Bilawal sahib wants to have a cake and eat it too. If he is a national leader he should not cut jokes over a serious matter of stolen mandate of people and yet support the same govt as a coalition partner. In doing so he is adding insult to the injuries of victim voters of Lahore. Apparently Bilawal just wants to form govt in GB and then live in Bilawal House Lahore happily for ever.
By not taking a serious position on "stolen mandate of Lahore" he actually wants to turn GB into Karachi. So much for the so called "stolen mandate of Lahore."
𝙒𝙝𝙚𝙧𝙚 𝙞𝙨 𝙄𝙢𝙧𝙖𝙣 𝙆𝙝𝙖𝙣?
A few simple questions. No politics, just transparency, accountability, and the right to know.
If everything is lawful and transparent, let the facts be independently verified.
@PakPMO@UN@amnesty@hrw@Reuters@AP#WhereIsImranKhan
#EndKhansIsolationNow
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.
چار سال حکومت کر کے، عوام پر ظلم کر کے سب کو چپ کروا کر بھی معیشت ٹھیک نہیں کر سکے۔ یہ آفیشل نمبرز ہیں- اصلی نمبرز تو شاید اس سے بھی زیادہ خراب ہوں گے!
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
کل آپ ان سے مذاکرات کرتے ہیں وہ محب وطن ہوتے ہیں، ایک حکومت کو ویک (weak) کیا جاتا ہے، گرایا جاتا ہے، ان کی باتیں مانی جاتی ہیں، اور آج وہ غدارِ وطن ہو جاتے ہیں اور آپ ان کو کہتے ہیں جی کہ یہ وطن کے دشمن ہیں، دہشت گرد ہیں، ان سے بات ہی نہیں ہو سکتی۔ اس طرح سے ملک چلایا جائے گا؟ کل یہی چیزیں آپ کو جی بی (GB) میں پیش آئیں گی۔
میں یہاں پر ریکارڈ پر کہنا چاہتا ہوں کل جی بی میں یہی مشکلات پیش آئیں گی۔ لوگوں کو پریشانی ہے کہ ہماری ہماری معدنیات پر قبضہ ہو جائے گا، ہماری زمینوں پر قبضہ ہو رہا ہے۔ اب انہوں نے باقاعدہ ان الیکشن میں مجھے کہا کہ آپ نے مینی فیسٹو میں یہ نہیں کہنا ہے کہ ہم پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں، ہمیں پاکستانی آئڈنٹٹی (identity) دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ جب ابھی آئینی شناخت نہیں ملی، قبضہ ہو رہا ہے یہاں پر، اور ہمارے پر مسلط کیا جاتا ہے لوگوں کو لا کر، تو کل جی بی کے اندر بھی حالات خراب ہوں گے۔
قائد حزب اختلاف سینٹ سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس
کوٹلی میں رینجرز کی گولیوں سے شہید ہونے والے شہداء۔
یہ گولیاں انہی کے ٹیکس کے پیسوں سے خریدی گئیں اور پھر انہی کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ پانے والوں نے اپنے حلف سے زیادہ آقاؤں کے حکم کی پاسداری کی۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو#ذہنی_مریض
“ہم عمران خان کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے، ہم بہنیں تو نہیں چھوڑیں گی، عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے اس پر ہمارا احتجاج کرنا ضروری ہے، عمران خان کا علاج اور ان کی قیدتنہائی کے خاتمے کی ڈیمانڈ ہم فروری سے کررہے ہیں، ہم ایک آئینی اور قانونی چیز مانگ رہے ہیں، یہ عمران خان کا حق ہے کہ ان کا علاج ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے ہو، قید تنہائی کا خاتمہ ہو۔۔”
- @Aleema_KhanPK
#FreeImranKhan
“آپ بتائیں عمران خان کس چیز سے Step back کریں؟ عمران خان آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، کیا اس سے step back کریں؟ عمران خان نے کہا شفاف انتخابات قوم چاہتی ہے، کیا اس سے پیچھے ہٹنا ہے؟ آپ قوم سے پوچھیں عمران خان کس چیز سے پیچھے ہٹیں؟ عمران خان جیل میں اس لیے ہیں کہ وہ ڈیل نہیں قبول کررہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے ملک اور اپنی قوم کے لیے کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔۔”
- @Aleema_KhanPK
#FreeImranKhan
تو جی بی کا الیکشن آٹھ فروری کا ہی ایک ریپیٹ تھا، وہ ایک سلیکشن تھی جو الیکشن کے نام پر کر لی گئی ہے اور اب ریوڑیوں کی طرح اقتدار بانٹا جائے گا۔ جو اسلام آباد میں اٹھارہویں ترمیم پر شاید کوئی سیٹلمنٹ کر لیں، بس پھر بدلے میں انہیں اقتدار مل جائے گا۔ یہ اقتدار دینے کا کون سا طریقہ ہے؟ اس میں عوام کی کیا حیثیت ہے؟"
ان تمام چیزوں کی وجہ سے ملک میں بڑے تشویش ناک حالات پیدا کر دیے گئے ہیں۔ بلوچستان میں اختر جان مینگل نے 10 تاریخ کو ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے، ہم اس ہڑتال کی بھی حمایت کریں گے، وہ ہمارے کولیشن پارٹنر ہیں اور وہاں کی صورتحال مخدوش ہے۔
اور پھر جو پولیٹیکل پریزنرز (سیاسی قیدیوں) کے ساتھ ہو رہا ہے؛ عمران خان صاحب کے ساتھ ملاقاتیں نہیں ہونے دی جا رہیں، جو لاہور میں اسیران ہیں ان کو میڈیکل گراؤنڈز پر بھی (علاج کی) اجازت نہیں مل رہی۔ ریاست کی یہ جو بروٹیلٹی (سفاکی) ہے، یہ تھمنے میں نہیں آ رہی اور بالآخر یہ لوگوں کو دیوار سے لگا رہے ہیں۔"
وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان مصطفی نواز کھوکھر
پاکستان میں عمران خان صاحب کی وفاقی جمہوری حکومت کو ۹ اپریل ۲۰۲۲ کو بیرونی سازش پر اندرونی غداروں کے ذریعے گرایا گیا۔ تابعدار قیادت کو ملک پر مسلط کر کے مستحکم پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیلا گیا۔ پاکستان کے سابقہ وزیراعظم اور مقبول لیڈر کو جعلی کیسز میں ناحق جیل بھیج دیا گیا۔ تمام صوبوں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں وفاداریاں خرید کر حکومتیں تبدیل کی گئی۔ تمام اداروں نے مل کر عمران خان صاحب کو شکست دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو پاکستانی قوم نے تمام تر ظلم جبر فسطائیت کے باوجود عمران خان صاحب کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا۔ عسکریت نے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے پاکستان پر ایک دفعہ پھر نا اہلوں کا ٹولہ مسلط کیا۔
آج ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان کے غیور پاکستانیوں نے طاقتوروں کو شکست دے کر عمران خان صاحب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وہاں پر بھی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ریاست بندوق کے زور پر لوگوں کی رائے تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عمران خان صاحب کو جھکانے اور اُن کی پارٹی کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اور انشاء اللّٰہ یہ خواب عمران خان صاحب کے دشمنوں کا ہمیشہ ادھورا ہی رہیگا۔
زور زبردستی، ڈنڈے اور بندوق کے زور پر حکومت کرنے سے ۴ سال میں ہمارا پیارا پاکستان اور پاکستانی قوم تاریخ کے سب سے کمزور موڑ پر آگئی ہے۔ مہنگائی ، بے روزگاری، بدامنی، تباہ حال معیشت اور ناکام پالیسیوں نے پاکستانی قوم کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کشمیر لہو لہان ہے۔ گلگت میں غم و غصہ ہے۔ تو فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ نا اہلوں کا اقتدار بچانا ہے یا پاکستان کو ؟ نتیجے بدلنے سے نظریے نہیں بدلتے۔ نتیجے بدلنے سے تقدیر نہیں بدلتے۔ لہٰذا نتیجے نہیں اپنی پالیسی بدلو۔
Press Release
Islamabad: June 07, 2026
Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) strongly condemns the worst-ever electoral rigging, blatant attempts to manipulate results, and the open use of state machinery in various constituencies of Gilgit-Baltistan.
