@MumtazBhattiDin A major reason is that journalists—people with influence play a role. A journalist anchor,columnist, or YouTuber can reach thousands or millions of people. A single news tweet or program can shape an entire narrative anti-army, anti-state, sectarian,or one of economic hardship.
#Pakistan is generously trying to resolve #Iran's mess with backing from #US and #Gulf, but many Pakistanis have not forgotten when IRGC-Quds Force commander Soleimani threatened Pakistan in Feb 2019, the year Iran struck oil sites in Saudi Arabia and UAE.
https://t.co/bRQYV7RDUs https://t.co/bRQYV7RDUs
@MumtazBhattiDin 🥱🤦♂️Iran and Oman are still negotiating a new arrangement to reopen the Strait of Hormuz that would be designed to reopen it for transit of ships with no attacks.
Read full article then analysis it's journalism rules. But any how where journalism ranking 153. It's not your fault
انقلابِ ایران سے لے کر آج تک تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھ لیجیے، جب بھی پاکستان اور بھارت آمنے سامنے آئے، تہران کا جھکاؤ اکثر پاکستان کے روایتی دشمن کی طرف ہی دکھائی دیتا ہے۔
نوّے کی دہائی میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن (UNCHR) میں پاکستان اور OIC کی کوشش تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف ایک سخت قرارداد منظور ہو، مگر اُس وقت کے ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی نے پاکستان کا ساتھ دینے کے بجائے بھارت نوازی کا راستہ اختیار کیا۔ (یہ وہی رفسنجانی ہے جس کے دورۂ مدینہ کے دوران مسجد نبوی کے امام شیخ علی بن عبدالرحمن الحذیفی کے ساتھ شدید سفارتی تنازع پیش آیا، وجہ تنازعہ لکھتے میرا کلیجہ پھٹتا ہے بہرحال یہ وہی بدبخت تھا)
پھر افغانستان میں بھی منظر نامہ مختلف نہ تھا، ایران، بھارت اور روس ایک طرف ناردرن الائنس کے پشت پناہ بنے رہے اور ایران پاکستان مخالف کیمپ میں عملی طور پر بھارتی مفادات کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا
کارگل جنگ آئی تو بھی ایران نے پاکستان کی حمایت سے گریز کیا اور روایتی غیر جانب داری کا منافقانہ لبادہ اوڑھ لیا، جس کا فائدہ بھی بالآخر بھارت ہی کو پہنچا۔
پھر چابہار منصوبہ سامنے آیا؛ ایسا منصوبہ جس کا بنیادی مقصد ہی پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے بھارت کو افغانستان اور وسط ایشیا تک رسائی دینا تھا
اسی راہداری کی آڑ میں کلبھوشن یادیو جیسے پاکستان دشمن جاسوسوں اور بھارتی نیٹ ورکس کو ہمارے دروازے تک لانے کی راہ ہموار ہوئی۔
پھر معرکۂ حق کا مرحلہ آیا اور عین جب پاکستان پر بھارتی میزائل برس رہے تھے تو یہ اسی وقت دہلی کے دروازے پر جا بیٹھے لیکن جب وقت بدلا اور ایران کو سفارتی سہارے کی ضرورت پڑی تو پاکستان نے ماضی کی تمام تلخیاں بھلا کر نہ صرف اسے گلے لگایا بلکہ آگے بڑھنے کا موقع بھی دیا۔
