@khokhr_pedia@OfficialDGISPR
کو ہم ہر ماہ ہڈی دیتے ہیں بارڈر کے اس پار بھونکنے کی۔ یہ ہماری طرف رخ کر کے بھونکنا شروع کر دیتا ہے۔ ہم مالک ہیں اس ملک کے تم چوکیدار ہو۔
Today marks the death anniversary of my longtime companion, Naeem ul Haque. He stood by me through thick and thin, offering unwavering support during challenging times. As one of the founding members of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), Naeem ul Haque played a pivotal role in helping me shape and organise the party during foundational years of my political journey.
Loyal companions of his like are a treasure to anyone's life. I pray that Allah grants Naeem ul Haque eternal peace and elevates his ranks.
وائیٹ ہاؤس کی بارادریوں میں آج کل آپ کو کچھ کردار اس امید پر منڈلاتے دکھائ دیں گے کہ کہاں کوئی صاحبِ حیثیت دکھائی دے اور یہ کسی بدروح کیطرح اسے چمٹ جائیں۔ ان کے مزموم مقاصد میں سے ایک آپ کو آگ میں دھکیل کر اپنے ہاتھ تھاپنے کا بھی ہے۔ اور آپ جانتے ہیں یہ کوشش آج کل سے نہیں ہے۔ امریکہ کے افغانستان کے انخلاء کے بعد پہلے وزیراعظم عمران خان کو گھیر گھار کر اپنی اس سازش کوعملی جامہ پہنانے پر عملدرآمد کی کوشش کی گئی، وہاں سے ناکامی کے بعد رجیم چینج کے فوراً بعد سرحد پار سے دہشتگردوں کی مالاکنڈ ریجن میں آبادکاری میں سہولتکاری کی گئی۔ اس معاملے پر آواز اٹھائی تو باغی کا فتوی بھی لگا اور دہشتگردی کا پرچہ بھی بنا مگر مالاکنڈ پختونخواہ اور پورے ملک کے عوام نے ہم آواز ہوکر ان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ چاہئیے تو یہ تھا کہ اس سیٹ بیک سے سبق حاصل کرتے ہوئے کسی نئے اڈوینچر سے گریز کیا جاتا مگر پوری ریاستی مشینری کو تحریک انصاف کو کچلنے پر لگا کر اور مجھےمنظر عام سے ہٹنےپر مجبور کرکے بھرپور حکومتی اور ریاستی سرپرستی میں جنوبی اضلاع سے ان عناصر کی آبادکاری کا کام شروع کیا گیا۔ آج مالاکنڈ ریجن کے علاوہ تمام باجوڑ، مہمند، خیبر دہشت کی لپیٹ میں ہے۔ پاڑہ چنار کے حالات سے جس قدر آگاہی ہوپاتی ہے وہ تو شاید اصل سنگینی کا عشر عشیر بھی نہیں (اور اس کی بھی پیشن گوئی کردی تھی، کہ فرقے اور لسانی اختلافات کو استعمال کیا جائیگا)۔ سابقہ فاٹا کے علاوہ سیٹلڈ علاقوں میں بھی امن و امان کے حالات مخدوش ہیں۔ روزانہ بنیادوں پر سیکیوریٹی فورسز کے اہلکاروں کی جانوں کا زیاں ہورہا ہے۔ شام کے بعد علاقوں کا کنٹرول یہ عناصر سنبھال لیتے ہیں۔ امن عامہ کے حوالے سے انتظامیہ کی میٹنگز میں پولیس افسران کھلم کھلا اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ جب تک بارڈر پر ان کی سہولتکاری ہوتی رہے گی پولیس ان کا سدباب کرنے سے قاصر رہے گی۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ میں اپنے لوگوں سے یہ درخواست کروں کہ میری غیر موجودگی میں آپ امن تحریک کا بیڑہ اٹھائیں اور اس آگ کے مزید پھیلاؤ سے پہلے اسے روکنے کا بندوبست کریں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں باقی کہ ریاستی پالیسیاں افراد کے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے بن رہی ہیں مگر یہ ملک یہ لوگ ہمارے ہیں اور ہمیں اپنے اور اپنے لوگوں کے لیے خود سوچنا ہوگا اپنی آواز خود بننا ہوگا۔
میرے ساتھ امن تحریک میں شامل امن کے پیامبر اپنے ساتھیوں کو پیغام بھیج دیا ہے, سیای وابستگیوں اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہوکر امن کے پرچم تلے سب کو متحد کرنے کی تلقین بھی کی ہے۔ اپنی قوم سے کہنا چاہتا ہوں جن آوازوں کو آپ نے امن مارچ کے سٹیج سے گرجتے سنا تھا ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان کو قتل کرنے، عمر بھر کےلیے لاپتہ کردینے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں پھر بھی وہ یہ جدوجہد کریں گے آپ نے ویسے ہی ان کا بازو بننا ہے جیسے آپ میرا بازو بنے تھے۔ اپنا امن، اپنا گھر آپ نے خود بچانا ہے، متحد ہوکر، یک آواز ہوکر۔ آواز اٹھانا، جنازے اٹھانے سے بہتر ہے۔
یہ بات وہ حرامزادہ کہہ رہا ہے جس نے:
ڈیڑھ سال سے عمران خان کی قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے
عمران خان کا نام، تصویر ٹی وی پر دکھانے پر پابندی عائد کردی
عمران خان کیلئے جیل کے اندر عدالتیں لگوانی شروع کردیں کہ کہیں عوام اسے دیکھ نہ لیں
عدت کا گھٹیا ترین مقدمہ بنوایا،
اس کے بھانجے کو ملٹری کورٹ سے دس سال کی سزا دلوائی
اس کے جماعت سے مینڈیٹ چھینا
اس کے کارکنوں پر سیدھے فائر کروا کر شہید کروا
اے حرامزادے!
بتا کہ یہ سب تُو نے محض اختلاف رکھنے پر کیا تھا یا نفرت میں؟
“بشریٰ بی بی ایک گھریلو اور پردہ دار خاتون ہیں، اِن پر بے بنیاد اور جھوٹے کیسز صرف مجھے دباؤ میں لانے کے لئے بنائے گئے- القادر کیس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے- بشرٰی بی بی کو پہلے 3 مہینے بنی گالا میں ایک کمرے میں قید رکھا گیا، انہوں نے خود ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کی کہ مجھے عام قیدیوں کی طرح جیل میں رکھا جائے۔ اڈیالہ جیل میں 9 مہینے سخت ترین قید میں رکھا گیا جس کا مقصد ہمیں دباؤ میں لانے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
بشریٰ بی بی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ محض پراپیگنڈا ہے۔ ہماری مذاکراتی کمیٹی ہی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے۔بشریٰ بی بی کے خلاف سوشل میڈیا کمپین کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
اس تاثر کی سختی سے تردید کرتا ہوں کہ سنگجانی میں رکنے کے بعد مجھے رہا کرنا طے تھا۔ سنگجانی جیسے ایشوز کو اصل معاملات سے توجہ ہٹانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ حکومت کی بدنیتی کو اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ میں ساڑھے تین سال وزیرِ اعظم رہا ہوں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں۔ اسلام آباد ڈی چوک میں کارکنان کے ہمراہ پہنچ جانا بشریٰ بی بی کی کامیابی تھی جس پر ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں- انہوں نے میری ہدایات پر ہی عمل کیا” - سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
“سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلا اور میڈیا سے گفتگو:
“مذاکرات کے حوالے سے غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی سے میری میٹنگ تک نہیں کروائی گئی- ایسا لگتا ہے جیسے مذاکرات کا مقصد صرف اور صرف وقت کا ضیاع ہے تاکہ 26 نومبر کے اسلام آباد قتل عام پر عوامی ری ایکشن کو کم کیا جا سکے -
26 نومبر کو پرامن شہریوں کا قتل عام کیا گیا ، انکو سیدھی گولیاں مار کر ڈی چوک میں خون سے نہلایا گیا، ہمارے کئی افراد اب تک لاپتہ ہیں ۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسا واقعہ ہونے کے بعد گولیاں چلانے والے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوتے لیکن یہ حکومت ابھی تک ایک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نہیں کر پائی- جوڈیشل کمیشن کی حیثیت تھرڈ امپائر کی ہوتی ہے اور صرف ایک غیرجانبدار کمیشن ہی 26 نومبر اور 9 مئی کے شہدا کو انصاف دلوا سکتا ہے اگر اس قتل عام کو دبا دیا گیا تو پاکستان میں کسی کا جان و مال محفوظ نہیں ہو گا-
میرا واضح پیغام ہے کہ اگر مذاکراتی عمل کو لے کر حکومت یونہی غیر سنجیدہ رہی اور جوڈیشل کمیشن نہ بنایا تو مذاکرات کو اگلی میٹنگ کے بعد روک دیا جائے۔
نو مئی کا فالس فلیگ آپریشن بھی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہی کیا گیا تھا۔ اس روز چوکیوں سے فوج اور پولیس ہٹا کر خود ہی آگ لگائی گئی اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی چرا لی گئی ۔ ہم ان دونوں واقعات کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں ۔ ہم نے اس سلسلے میں بارہا سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کیا ہے۔
