشان اور مایوس بیٹھے ہیں، کیونکہ عوام کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہو چکی ہے عام آدمی کے لیے قربانی کا جانور خریدنا بھی مشکل بنتا جا رہا ہےمعاشی بدحالی نے لوگوں سے خوشیاں چھین لی ہیں حکمران صرف دعوؤں اور بیانات میں مصروف ہیں
مروت بے مروت نکلا
اسنے اج یہ ثابت کیا کہ سوشل میڈیا اسکی ٹرولنگ درست ھی کرتا ھے۔
انگلش میں اسے کہتے ھیں
A Snake in the Bush.
@ImranARaja1@ImranAw90119998