مقتدرہ نےآج تک جتنے بھی پراجیکٹ انسٹال کیے ہیں وہ سب فلاپ ہی ثابت ہوئےہیں۔ حالیہ پراجیکٹ بھی سب کے سامنے ہے اور یہ سب سے بڑا ہونے کے ساتھ سب سے بڑا فلاپ شو بھی تھا۔
البتہ اَن-انسٹال کرنےکاکام ہمیشہ سے انتہائی نفاست اورکاریگری کے ساتھ کرتی ہے۔ یہ منظر بھی آج کل آپ خوب دیکھ رہےہیں۔
تقریباً صدی پہلے اجتماعیت کی تشکیل کیلئے جس "لا الہ الااللہ" کو بنیاد بنایا گیا تھا اس نے معاہدہ مکہ کی صورت میں عالمی منظر نامے پر ابھرنا شروع کر دیا ہے.اقوام عالم میں جسے استثناء کے طور پر دیکھا جاتا رہا وہ قوموں کی تشکیل میں مسلمہ اصول کے طور پر اپنا آپ منوا رہا ہے۔۔۔۔
مقتدرہ نے ایک ساتھ اتنے زیادہ کٹے کھول دیے ہیں کہ گھبراہٹ ہوتی ہے کہ گجر انھیں کیسے باندھ بائے گا۔۔۔!!؟
کے پی اور بلوچستان میں مست ہاتھی سب روندھنے پر تلے ہیں تو کشمیر میں سانڈھ بے قابو ہوئے پڑے ہیں۔مہنگائی کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے تو بیوروکریسی کی ڈائن ملکہ حسن بننے کیلئے خزانے کو شیر مادر بنائے ہوئے ہے۔سیاستدان ون ویلنگ میں مشغول ہیں تو بیرونی خطرات الگ سے منڈلا رہے ہیں۔طوفانوں میں گھری کشتی کے ملاحوں کو اوپر سے انتظامی ڈھانچے کی بنیادیں اکھاڑ کر تعمیر نو کی سوجھی ہے۔یوں سمجھیں ڈائ��لسز کے مریض کی اوپن ہارٹ سرجری کا مرحلہ درپیش ہے۔شاید معجزہ ہو جائے !
عمل و ردعمل کا بے رحم پہیہ اگر کشمیر میں چل پڑا تو عاشقان ایکشن کمیٹی دو سال بعد دانتوں میں انگلیاں دبا کر روئیں گے۔یہ پاکستان نہیں کشمیر کی تباہی کی تحریک ہے۔اصل منصوبہ گوریلا جنگ کے حالات پیدا کرنے کا ہے۔فنڈز "دوست" مہیا کریں گے،لاجسٹک انڈیا کی ذمہ داری ہو گی اور سپلائی افغانستان کے سپرد ہو گی۔ایکشن کمیٹی سے ہٹ کر الگ تھلگ "آرگنائزیشن" کھڑی کی جا چکی ہے۔ریاستی مشینری میں موجود روگ ایلیمنٹ سہولت کاری بھی کریگا۔آپ نے دیکھا عمر نذیر کا بھائی شہید ہوا،قریبی دوست شروع میں کام آ گیا اور خود اسکا اپنا مستقبل "خاموش اطاعت" یا "دائمی خاموشی" ہو گا۔کچھ عرصے بعد ایکشن کمیٹی عضو معطل ہو جائے گی اور ان دیکھی قیادت کمان سنبھال لے گی۔جس کے ساتھ مذاکرات ہو سکیں گے نہ قابو پایا جا سکے گا۔گوریلا جنگیں اپنے جلو میں کامیابی نہیں مکمل تباہی لاتی ہیں۔شام،عراق افغانستان وغیرہ کی مثالیں سامنے ہیں۔پاکستان نے کشمیر چھوڑ بھی دیا تب بھی گوریلا قیادت سیاسی قیادت کا خلا نہیں بھر سکے گی اور نہ کسی دوسری سیاسی قیادت کو موقع دے گی نتیجۃً کوئی بیرونی طاقت قبضہ جما لے گی جس کیخلاف گوریلا طاقت جدوجہد جاری رکھے گی۔اس صورت میں ��پلائی لائن پہلے والی ہی رہے گی البتہ لاجسٹک اور فنڈنگ فراہم کرنے والے "دوست" بدل جائیں گے۔مگر کشمیریوں کیلئے امن کا حصول عنقا ہو جائیگا۔جوش و جذبے سے لبریز مگر سیاسی پختگی اور شعور سے عاری قیادت اس کے سوا اپنی قوم کو اور دے بھی کیا ��کتی ہے....۔!! تب لندن میں حمایت میں مظاہرے ہونگے نہ جنیوا میں حقوق انسانی کی اپیل ہو گی اور نہ کوئی ٹھکرایا ہوا سیاستدان آزاد پتن یا کوہالہ کی طرف جائیگا۔
