مراد سعید کا پیغام | 6 مئی 2026
[انگریزی سب ٹائٹلز - اردو بیان]
مراد سعید کا پارٹی قیادت، وکلاء اور اراکین اسمبلی کو عمران خان کی رہائی اور ملک گیر تحریک کے حوالے سے پیغام:
- عمران خان کی صحت، مہنگائی، ٹیکسز اور موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں فوری اور بھرپور تحریک چلانے کا مطالبہ۔
- اسمبلیوں سے استعفوں سمیت حکومت سے legitimacy واپس لینے کی تجاویز کو دوبارہ دہرانے پر زور۔
- قیادت اور سیاسی کمیٹی سے مشترکہ اجلاس اور واضح حکمت عملی اختیار کرنے کا مطالبہ۔
-اجلاس کو لائیو نشر کرنے کی تجویز تاکہ قوم رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کو پہچان سکے۔
- فوری عملی اقدامات اور فیصلے ناگزیر ہیں۔
#ReleaseImranKhan
#SubtitledByPTI | #MuradSaeed
@MuradSaeedPTI
#مزاحمت_سے_زنجیریں_ٹوٹیں_گی
🚨27 ستمبر لانگ مارچ عوام کا لانگ مارچ ہے جس میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو شامل ہونا ہوگا، ہر مزدور، کسان، سرکاری ملازم، تاجر سب کو اس لانگ مارچ کا حصہ بننا ہوگا
یہ کسی مخصوص پارٹی یا تنظیم کا لانگ مارچ نئیں ہے
یہ لانگ مارچ پاکستان کی حقیقی آزادی کی خاطر ہے
ہماری نسلوں کے مستقبل کے لئیے ہے✌️
ثمینہ خاور حیات سابقہ ایم پی اے
پاکستان تحریک انصاف
مشیر وزیرِ اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی
وزارت جیل خانہ جات حکومتِ پنجاب،
چئیرپرسن وزارت تعلیم حکومت پنجاب
چئیر پرسن وزارت پروڈکشن اینڈ انڈسٹریز
فیڈرل ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ پاکستان
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
خبر آرہی ہے کہ ہجرت کامران کو اغواء کرکے لے گئے ۔۔!!!
اور کارکنان پر فائرنگ بھی ہوئی ہے.
اگر کسی کے پاس تفصیلات ہیں تو پلیز شیئر کریں۔۔
@taigr1236@Amin_Wazir_Ik@bannufans
اللہ الحق ہے ۔
جمائمہ خان کے ذاتی زندگی پر کیچڑ اچھالنے اور بشرا بی بی کے خلاف عدت جیسے گھٹیا کیس بنانے والے اور اس کا دفاع کرنے والے جاتی امراء کے ذاتی ملازمین کیلئے بری خیبر یہ ہے کہ نون لیگ کے اپنے وکیل نے مریم صفدر اور کیپٹن صفدر کا نکاح جعلی قرار دے دیا ۔
اگر نکاح نامہ جعلی ہے تو اس کا مطلب بچے اور جتنے ذندگی ساتھ میں گزاری ہے وہ سب گناہ اور حرام کا کام کیا تھا ۔
اب کرو اس کا دفاع
سہیل افریدی بسٹر گوہر 🚨🚨🚨
ہجرت کامران کے کچھ ساتھی جو بھاگنے میں کامیاب رہے
وہ بتا رہے ہیں کہ موقع پر ہی ہجرت کامران کو اس قدر مارا گیا
کہ ہم خوفزدہ ہیں کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں💔
@SohailAfridiISF@salmanAraja@ImranKhanPTI
اگر اج ہم خوف زدہ ہو گئے تو ہماری نسلیں بھی ظالموں کے ظلم سے بچ نہیں سکیں گی ۔۔
اپنی نسلوں کے لیے 27 ستمبر کو خوف کے بت توڑ کر نکلیں ۔۔۔
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی
لاہور ہائیکورٹ عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمی خانم اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواستیں
عدالت نے نظر بندی کا نوٹیفکیشن فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی
عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا .
لاہور ہائیکورٹ عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمی خانم اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواستیں
عدالت نے نظر بندی کا نوٹیفکیشن فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی
عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا .
ڈاکٹر یاسمین راشد، عالیہ حمزہ، فَلک جاوید اور صنم جاوید سمیت وہ خواتین جو سیاسی جدوجہد کی قیمت قید، مقدمات اور مشکلات کی صورت میں ادا کر رہی ہیں—ان کی ثابت قدمی اپنی جگہ ایک الگ داستان ہے۔
اور عمران خان کے خاندان کی خواتین—بشریٰ بی بی، ڈاکٹر عظمیٰ خانم، نورین نیازی اور علیمہ خان—یہ سیاسی عہدہ رکھنے والی خواتین نہیں، بلکہ خاندان کی حیثیت سے اس مشکل دور سے گزر رہی ہیں۔ اس کے باوجود انہیں گرفتاریوں، مقدمات اور مسلسل دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ وہ خواتین ہیں جو اپنے گھروں میں سکون اور آسائش کے ساتھ زندگی گزار سکتی تھیں، مگر آج ان کے نام جدوجہد، صبر اور قربانی کے ساتھ لیے جا رہے ہیں۔
ان کی قربانیوں کو سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو کر قانون، انسانی وقار، آئینی حقوق اور انصاف کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ کسی بھی معاشرے میں خواتین اور خاندانوں کو سیاسی اختلافات کی قیمت اس انداز میں ادا نہیں کرنی چاہیے۔
معصومہ میر ایڈووکیٹ
مرکزی ترجمان، انصاف لائرز فورم پاکستان (ILF)
#WomenForJustice #RuleOfLaw #HumanRights #JusticeForAll #ImranKhan
@PTIofficial@agentjay2009@MashwaniAzhar@Aleema_KhanPK@Kasim_Khan_1999@QasimZamanK@salmanAraja@Dr_YasminRashid@aliya_hamza@falakjavaidkhan@sanamkh22
جنید جہانگیر کی غیر قانونی حراست اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ جب اقتدار پر قابض اور طاقتور گروہ اپنے مفادات کے لیے ہاتھ ملاتے ہیں، تو عام انسانوں کی زندگیوں کو بے دردی سے تباہ کر دیا جاتا ہے۔
🚨 ہنگامی خبر:
مردان، شکئی میں حاجی فیاض کے حجرے پر حقیقی آزادی ٹائیگرز ٹیم پر پولیس کا حملہ اور فائرنگ! ایک ساتھی زخمی جبکہ باقی سب کو اٹھا لیا گیا، گھر میں صرف خواتین ہیں۔ کسی کو نقصان ہوا تو اس کی مکمل ذمہ دار کے پی کے حکومت، وزیر اعلیٰ اور پارٹی قیادت ہوگی۔ ہماری آواز بنیں
27 ستمبر — خان کی رہائی، فیصلہ کن تحریک!
قوم کا عزم پختہ، حوصلے بلند اور منزل واضح ہے۔
آئین، جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے عوام اپنی آواز بلند کریں گے۔
نکلو عمران خان کی خاطر، نکلو پاکستان کے روشن مستقبل کی خاطر!
#مزاحمت_ہی_خان_کی_رہائی