Savunma sanayii fuarındaki İsrail bölümüne gelen aktivist;
“En iyi bebek öldürme teknolojisi sizde diye duyduk. Bebek öldürme bölümü burası mı?” diye sordu.
🛑اگر حکومت عدالت کے فیصلے سریس نہیں لیتی تو پی ٹی آئی کیو لے؟ حکومت نے سپریم کورٹ کی توہین عدالت کی ہے لیکن عدالتیں خاموش ہیں اس لیے 27 ستمبر مزاحمت ہو گئی ہر صورت ہوگی 🚨
فوجی جج کا دھواں نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں 27 ستمبر لانگ مارچ کے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی ہے جہاں جسٹس
ڈوگر اور ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے درمیان دلچسپ ریمارکس کا تبادلہ سنتے جاؤ اور ہستے جاؤ ۔۔۔۔۔
تم وزیراعلٰی کو روک نہیں سکتے ۔۔جسٹس ڈوگر
تم ائین پر عمل نہیں کرا سکتے ۔
ایڈووکیٹ جنرل Kpk ۔۔۔۔
میں دون دن کا وقت نہیں دے سکتا کل ہی آکر جواب دو جسٹس ڈوگر
مجھے دو دن چاہیے باقی تمہاری مجبوری سمجھ سکتا ہو تم کو بہت جلدی ہے ایڈوکیٹ جنرل پختون خواہ ،
��جھے آئین قانون پر عمل کرنا ہے جسٹس ڈوگر
آئین قانون اور تمہارے آرڈر پر دو سال سے ایک سپرنٹنڈنٹ عمل نہیں کر رہا وہ تمہاری نظر میں نہیں آتا وہاں آئین قانون بھول گئے ہو ایڈوکیٹ جنرل کے پی
مجھے قانون کا پتہ ہے میں بھولا نہیں ہو جسٹس ڈوگر۔۔۔
یہ لانگ مارچ اسلام آباد پر حملہ نہیں عدالتوں کے حق میں ہے آپ کے احکامات پر حکومتی ادارے اور سپرٹنڈنٹ اڈیالہ عملدرآمد نہیں کرتا ایڈووکیٹ جنرل کے پی
اسلام اباد کے شہریوں کو تحفظ دیں گے جسٹس ڈوگر
پہلے اپنے فیصلوں کو تحفظ تو دو ۔۔۔ایڈوکیٹ جنرل کے پی۔
کل تک کا ٹائم دیتا ہو آپ کو پتہ نہیں تھا ٹی وی پر دیکھتے جسٹس ڈوگر
میرے پاس فضول ٹائم نہیں کہ میں ٹی وی دیکھوں ایڈوکیٹ جنرل کے پی
ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختون خواہ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوجی جج جسٹس ڈوگر کو اج صحیح سے انکی اوقات یاد دلانے آئین قانون سکھانے پر اج اس جوان کو پورا قوم ��راج تحسین پیش کرتے ہیں باقی ان فوجی عدالتوں سے انصاف کا کوئی امید نہیں لیکن یہاں بیٹھے جرنیلوں کے ٹٹوں کو ہم آئینہ دیکھا سکتے ہیں ان کو شرم دلا سکتے ہیں جو آج اس جوان نے ٹھیک طریقے سے سیکھا دیا ڈوگر میں اگر تھوڑا بھی شرم ہو تو ڈوب مر جائے گا
عبادت کی کثرت،
کردار کی ضمانت نہیں۔
دین صرف نماز، روزہ اور ظاہری
حلیے کا نام نہیں؛
دین سچائی، امانت، انصاف، رحم
اور حقوق العباد کا بھی
نام ہے۔
اگر مسجد سے نکل کر انسان پھر
جھوٹ بولے، رشوت لے،
حق مارے اور کمزور پر ظلم کرے
تو سوال مسجد یا مدرسے سے
نہیں، اس کردار سے ہے جس نے
دین کو سنا تو بہت،
مگر زندگی میں اتارا نہیں ۔۔۔۔۔