خیبرپختونخوا میں فسطائیت کا ننگا ناچ جاری گورنر راج کے خلاف احتجاج کرنے والے پرامن شہریوں پر پولیس گردی، لاٹھی گولی کا بے دریخ استعمال. #گورنر_راج_نامنظور
ان کا رویہ یہ ہے کہ ہم بدمعاشی بھی کریں گے، ڈرائیں گے بھی، مینڈیٹ بھی چھینیں گے، مکمل طور پر پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کریں گے، اربوں روپے کی کرپشن کریں گے اور دنیا بھر کی بدمعاشیاں کریں گے اور آپ لوگ بس خاموشی سے سب تسلیم کریں اور کہے کہ
تیرا سر رہے سلامت، قومی نشان ہمارا
یہ وہ آخری ٹویٹ تھا جس کے بعد ایمرجنسی اور گورنر راج لگا،اسی ٹویٹ نے مولانا فضل الرحمان کی کاوشوں کو پاوں تلے روندا، اسی ٹویٹ کو کابینہ میں بھی ڈسکس کیا گیا۔۔۔۔ رات گئے سہیل مان گئے تھے کہ لانگ مارچ نہیں ہوگا، صبح 6 بجے مولانا فضل الرحمان وزیراعظم سے ملنے گئے مگر پیچھے سہیل آفریدی نے تکبرانہ انداز میں یہ ٹویٹ داغ دیا۔۔۔۔۔۔ اب اسکا خمیازہ پختونخوا کے عوام بھگتیں گے
خیبرپختونخوا پولیس کے ایک اہلکار کا تمام پولیس اہلکاروں کے لئے اہم پیغام
اپنی پولیس کو بھی بتانا چاہتے ہے چاہے وہ پشاور، خیبر یا پورے خیبرپختونخوا کے ہو کہ اتنا کرو جتنا کل کو برداشت کرسکو۔
خیبرپختونخوا پولیس کی شہداء کی وجہ سے عوام کے دلوں میں جو تھوڑی بہت عزت باقی ہے أس کو اوپر کے ناجائز احکامات کی وجہ سے برباد نہ کریں شکریہ
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری اور اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو حراست میں لینا آئینی بالادستی، پارلیمانی خودمختاری اور جمہوری اقدار پر کھلا وار ہے۔ جب اسمبلی قائم ہے، تحلیل نہیں ہوئی، تو اسپیکر کو گرفتار کرنے کا جواز کیا ہے؟ کیا اب آئینی عہدوں کا احترام بھی ریاستی طاقت کے سامنے بے معنی ہو چکا ہے؟
پارلیمان کو دباؤ سے خاموش نہیں کیا جا سکتا، منتخب نمائندوں کو گرفتاریوں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا، اور آئین کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔۔
میں یہ نہیں کہتا کہ میرا سر نہ ملے گا
لیکن میری آنکھوں میں تجھے ڈر نہ ملے گا
#باڑہ_خیبر سے ایک نئی مزاحمتی تحریک کا آغاز ہوچکا ہے ، جو اب پورے خیبرپختونخوا اور پاکستان میں پھیلے گئی
باڑہ بازار خیبر چوک پر ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف احتجاج، پولیس کا پی ٹی آئی کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج، پی ٹی آئی کی جانب سے فائرنگ کا بھی الزام
پُرامن احتجاج پر پولیس کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے، پی ٹی آئی ایم این اے اقبال آفریدی