تین سال سے اس ملک میں آئین و قانون اور انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے ۔ لوگوں کے گھروں کا تقدس پامال کر کہ ان کو اغوا کیا جا رہا ہے ، تشدد اور جبر کیا جا رہا ،انکے گھر اور کاروبار تباہ کیے گئے، ہمارے ہر ٹکٹ ہولڈر کے لیے انکے حلقوں میں زندگی تنگ کر دی گئی ۔ میرا اپنا گھر دو مرتبہ توڑا گیا ۔ ہم نے اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ۔ یہ کیس جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ ججز نے سنا مگر ڈیڑھ سال سے اسکا فیصلہ محفوظ ہے اور سنایا نہیں گیا ۔ پھر ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور سپریم کورٹ میں قاضی سے بھی رجوع کیا لیکن ان دونوں نے ہی اسٹیبلشمنٹ کے opening batsman کا کردار ادا کیا ۔
ہمارے جو بے قصور لوگ ملٹری تحویل میں رہے ان پر شدید ترین ذہنی اور جسمانی تشدد کیا گیا۔ میری اطلاع کے مطابق 3 لڑکوں نے دوران حراست خود کشی کی کوشش کی ۔ سمیع وزیر کی حالت اس تشدد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس سے پہلے جو کچھ تحریک انصاف کے رہنماؤں شہباز گل ، اعظم سواتی سیمت دیگر کے ساتھ کیا گیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، ظلِ شاہ کو بے دردی سے قتل کیا گیا ، انتظار پنجھوتہ سے جانوروں کی طرح سلوک کیا گیا۔ یہ کونسا اصول ہے کہ جو تحریک انصاف چھوڑ دے وہ 9 مئی کے الزام سے بری ہے اور جو نہ چھوڑے اس پر ہر قسم کا تشدد اور دباو جائز ہے؟
ہمیں پاکستانی نظام عدل سے بار بار رجوع کرنے کے باوجود بھی انصاف نہیں مل سکا جسکے بعد ہمارے پاس بین الاقوامی فورمز پر آواز اٹھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا ۔ پاکستان کی حکومت انسانی حقوق کو لے کر بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پابند ہے میں نے وکلا کو ہدایت کی ہے ان معاملات کو عالمی فورمز پر اٹھایا جائے اور پاکستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی آواز دنیا تک پہنچائی جائے ۔
میرا اوور سیز پاکستانیوں کو بھی یہی پیغام ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا خاتمہ کر کہ جنگل کا قانون نافذ کر دیا گیا ہے اسلیے آپ کی جانب سے ترسیلات زر کا بائیکاٹ بہت اہم ہے ۔ پاکستان میں مقیم آپ کے پیاروں کو بھی وہی حقوق حاصل ہونے چاہئیں جو آپ کو بیرون ممالک میں حاصل ہیں-
جب تمام ایجنسیوں کو ایک سیاسی جماعت کو کچلنے پر لگا دیا جائے گا پھر دہشتگردوں سے کون لڑے گا ؟ یہی ریمارکس سپریم کورٹ کے ججز جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس مندوخیل نے بھی دیے کہ خفیہ اداروں کو سیاسی انجینئرنگ پر لگا دیا گیا ہے ۔ جھوٹ بول کر ہماری حکومت پر طالبان کی آبادکاری کا الزام لگایا گیا ۔ ہماری حکومت کے دوران بلکہ حکومت خاتمے کے ایک سال بعد تک بھی دہشتگردی نے سر نہیں اٹھایا تھا یہ سب کچھ انھی کا قصور ہے جو بلوچستان کے حالات کے ذمہ دار ہیں ۔
ان سب تجربات کی بدولت پاکستان میں معیشت کا حال بدترین ہے۔ ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مزید 1 کروڑ 30 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں ۔ عدلیہ ، نیب ، ایف آئی اے ، پولیس سمیت ہر ادارہ تحریک انصاف کے پیچھے لگا دیا گیا ہے جسکی وجہ سے ملک کا سیاسی اور معاشی نظام درہم برہم ہے اور عدم استحکام عروج پر ہے۔جب تک سیاسی عدم استحکام رہے گا گروتھ ریٹ صفر ہو گا 1/2
عمران خان کا جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
پاکستانی قوم اور تحریک انصاف کے کارکنان کو سلام جو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوئے، پرامن احتجاج میں شامل ہیں اور ملک پر مسلط مافیا کے سامنے اپنے مطالبات اور حقیقی آزادی کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں
میرا اپنی ٹیم کو بھی پیغام ہے کہ آخری بال تک لڑیں، جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے
محسن نقوی کی ہدایات پر رینجرز اور پولیس نے ہمارے ورکرز پر فائرنگ اور شیلنگ کر کے پرامن شہریوں کو شہید اور زخمی کیا، اسے اس کا حساب دینا ہو گا!