یہ انجام اس قوم کا ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے عطا کی گئی نعمت کی ناقدری کرتی ہے۔امن وہ نعمت ہے جس کی دعا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے ایک حصے کو بیت اللہ شریف کے پہلو میں آباد کرتے وقت مانگی تھی۔آزاد کشمیر کے باسیوں کو اللہ تعالیٰ نے ایٹمی قوت رکھنے والے اس ملک کے ذریعے امن جیسی نعمت سے نواز رکھا تھا جس نے ان کیلئے اپنے سے بیس گنا بڑے دشمن سے اسی سال سے متھا لگا رکھا ہے اور تین مہلک جنگیں لڑیں۔مگر ان کا ایک قل��ل گروہ اپنے محافظ ہی کے درپے ہو گیا ہے اور دونوں ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھنے پر مجبور ہو چکے ہیں
خدا یوں بھی گناہوں کی سزا دیتا ہے
بانٹ کر قوم کو گروہوں میں لڑا دیتا ہے
آسماں ہی سے عذاب نازل نہیں ہوتے
آدمی کو بھی ملک الموت بنا دیتا ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ موثر افراد آگے آئیں اور اس تباہی کے عمل کو یہیں روکنے کی کوشش کریں۔
"وگرنہ دیکھنا ساحل پر سارے ڈوب جائیں گے"
بلوچستان سے کشمیر تک کے حالات چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ اس خطے کے باسیوں میں اتفاق اور انکی ریاست کا استحکام "لا الہ الااللہ" کے سوا نہ لسانی قومیت میں ہے،نہ نسلی قومیت میں اور نہ علاقائی ثقافت میں بلکہ "خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی" کے مصداق اس ملک خدادا کا استحکام صرف نظریہ توحید اور اس کے تصور حریت و اخوت و مساوات میں ہے جسکی بکثرت تکرار ہمیں مفکر و مصور و مبشر پاکستان کی فکر میں ملتی ہے اور بانی و مع��ار پاکستان قائد اعظم کی تعلیمات میں نظر آتی ہے
چمن کے مالی اگر بنا لیں موافق شعار اپنا اب بھی
چمن میں آ سکتی ہے پلٹ کر چمن سے روٹھی بہار اب بھی
@BanShu56637 فیصلہ ساز چاہیں تو سُدھار سکتے ہیں۔ اگر وہاں اب بھی اندر کھاتے کہیں نہ کہیں پراجیکٹ کی باقیات جاری ہیں تو پھر منکہ تھلے ڈانگ پھیرنے پڑے گی۔
آپ اُس شخص کو چشمِ تصور میں لائیں جس کے سارے جسم سے خون رِس رہا ہو، اور اس کے باوجود بھی وہ کھڑا ہو۔ اُس کا دماغ، جس نے اُسے چلانے کیلئے بروقت فیصلہ کرنا ہے، اُس کی بھی ترجیحات کچھ اور ہوں۔ ایسے میں اس شخص کے ساتھ ہمدردی اصلاحِ احوال اور سوائےافسوس کے بچتاکیا ہے۔
پاکستان زخمی ہے
میرے ملک کا لہو بہہ رہا ہے۔
باجوڑ سے بلوچستان تک، کشمیر سے پختونخوا تک۔ نقصان پاکستان کا ہو ر��ا ہے۔
حکومت کو اپنی عیاشیوں سے فرصت نہیں حکومت کہیں نظر نہیں آتی
ایسےمیں ملک کیسےآگے چلےگا؟
بھارت افغانستان اسرائیل برطانیہ امریکہ روس ہر ایک کی لابیاں اسوقت کشمیرسے بلوچستان تک فعال ہیں
دولت حاصل کرنا یقیناً مشکل مرحلہ ہوتا ہے مگر عقلمندوں کے نزدیک دولت کمانے سے زیادہ مشکل مرحلہ دولت سنبھالنا ہے بالکل اسی طرح سیاسی طاقت مل جانے کے بعد اسے برتنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے!