According to initial results and unofficial counts, PTI candidates were clearly leading until 7 PM. However, immediately afterwards, results from specific polling stations began to emerge with suspiciously high turnouts exceeding 80%, and individual ballot boxes yielding 700 to 800 votes , figures that raise serious doubts and suspicions. This constitutes a shameful stain on the entire electoral process and its transparency.
Furthermore, polling agents of PTI are being denied Form 46, a clear violation of election laws that has further intensified fears of result manipulation.
In areas including Nagar and others, evidence has emerged of individuals from opposing parties being caught red handed with fake ballot papers. Reports indicate that some elements were apprehended in the act as early as morning, providing irrefutable proof that this rigging is part of a well-planned and systematic conspiracy.
PTI wishes to highlight that this rigging is not limited to polling day alone. The entire electoral exercise was made controversial even before polling through pre poll rigging. Voter lists were tampered with in specific constituencies, the same voters were added to multiple polling stations, police and administration were used to alter constituency delimitations and polling schemes, and opposition candidates and workers were systematically harassed and pressurized.
All these actions prove that the Form 47 producing government has once again crossed every limit to steal the public mandate.
PTI makes it clear that any attempt to manipulate the results will have serious consequences. Pakistan Tehreek-e-Insaf will employ every constitutional, legal, and democratic avenue to protect the votes of its supporters.
PTI demands that authentic results from all polling stations be released immediately, Form 45 and Form 46 be provided to every candidate without delay, a swift inquiry be conducted into suspicious polling stations with strict action against those responsible, and the Election Commission fulfill its constitutional duty by ensuring complete transparency.
Pakistan Tehreek-e-Insaf assures the people of Gilgit-Baltistan that their votes will be protected at all costs, and no one will be allowed to loot the public mandate.
Issued by:
Pakistan Tehreek-e-Insaf (Central Media Department)
جب انہوں عمران خان کی حکومت چھینی اور اس کے بعد الیکشن چرایا ، ہمارے گھر توڑے، پی ٹی آئی نوجوانوں کو مارا اغواء کیا اس کے پیچھے ان کا بیانیہ تھا کہ ہم تجربہ کار ٹیم لائیں گے اور معیشت ٹھیک کریں گے آج معیشت کا جو حشر ہے وہ قوم کے سامنے ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری یوگنڈا، ایتھوپیا اور خونی انقلاب والے بنگلہ دیش سے بھی کم ہوچکی ہے۔
پتہ نہیں ان کو نیند کیسے آتی ہوگی ان کو شرم آنی چاہئے الیکشن کے ڈاکے بعد 90 کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا چکی ہیں۔
ایف بی آر جب ٹیکس ٹارگٹ پورا کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو لیوی کے ذریعے ٹارگٹ پورا کرتا ہے۔ 40 لاکھ لوگ ٹیکس والے نیٹ ورک میں آ سکتے لیکن آج تک صرف 2 لاکھ ٹیکس نیٹ ورک میں ہیں۔ یہ ادارہ ناکام ہوچکا ہے۔ قانون سازی کرا کے اختیارات لیے لوگوں کو گرفتار کرنے، میٹر، بند کرنے کے اختیارات لیے فیکٹریوں میں اپنا قاصد بٹھا کر بلیک میل کرنے کے اختیارات لیے لیکن نتیجہ صفر اس ادارے کو تو بند کردینا چاہیے۔ اسامہ میلہ