پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کی دو نظریاتی اور وفادار رکن
محترمہ کنول شوزب صاحبہ صدر وومن ونگ پاکستان
سمینہ خاور حیات صاحبہ جنرل سیکرٹری لاہور وومن ونگ
جو مشکل ترین حالات اور بے شمار پرچے اور سزاؤں کے باوجود عمران خان کے نظریے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہیں
@casanova3131@r11122255@KanwalMna@khawarsamina1 اپ لوگوں کی مہربانی جو پی ٹی ای کے اصل دشمن پر ان کو راہ حق پر لایئں
عمران خان کے وفادارں پر تنقید نہ کریں
@KanwalMna اس وقت ایم این اے یا وزیر نہیں ہیں کیا ضرورت تھی ان کو مشکلات کا سامنا کرنے کی؟پریس کانفرنس کر کے جان چھڑوا لیتی لیکن عمران خان کے لیے کھڑی ہیں ہے
شاہ است حسینؑ، بادشاہ است حسینؑ
دین است حسینؑ، دین پناہ است حسینؑ
سَر داد، نَداد دست در دستِ یزید
حقّا کہ بنائے لا الٰہ است حسینؑ
حسینؑ بادشاہ ہیں، بلکہ بادشاہوں کے بھی بادشاہ ہیں۔
حسینؑ دین ہیں، اور دین کے محافظ و پناہ گاہ بھی حسینؑ ہیں
This family is incomplete without adding Bushra Bibi,
Her sacrifices are greater than any women.
She is enduring the hardest jail along with her husband! No women has ever been politically victimised like her, being the wife of ex pm
#ReleaseBushraImran@soulful7867@PTIofficial
اگر آج عمران خان جیل سے باہر آ جائیں تو دنیا ایک ایسا عوامی ردِعمل دیکھے گی جو حالیہ تاریخ میں شاید کسی رہنما کے لیے نہیں دیکھا گیا۔ اڈیالہ جیل کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی لوگ سڑکوں پر آ جائیں گے—کوئٹہ سے کراچی تک۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اس وقت حکومت کو سب سے زیادہ خوفزدہ کرتی ہے۔
اب اس نتیجے سے بچنا مشکل ہو گیا ہے کہ پاکستان میں دھاندلی کے ذریعے لائی گئی یہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اپوزیشن کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن، بنیادی آزادیوں کا گلا گھونٹنا، عدلیہ کی آزادی کا خاتمہ، اور میڈیا پر مکمل کنٹرول—ان سب کے باوجود حالات بہتر نہیں ہوئے۔ بلکہ ہر دن کے ساتھ مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اسے اب کم کرنا ناممکن لگتا ہے۔
ہمیں بار بار زرمبادلہ کے ذخائر میں معمولی بہتری کی بات سنائی جاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بہتری قرضوں پر کھڑی ہے۔ سرمایہ کاری تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ اور پڑھے لکھے لوگ تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، برآمدات کم ہو رہی ہیں، اور بے روزگاری اور غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جو پاکستان میں رہتا ہے، وہ یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔
صورتحال کو اور زیادہ سنگین یہ بات بناتی ہے کہ یہ حکومت، جو پہلے ہی عوام میں غیر مقبول ہے، کسی بھی قسم کی حقیقی اصلاحات کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ نہ عوامی حمایت ہے، نہ کوئی واضح منصوبہ۔ اس کے بجائے ہم ایک عجیب و غریب تماشا دیکھ رہے ہیں—بس اسٹاپس پر چہرے، اخبارات میں اشتہارات، حتیٰ کہ پھلوں کی ریڑھیوں پر تصویریں—جیسے تشہیر سے ہی ساکھ واپس آ جائے گی۔ ایسا بھی کبھی ہوا ہے؟
سب سے مقبول سیاسی جماعت اور اس کے قید رہنما کو غدار، دہشت گرد یا ریاست مخالف قرار دینے کی کوشش بھی بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ بلکہ اس کا الٹا اثر ہوا ہے۔ عمران خان کی مقبولیت کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جتنا عرصہ وہ جیل میں رہتے ہیں، عوام کے دلوں میں ان کی علامتی حیثیت اتنی ہی مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔
اس مرحلے پر حکومت کے پاس کوئی حقیقی راستہ باقی نہیں بچا۔ وہ صرف دیکھ اور انتظار کر سکتی ہے کہ کس طرح معیشت اور سیاست ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ نہ جواز باقی ہے، نہ عوام کا اعتماد، نہ آگے بڑھنے کا کوئی قابلِ اعتبار منصوبہ۔ پورا نظام شدید دباؤ میں ہے۔ موجودہ نظام کے کوئی پیر نہیں ہیں۔ جبر اور فراڈ پر کھڑا نظام ایک چنگاری یا ہوا کا جھونکا بھی برداشت نا کر پائے گا۔
6جنوری
بروز منگل
اڈیالہ میں شہدا کے ایصال ثواب اور اسیران جیل کی رہائی کے لئے سورہ یسین کی پڑھائی۔
پریزیڈنٹ پی ٹی آئی وومن ونگ پاکستان محترمہ کنول شوذب صاحبہ کی ہدایات کے مطابق صبا افضل سینٹرل وائس پریزیڈنٹ \ ٹریننگ ہیڈ پی ٹی آئی پاکستان نے سینٹرل سینئر وائس پریذیڈنٹ منورہ بلوچ اور ایڈیشنل جنرل سیکرٹری صائمہ خالد کے ساتھ اس میں بھرپور شرکت کی۔
السلام و علیکم!
سوشل میڈیا پر کچھ عناصر کی جانب سے خواتین کے خلاف جو نفرت انگیز مہمات اور کردار کشی کی جا رہی ہیں، وہ شرمناک، غیر اخلاقی اور ناقابل قبول ہیں۔ ان خواتین کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی نظریے اور قائد کے ساتھ وفاداری نبھائی، اور اس کے بدلے میں انہیں ذاتی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ حرکت کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ہم واضح طور پر کہتے ہیں: سیاسی اختلاف کا مطلب خواتین کی توہین نہیں، کسی کو تضحیک اور ذلیل کرنے کا حق نہیں۔
سوشل میڈیا کو انتشار اور نفرت کے لیے استعمال کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ فوراً اس رویے کو ختم کریں، ورنہ ان کے اعمال کے نتائج ان کے لیے خود تباہ کن ہوں گے۔
کسی بھی لیڈر یا نظریے کے ساتھ وفاداری جرم نہیں۔ کردار کشی جرم ہے۔ اور ہم اس کا مخالف ہیں۔
السلام و علیکم!
سوشل میڈیا پر کچھ عناصر کی جانب سے خواتین کے خلاف جو نفرت انگیز مہمات اور کردار کشی کی جا رہی ہیں، وہ شرمناک، غیر اخلاقی اور ناقابل قبول ہیں۔ ان خواتین کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی نظریے اور قائد کے ساتھ وفاداری نبھائی، اور اس کے بدلے میں انہیں ذاتی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ حرکت کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ہم واضح طور پر کہتے ہیں: سیاسی اختلاف کا مطلب خواتین کی توہین نہیں، کسی کو تضحیک اور ذلیل کرنے کا حق نہیں۔
سوشل میڈیا کو انتشار اور نفرت کے لیے استعمال کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ فوراً اس رویے کو ختم کریں، ورنہ ان کے اعمال کے نتائج ان کے لیے خود تباہ کن ہوں گے۔
کسی بھی لیڈر یا نظریے کے ساتھ وفاداری جرم نہیں۔ کردار کشی جرم ہے۔ اور ہم اس کا مخالف ہیں۔
@KanwalMna ان میں اگر اتنی جرات ہو تو کم از کم فیک اکاؤنٹ تو نہ بنائیں
یہ پیٹھ کے پیچھے وار کرنے والے بزدل پارٹی دشمن ہیں اور خان صاحب کے دیے ہوئے عہدے داروں کے دشمن خان کے دشمن ہیں
السلام و علیکم!