شہری ناصرف پرامن تھے بلکہ شیلنگ اور فائرنگ کرنے والے پولیس اور رینجرز کو بھی ریسکیو کرتے رہے-
اوورسیز پاکستانیوں کا بھی شکریہ جو ناصرف پاکستان میں موبلائزیشن کر رہے ہیں، فنڈز بھیج رہے ہیں، بلکہ اپنے اپنے ملکوں میں بھی تاریخی مظاہرے کیے
سوشل میڈیا وارئیرز بھی دنیا بھر میں ہمارے مطالبات اور پاکستان میں جاری ظلم و ستم کی بھرپور کوریج جاری رکھیں!!
مجھے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کی دھمکیاں دینے والوں کے لیے پیغام ہے کہ جو کرنا ہے کر لو میں اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا
جو اب تک نہیں پہنچ پائے وہ بھی ڈی چوک پہنچیں
مظاہرے میں شامل تمام پاکستانی پرامن رہیں، متحد رہیں اور ڈٹے رہیں جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے- یہ پاکستان کی بقا اور حقیقی آزادی کی جدوجہد ہے!!
“ ادھل گیاں نوں داج کاہدا “
پنجابی کے اس محاورے کا سلیس ترجمہ یہ ہے کہ وہ عورت جو اپنے یار کے ساتھ فرار ہوجائے اسے جہیز دینے کا بھی سوال ختم۔ گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے ایک ویڈیو بیان میں فرمایا کہ پختونخواہ کے وسائل کونسا وہ جہیز میں لیکر آئے ہیں۔
بدقسمتی سے پاک فوج وہ عورت بن چکی ہے جو بار بار “ ادھل “ چکی ہے۔ یہ پاک فوج بار بار ناجائز تعلقات بناتے پکڑی گئی ہے۔ کبھی جوبائیڈن کیساتھ، کبھی بش کے ساتھ ، کبھی ریگن کیساتھ۔ “ جنے لایا گلی میں اوہدے نال چلی “ جس نے باتوں میں لگایا اسکے ساتھ نکل پڑی۔ ایسی عورت معذرت ایسی فوج کے افسر کی جانب سے ایسی گفتگو شرمناک ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ تم ہوتے کون ہو پاکستان کے وسائل کی بندربانٹ اور تقسیم کرنے والے؟ ان تمام وسائل پر تمہارا بھی ہر پاکستانی کی طرح برابر کا حق ہوتا لیکن تم یہ حق اس دن سے کھو چکے ہو جس دن سے قوم نے تمہیں اپنا غدار قرار دے دیا ہے۔ اس ملک کی اکثریت تمہیں غدار مانتی ہے۔ جمہوریت میں جمہور کا فیصلہ ہی چلتا ہے۔ جمہور کے فیصلے میں تم غدار ہو!