جیسے نودولتیے آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اسی طرح نو واردانِ بساطِ سیاست بھی طوفان بدتمیزی برپا کر کے اپنی سیاسی موت کا سامان خود کر بیٹھتے ہیں۔
عمران خان حکومت میں جب مولانا فصل الرحمن صاحب نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تو پیپلز پارٹی نے اعلانیہ ان سے فاصلہ پیدا کر لیا جبکہ مسلم لیگ نون نے پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہوئے منہ پھیر لیا اور دوسری طرف فیض حمید اور باجوہ نے انھیں گھیرنے کا منصوبہ بنا لیا تو مدبر سیاستدان نے کس خوبصورتی سے اپنی سیاسی ساکھ بھی بچائی اور اپنی سیاسی طاقت کا شیرازہ بھی بکھرنے نہیں دیا یہ اس حوالے سے کیس سٹڈی ہے۔انکے مقابلے میں الطاف حسین جیسا طاقتور سیاسی راہنما ایسے ہی نازک مرحلے پر مناسب حکمتِ عملی نہ اپنا سکنے کے باعث اپنا سیاسی نقصان کروا بیٹھا۔
آزاد کشمیر میں جو سیاسی خلاء پیدا ہوا تھا اس نے نئی سیاسی قیادت کیلئے جو موقع پیدا کیا تھا اسے عجلت پسند،عاقبت نااندیش اور امور جہانبانی سے بے بہرہ نوجوان اور ناتجربہ کار قیادت نے "کچی اکھیاں" جوش اور جنوں کی نظر کر دیا ہے !
خودمختار کشمیر کی خواہش وہ خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا اور موجودہ عالمی صورتحال میں قطعا نہیں ہو سکتا۔اس ہنگامے سے جتنا کچھ حاصل ہو سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ کچھ وقت تک کچھ لوگوں کو باور کرایا جا سکے کہ پاکستان اور ہندوستان ایک جیسی غاصب طاقتیں ہیں،عالمی سطح پر پاکستان کی جو تصویر بنی ہے اسے گہنایا جا سکے یا پھر یہ کہ پاکستان کی حکومت کو موقع نہ دیا جائے کہ وہ اپنے کسی منصوبے پر عمل پیرا ہو کر ملک کے استحکام کی طرف پیشقدمی کر سکے۔تھوڑے سے فرق کے ساتھ یہی اہداف مغربی سرحد پر برسرپیکار مذہبی اور بلوچستان کے قوم پرست دہشگردوں کے بھی ہیں۔یہی منتہائے مقصود ایک معروف سیاسی پارٹی کا بھی ہے اور بدقسمتی سے یہی خواہش پاکستان کے ازلی دشمنوں بھارت اور اسرائیل کی بھی ہے اور امریکہ کے پیچھے ہٹنے کے بعد برطانیہ کی بھی بعض لابیاں اسی پر کام کر رہی ہیں۔سیاسی ناپختگی اس طرح اپنے آپ کو صف دشمناں میں محصور کر لیتی ہے مگر قومیت کے بت اور خودمختاری کی دیوی کی لا��عوری طور پر پوجا کرنے والے جذباتی تجزیہ کار اسے اسٹیبلشمنٹ کی طرف داری سمجھ کر الفاظ کی گولہ باری شروع کر دیتے ہیں! ان سے عرض ہے:
تمہارے لیے تمہارا کام ہمارے لیے ہمارا کام!