سوشل میڈیا پر کچھ عناصر کی جانب سے خواتین کے خلاف جو نفرت انگیز مہمات اور کردار کشی کی جا رہی ہیں، وہ شرمناک، غیر اخلاقی اور ناقابل قبول ہیں۔ ان خواتین کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی نظریے اور قائد کے ساتھ وفاداری نبھائی، اور اس کے بدلے میں انہیں ذاتی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ حرکت کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ہم واضح طور پر کہتے ہیں: سیاسی اختلاف کا مطلب خواتین کی توہین نہیں، کسی کو تضحیک اور ذلیل کرنے کا حق نہیں۔
سوشل میڈیا کو انتشار اور نفرت کے لیے استعمال کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ فوراً اس رویے کو ختم کریں، ورنہ ان کے اعمال کے نتائج ان کے لیے خود تباہ کن ہوں گے۔
کسی بھی لیڈر یا نظریے کے ساتھ وفاداری جرم نہیں۔ کردار کشی جرم ہے۔ اور ہم اس کا مخالف ہیں۔
السلام و علیکم!
سوشل میڈیا پر کچھ عناصر کی جانب سے خواتین کے خلاف جو نفرت انگیز مہمات اور کردار کشی کی جا رہی ہیں، وہ شرمناک، غیر اخلاقی اور ناقابل قبول ہیں۔ ان خواتین کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی نظریے اور قائد کے ساتھ وفاداری نبھائی، اور اس کے بدلے میں انہیں ذاتی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ حرکت کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ہم واضح طور پر کہتے ہیں: سیاسی اختلاف کا مطلب خواتین کی توہین نہیں، کسی کو تضحیک اور ذلیل کرنے کا حق نہیں۔
سوشل میڈیا کو انتشار اور نفرت کے لیے استعمال کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ فوراً اس رویے کو ختم کریں، ورنہ ان کے اعمال کے نتائج ان کے لیے خود تباہ کن ہوں گے۔
کسی بھی لیڈر یا نظریے کے ساتھ وفاداری جرم نہیں۔ کردار کشی جرم ہے۔ اور ہم اس کا مخالف ہیں۔
السلام و علیکم!
سوشل میڈیا پر کچھ عناصر کی جانب سے خواتین کے خلاف جو نفرت انگیز مہمات اور کردار کشی کی جا رہی ہیں، وہ شرمناک، غیر اخلاقی اور ناقابل قبول ہیں۔ ان خواتین کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی نظریے اور قائد کے ساتھ وفاداری نبھائی، اور اس کے بدلے میں انہیں ذاتی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ حرکت کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ہم واضح طور پر کہتے ہیں: سیاسی اختلاف کا مطلب خواتین کی توہین نہیں، کسی کو تضحیک اور ذلیل کرنے کا حق نہیں۔
سوشل میڈیا کو انتشار اور نفرت کے لیے استعمال کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ فوراً اس رویے کو ختم کریں، ورنہ ان کے اعمال کے نتائج ان کے لیے خود تباہ کن ہوں گے۔
کسی بھی لیڈر یا نظریے کے ساتھ وفاداری جرم نہیں۔ کردار کشی جرم ہے۔ اور ہم اس کا مخالف ہیں۔
السلام و علیکم!
سوشل میڈیا پر کچھ عناصر کی جانب سے خواتین کے خلاف جو نفرت انگیز مہمات اور کردار کشی کی جا رہی ہیں، وہ شرمناک، غیر اخلاقی اور ناقابل قبول ہیں۔ ان خواتین کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی نظریے اور قائد کے ساتھ وفاداری نبھائی، اور اس کے بدلے میں انہیں ذاتی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ حرکت کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ہم واضح طور پر کہتے ہیں: سیاسی اختلاف کا مطلب خواتین کی توہین نہیں، کسی کو تضحیک اور ذلیل کرنے کا حق نہیں۔
سوشل میڈیا کو انتشار اور نفرت کے لیے استعمال کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ فوراً اس رویے کو ختم کریں، ورنہ ان کے اعمال کے نتائج ان کے لیے خود تباہ کن ہوں گے۔
کسی بھی لیڈر یا نظریے کے ساتھ وفاداری جرم نہیں۔ کردار کشی جرم ہے۔ اور ہم اس کا مخالف ہیں۔