Global benchmark determined by The World Bank for poverty is $ 3 per day while for lower middle income countries like Pakistan it’s $ 4.2 per day. With this formula it turns out to Rs 25000 and 35000 per month respectively. Fail to understand under which criteria Govt has determined Rs 8483/- PM in the budget 2026-27? @CMShehbaz
مقبوضہ اسلام آباد
پتہ ہے ہماری بد قسمتی کیا ہے جو لوگ ہمیشہ فرنٹ پر گراؤنڈ پر کھڑے ہوتے ہیں انکی پگڑی اچھالنے میں ہم ایک منٹ نہیں لگاتے اس کا پریکٹیکل مثال شفیع جان ہے 😭
یاددہانی یاددہانی یاددہانی
•عمران خان نے ملک کی نصف آبادی کا علاج صحت کارڈ سے تقریبا مفت کردیا
•تحریک انصاف نے پختونخواہ میں 350 منی ہائیڈل پراجیکٹ مکمل کیے
•عمران خان کے تین سال میں درآمدات میں سات آٹھ ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا
•یہ درآمدات نواز شریف کے سنہری دور میں بڑھ نا سکیں اب پانچ چھ ارب ڈالرز گر چکی ہیں
•عمران خان کے دور میں طویل عرصے بعد دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے ڈیمز پر کام کا آغاز ہوا
•عمران خان نے ماحولیاتی آلودگی سے لڑنے کے لیے اربوں درخت لگائے
•عمران خان نے انتہائی غریب طبقات کے لیے پناہ گاہیں اور لنگر خانے بنائے
•طویل عرصے بعد عمران خان نے ملک میں نئے شہر بسانے کا آغاز کیا ؛ راوی اربن پراجیکٹ
•عمران خان نے تین سال میں ساٹھ لاکھ کے قریب روزگار کے مواقع پیدا کیے
•عمران خان کے دور میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھی جو فوجی قبضے کے بعد سے گر رہی ہے
•عمران خان کے دور میں نا ڈرون حملے ہوئے ، نا دہشتگردی نا فوجی آپریشن
اور اس تقریر کے بعد اس صوبے پہ تیسری بار پی ٹی آئی کا وزیر اعلیٰ آیا ہے اور آگے بھی آئے گا انشاء اللہ 🙌🏻
یہ ویڈیو کوئی اس صاحب تک پہنچائیں کہ کیا خیال ہے آپنے جو یہ بونگی ماری تھی 😂
50 IPPs renegotiated
Returns reduced (15% usd to 12%)
Dollar exposure capped at 148.
Rs770bn long term relief
PTI didn’t create the crisis but only party tried fixing it.
اب یہ بات تمام گریڈ آفیسر پر سرِعام لاگو ہوگی؟
"میرے ٹیکس کے پیسوں سے آپ یہ یونیفارم پہن کر کھڑے ہوئے ہیں یہاں پر۔ آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ آپ یونیفارم پہن کر پولیٹیکل کمنٹ کریں"
سب کی کتی ماں آگئی ہے، حکومت بھی کتی آگئی ہے۔
مہنگائی ہر طرف چھا گئی ہے۔
پٹرول پمپ پر کھڑا ہوں، ٹینکی حالی ہے۔
آلو، پیاز اور پٹرول کی قیمت میری پوری تنخواہ کھا گئی ہے۔
"It will be funny. It will be entertaining. There will be some shots fired tonight" the White House press secretary said in an interview before the incident.
یہ نوسر باز ہے۔ اس کے نو سر ہے۔ یہ جعلی سقراط جعلی انڈین یوٹیوبر درو راٹھی کا گندا کاپی میں بوٹ چاٹنے کی کلا ہے۔
اگر اپ کسی دھماکے یا بھوک افلاس سے مرے۔ تو اپ احتجاج نہیں کر سکتےکیونکہ اس سے ہمیں کیا لینا دینا۔
کچھ ایسا بکواس کر رہا ہے
پاکستان میں آئی پی پیز (IPPs) اور ایل این جی (LNG) معاہدوں کی مکمل ٹائم لائن ۔ آسان انداز میں:
1994 – پہلی پاور پالیسی (IPP ماڈل کا آغاز)
حکومت: نواز شریف
پاکستان میں نجی بجلی گھروں (IPPs) کا آغاز کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے “capacity payments/ کیپیسٹی پیمنٹ” کا تصور متعارف ہوا۔
1996–1999 – IPPs میں توسیع
حکومت: بینظیر بھٹو اور بعد میں نواز شریف
مزید IPP منصوبے لگے، اور نجی شعبے کی بجلی میں شمولیت بڑھی۔
2002 – نئی پاور پالیسی
حکومت: پرویز مشرف
IPP ماڈل کو جاری رکھا گیا، بجلی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری مزید بڑھائی گئی۔
2008–2013 – بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا
حکومت: آصف علی زرداری
لوڈشیڈنگ عروج پر، نئے منصوبوں کی پلاننگ ہوئی مگر بڑی پیش رفت محدود رہی۔2013–2015 – بڑے پیمانے پر IPPs (CPEC کے تحت)
حکومت: نواز شریف
چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت درجنوں پاور پلانٹس لگائے گئے۔ Capacity payments کے معاہدے اسی دور میں بڑے پیمانے پر کیے گئے۔2015 – LNG درآمد کا آغاز
حکومت: نواز شریف
قطر کے ساتھ طویل مدتی LNG معاہدہ کیا گیا۔ “Take-or-pay” شرائط شامل کی گئیں (یعنی گیس نہ لینے پر بھی ادائیگی)۔2016–2018 – مزید LNG اور پاور معاہدے
حکومت: نواز شریف / شاہد خاقان عباسی
LNG ٹرمینلز اور بجلی کے منصوبوں میں اضافہ، مستقبل کی capacity payments مزید بڑھ گئیں۔
1/2
حماد اظہر نے شہید ارشد شریف کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ
کیسے تحریک انصاف کی گورنمنٹ نے IPP کو بقایا جات کلئیر کرکے IPP کو اپنا Profit کم کرنے پر مجبور کیا اور ملک کی بجلی پوری کی
لیکن آج حالات تباہی کی حد تک چلے گئے ہیں