مگر جب احسان فراموشی فطرت ہو تو کوئ خیر کی امید نہیں رکھی جاسکتی عمان، قطر اور سعودی عرب کے بعد اب پاکستان بھی ان کی تنقید کا ہدف بنتا دکھائی دے رہا ہے
ان کے سرکاری ترجمانوں کے بیانات، ان کے مرانڈی نما حمایتیوں کی ٹویٹس اور بدلتا ہوا لب و لہجہ بہت کچھ کہہ رہا ہے۔
آج بھی انڈیا پاکستان پر آبی جارحیت مسلط کئیے بیٹھا ہے اور یہ ہمیں چھوڑ کر اپنا غم ہلکا کرنے یا رونے پیٹنے مودی کے در پر ہی جاتے
لوگ کہتے ہیں حالات ہر گھنٹے بدل رہے ہیں، مگر میرا ماننا ہے کہ اسکرپٹ وہی ہے جس کی طرف ہم عرصۂ دراز سے اشارہ کرتے آ رہے ہیں ، سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہی ہورہا
اسکے علاوہ بھی بہت کچھ ہے کالعدم بی ایل ایف، کالعدم بی ایل اے کالعدم زینبیون، کالعدم سپاہ محمد اور دیگر پاکستان دشمن عناصر کو پناہ دینے کے الزامات ہوں، یا 16 جنوری 2024 کو پاکستانی بچوں پر ایرانی میزائل حملہ ہو، سندھودیش اور بلوچ علیحدگی پسند عناصر سمیت فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث گروہوں کی سرپرستی کے حوالے سے ملنے والے کھلے ثبوت ہوں یا ، قاسم سلیمانی کی پاکستان کو دھمکیاں ، کراچی اسٹاک ایکسچینج اور کراچی یونیورسٹی حملے کے تانے بانے سے لیکر مفتی تقی عثمانی پر حملہ آور تین دن پہلے سی ٹی ڈی سندھ کے ہاتھوں پکڑے جانے والے ٹارگٹ کلرز کی ہینڈلنگ ، کراچی امریکی قونصلیٹ پر حملہ ہو یا گلگت اسکردو میں پاک فوج کے جوانوں کی شہادت ، پاڑہ چنار بوشہرہ میں ڈاکٹر طلاء کی سربریدہ لاش سے لیکر انکی خواتین کو اغوا کرنے والے بدبختوں کی پشت پناہی اور ہمارے فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر شاہ اور پاکستانی اداروں کو چٹے بلے کی دھمکیاں سب کے پیچھے ایک ہی منافقانہ کردار نظر آئیگا
کاش کہ خانہ فرہنگوں کی آڑ میں چلنے والے اطلاعات کے نیٹ ورکس اور قدس فورس کے راء کی ملی بھگت ہونے والے خفیہ مشنز کی بیخ کنی کے لئیے بھی کوئ آپریشن “مرگ بر سگان ہندوستان ” شروع ہو
آفتاب نذیر
یہ شادی ایک سبق ہے کبھی راہ چلتی عورت کو گھر میں نا گھُسائیں اور اگر شادی ہو گئی ہے تو چار پانچ سال بچہ پیدا کرنے سے گریز کریں ہوسکتا ہے آپ ایک دوسرے کے لیے بنے ہی نا ہوں اور غلط فیصلے کی قیمت آنے والے بچے کو ادا کرنا پڑے جیسے رجب بٹ والا کنجر خانہ ۔
گلگت: سکردو کے لوگ کسی کی سازش میں نہیں آتے اسلئے یہاں امن ہے
پشتون قوم کو سوچنے کی ضرورت ہے
عبداللہ جان صابر (صحافی)
اس وقت میں سکردو میں موجود ہوں،یہاں کے لوگوں سے ملاقاتوں اور مختلف علاقوں میں گھومنے کے بعد یہ تجربہ ہوا کہ ان لوگوں کی سوچ بہت مثبت ہے
یہاں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے،یہ لوگ تعلیم حاصل کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں
یہ لوگ پاکستان مخالف عناصر کیلئے دل و دماغ میں نفرت رکھتے ہیں جبکہ کوئی بھی انکو جعلی جہاد،انقلابی نعروں یا قوم پرستی کے نام پر استعمال نہیں کرسکتے
یہی وجہ ہے کہ یہاں امن قائم ہے اور دنیا بھر کے سیاح یہاں آتے ہیں جو انکی آمدنی کا ذریعہ بن جاتا ہے
دوسری جانب ہمارے پشتون ہیں جو ہر وقت پنجاب کے خلاف بولتے رہتے ہیں کہ وہاں امن ہے اور