تمہارے منہ سے جہیز کی بات تو اچھی ہی نہیں لگتی۔ تم وہ گینگ ہو جو خوبصورت لڑکی دکھا کر کسی کنوارے سے بیاہ رچاتا ہے۔ رات کو وہ گینگ دولہے کو نشہ آور مشروب پلا کر گھر کا سارا سامان چوری کرکے نئے دولہے کی تلاش میں فرار ہوجاتا ہے۔ تم نے ایسے ہی گلگت سے گوادر تک ہر خوبصورت مقام ، ہر اہم گزرگارہ ، ہر وسیع میدان ، ہر زرخیز زمین پر نانی کا ویہڑہ سمجھ کر قبضہ کیا ہے۔
اب چونکہ تمہاری عزت تار تار ہوچکی اور تمہاری بیرونی سپلائی لائن بھی کٹ چکی تو تمہیں جان کے لالے پڑرہے ہیں۔ تم ندیدے کتوں کی طرح اس ملک کے بچے کھچے وسائل کی طرف دیکھ کر رالیں ٹپکا رہے ہو۔ ہم تمہارے لالچ کی یہ گردن ہی کاٹنے والے ہیں۔ تیار رہو۔
جیسے کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ صاحب نے اپنے بیان میں بتایا ہے، عمران خان کی ہدایت پر احتجاجی تحریک کا مکمل لائحہ عمل پارٹی دے گی۔ میں عموماً جلسوں، ریلیز یا احتجاج کی تیاریوں کی ہدایات اور پراگریس صرف متعلقہ ٹیمز سے ہی شئیر کرتا ہوں لیکن آپ کی دلچسپی اور اپنے لیڈر کے حوالے سے فکرمندی کے باعث ایک طرح سے اپ ڈیٹ دے رہا ہوں؛
اپنے حلقے اور آئی ایس ایف کی سابقہ قیادت اور ممبران سے لے کر، ملک بھر میں جو ٹیمیں تشکیل دی تھیں، جن کارکنان نے امن تحریک، انتخابی مہم اور جلسوں کے انعقاد میں معاونت کی۔ بنی گالہ اور زمان پارک اور خان صاحب کی عدالتی پیشیوں کے موقع پر ڈیوٹیز سرانجام دیں اور رجیم چینج آپریشن کے بعد سے عوام کو موبلائیز کرتے رہے ان سب کو میری جانب سے ناصرف ہدایات بھیج دی گئی ہیں بلکہ متعلقہ ذمہ داران کے ساتھ مل کر وہ تیاری بھی شروع کرچکے ہیں۔
آئی ایس ایف اور یوتھ ونگ کو بھی موبلائزیشن کا پلان دے دیا گیا ہے۔ امید ہے گذشتہ چند ماہ میں خالد خورشید کی سرپرستی اور مرکزی صدر مینا خان آفریدی کی قیادت میں یونین کونسل اور ویلج کونسل لیول پر تنظیم سازی پر جو فوکس رکھا گیا تھا وہ اس مرحلے پر مددگار ثابت ہوگا۔
دہشتگردی کی جنگ میں شہید ہونےوالے شہریوں کے لواحقین، بم دھماکوں اور ڈرون حملوں کی زد میں آکر جن افراد کے گھر اور کاروبار تباہ ہوئے، جن کے پیارے لاپتہ ہوئے، جن پر تشدد ہوا اور بے گناہ جیلوں میں ڈالے گئے ایسے تمام افراد جن پر ریاست کے نام پر ناجائز طاقت کے حصول اور ذاتی مفادات کا تحفظ کرنے والے ٹولے کی جانب سے ذہنی، جسمانی تشدد ہوا یا مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ان کو بھی فائنل کال پر شرکت کرنے کی دعوت دی جائیگی۔ اس کی ذمہ داری نوجوانوں کو سونپ دی گئی ہے۔
نوجوان قیادت، تحریک کے کارکنان اور عمران خان کے جانثاران چاہے تنظیم کا حصہ نہ بھی ہوں وہ ابھی سے فائنل کال کے لیے اپنے قافلے تیار کریں۔ #ReleaseImranKhan کے ساتھ اپنی تیاریوں سے دوستوُ کو فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور ٹوئٹر پر آگاہ کریں تاکہ دیگر ساتھیوں کوموٹیویشن ملے اور فوکس عمران خان کی رہائی پر رہے۔