"آزاد کشمیر کی صورتحال"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور سے ایک دوست نے درج بالا مسئلہ پر رائے مانگی۔انھیں جو وائس نوٹ بھیجا اسے تحریری صورت میں نیچے درج کیا جا رہا ہے
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
مسئلہ یہ ہے کہ سارے پاکستان میں، خواہ کشمیر ہو یا ملک کا کوئی اور حصہ، عوام کے ساتھ نا انصافیاں تو ہر جگہ ہوتی ہیں۔
دوسری بات یہ کہ جب کوئی مسئلہ سیاسی ایشو کی صورت اختیار کرتا ہے تو اچھی چیز کو بھی برے مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا عین ممکن ہوتا ہے۔ پس جو مہاجرین کی مخصوص سیٹوں کا مسئلہ ہے، اصل میں انکی حقیقی اسپرٹ کچھ اور تھی مگر انکا جو استعمال کیا گیا وہ برا تھا۔چنانچہ لوگ جو شکایتیں کر رہے ہیں، وہ بھی اپنی جگہ درست ہیں کیونکہ ماضی میں ان کا غلط استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
عمومی ناانصافی کیخلاف عوام اضطراب اور بے چینی ہر جگہ کی طرح کشمیر میں بھی پہلے ہی سے موجود ہے۔ دوسری طرف جیسے پنجاب، سندھ، بلوچستان، KPK میں ایک "فسادی مرکب عنصر" موجود ہے اسی طرح کشمیر بھی ایسے فسادی عناصر سے خالی نہیں ہے۔ کہیں وہ دین کے نام پر ہیں، کہیں قوم پرستی کے نام پر، اور کہیں کسی اور نام پر، لیکن فساد کرنے والا عنصر ہر جگہ موجود ہے۔
یہ گروہ منظم بھی ہے اور مربوط بھی۔یہ لوگوں کی بے چینی اور اضطراب کو عمومی فساد پھیلانے کے لیے ابھارنا چاہتے ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ سادہ لوح لوگ ��ھی ہیں جو ظلم اور نا انصافی کو ختم اور مسائل کے حل کیلئے خلوص سے کوشاں ہوتے ہیں۔جو لوگوں کے مسائل کو دیکھ کر انکے حل کرنے کے لیے سامنے آتے ہیں، لیکن درج بالا فسادی عناصر ان سادہ لوح لوگوں کو استعمال کر لیتے ہیں۔
ایک چوتھا dimension یہ ہے کہ آج کل جس بین الاقوامی کھیل میں پاکستان نے ٹانگ اڑا دی ہے اس کی وجہ سے اوس پڑوس کے پرانے دشمن اور کچھ بین الاقوامی طاقتیں بھی پاکستان سے حساب برابر کرنے کیلئے تاک میں بیٹھی ہیں۔اس لیے اس فسادی گروہ کو international support بھی مل جاتی ہے، کیونکہ پاکستان کا استحکام اس وقت دنیا کی جو evil forces ہیں ان کو پسند نہیں۔
مزید برآں اس پر مستزاد میرا ایک اور گمان بھی ہے کہ جیسے سمگلر اور کرپٹ عناصر پاکستان میں موجودہ رجیم کیخلاف ہیں اسی طرح موجودہ ایک صفحے والے بھی فوج کو سبق سکھانا چاہتے ہیں اور عمران پراجیکٹ کے کشمیر ایجنڈا کی تکمیل میں حصہ ڈال رہے ہیں
کشمیر میں جو بھی مسائل ہیں، ان کے حل کےلیے ابتدا میں ایک ایکشن کمیٹی بنی تھی جس میں وہی سادہ لوح لوگ تھے اور انکے مسائل حقیقی تھے، پھر اس میں گھس گئے قوم پرست اور ساتھ میں ہی فسادی گروہ بھی۔ ان میں extremist عناصر بھی ہیں اور عام نوجوان بھی۔
