پارٹی کا وزیراعلی غائب، سپیکر غائب اور صوبے کا صدر بھی غائب اور پارٹی کا کوئی احتجاج نہیں کوئی پیٹیشن نہیں جب ایسا ہوتا ہے تو پھر مشال یوسفزئی جیسے لوگ پارٹی پر مسلط ہوتے ہیں
یہ بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کی کمزوری ہے کہ مشال یوسفزئی جیسی عورت پارٹی پر مسلط کی گئی ہے، عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کو کہا بھی تھا اس عورت کو نکالو لیکن پھر بھی نہیں نکالا
عدیل راجہ
ایم این اے اقبال آفریدی کا پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک سے ٹلیفیونک رابطہ۔
بہت جلد گورنر راج کے خلاف بھرپور احتجاج ہوگا اور اس کے بعد لانگ مارچ شروع کرنے کے حوالے سے آج اہم فیصلہ ہوگا۔
#GovernorRajRejected#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
خیبرپختونخوا میں منتخب حکومت کو دھشتگردی کا بہانہ بنا کر غیر جمہوری گورنر راج لگا کر ایسے لوگوں کو مسلط کیا گیا جن کو عوام الیکشن میں واضح طور پر مسترد کر چکی ہے- مقصد صرف پاکستان تحریک انصاف کی حکومت،نمائندوں اور ورکز کو نشانہ بنانا تھا- تحریک انصاف کے ورکرز کو اغواء کرنا، انکے گھروں پر چھاپے مارنا، انکے گھر توڑنا ہی تمہارا کام رہ گیا ہے۔ دھشتگردی تو آج بھی خیبرپختونخواہ میں جاری ہے لیکن غیر جمہوری گورنر راج کی طرف سے دھشتگردی سے متعلق کیا اقدامات اٹھائے گئے۔ کسی کو کوئی علم نہیں
ترجیحات انکی صرف تحریک انصاف کو دبانااور اپنے مفادات کے تحفظ ہے۔
سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں یہ غیر جمہوری عمل کیوں کیا گیا ۔ایک صوبے کا منتخب وزیراعلی سہیل آفریدی،اسمبلی اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر خان کے ساتھ کئی منتخب وزرا، ایم۔ این ایز،ایم پی ایز اور پارٹی کے ورکرز کو مسلسل جبری اغوا کیا جارہا ہے ۔
جس دہشتگردی کو جواز بنایا گیا، اس پر کوئی اقدامات نہیں۔واضح ہے کہ یہ گورنر راج دھشتگردی کلچنے کے لیےنہیں، تحریک انصاف سے عوامی مینڈیٹ چھیننے کے لیے تھا ۔۔
مشال یوسفزئی کا فتنہ فساد فتور پارٹی کو ڈبو رہا ہے
یہ کورکمیٹی کی میٹنگ کے دوران اپنے زاتی صحافی اور چند ہمدرد اکاونٹس کے زریعے جھوٹا پراپیگنڈہ کرتی ہے، یہ پارٹی کی تمام اندرونی کہانی منظر عام پر لاتی ہے اور اس کہانی کی حقیقت بتانے کی بجاۓ اپنی زاتی پسند ناپسند اور خواہشات کو شامل کر کے پوسٹ کرواتی ہے، اس کی ایسی اوچھی اور نیچ حرکتوں کیوجہ سے کور کمیٹی کی حقیقی کہانی ہمیں سامنے لانا پڑتی ہے
یہ تھوڑے میں زیادہ ڈھل گیا ہے، اسے اس کی اوقات، قابلیت اور اہلیت سے کہیں بڑھ کر مقام مل گیا ہے، یہ گلی محلے میں لڑنے والی ایک فتنہ فساد پھیلانی والی عیار مکار خاتون ہے جس نے PTI اور اپنے عہدے کو سرکس بنا کر رکھ دیا ہے
کل کور کمیٹی کی میٹنگ کو اس نے مکمل سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنے زاتی صحافی اور ہمدرد اکاونٹس کے زریعے PTI کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کروایا
آج اس عورت نے PTI کے اکاونٹس کے خلاف کیسز کرنے اور ان کے پاکستان میں لنکس کو انجام تک پہنچانے تک کی دھمکی دی، جب اس کے باس جرنیل ان کا کچھ نہیں بیگاڑ سکے تو یہ فتنہ کیا بیگاڑ لے گی
اس فتنہ کے جھوٹ اور سازشوں کی لمبی لسٹ ہے، جیسے اس نے ارسلان بلوچ کے اکاؤنٹ کو شہباز گل کا اکاؤنٹ اور وقار خان کو خدیجہ شاہ کا اکاؤنٹ قرار دے کر اپنا بغض نکالا، یہ اپنی ہر زاتی خواہش اور مفاد کو جھوٹ کے لبادے میں اوڑھ کر سچ بنا کر بیچنے کی کوشش کرتی ہے
سابق گورنر شاہ فرمان نے سابق وفاقی وزیر مرادسعید کو ذہنی مریض قرار دیدیا
پارٹی کے وٹس ایپ گروپ میں پیغام ارسال کرتے ہوئے شاہ فرمان نے واضح کیا کہ پوری پارٹی کو ایک ذہنی مریض کنٹرول کررہا ہے اور ہم خاموش بیٹھے ہیں
پاکستان کے 4 ہمسایہ ممالک میں سے 3 ممالک انڈیا، افغانستان اور اب ایران کیساتھ ہماری سرحد بند ہے۔ اسلام آباد بھی وقتاً فوقتاً کنٹینرز کے حصار میں بند رہتا ہے۔ کیا سب خرابیاں پاکستان اور اسلام آباد کے سرحد پار ہیں؟ یا فیصلہ ساز افراد کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہئے؟
جب کسی ملک کے باصلاحیت لوگ اچھی ملازمتوں کے باوجود وطن چھوڑنے لگیں تو یہ محض ذہانت کا انخلا نہیں، بلکہ ملک کے مستقبل پر اعتماد کے فقدان کا اظہار ہے۔
پاکستانی صرف بہتر تنخواہوں کی تلاش میں ملک نہیں چھوڑ رہے۔ وہ عزتِ نفس، میرٹ، انصاف اور اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے خواہاں ہیں۔
المیہ یہ نہیں کہ لوگ وطن چھوڑ رہے ہیں، المیہ یہ ہے کہ وطن میں رہنے کی امید چھوڑ رہے ہیں۔ قوموں کا اصل زوال تب شروع ہوتا ہے جب ان کے باصلاحیت لوگ ملک چھوڑنے سے پہلے اس کے مستقبل پر یقین چھوڑ دیتے ہیں۔ /2