کسی بھی لایعنی بحث میں الجھنے کے بجائےتمام کارکنان ان نکات پر فوکس رہیں اور ان کے مثبت جواب یقینی بنائیں؛
آپ نے عمران خان کا پیغام کتنے لوگوں تک پہنچایا؟
کیا آپ نے اپنے دوستوں، عزیز اقارب اور محلے میں موبلائزیشن کا عمل شروع کیا ہے؟
اگر آپ کے پاس ذاتی ٹرانسپورٹ نہیں ہے تو کیا دوست مل کر ڈی چوک کا پلان ترتیب دے رہے ہیں یا آپ کے حلقے کے امیدوار یا مقامی تنظیم کے ساتھ شرکت کے لیے آئیں گے؟
کیا سوشل میڈیا کے ہمارے جو ایکٹویسٹ بازاروں میں مہم چلارہے تھے، آپ نے اپنی مہم آرگنائیز کرنا شروع کی اور لوگوں کے کوائف جمع کرنے لگے ہیں؟ یاد رہے اس ڈیٹا کی بنیاد پرآپ نے ٹیمیں بھی تشکیل دینی ہیں اس لیے یہ عمل جلد از جلد شروع ہوجانا چاہئے۔
اور ہمارے جن ساتھیوں کے لیے گراؤنڈ پر ایکٹیو ہونا ممکن نہیں کیا آپ عمران خان کی رہائی پر فوکس ہیں اور آپ کی آج کی ایکٹویزم عمران خان کی رہائی کی جانب پراگریس میں شمار کی جاسکتی ہے؟
یاد رہے اگلے دو مہینے اور خصوصاً نومبر بہت اہم ہے۔ اس بات کو میرے گذشتہ ایک سال کے بیانات اور خصوصاً عمران خان اور ان کے اہل خانہ کے حالیہ بیانات کے تناظر میں دیکھیں اور اپنا مکمل فوکس عمران خان کی رہائی کے لیے فائنل کال کی تیاری پر مرکوز رکھیں۔ اسے اپنے لیڈر کی زندگی اور اپنے ملک میں آئین اور قانون کی عملداری کے لیے آخری معرکہ سمجھیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان کا پیغام
اس وقت سارا لندن پلان پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ جس کے مطابق تحریک انصاف کو کرش کرنا، نواز شریف کے کیس معاف کروانا اور عمران خان کو جیل میں ڈالا جانا تھا۔ اس پلان کے تحت قاضی فائز عیسیٰ جو کہ ایمپائر کی جگہ کھلاڑی بن کر کھیل رہا ہے۔ وہ اس پلان کا مرکزی کردار بنا ہوا ہے۔
قاضی فائز عیسیٰ ہم پر ظلم کو تحفظ دے رہا ہے۔ اس نے ہمارے بنیادی حقوق، الیکشن لیول پلینگ فیلڈ، خواتین پر ظلم اور ہمارے ساتھ ہوئے ظلم پر مبنی کیس کھولنے کی بجائے ہر وہ کیس سن رہا ہے جس میں ہماری سیاسی شناخت کو مسخ کیا جا سکے۔ قاضی کا کردار جسٹس منیر والا ہے، بلکہ یہ جسٹس منیر پرو میکس بن گیا ہے۔ کیونکہ اسکا ہر فیصلہ قانون کے خلاف اور ایکسٹنشن مافیا کے حق میں ہوتا ہے۔ ایکسٹنشن مافیا نے اپنی ایکسٹشن کیلیئے ملک کو تباہ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور ہم ایکسٹینشن مافیا کا راستہ پر امن احتجاج سے روکیں گے۔ ایکسٹنشن مافیا جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے آئین کا تشخص تباہ کرنے کیلئے ایک انتہائی گھناونی سازش کر کے آئین میں ترمیم کا منصوبہ بنا رہے ہیں میں ان تمام کو اس آئینی ترمیم سے باز رہنے کی تنبیہ کرتا ہوں۔
لندن پلان کے مطابق نواز شریف کو کپتان بنایا جانا تھا لیکن اس کے ساتھ بھی دھوکہ ہوا اور تھرڈ ایمپائر خود ہی کپتان بن گیا اور نواز شریف کو بارہواں کھلاڑی بنا دیا۔
