@ChotiSheikhni وہ جسکے ہونے سے عالم کفر پر لرزہ طاری تھا.
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی رہی
بڑی مشکل سے ہوتا ہے دیدہ ور پیدا.
حرمت رسول ﷺ کا اصل مطلب ہم نے انہیں سے سیکھا ہے.
اللہ انکو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین
@MubashirAZaidi آپ نام اور شکل سے تو مسلمان لگتے ہیں مگر آپکا بیانیہ اور ذہنیت یہودیوں کی ترجمانی کر رہی ہے.
تاریخ ثابت کرتی ہے کہ یہودیوں جیسا فسادی, دھوکے باز , ظالم اور شیطانی ذہنیت کا مالک اور کوئی نہیں یہ روئے زمین سے مسلمانوں کو ختم کرنے کا عہد کیے ہوئے ہیں.
جنریشن گیپ کوئی نئی چیز نہیں، یہ ہر دور کا مسئلہ رہا ہے۔ پہلے بومر، زی یا الفا کے لیبل نہیں تھے، مگر ایک حقیقت مستقل رہی: تجربے کا کوئی نعمالبدل نہیں۔
نامکمل پی ایچ ڈی اور سیکھنے والے بچے گیجٹس کی دھونس سے اپنے سینئرز کے تجربات کو کمزور نہیں کر سکتے۔
سیاست، معیشت اور سفارت عمر نہیں، تجربہ مانگتی ہیں۔
ریاست کوئی ویڈیو گیم نہیں، ایک بھاری ذمہ داری ہے۔
نیا خون شامل کرنا اچھی بات ہے، مگر learning on the job کا رسک کوئی سنجیدہ ادارہ نہیں لیتا۔
پاکستان میں یہ تجربہ ہو چکا—فاسٹ باولر ملک ڈبو چکا تھا۔
نتائج سامنے ہیں۔
اور ہاں، ہم بزرگ بھی Spotify پر اپنی الگ پلے لسٹ رکھتے ہیں 😉
@sabirnazar1 عوام نے اسٹاک ایکسچینج کو کیا کرنا ہے,اگر آپ واقعی ملک اور عوام کے ساتھ مخلص ہیں تو مہنگائی پر لکھیں, لاقانونیت اور کرپشن پر لکھیں.
ایک چھوٹی سی مثال دے رہا ہوں پی ٹی آئی کے دور میں bored tablet پانچ روپے کی تھی جو اب 11روپے کی ہے.
.@elonmusk
Elon, you may recall we have met before.
I am Jemima Goldsmith (Khan), former wife of Imran Khan — Pakistan’s democratically elected Prime Minister, removed in 2022 and now held 22 months in brutal solitary confinement as a political prisoner.
Our two sons have not seen him in all that time, have not spoken to him in months, and are not even allowed to send him letters. His name is banned from every Pakistani TV and radio station. X was therefore our only independent platform to highlight this injustice. However acc to Grok- your own AI- “Every time you post anything about Imran’s jail conditions, solitary confinement or your son’s access to their father, the algorithm limits the post…. The Pakistani authorities have made criticism from Imran Khan’s immediate circle one of their top online enforcement priorities, and X is quietly complying just enough to keep the platform alive in the country.”
You have repeatedly pledged that X will protect free speech and will not silence lawful political expression.
Yet Grok has examined my X analytics (3.56 million followers) and concluded my account is subjected to what Grok calls “secret throttling” (the algorithm deliberately hides my posts from almost everyone even though the account is not suspended).
The damning evidence Grok found is as follows :
• In 2023–early 2024, I averaged 400–900 million impressions per month (normal reach for my follower count).
• But in the entire 2025, impressions dropped to only 28.6 million total — a 97% crash to <3% of expected reach.
• The turning point was May 2025: one post spiked to 4 million impressions the day Pakistan’s X ban ended (proving my audience was still engaged), thereafter impressions were instantly crushed to near zero and stayed there. These numbers & assessments are all verbatim from Grok.
I am asking you to honour the free-speech promises you have made for this platform.
Please remove the “secret throttling” Grok identified on @Jemima_Khan
Thank you.
@fawadchaudhry فواد صاحب تم ڈبو ہی رہے, خطبے اور فتوے اس حکومت کے چلتے ہیں جو عوام کی منتخب کردہ ہو,شرعی احکام کے مطابق ہو, قادیانی اور اسرائیل نواز نہ ہو.
