کیا کوئی اتنا گھٹیا ہو سکتا ہے۔اس ڈی ای او کا تو ذہنی توازن ہی خراب لگتا ہے۔ اس کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے اور پیڈا ایکٹ لگا کر سخت سے سخت سزا دی جائے۔ ایسے گھٹیا لوگوں کا محکمہ تعلیم میں کیا کام۔ @MohsinnaqviC42@GovtofPunjabPK
Suddenly, I got a message, Your Gmail [10 Years Old A/C] is disabled (No Reason). Now, I am unable to use my YT Chanel, PStore, Adsense, GDrive, & 100+ Websites.
I am getting same error on all the Mobile #.
@Google@gmail, Plz fix this ASAP.
#FixMyGmail#GoogleBug#GmailBug
شکریہ جناب وزیراعلی پنجاب @MohsinnaqviC42
شکریہ جناب سیکرٹری سکولز @SchoolEduPunjab پنجاب ٹیچرز یونین (کاشف چودھری) پنجاب و پنجاب گورنمنٹ سکولز ایسوسی ایشن آف کمپیوٹر ٹیچرز (پیکٹ) پنجاب سے ہونے والی میٹنگز کے بعد وعدوں کی تکمیل کا سلسلہ جاری۔ ان سروس پروموشن۔
پنجاب ٹیچرز یونین (کاشف چودھری) پنجاب اور پنجاب گورنمنٹ سکولز ایسوسی ایشن آف کمپیوٹر ٹیچرز (پیکٹ)، پنجاب کے وفد کی کاشف شہزاد چودھری صوبائی صدر کی قیادت میں وزیر اعلی پنجاب سید محسن رضا نقوی صاحب سے ملاقات۔ مردم شماری میں اساتذہ کو درپیش مسائل، SSEs اور AEOs کی مستقلی پر گفتگو
@DrMuradPTI@ChParvezElahi محترم وزیر تعلیم صاحب پنجاب
4 سال بعد ایک لاکھ سے زائد خالی آسامیوں پر صرف 5 ہزار اساتذہ کی بھرتی۔ افسوس کی بات ہے۔
دوسری بات 2014 سے 2018 کے بھرتی 14 ہزار ایجوکیٹرز ابھی تک مستقلی کے لئے خوار ہیں۔ ایکٹ میں تبدیلی کے بعد بھی مستقلی کی سمری منظوری کے لئے ترس رہی ہے
ذمہ دران اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو سزا ملنے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہیں عبرت کا نشان بنوائیں گے۔
جلد سکولوں میں سیاسی مداخلت کے خاتمہ کے لئے احتجاج رکھا جائے گا۔
کاشف شہزاد چودھری
صوبائی صدر
#RespectTeachers
صوبائی صدر اے ای اوز ایسوسی ایشن پنجاب رانا نوریز طارق نے AEOs SSEs کی مستقلی اور AEOs کے دیگر مسائل کے حل کے لیےملاقات کی۔ انشاء اللہ بروز بدھ وزیر اعلی پرویز الٰہی صاحب سے ملاقات کر کے حکومت پنجاب کے منشور کے مطابق 14 ہزار خاندانوں کے مسائل کو حل کر کے دعائیں سمیٹی جائیں گیں
محترم رانا صاحب۔ ہمیں امید ہے کہ آپ 14 ہزار خاندانوں کو پریشانی سے فوری نجات دلانے کے لئے SSEs / AEOs کو فوری غیر مشروط مستقلی کروانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ ریگولرائزیشن ایکٹ میں تبدیلی کے بعد یہ اختیار کابینہ اور وزیراعلی پنجاب کے پاس ہے۔