شہباز شریف آج کل بہت بیان بازی کر رہا ہے اور نو مئی جو ن لیگ کی انشورنس پالیسی ہے کا ذمہ دار بار بار ہمیں ٹھہرا رہا ہے۔ میں اس سے کہتا ہوں کہ ہمت کرو اور ان سے پوچھو کہ نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کہاں ہے، فوٹیج ملنے سے یہ کیس فورا حل ہو جائے گا۔
علی امین نے بڑا زبردست بیان دیا ہے میں اس کے بیان کی مکمل تائید کرتا ہوں۔ جب معاشرے سے انصاف اٹھ جاتا ہے تو پھر معاملہ انقلاب کی جانب جاتا ہے۔ اور جس طرح کی بے انصافی ہمارے ساتھ ہو رہی ہے اب انقلاب ہی آئے گا۔ ہماری خواتین جیلوں میں پڑی ہیں لیکن کوئی ان کے کیسز نہیں سن رہا۔ اسی سالہ بزرگ خاتون پر دہشت گردی کا پرچہ کاٹا گیا لیکن سسٹم میں کسی کو تکلیف نہیں ہوئی ۔ہم نے ہمیشہ پر امن احتجاج کیا، ہمیشہ قانون کا احترام کیا لیکن یہ قانون اب ہمیں تحفظ دینے سے قاصر ہے۔
میں راولپنڈی کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس طرح انہوں نے فسطائیت کا مقابلہ کیا، جہاں ان پر آنسو گیس، شیلنگ اور سیدھی گولیاں ماری گئیں لیکن راولپنڈی کی عوام نے زبردست مقابلہ کیا۔
میں خیبر پختونخواہ کی عوام اور علی امین گنڈاپور کو بھی سراہتا ہوں جس طرح انہوں نے بڑی تعداد میں نکل کر حقیقی آزادی کیلیے جدوجہد کی اور علی امین کی سربراہی میں راولپنڈی کی جانب مارچ کیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ علی امین نے خیبر پختونخواہ کی عوام کو جگانے میں بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے میرے موقف کو عوام تک پہنچایا۔
جمہوریت کا مطلب آزادی ہے، جمہوریت جب آتی ہے تو قانون کی حکمرانی اور احتساب ہوتا ہے۔ قانون کی حکمرانی سے انصاف قائم ہوتا ہے اور عوام کے پاس احتساب کا اختیار ہوتا ہے جو وہ ووٹ کے ذریعے اپنے حکمران چن کر کرتے ہیں۔ جمہوریت حقیقی آزادی ہے اور ہم حقیقی آزادی کے حصول تک جدوجہد کرتے رہیں گے۔ آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی اس کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں ، میں اور میری بیوی پندرہ ماہ سے جیل میں ہیں، کسی کے دل میں جیل جانے کا ڈر نہیں ہونا چاہئے، جیل مجھے نہیں توڑ سکی تو آپ نے بھی گھبرانا نہیں ہے۔
اس وقت عدلیہ کو قابو کرنے کیلئے سر توڑ کوشش کی جا رہی ہے۔ ہائی کورٹ کے ججز، سپریم کورٹ کو خط لکھ رہے ہیں لیکن قاضی لندن پلان پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے ہی ادارے کو تباہ کر رہا ہے۔ یہ سپریم کورٹ کو ختم اور ہائی کورٹ کو سیشن کورٹ بنانا چاہتے ہیں۔ جنہیں یہ ان عدالتوں کی طرح کنٹرول کر سکیں جیسی عدالتیں یہاں جیل میں مجھے اور میری بیوی کو پانچ دن میں تین سزائیں دے چکی ہیں۔ ہم عدلیہ کا دفاع کریں گے اور اپنی آزادی کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔
عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کیلئے ہم دو اکتوبر کو میانوالی، فیصل آباد اور بہاولپور میں بھرپور احتجاج کریں گے۔ اور پانچ اکتوبر کو لاہور میں مینار پاکستان پر بھی احتجاج کریں گے۔ جبکہ اسلام آباد کیلئے میں نے علی امین گنڈاپور کو چار اکتوبر بروز جمعہ ڈی چوک میں احتجا ج کی کال دینے کا پیغام دیا ہے۔