کے پی میں امن نہیں ہے
لیکن سکردو تو پنجاب نہیں ہے نا،پھر یہاں کیوں امن ہے؟؟ اسلئے کہ یہاں لوگ خود امن پسند ہیں اور کسی کی سازش میں نہیں آتے
جبکہ ہم پشتون کمی جعلی جہاد کے نام پر استعمال ہوتے رہتے ہیں تو کبھی قوم پرستی یا انقلابی کے نعروں سے دھوکہ کھاجاتے ہیں
مختصر یہ کہ پنجاب پر الزام ڈالنے کی بجائے ہم پشتونوں کو خود بدلنا ہوگا،اپنی سوچ اور کردار میں مثبت تبدیلی لانی ہوگی ورنہ زندگی بھر روتے رہیں گے
احمد شاہ ابدالی نے 1761ء کی تیسری جنگِ پانی پت میں مرہٹوں کو شکست دی اس وقت مرہٹے ہی وہ بڑی مقامی قوت تھے جو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی مستقبل کی توسیع کی راہ میں رکاوٹ بنے تھے۔
اس سے قبل ایسٹ انڈیا کمپنی 1757ء میں جنگِ پلاسی کے ذریعے نوابِ بنگال (جو مغل سلطنت کے باج گزار تھے) کو شکست دے کر بنگال پر قابض ہو چکی تھی۔ اور 1764ء کی جنگِ بکسر کے نتیجے میں کمپنی نے مغل بادشاہ سے بنگال، بہار اور اڑیسہ کے چکے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ نے 1761 میں انگریزوں کے بجائے احمد شاہ ابدالی کو مرہٹوں کے خلاف جہاد کی دعوت کیوں دی؟۔
سوال یہ ھے کہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی پہلے ہی ہندوستان میں اپنے قدم جما چکی تھی تو اصل خطرہ کون تھا: مرہٹے، جو اسی سرزمین کے باشندے تھے، یا وہ غیر ملکی تجارتی کمپنی جو رفتہ رفتہ سیاسی اور عسکری طاقت میں تبدیل ہو رہی تھی؟
پانی پت میں مرہٹوں کی شکست کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے جنوبی اور مشرقی ہندوستان سے شمال کی جانب اپنی پیش قدمی کی۔ ابدالی نے مرہٹوں کو شکست کے بعد دہلی مغل حکمران کے حوالے کیا جو بہت کمزور تھے اور ایسٹ انڈیا کمپنی ایک ایک کرکے اس کے صوبوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کرتی جا رہی تھی۔۔۔۔
اب ابدالی کی مرہٹوں سے جنگ کا فایدہ کس کو ھوا؟؟
@OryaMaqboolJan@fawadchaudhry
اسرائیل نےایک بھی پاکستانی ہلاک نہیں کیا اسے 75 برس سے بددعائیں دے رہے ہیں
شیعہ الزےنبیون اؤر
دیوبندی طالبان نے 1لاکھ پاکستانی ہلاک کیے بریلوی لبیک نے پنجاب میں توہین کے نام پر قتل کیے ہراس پھیلایا
اہلحدیث القائدہ نے پاکستان کوغیراسلامی ریاست ڈکلیئرکیا
وہ ہمارےآئیڈیل ہیں
بالکل ٹھیک کیا گیا, یہ نمک حرام اس قابل ہی نہیں ہیں، 40 سال کیا 400 سال بعد بھی یہ پاکستان اور پنجاب پر بھونکتے رہیں گے, اور تجھے بڑا درد ہے تو تو بھی ان کے ساتھ دفع ہو جا
@shamsmomand1 لکی مروت میںpolice امن کمیٹی قائم ہوئی.امن کمیٹی والوں نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو چن چن کے ٹارگٹ کیا.جس میں زیادہ تر سہولت کار ان کے مدرسوں کے مولوی تھے.اور ان امن کمیٹی سے ان کو تکلیف ہے جبکہ عوام خوش ہے .
@Maj_Marwat سمپل بات ہے لکی مروت میں امن کمیٹی قائم ہوئی.امن کمیٹی والوں نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو چن چن کے ٹارگٹ کیا.جس میں زیادہ تر سہولت کار ان کے مدرسوں کے مولوی تھے.اور ان امن کمیٹی سے ان کو تکلیف ہے جبکہ عوام خوش ہے .