کمیٹی والے اپنی سادگی میں یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم ان لوگوں کو استعمال کر لیں گے لیکن عوام جب سڑکوں پر نکل آئے تو کھیل تخریب کاروں کے ہاتھ میں چلا گیا
پچھلی دفعہ جو تحریک چلی، وہ کامیاب بھی ہوئی، لیکن تشدد اس میں بھی ہوا۔ حالانکہ وہ پُرامن رہ کر بھی مطالبات منوا سکتے تھے، تشدد کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن فساد چاہنے والے اپنے مقصد کو پورا کر کے رہے۔
اس وقت یوں سمجھیں کہ بات ایکشن کمیٹی کے ہاتھ سے نکل کر "نامعلوم قیادت" کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔ایک mob ہوتا ہے۔ اس میں چند فسادی لوگ ہوتے ہیں، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائر کھول دیتے ہیں، اور پھر بدلے میں عوام مارے جاتے ہیں اور یہی وہ چاہتے ہیں کہ بے گناہ مارے جائیں تاکہ لوگ ریاستِ پاکستان سے متنفر ہو جائیں۔
آخری بات یہ ہے کہ آج بھی اگر کشمیر میں ریفرنڈم کرائیں تو تمام تر گلے شکووں کے باوجود ستر سے اسی فیصد لوگ پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ دیں گے۔ البتہ جو پاکستان مخالف فسادی عناصر ہیں، وہ یہی چاہتے ہیں کہ جبر ہو، تشدد ہو، لوگ مارے جائیں تاکہ عوام کے دلوں میں پاکستان کے خلاف نفرت پیدا ہو۔
پس نوشت:
راقم بدگمان ہے کہ پاکستان اور کشمیر کی سیاسی قیادت بھی یہی چاہتی ہے کہ فوج کی جو ساکھ معرکہ حق سے بنی وہ مٹی میں مل جائے تاکہ وہ کسی کا احتساب کرنے کے قابل نہ رہے یہی وجہ ہے کہ پولیس اور انتظامیہ حالات کے بگاڑ کی بہتری کیلئے زیادہ فعال نظر نہیں آتے۔
پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا اور کچھ یوٹیوبرز ایسا موقف پیش کر رہے ہیں جیسے سارے کشمیری غدار ہیں۔یہ عمل پاکستان کے ہمدردوں کی بجائے دشمنوں کو فائیدہ دے رہا ہے۔ان سے اپیل ہے پاکستان کے نادان دوستوں والا کام ترک کر دیں۔اس کی بھی تحقیق کی ضرورت ہے ک�� برطانیہ کے خفیہ ادارے کیا کھیل کھیل رہے ہیں اور بظاہر مختلف عناصر کے درمیان تقسیم کار کا فریضہ کون انجام دے رہا ہے؟
مسئلہ محض ناموں کی تبدیلی کانہیں ہے۔وسیع تر تناظر میں یہ مرض نظریۂ پاکستان سے انحراف اور ہندوؤں کےساتھ غیرمعمولی تعلق داری بڑھانے کا ہے۔
ن لیگ کی یہ خواہش پرانی ہےجو 2015 میں ہولی کےموقع پرسامنے آئی تھی کہ جسطرح آپ ایک دوسرےپررنگ پھینکتے ہیں مجھ پربھی پھینکیں اس سےمجھےخوشی ہو گی۔
@Xorex911@Jerusalem_Post O blind-minded person!
If you had even a little bit of sense, you’d see who Israel is backing in this post. It’s clearly the Adiyalvi who is so dear to Israel.
And Asim Munir is the one who has foiled this very project.
ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللّٰہ تیسری عالمی جنگ، الملحمۃ العظمیٰ، یہودیت، دجال، اسرائیل، اینڈ ٹائمز اور اِن جیسے بیشتر موضوعات کے حوالے سے فی الواقع ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے