@Aladeen_Pro شفیع جان چوتیا انسان ہے۔
منافق کی منافقت کو اللہ دنیا میں لوگوں کے سامنے ظاہر کرتا ہے۔
یہ چھوٹے لوگ ہیں
یہ کبھی لیڈرز تھے ہی نہیں۔
عظیم لیڈر کے بونے لوگ ۔
@enkidureborn@wassii_itz اور اللہ سے یہ بھی دعا ہے کہ
جن جن اداروں نے اور جن جن لوگوں نے اس ظلم میں اس جاہل پاگل منیرے کا ساتھ دیا سہولت کاری کی
ان کو بھی دنیا و آخرت میں نشان عبرت بنادیں
سب کہو آمین ثمہ آمین
سال ڈیڑھ سال مراعات لینے کے بعد ، سال دو سال پختونخواہ کا صوبائی صدر بننے کے بعد ، تیسری دفعہ ایم این اے بننے کے بعد ، ایک مرتبہ جنید اکبر خان کو اسمبلی میں کچھ مسئلہ ہوا تو انکشاف کیا کہ اس اسمبلی میں ہمیں فوجی آپریشن ، ڈرون حملوں ، محسن نقوی اور فارم سینتالیس پر گفتگو کی اجازت نہیں۔
کیا تب ہم نے جنید اکبر خان سے ڈی این اے رپورٹ مانگی؟
@enkidureborn@drkodda یہ سارے پی ٹی آئی لیڈرز بہروپیے ہیں۔
یہ پاکی فوج کے اثاثے ہیں
جرنیلوں کے تلوے چاٹنے والے کتے ہیں۔
لیکن یہ سب ملکر کچھ بھی کرلیں
مرشد عمران کیلئے ہمارے دلوں میں عزت و احترام کو کم نہیں کرسکینگے۔
“ شہباز گل نے عمران خان کے فون چرائے “ پہلے تحریک انصاف کے اندر شہباز گل کے مخالفین کا سکرپٹ تھا اب فوجی سکرپٹ ہے۔ گنڈاپور برادران کو بھی یہی لگتا تھا کہ انکے خلاف ہر سازش شہباز گل کرتا ہے۔ اب شفیع جان وغیرہ کی بھی یہی کہانی ہے۔ سوشل میڈیا ، ولاگرز ، یوٹیوبرز ، بے نامی اکاونٹس پر تنقید کو عوام اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے۔ ابصار عالم جیسوں کے شوز میں جا کر بیٹھنے والا شفیع جان خود کو اور پختونخواہ حکومت کو بٹہ لگا رہا ہے۔ اگر پختونخواہ کو عوامی مقبولیت کی پرواہ ہے اور یہ خود کو مزید متنازعہ ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو اپنی حکمت عملی بدلیں یا اپنے چہرے بدلیں۔ یہ حکمت عملی آپ کو مزید برباد کرے گی۔ شہباز گل کے خلاف عمران خان کو تحفظات ہوتے تو فواد چوہدری و دیگران نے کئی مرتبہ جیل ملاقاتوں میں عمران خان سے شہباز گل کے خلاف کچھ کہلوانے کی کوشش کی لیکن عمران خان نے کبھی ایسا کچھ نہیں کہا۔
شہباز گل بقلم خود
2 ماہ کی مہلت کیوں؟
بہنیں بھی دنگ: سچ سامنے آ گیا
سہیل آفریدی کی آخری چال؟ تیاریاں مکمل
تباہی کا اعتراف: کریک ڈاؤن تیز، ہلچل مچ گئی
https://t.co/Cn0DLsIQxW
ضیاءالحق نے اقتدار سنبھالا ، بھٹو کو پھانسی دی۔ بینظیر ناتجربہ کار تھی۔ کچھ سیاسی مزاحمت کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔ ایک دن خاموشی سے ملک سے باہر چلی گئی۔ فوجی جرنیل کو طویل حکومت کرنے کے لیے ملک میں سکون چاہیے ہوتا ہے۔ اسی طرح مشرف نے نواز شریف کو ڈیل آفر کی ، نواز شریف ملک سے چلا گیا۔ مشرف نے آٹھ سات سال لگا لیے۔ باجوہ نے شریف خاندان کو خاموش رہنے کا کہا تو مریم نواز کا سوشل میڈیا چھ مہینے کے لیے بند رہا۔ باہر جانے کی آفر آئی تو نواز شریف خصوصی جہاز میں دوسری دفعہ ملک سے فرار ہوگیا۔
عاصم منیر اور اس کے ٹولے کی بھی یہی کوشش یا توقع تھی کہ عمران خان ملک سے باہر چلا جائے یا خاموش ہوکر بنی گالہ بیٹھ جائے اور یہ سکون سے حکومت کریں۔ کیونکہ جب تک سیاستدان مزاحمت کررہا ہے ، کم یا زیادہ وہ جرنیل کے لیے پریشانی کا سبب ہے۔ عمران خان کی کمیونیکشن بند ہے ، پیغامات نہیں آرہے ، اسکے باجود کبھی کم کبھی زیادہ تحریک انصاف مزاحمت کررہی ہے۔ لانگ مارچ ہوئے ، جلسے اور ریلیاں ہوئیں ، نفرت آمیز تقاریر بھی ہوجاتی ہیں ، سوشل میڈیا ویسے ہی آنچ دھیمی نہیں کرتا۔
عاصم منیر کی بدقسمتی کہ کمزور اور بھی ہے اور بزدل بھی۔ خواہش کے باوجود سامنے آکر اقتدار پر قبضہ نہیں کرپارہا۔ کبھی آئینی ترمیم کا سہارا لینے کی کوشش کرتا ہے ، کبھی سسٹم کو ناکام ٹھہرا کر اپنے لیے گنجائش کی لابئنگ بنا رہا ہے۔ بدقسمتی در بدقسمتی کہ بلوچستان ، پختونخواہ ، کشمیر میں بھی اسے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ عاصم منیر کو سب سے زیادہ خوف بھی تحریک انصاف سے ہے۔ بی ایل اے لاہور میں آکر حکومت نہیں کرنا چاہتی۔ کشمیری سینٹ میں مخصوص نشستیں نہیں مانگ رہی۔ عمران خان وہ پیرالل فورس ہے جس کے اقتدار پر عاصم منیر نے ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔
عاصم منیر کی شدید خواہش ہے کہ عمران خان باہر جائے یا بنی گالہ خاموش ہوکر بیٹھ جائے کہ تحریک انصاف کے مزاحمتی بیانیے کی کمر ٹوٹ جائے۔ بینظیر دو دفعہ جلاوطن ہوگئی ، نواز شریف دو دفعہ چلا گیا۔ جن چیزوں سے یہ دونوں خوفزدہ ہوکر گئے عمران خان اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ موازنہ ایک جیسوں کا بنتا ہے۔ باچا خان یا کسی صوبائی رہنما و علاقائی رہنما یا کسی پھتے ماجھے گامے کی جیل کا عمران خان کی جیل سے کوئی مقابلہ نہیں۔ فوجی جرنیل کو جو سپیس بینظیر اور نواز شریف نے بار بار دی وہ عمران خان مہیا نہیں کررہا۔ بس اتنا سا فرق ہے۔
75 سال کی عمران خان کی زندگی گواہ ہے کہ عمران خان نے زندگی میں ایک بار بھی نہیں سوچا کہ اگر میں ناکام ہوگیا تو کیا ہوگا اگر لانگ مارچ ناکام ہوگیا تو کیا ہوگیا اگر تحریک ناکام ہوگئی تو کیا ہوگا اگر الیکشن میں ناکام ہوگیا تو کیا ہوگا۔ اگر پہلے ہی سوچ یہ ہو کہ اگر ناکام ہوگئے تو کیا ہوگا تو پھر آگئی حقیقی آزادی!
بات یہ نہیں ہے کہ 27 ستمبر کی تاریخ بہت دور ہے بات یہ ہے کہ کیا عوام کو یہ یقین ہے کہ آپ واقعی 27 کو بھی نکلیں گے؟ کیا عوام کو یقین ہے کہ آپ کرنیلوں کی ریڈ لائن پھلانگنے کیلئے تیار ہیں؟ یہ یقین آپ نے خود اپنے عمل سے دلانا ہے عوام کو یقین ہونا چاہیئے
https://t.co/IhGSQqY6es
ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ 27 ستمبر کی کال کرنیلوں کے کہنے پہ سوشل میڈیا کے خلاف بیانیہ بنانے کے لیئے دی گئی ہے۔ اس کا اصل مقصد عمران خان نہیں بلکہ اصل ہدف سوشل میڈیا ولاگرز کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرنا ہے۔