پاکستان زندہ باد
سیاست شطرنج کی بساط ہے۔ پیادے کی پہلی چال سے بادشاہ کی آخری چال سمجھنی پڑتی ہے۔ کم کہے کو زیادہ پڑھنا ہوتا ہے۔ ہونٹوں کی جنبش میں داستان اور آنکھ کے اشارے میں راستہ کھوجنا ہوتا ہے۔ یونہی ایک دن ایک اشارے کا سرا پکڑے پی آئی ڈی گیا اور چند سوال چھوڑ آیا۔ گھر پر احباب کو کہہ کر آیا تھا کہ بس چند لمحوں میں حاضر ہوا مگر ابھی پی آئی ڈی سے نکلا ہی تھا کہ بادشاہ کے ایک پیادے نے راستہ کھوٹا کردیا۔ عذر پیش کیا کہ بہت ضروری ہے آپ آجائیں یا ہم ”نازل“ ہوتے ہیں کہ انہیں ابھی کے ابھی ملنے کا آرڈر ہے۔ چھوٹتے ہی پوچھا ”سر پریس کانفرنس خدشات پر کی ہے یا معلومات پر؟“ کہا آپ بتائیں تصدیق کا فریضہ تو آپ کو تفویض ہے۔ خدشے میں صداقت ہو تو معلومات تصور ہوتی ہیں۔ بولے اور آپ سے کس نے بُلوایا؟ میں نے کہا کسی نے نہیں۔ یونہی بیٹھے بیٹھے دو اور دو چار کر رہا تھا اور جواب پانچ آرہا تھا تو سرا ڈھونڈنے چل پڑا۔ سوالی جھنجھلا کے چل پڑا۔
اگلے دن پھر گھنٹی بجی بولائے بولائے افسر حاضر ہوئے؛ ”سر آپ کو وزیراعظم نے کہا تھا پریس کانفرنس کے لیے؟“ پوچھا وہ کیوں کہیں گے؟ جواباً بھی سوال آیا، چند دن پہلے ارشد شریف کے پروگرام میں بھی مسکراتے ہوئے ایسا ہی کچھ تذکرہ کیا تھا آپ نے۔ آپ کیا جانتے ہیں؟
اب تو مجھے بھی تجسس ہوا کہ میں کیا جانتا ہوں، ارشد سے تذکرہ کیا کہ اشارہ کہیں اور کو کیا تھا تشویش کہیں اور اٹھ رہی ہے تو وہ بھی مسکرا دیے۔
چند دن بعد وزیراعظم کے ساتھ مہمند کا سفر درپیش تھا۔ پوچھا سر کیا اسرائیل کو تسلیم کرنے کہ حوالے سے صرف بیرونی دباؤ ہے یا اندرونی بھی؟ خان صاحب بھی مسکرا دیے، بولے پریس کانفرنس کی ٹائمنگ اچھی تھی۔ اب تو میرا مسکرانا بھی بنتا تھا۔
لندن میں ہونے والی ایک ملاقات کا تذکرہ کیا تھا میں نے اپنی پریس کانفرنس میں۔ اسرائیل کے حوالے سے عمران خان کی تقریر کا کلپ چلایا تھا اور سازشوں کا ذکر کیا تھا۔ جو دو اور دو چار میں کررہا تھا اس میں پانچواں فریق کون تھا اس کا جواب پی آئی ڈی سے منسٹر انکلیو کے راستے میں مل گیا تھا۔ اسرائیل پر عمران خان کا موقف کیا تھا، کیا ہے اور کیا رہیگا اس کا جواب مجھے تو عمران خان کے ساتھ سفر میں ہی مل گیا تھا (”مجھے ہے حکمِ اذاں، لا الہ الا للہ”) آپ کو اس کی اسیری میں نہ ملے تو دنیاوی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کی گئی اس کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر میں ڈھونڈ لیں۔ باقی گتھیاں سلجھانے کے لیے یوکرائن جنگ میں ہمارے کرم فرماؤں کے کردار۔ رجیم چینج کے فوراً بعد اسرائیل بھیجے گئے وفد کے نمائندگان اور اگر گذشتہ برس اکتوبر میں حماس کا حملہ نہ ہوتا تو ہمارے ہاں کیا ورکنگ ہوچکی تھی کا جواب ڈھونڈ لیں میں کچھ زیادہ کہونگا تو حساس معاملات چھیڑنے کا ایک اور الزام لگ جائیگا اور پھر کوئی منہ سے جھاگ اڑاتا، ہذیانی ٹاؤٹ ہماری مسکراہٹوں میں خنجر تلاشنے لگے کا۔
وللہ خیرا الماکرین۔