بہت دلخراش واقعہ ہے اس میں پولیس کی نااہلی اور مجرموں کی پشت پناہی عیاں ہے.
قانون و انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے اللہ اس واقعے میں ملوث تمام کرداروں کو غارت کرے
جھلوری میں ایک غریب امام مسجد کی 10 سالہ بیٹی آمنہ اسکول جاتے ہوئے اغوا ہوئی۔
باپ تھانے کے چکر کاٹتا رہا، مگر پولیس نے انگلی تک نہ ہلائی۔
پانچ دن تک پولیس خاموش تماشائی ہی نہیں، بلکہ سہولت کار
بنی رہی—چھوٹا سا محلہ، چند گھر، سب ایک دوسرے سے
واقف… پھر بھی مجرم آزاد پھرتا رہا۔
پانچ دن تک وہ معصوم بھوکی پیاسی قید رہی، ظلم سہتی رہی، ریپ ہوتی رہی—
اور چھٹے دن اس کی لاش ایک بوری میں بند مل گئی۔
عوام نے احتجاج کیا تو پولیس نے منہ چھپا کر ایک بے قصور شخص کو پکڑ دکھا دیا،
جبکہ بچی کے کپڑے اور جوتے پولیس کے یار موسیٰ کے گھر
سے برآمد ہوئے…
لیکن گرفتار ہوا زاہد۔
ذرا رک کر اپنی بچیوں کے بارے میں سوچیں۔
رات کو بجلی چلی جائے تو 15 سالہ بچیاں ڈر جاتی ہیں—
یہ دس سالہ آمنہ پانچ دن کن اذیتوں سے گزری ہوگی؟
اس کا سانس ایک پلاسٹک ٹیوب سے چھین لیا گیا۔
بتائیں، اس سے بڑی گستاخی، اس سے بڑا ظلم، اس سے بڑی بربریت کیا ہوسکتی ہے؟
یہ وقت بددعاؤں یا “صبر جمیل” کے درس دینے کا نہیں
یہ وقت ملک بھر میں آمنہ کے لیے آواز اٹھانے کا ہے۔
ہر دیوار، ہر ٹائم لائن، ہر پلیٹ فارم پر یہ ظلم گونجنا چاہیے،
جب تک اصل مجرم انجام کو نہ پہنچے—خاموش رہنا شریکِ جرم ہونے کے مترادف ہے۔
اور پھر وہی روایتی بہانے:
“وہ سندھ کا معاملہ ہے… ہمارے اختیار سے باہر ہے…
وزیراعظم کچھ نہیں کرسکتا… فوج کا مسئلہ نہیں…”
کیا سندھ پاکستان سے باہر ہے؟
ٹیکس پورے ملک سے وصول ہوتے ہیں،
اور انصاف علاقے کے نام پر بانٹ دیا جاتا ہے؟
اگر سندھ حکومت، مرکز، پولیس سب ہی بے بس ہیں
تو بتائیں پھر:
بلاول کس کا سفیر ہے؟
زرداری کس کا صدر ہے؟
یہ عوام کے خون پسینے کے ٹیکس کا حق کس بنیاد پر لیتے ہیں؟
ان کے لیے اقتدار اور پروٹوکول مقدم ہے—
معصوم بچوں کی لاشیں ان کے لیے صرف خبر ہیں، درد نہیں
آج پورے ملک کی چیخیں میڈیا پر سنائی دیتی ہیں،
مگر حکمرانوں کے دل پتھر بن چکے ہیں۔
سیاستدانوں کی پوجا، مجرموں کی چھتر چھایا، عوام کی سسکیاں
یہ ہے ہمارا اصل نظام۔
آمنہ کی بوری میں بند لاش،
اس کا باپ جو اب خود ایک چلتی پھرتی لاش ہے—
یہ سب ہمارے سماج کا آئینہ ہیں۔
یہ سب پڑھ کر، یہ سب دیکھ کر سانس رک سی جاتی ہے
#JusticeForAmna
@AAMIRHUSSAIN79 یہ 24 منظر عام پر آگئے ہیں جب ظلم کے بادل چھٹ جائیں گے تو باقی بھی آجائیں گے.
ویسے حکومتی ظلم و بربریت ثابت کرنے کیلئے یہ 24 کیا کم ہیں ؟