تم سے بہلے گی کب، اداسی ہے
آج دل میں عجب اداسی ہے
آسماں ، رنگ ، سنگ ، شعر ، صدا
دل سے دیکھوں تو سب اداسی ہے
مانگنا کیا ہے بے دلی کے بعد
اور کیا چاہوں جب اداسی ہے
نیستی ہے کمال ہستی کا
انتہائے طرب اداسی ہے
دل میں بس دو مکین رہ پائے
پہلے الفت تھی اب اداسی ہے
@imaasmabatool سکون ملے گا انھیں اپنے روبرو کر کے
ہم اور ٹوٹ نہ جائیں ان سے گفتگو کر کے
باتیں تھیں ہزار جس شخص کے لیے
روبرو ہوا تو سبھی لفظ بھول گۓ
ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻭﺑﺮﻭ ﻫﻮ ﺗﻮ ﻫﻢ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻫﺎﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﻫﯿﮟ